Skip to main content

Posts

داڑھی کا جواز

  داڑھی کا جواز اگر کوئی شخص کہے کہ سر پر ہمیشہ استرا پھیرنا چاہیے تاکہ انسان بالوں سے پیدا ہونے والی پریشانیوں سے بچا رہے، اگر بال ہونگے تو جوئیں بھی ہونگی، بال لمبے ہوکر منہ پر آئیں گے، بال ہوا سے بکھر تے رہیں گے اور انسان ان میں جنگلی لگے گا لہٰذا سر کے بالوں کے بغیر انسان زیادہ خوبصورت لگے گا، تو ایسے شخص کو آپ کیا جواب دیں گے؟ ظاہر ہے کہ اس شخص کو کہا جائے گا کہ بال اگنا ایک قدرتی عمل ہے، اس کو روکنے کے بجائے ہمیں ان کو آراستہ کرنا چاہیے، ان کی صفائی ستھرائی کا خیال رکھنا چاہیے تو یہ بال ہماری شخصیت میں خوبصورتی کا باعث بنیں گے بہ نسبت ٹنڈ کے! یہی جواب اصل میں داڑھی کے جواز کیلئے استعمال کیا جاسکتا ہے۔ اس کیلئے فتاویٰ کی ضرورت نہیں۔ قدرت نے داڑھی مرد کو عطاء کی ہے۔ اب مردوں کا کام ہے کہ اپنے چہروں کو روزانہ چھیلنے کے بجائے داڑھی کو بڑھنے دیں اور اس کو آراستہ کریں اور اپنی مردانگی کا ثبوت اپنے چہروں سے دیں۔ کچھ لوگ اپنی گفتگو میں یہ کہتے ہوئے نظر آتے ہیں کہ فلاں شخص داڑھی رکھ کے جھوٹ بول رہا ہے، یا کچھ افراد نے داڑھی رکھی ہوئی ہے اور خواتین کو دیکھتے پھرتے ہیں۔ ایسے لوگ...

نواز شریف

جب سے مملکتِ پاکستان کا قیام وجود میں آیا ہے تب سے ہی یہاں سیاسی استحکام کا فقدان رہا ہے۔ قائدِ اعظمؒ، لیاقت علی خانؒ اور دیگر حکمرانوں نے کچھ عرصہ تک ہی حکومت کی ذمہ داریاں اٹھائیں، لیکن باقائدہ حکومت کا آغاز جنرل ایوب خان کی صدارت سے شروع ہوا۔ یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ اسی دورِ حکومت میں پاکستان نہ صرف اپنے پیروں پر کھڑا ہوا بلکہ اس کا شمار ایشیاء کے ترقی یافتہ ممالک میں ہونے لگا۔ پاکستان کے خلاف سازش کرنے والے عناصر جانتے تھے کہ جب بھی یہاں مستحکم حکومت ہوگی تو ملک ترقی کرے گا۔ لہٰذا مختلف ذرائع استعمال کرکے ہمارے دشمن پاکستانی قوم میں مایوسی پھیلاتے رہے اور اس وقت کی موجود، حکومت کے خلاف الزامات کے ذریعے لوگوں کو حکومت سے بیزار کرنے کی کوشش کرتے رہے، یہاں تک کہ پرویز مشرف جیسے امریکہ کو سجدہ کرنے والے، وقت کے فرعون، کو بھی حکومت سے محروم ہونا پڑا۔ پاکستانی عوام میں تعلیم اور شعور کی کمی ہے جس کی وجہ سے وہ باآسانی سازشوں کا شکار ہوجاتے ہیں اور تبدیلی کی خواہش مند ہوجاتے ہیں۔ یہ نہیں غور کرتے کہ حکومت مستحکم ہے، ترقیاتی کام چل رہے ہیں، زندگی اچھی گزر رہی ہے، تمام کاروبارِ زندگی عمد...

مسلمانوں میں گروہ بندی اور ہمارا کردار

 مسلمانوں میں گروہ بندی اور ہمارا کردار مسلمانوں اور پاکستانیوں میں جو مختلف گروہ اس وقت ہیں انکی موجودگی میں ہمارا کیا کردار ہونا چاہئے۔ کسی گروہ میں شمولیت کس بنیاد پر کی جائے اس سے متعلق آپ یہ مضمون پڑھیں گے۔ مسلمانوں کی تاریخ گروہ بندی اور اختلافات سے بھری ہوئی ہے۔ بیرونی سازشوں کے نتیجے میں مسلمان رنگ، نسل، زبان، قبیلہ سیاست اور عقائد پر تقسیم در تقسیم ہوتے رہے۔ جب تک نبیِ کریم ﷺ موجود رہے مسلمان تمام اختلافات سے بچے رہے۔ لیکن آپﷺ کے پردہ فرمانے کے بعد سب سے پہلا اختلاف خلافت کے معاملے میں پیش آیا۔ صحابہ کرام رضوان اللہ اجمعین کی ایمانی بصیرت کی بدولت یہ اختلاف باقی نہ رہا۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے گیارہ سال کامیابی سے خلافت کے امور ادا کئے لیکن خفیہ سازشوں کی وجہ سے مسلمانوں میں خلافت پر اختلاف پیدا ہوا اور خلیفہ سوئم شہید کردئے گئے۔ اس کے بعد پھر مسلمان کبھی ایک نہ ہوسکے۔ مملکت پاکستان کی بات کریں تو اس کے قیام کے سلسلے میں بھی ہندوستان کے مسلمانوں میں شدید اختلاف رہا۔ بہرحال اللہ کی مدد سے پاکستان اسلام کے نام پر وجود میں آیا اور یہاں کے مسلمان ایک ہوکے رہے۔ بدقسمتی سے حک...

اسلامی معاشرے کا دیگر سے تقابل، ایک مثبت سوچ

 اسلامی معاشرے کا دیگر سے تقابل، ایک مثبت سوچ اس بلاگ پوسٹ میں مثبت انداز میں اسلامی معاشرے کا دیگر سے تقابل کیا گیا ہے۔ اسلام ہمیں امن اور سلامتی کا درس دیتا ہے جس کا اثر مسلمان کی انفرادی اور اجتماعی زندگی میں نظر آتا ہے۔ کچھ دہائی قبل سے قوم میں ایک سازش کے ذریعے مایوسی اور ناامیدی کے جذبات پھیلائے جارہے ہیں۔ اب نوبت یہاں تک آگئی ہے کہ اکثریت ملک سے بھاگنا چاہتی ہے۔ ان کو یہاں اپنا مستقبل تاریک نظر آتا ہے۔ لہٰذا اکثر افراد اپنی جمع پونجی، جائیدادیں فروخت کرکے دیگر ممالک جارہے ہیں۔ ہمارے ملک میں جو صحافت کا شعبہ ہے وہ زیادہ تر منفی خبریں پیش کرتا ہے۔ اپنی ریٹنگ بڑھانے کے چکر میں افسوسناک واقعات کو بہت بڑھا چڑھا کر بیان کیا جاتا ہے، لگتا ہے کہ ہمارے ہاں لوگ افراتفری کی زندگی گزاررہے ہیں۔ اگر کسی مذہبی شخصیت یا ادارے سے منسلک کوئی واقعہ رونما ہوجائے تو اس کی آڑ میں مذہبی اداروں اور شخصیات کو تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ یہ ثابت کرنے کی کوشش کی جاتی ہے کہ معاشرے میں موجود تمام خرابیوں کے ذمہ دار صرف یہ مذہنی طبقہ ہے۔ اس کے علاوہ قوم کی نمائندگی کرنے والے افراد کی بھی سازش کے تحت کر...

عیدِ قربان میں ایک غلط رجحان

 عیدِ قربان میں ایک غلط رجحان عیدِ قربان ایک مذہبی فریضہ ہے جس کا سال میں ایک ہی بار اعادہ ہوتا ہے۔ اس فریضے کی ادائگی میں زیادہ سے زیادہ اہتمام کرنا چاہئے کیونکہ یہ واجب بھی ہے اوراس کی ادائگی کیلئے دوسرے معاملات کو نظر انداز کیا جاسکتا ہے۔ ہمارا دین ہمیں اللہ کے احکامات پر عمل کرنا سکھاتا ہے اور خود ساختہ اعمال سے اجتناب برتنے پر زور دیتا ہے۔ بدعات پر عمل کرنے والا سنت سے دور ہوجاتا ہے، یہ ایک فطری و نفسیاتی عمل ہے۔ عیدالاضحیٰ کے موقع پر تمام مسلمانوں کو جو فطرہ ادا کرنے کی استطاعت رکھتے ہیں قربانی کا حکم دیا گیا ہے۔ شرعی لحاظ سے قربانی کا حکم واجبات میں آتا ہے۔ اس حکم کی ادائگی پر اتنا زیادہ زور دیا گیا ہے کہ اگر کسی شخص کی رقم عارضی طور پر رک گئی ہے اور اس کو ملنے کا یقین ہو تو اس کو چاہئے کہ قرض لیکر قربانی کا فریضہ ادا کرے۔ شریعت میں بوجھ نہیں، لحاظہ ہر مسلمان اپنی حیثیت کے مطابق قربانی کرسکتا ہے۔  قربانی کے سہل فریضے کو چند افراد نے مشکل بنادیا ہے۔ اپنی مرضی کا جانور ہی ذبح کرنے کا عمل اس فریضے کو گراں کردیتا ہے۔ چند ہزار روپے میں گائے کا ایک حصہ لیکر بھی قربانی ادا ہوج...

نام کے مسلمان

 نام کے مسلمان اس بلاگ پوسٹ میں مسلمانوں کی دین کے ساتھ وابستگی کا ذکر کیا گیا ہے، کہ اپنی ذاتی زندگی میں کتنا دین پر عمل کرتے ہیں۔ اکثر آپ یہ سنتے ہوں گے کہ مولویوں کا زور صرف اس بات پر ہوتا ہے کہ مسلمان دین سے دوری کی وجہ سے مشکلات اور پریشانیوں میں مبتلا ہیں، جبکہ انہیں تعلیم، ہنر مندی، اخلاقیات اور قانون کی پاسداری پر زور دینا چاہئے۔ اسی بات کو موضوعِ گفتگو بنایا گیا ہے کہ دینِ اسلام ہمیں کیا سکھا رہا ہے اور ہم مسلمان عملی طور پر کیا کر رہے ہیں۔ مشاہدے میں یہ بات آتی جارہی ہے کہ بنیادی دین ہم مسلمانوں نے صرف نماز اور روزے کو سمجھ لیا ہے۔ ایک بڑا المیہ یہ ہے کہ جو پانچ وقت کے نمازی ہوتے ہیں انہیں مکمل دین دار سمجھا جاتا ہے اور اکثر ان سے لوگ اپنے مسئلے پوچھنا شروع ہوجاتے ہیں۔ یہ ایک غلط رجحان ہے، دینِ اسلام کے پانچ شعبے ہیں، عقائد، عبادات، معاملات/معاشیات، معاشرت اور اخلاقیات۔ ان پانچ میں سے ایک شعبہ عبادات کا پانچواں حصہ نماز ہے، تو جو شخص صرف نماز پابندی سے ادا کرتا ہو تو وہ کیسے مکمل دیندار کہلائے گا؟ دین ہماری زندگیوں سے نکلتا جارہا ہے۔ بحیثیت مسلمان ہم دین کے بغیر کچھ بھی ن...

حقوقِ نسواں اور اسلام

 حقوقِ نسواں اور اسلام اسلام کس طرح مرد اور عورت میں برابری نہیں ہونے دیتا اور دین میں مرد اور عورت کی تفریق کس طرح سے ہےاس مضمون میں تفصیل سے ذکر کیا گیا ہے۔ اسلام ایسا مذہب ہے جو کچھ معاملات میں عورتوں کو مردوں کی برابری نہیں کرنے دیتا۔ عبادات میں مرد اور خواتین کو برابر اجر ملتا ہے لیکن دیگر شعبوں میں عورتوں کا اجر مرد سے الگ ہے۔ خواتین کو معاش کی فکر سے آزادی دے کر گھر اور خاوند کی ذمہ داری دے دی، ایک طرح سے عورت کو پورے گھر کا مالک بنادیا۔ جبکہ اب خواتین یہ چاہتی ہیں کہ پڑھ لکھ کر 35 سے 40 ہزار کی نوکری کریں۔ صبح سے شام تک بغیر آرام کے دفتر کا کام کریں (بینک میں تو اکثر رات تک کام کرنا پڑتا ہے)، بسوں ویگنوں اور چنچیوں میں سفر کریں تو یہ عورت خود کو آزاد اور کامیاب سمجھتی ہے۔ کئی عشروں سے خواتین کے ہاتھ میں تمام خانگی معاملات آگئے ہیں، مرد خارجی مسائل کے پیش نظر اب گھریلو مسائل میں عورتوں کی اطاعت کرتے نظر آتے ہیں۔ لیکن عورتیں اس کو غلامی سے تشبیہ دے رہی ہیں، انکے خیال میں دفاتر میں افسران کی اطاعت کرنا ہی اصل زندگی ہے اور گھر میں خواتین اپنی صلاحیتوں کو ضائع کررہی ہیں۔  ا...

گوگل کے ذریعے کلیدی الفاظ کا چناؤ

 گوگل کے ذریعے کلیدی الفاظ کا چناؤ گوگل سرچ انجن کو استعمال کرتے ہوئے آپ ایسے کلیدی الفاظ کا انتخاب کرسکتے ہیں جو آپ کی پوسٹ کو وائرل کردے۔ کوئی بھی پوسٹ وجود میں لانے سے پہلے آپ کو پتا ہونا چاہئے کہ اس کو کتنے لوگ با آسانی دیکھ سکتے ہیں۔ یعنی کہ آپ کو کوشش کرنی چاہئے کہ آپ کی پوسٹ یا آرٹیکل زیادہ سے زیادہ لوگوں کی پہنچ میں ہو، اس کیلئے آپ کو خاص کلیدی الفاظ کا انتخاب کرنا پڑے گا۔ تو جناب خاص کلیدی الفاظ کیلئے گوگل سے بہتر کوئی پلیٹ فارم نہیں۔ میں آپ کو ایک مختصر طریقہ بتاتا ہوں جس سے آپ باآسانی گوگل سے اپنی پوسٹ کےحساب سے کلیدی الفاظ کا چناؤ کر سکتے ہیں۔ سب سے پہلے گوگل سرچ انجن کو کھولیں پھراپنی پوسٹ کے لحاظ سے کوئی لفظ گوگل میں لکھیں۔ جیسے ہی آپ نے کوئی لفظ گوگل میں لکھا تو فوراً آپ کو ایک مینؤ نظر آئے گا جس میں گوگل کی طرف سے کلیدی الفاظ دئے گئے ہوں گے۔ یہ وہ الفاظ ہیں جو گوگل میں بہت زیادہ ڈھونڈے جاتے ہیں اس لئے ان الفاظ کو اپنی پوسٹ میں استعمال کرنے سےآپ کی پوسٹ کی رسائی زیادہ سے زیادہ لوگوں تک ہو سکتی ہے۔  گوگل کی مدد سے حاصل شدہ الفاظ کو ٹیگ کے طور بھی استعمال کرنا چاہ...

ابنِ صفی کی عمران سیریز

 ابنِ صفی کی عمران سیریز علی عمران کا کردار ایک کھلنڈرے لڑکے جیسا ہے۔ عمران کا کردار اس شخص کی طرح ہے جو اکیلا پوری فوج پر بھاری ہو۔ یہی وجہ ہے کہ عمران سیریز کے انفرادی حیثیت والے ناول نسبتاً زیادہ دلچسپ ہیں۔ جس طرح جاسوسی دینا میں ہندوستان کا ماحول دکھایا گیا ہے اسی طرح عمران سیریز پاکستان کے ماحول پر مبنی ہے۔ عمران کا کردار اس شخص کی طرح ہے جو اکیلا پوری فوج پر بھاری ہو۔ یہی وجہ ہے کہ عمران سیریز کے انفرادی حیثیت والے ناول نسبتاً زیادہ دلچسپ ہیں۔ عمران سیریز کا پہلا ناول "خوفناک عمارت" 1955ء میں منظرِ عام پر آیا اور آخری ناول "آخری آدمی" 1980ء میں شائع ہوا۔ (بحوالہ وکی پیڈیا) عمران کا کردار عمران سیریز کے کئی ناول جاسوسی دنیا کے ناولوں کے مقابلے میں زیادہ مزاح سے بھرپور محسوس ہوئے، اس کی وجہ عمران کا مضحکہ خیز انداز ہے۔ اکثر عمران سے سچ مچ حماقتیں سرزد ہوجاتی ہیں جن کو پڑھ کر زیادہ لطف آتا ہے۔ عمران کا کردار ایسا انوکھا ہے کہ آنے والے مصنفین نے اس کو کہیں نہ کہیں لازمی نقل کیا ہے۔ جاسوسی دینا سے مقابلہ کریں توعلی عمران کسی وقت احمد کمال فریدی کی طرح بن جاتا ہے تو...

رسمی اور غیر رسمی تعلیم پر ایک نظر

 رسمی اور غیر رسمی تعلیم پر ایک نظر ہمارے معاشرے میں کتب بینی اور کتب خانوں سے دوری بڑھتی جارہی ہے۔ جس سے معاشرے میں موجود افراد کے عقل و شعور اور فہم میں کمی آتی جارہی ہے۔ اس کی وجوہات اور سدِباب پر اس مضمون میں بحث کی گئی ہے۔ ہمارے معاشرے میں رسمی تعلیم کو ہی زیادہ اہمیت دی جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسکول کے بستے بھاری سے بھاری ہوتے جارہے ہیں لیکن عقل و شعور ہمارے بچوں میں نظر نہیں آرہا۔ تعلیم کے ساتھ ساتھ تربیت بھی اہمیت رکھتی ہے۔ کچھ لوگ جاپان کی مثال دیتے ہیں کہ وہاں اخلاقی تعلیم اور تربیت پر زیادہ زور دیا جاتا ہے۔ لیکن یہ بات اکثر لوگوں کو نہیں معلوم کہ پہلے کے دور میں سرکاری اسکولوں میں تعلیم کے ساتھ ساتھ تربیت بھی دی جاتی تھی۔ میں اگر ذاتی تجربے کی بنیاد پر بات کروں تو ہمارے اسکول میں شروع سے ہی تعلیم کے ساتھ دین کے بنیادی مسائل جیسے طہارت و پاکیزگی، نماز، تلاوت اور جہاد کے مقاصد وغیرہ بھی سکھائے جاتے تھے۔ نظم و ضبط بھی تربیت کا حصہ تھے۔ اسکول محظ پانچ منٹ دیر سے آنے پر ڈنڈوں سے پٹائی ہوتی تھی۔ جسمانی مشقیں اور دیگر سرگرمیاں بھی ہماری تعلیم میں شامل تھیں۔ اور ان سرگرمیوں کے مق...

ڈگریوں کا بوجھ اٹھائے گدھے

 ڈگریوں کا بوجھ اٹھائے گدھے ہمارے معاشرے میں لوگ کس طرح ڈگریوں کے حصول کیلئےبھیڑچال کا شکار ہیں۔ اور تعلیم کا مقصد کیا بنا لیا ہے اس سے متعلق  گفتگو کی گئی ہے۔ پاکستان میں تعلیم کا زوال اس وقت شروع ہوا تھا جب حکومتِ وقت نے تعلیم کے شعبے اور اداروں کو قومی ملکیت میں لیا۔ وہ تعلیمی ادارے جو اپنے معیار کے لحاظ سے قابلِ ذکر تھے، قومیانے کے بعد بیکار ہوکر رہ گئے۔ پہلے کے زمانے میں لوگ مڈل یا میٹرک پاس کرتے تھے تو انکی بہت قدر کی جاتی تھی۔ ان میں بہت زیادہ قابلیت ہوتی تھی اور نوکریاں بھی آرام سے مل جاتی تھیں۔ لیکن اب وہ دور آگیا ہے کہ لوگ پی ایچ ڈی کی اسناد ہاتوں میں لیکر گھوم رہے ہیں اور ان کی کوئی قدرومنزلت نہیں، نہ ہی کوئی مناسب نوکری مل رہی ہوتی ہے۔ تعلیم کا حصول اب نہایت سہل ہوگیا ہے۔ اسباق و مضامین کو سیاق و سباق سمجھے بغیر رٹنے اور محظ 33 فیصد نمبر حاصل کرکے کوئی بھی کسی بھی درجے میں کامیابی حاصل کر سکتا ہے۔ اور ایک بار سند حاصل ہوجائے تو لوگ خود کو علامہ سمجھنے لگتے ہیں، چاہتے ہیں کہ اب اعلٰی ملازمتوں کیلئے انھیں خود بلایا جائے گا۔ یہ احمقوں کی جنت میں رہنے والی بات ہے۔ ہونا...

پیدائشی ذہنی معذور بچے

 پیدائشی ذہنی معذور بچے یہ قانونِ قدرت ہے کہ کچھ بچے ذہین پیدا ہوتے ہیں اور کچھ ذہنی طور پر کمزور۔ لیکن معاشرتی عوامل بھی اس کے ذمہ دار ہیں جن کے متعلق اس مضمون میں بحث کی گئی ہے۔ اپنے اردگرد نظر دوڑائیں تو ہمیں ذہنی طور پر کمزور بچے کافی تعداد میں نظر آئیں گے، اس کی کئی وجوہات ہوسکتی ہیں جن کا تعلق ہماری معاشرتی، معاشی زندگی سے بھی ہے اور ذہنی اور جسمانی صحت سے بھی۔ جب بچہ دینا میں آنے سے پہلے نشوونما پا رہا ہوتا ہے اس وقت ماں کی ذہنی اور جسمانی صحت کا خاص خیال رکھنا ضروری ہے۔ ذہنی صحت کیلئے مندرجہ ذیل باتوں کا خیال رکھنا ضروری ہے؛  عورت امید سے ہو تو اس کو خوش اور مطمئن رکھا جائے، کمرہ صاف ستھرا اور مزین ہو  اس کے ساتھ یا اس کی موجودگی میں لڑائی جھگڑے سے پرہیز کیا جائے  معاشی تنگی کا رونا نہ رویا جائے  ہر ممکن طریقے سے اس کی خواہشات کو پورا کیا جائے، اگر استطاعت نہ ہو تو سستا متبادل طریقہ اپنایا جائے  ذہنی اور جسمانی مشقت سے بچایا جائے  ہمارے معاشرے کا ایک المیہ یہ ہے کہ بہو سے زیادہ بیٹی کی فکر کی جاتی ہے۔ یہاں یہ بات قابلِ غور ہے کہ جو بہو آپ لیکر ...

بجلی کے بحران کا ذمہ دار کون؟

 بجلی کے بحران کا ذمہ دار کون؟ بحیثیت قوم بجلی کے بحران کی ذمہ داری ہم سب پر عائد ہوتی ہے۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ جب اعلٰی سطح پر کوئی غلط فیصلہ ہورہا ہو تو اس کا خمیازہ آنے والے زمانے میں بھگتنا پڑتا ہے۔ اس وقت عوام کی غیر سنجیدگی آنے والے دور میں بحران کی صورت میں سامنے آجاتی ہے۔ بجلی کے موجودہ بحران کی درج ذیل تین بنیادی وجوہات ہیں؛ نئے ڈیم تعمیر نہ کرنا بجلی مہیا کرنے والی سرکاری کمپنیوں کو نجی تحویل میں دینا بجلی مہیا کرنے والی کمپنیوں سے غلط معاہدے کرنا نئے ڈیم تعمیر نہ کرنا؛ پوری دنیا کے ممالک میں پاکستان وہ واحد ملک ہے جہاں نئے ڈیم کی تعمیر کی سب سے زیادہ مخالفت کی جاتی ہے۔ اس مخالفت کی بنیاد اکثر سیاسی ہوتی ہے اور عوام حقائق کے برعکس اپنی سیاسی جماعت پر بھروسا کرتے ہوئے اس مخالفت میں شامل حال رہتے ہیں۔ ہم نے کبھی یہ نہیں سوچا کہ آنے والے وقت میں ہمیں کن کن مشکلات کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔ بس جو سیاسی لیڈر نے کہ دیا وہی سچ مان لیا۔ کالا باغ ڈیم ایک قدرتی ڈیم ہے جس میں نسبتاً کم خرچ آتا اور ہمیں بجلی تقریباً ایک روپے فی یونٹ تک موصول ہوتی۔ اس کی مخالفت تین صوبوں نے کی جس م...

مہنگائی کے اسباب اور ہماری ذمہ داریاں

مہنگائی کے اسباب اور ہماری ذمہ داریاں اس بلاگ میں آپ مہنگائی کے وہ اسباب پڑھیں گے جن کا تعلق عوام الناس سے ہے۔ ہماری غلط ترجیحات ہی مہنگائی میں اضافے کا باعث بنتی ہیں۔ اگر یہ کہا جائے کہ مہنگائی کے اصل ذمہ دار ہم خود ہیں تو غلط نہ ہوگا۔ ہمارے اجتماعی رویے ہی مہنگائی کو بڑھاوا دیتے ہیں۔ پہلے زندگی سادہ تھی، لوگوں میں خلوص تھا، مہمان نوازی تھی، کھانا کم پڑنے کی صورت میں چٹنی سے روٹی کھالی جاتی تھی۔ اسکول جاتے بچوں کو آدھی پنسل توڑ کر دی جاتی تھی۔ دفاتر لوگ سائکل پر جاتے تھے (آج بھی سائکل کو رواج دینا بہتر ہے تاکہ ٹریفک کے مسائل اور پٹرول کے خرچ سے نجات ملے)۔ تفریح کیلئے باہر گھومنے اور ہوٹل کے کھانے کا رواج نہیں تھا اس لئے انتہائی کم تنخواہ میں بھی گزارا ہوجاتا تھا۔ اب تنخواہیں نسبتاً کہیں زیادہ ہیں لیکن گھر کا خرچہ چلانا عذاب ہوگیا ہے۔ لوگ بھیڑ میں بھی گھر والوں کو لیکر نکل جاتے ہیں اور باہر کی مہنگی اشیاء پر بے دریغ پیسہ خرچ کررہےہوتے ہیں۔ ایک غلط رجحان یہ پیدا ہو گیا ہے کہ بچوں کو بڑے اور مہنگے اسکول میں پڑھایا جائے۔ کم تنخواہ اور زیادہ خرچ کے باوجود والدین بچوں کو مہنگے اسکول کے ساتھ...

مہنگائی کی رفتار (ماضی سے موازنہ)

 مہنگائی کی رفتار (ماضی سے موازنہ) اس بلاگ میں ذاتی تجربہ کی بنیاد پر مہنگائی کا تجزیہ کیا گیا ہے۔ صدر ضیاءالحق شہید سے لیکر موجودہ دور تک کے حالات کا موازنہ کیا گیا ہے۔ اس وقت جو مہنگائی کی رفتار چل رہی ہے اس کا موازنہ ماضی سے لگائیں تو زمین آسمان کا فرق محسوس ہوتا ہے۔ پہلے چیزیں سالوں میں جاکر مہنگی ہوتی تھیں لیکن اب لگتا ہے قیمتیں زورانہ بڑھ رہی ہیں۔ کچھ اشیاء کی قیمتیں کم زیادہ ہوتی رہتی ہیں جیسے موسمی پھل، سبزیاں اور مرغی کا گوشت وغیرہ۔ لیکن کچھ چیزیں جب مہنگی ہوتی ہیں تو انکی قیمتیں واپس کم نہیں ہوتیں۔ اس مضمون میں دونوں اشیاء کا ذکر ہوگا۔  پہلے زمانے میں لوگوں کا طرزِ زندگی سادہ تھا اس لئے انکو مہنگائی کا اتنا اثر محسوس نہیں ہوتا تھا۔ کوئی شے وقتی طور پر مہنگی ہوگئی تو اس کی جگہ دوسری چیز استعمال کرلی (اس موضوع پر میرا دوسرا مضمون  مہنگائی کے اسباب پڑھیے)۔ اب ہم سب نے خود کو غیر ضروری چیزوں اور سہولیات کا عادی بنالیا ہے جس کے نتیجے میں ہمیں ان چیزوں کی گرانی کو برداشت کرنا پڑتا ہے۔ میں اپنے بچپن سے لیکر موجودہ دور تک کی مہنگائی کا ذکر کروں گا جو میرا ذاتی تجزیہ ہوگ...

ابنِ صفی کی جاسوسی دنیا

 ابنِ صفی کی جاسوسی دنیا ابنِ صفی کا ایک شاہکار سلسلہ جاسوسی دنیا کے نام سے مشہور ہے۔ اس سلسلے میں احمد کمال فریدی اور ساجد حمید اہم کردار ہیں۔ جاسوسی دنیا کے ناول اپنے زمانے میں انتہائی مقبول ہوئے۔ اس مضمون میں تفصیل سے ذکر کیا گیا ہے۔ تعارف ابنِ صفی کا اصل نام اَسرار احمد ہے۔ آپ اترپردیش کے گاؤں "نارا" میں، 26 جولائی 1928ء میں پیدا ہوئے۔ آپ کا انتقال 26 جولائی 1980ء کو کراچی میں ہوا اور ناظم آباد میں پاپوش نگر کے قبرستان میں آپ کی تدفین ہوئی۔ آپ کا سب سے پہلا جاسوسی دنیا کا ناول "بھیانک مجرم" مارچ 1952 میں شائع ہوا جب کہ اسی سلسلے کا آخری ناول "صحرائی دیوانہ" جولائی 1979 میں منظرِ عام پر آیا۔ ابنِ صفی تقریباً تین سال تک عارضے میں مبتلاء رہے جس کے دوران ناول نہیں لکھے گئے۔ آپ نے ایک فلم کا اسکرپٹ بھی لکھا جس کا نام "دھماکہ"تھا لیکن یہ فلم کامیاب نہ ہوسکی۔ (بحوالہ وکی پیڈیا) علمیت ابنِ صفی کے تقریباً تمام ہی ناول ایک شاہکار کی حیثیت رکھتے ہیں۔ ان ناولوں کو پڑھ کر قاری محوِحیرت میں گم ہوجاتا ہے۔ معلومات کا دریا ایک کوزے میں بند ملتا ہے۔ انِ صفی کے...

اونچی پوسٹوں پر بیٹھےگدھے

 اونچی پوسٹوں پر بیٹھےگدھے انٹرویو کے دوران پہش آنے والے مختلف مشاہدات اور تجربات ہمیں حاصل ہوتے رہتے ہیں، اس پوسٹ میں ہم انہیں کو موضوع بنائیں گے۔ جب ہم انٹرویو دینے جاتے ہیں تو ہمیں یہ مشاہدہ ہوتا ہے کہ اکثر انٹرویو لینے والے عقل و سمجھ سے عاری ہوتے ہیں۔ میں ایک تجربہ گوش گزار کرنا چاہوں گا۔ میری نوکری ختم ہو گئی تھی تو میں مختلف اداروں میں کوشش کر رہا تھا کہ ایک اسکول میں لائبریرین کی نوکری کا اشتہار دیکھاجس میں لکھا تھا کہ آپ کسی بھی وقت آکر انٹرویو دے سکتے ہیں، میرا چونکہ پندرہ سال کا تجربہ تھا لائبریرین کا اس لئے اعتماد کے ساتھ وہاں پہنچ گیا۔ انٹرویو لینے والی وہاں کی پرنسپل تھیں۔ میں نے اپنا بایو ڈیٹا انکے حوالے کیا تاکہ انکو میری قابلیت کا پتہ چل جائے۔ لیکن محترمہ نے اسکو دیکھے بنا مجھ سے پوچھا کہ آپ کو لائبریری سے متعلق کچھ معلوم ہے؟ اور کیا آپ لائبریری کو سنبھال سکتے ہیں؟ یہ سن کہ میں ہکا بکا رہ گیا، بہرحال نوکری کا معاملہ تھا اس لئے کہا کہ جی ہاں میں لائبریری سنبھال سکتا ہوں تو مجھ سے کہ رہی ہیں کہ یہاں ایک لڑکی لائبریری سنبھالتی تھی اور اس سے اچھا لائبریرین انکو نہیں مل...

شادی یا پڑھائی

 شادی یا پڑھائی ہمارے معاشرے میں موجود ایک غلط رجحان اور اس کے نقصانات ہمارے معاشرے میں والدین بچوں کی پڑھائی کو اتنا زیادہ اہمیت دینے لگے ہیں کہ لگتا ہے اس کے علاوہ اور کسی کام کی اہمیت نہیں۔ لڑکیاں جب جوان ہوتی ہیں تو ان میں سے اکثر کے رشتے آنا شروع ہوجاتے ہیں۔ لیکن والدین کی کوشش ہوتی ہے کہ لڑکی کی شادی اسکی پڑھائی مکمل ہونے کے بعد کی جائے جس کی وجہ سے اس کے رشتے واپس چلے جاتے ہیں۔ اگر والدین لڑکی سے شادی کا پوچھیں تو وہ بھی انکار کر دیتی ہے جس کی سب سے بڑی وجہ اس کی فطری شرم و حیا ہے، لیکن والدین اسی کو حرفِ آخر سمجھ لیتے ہیں اور اپنی ذمہ داری کو بوجھ سمجھتے ہوئے اس مسئلہ کو ٹال دیتے ہیں یہ سوچ کر کہ لڑکی کی گریجویشن مکمل ہو تو پھر اس کی شادی کا سوچا جائے۔ لیکن پڑھائی کے بعد پھر وہ رشتے نہیں مل پاتے۔ یہ صورتحال لڑکیوں کے لئے نفسیاتی عوارض کا سبب بن جاتا ہے۔ اب قابلیت تو زیادہ ہے لیکن جوڑ کے رشتے میسر نہیں تو یہ لڑکیاں کیا کریں۔ اس طرح یہ رجحان ہمارے معاشرے میں بڑھتا جا رہا ہے۔ اب فرض کریں کسی لڑکی نے شادی سے انکار صرف اس لئے کیا ہو کہ اسے شرم آرہی تھی یا اس وقت اس کا قلبی رجحان...

روایتی زندگی بمقابلہ جدیدیت(ماڈرن ازم)

 روایتی زندگی بمقابلہ جدیدیت(ماڈرن ازم) ہمارے معاشرے میں جو نئے رجحانات سامنے آرہے ہیں ان کا تقابل گذشتہ دور سے کیا گیا ہے۔ اسلام سے پہلےدنیا ذہنی پسماندگی کا شکار تھی۔ اسلام نے ایک جدید سوچ عطا کی جس میں پچھلی زندگی سے لوگوں کو چھٹکارا ملا۔ اس لحاظ سے جدیدیت کا آغاز اسلام کی دعوت سے ہوا۔ اس وقت اس جدیدیت کے خلاف اکثریت نے مزاحمت کی اور یہ جواز پیش کیا کہ "ہم نے تواپنے آباؤاجداد کو ایسا کرتے نہیں دیکھا۔ اسی طرح ہر ادوار میں جدیدیت کی مخالفت کی گئی، لیکن اسلام کی آمد کو دیکھا جائے تو اس جدیدیت سے لوگوں کو فائدہ پہنچا اور غیر ضروری رسومات و توہمات کا خاتمہ ہوا۔ نتیجتاً اسلام نے انسان کی زندگی کو آسان کردیا۔ آنے والے ادوار میں جدیدیت کے نام پرنئے نئے رجحانات متعارف کروائے گئے جن کا بظاہر مقصد لوگوں کی زندگیوں کو سہل کرنا تھا لیکن اکثر رجحانات سے معاشرے میں بگاڑ پیدا ہوا۔ اس مضمون میں موجودہ حالات کے حساب سے روایتی زندگی اور جدیدیت کا تقابل پیش کیا گیا ہے۔ سب سے پہلے روایتی اور سادہ زندگی کا خاکہ پیش کرتے ہیں۔ روایتی گھریلو زندگی میں ماں گھر میں کام کرتی اور بچوں کو سنبھالتی ہے، پورا ...

متحدہ قومی موومنٹ

 متحدہ قومی موومنٹ اس پوسٹ میں ہم معاشرتی لحاظ سے مہاجر تنظیم کا جائزہ لیں گے۔ تنظیم کی بنیاد، عروج اور زوال کے اسباب پر تحریر ہے۔ جس معاشرے میں سفارش، لسانیت، اقربا پروری عام ہو وہاں متحدہ قومی موومنٹ جسی تنظیمیں وجود میں آہی جاتی ہیں۔ جب قابل نوجوانوں کو انکی قابلیت کے اعتبار سے یونیورسٹی میں داخلے اور سرکاری نوکریاں نہ ملیں تو وہ ایسی تنظیموں کے بازو بن جاتے ہیں۔ لاقانونیت، معاشرے کا انتشار اور افراتفری سے یہ تنظیمیں عروج پر پہنچ جاتی ہیں۔ سیاسی پشت پناہی اور عوام کی حمایت ان کی بنادوں کو مضبوط بنادیتی ہیں۔ مہاجر تنظیم کو شروع میں اپنا مقام بنانے کیلئے بہت زیادہ جدوجہد کرنی پڑی، پھر سازگار حالات نے فائدہ پہنچایا۔ کراچی کے لڑکوں کو میڈیکل کالجوں میں داخلہ نہیں ملتا تھا جبکہ اندرونِ سندھ کے طالبِ علم ترجیحی بنیاد پر داخلے حاصل کرلیا کرتے تھے۔ لسانیت کا سامنا بھی اندرونِ سندھ کے مہاجروں کو کرنا پڑتا تھا۔ جئے سندھ کے لڑکے مہاجر لڑکوں کے ساتھ بدمعاشی کرتے تھے، سرکاری اداروں میں مہاجروں کے ساتھ حقارت آمیز سلوک کیا جاتا تھا۔ یہ وہ عوامل تھے جس کی بنیاد پر تنظیم کی عظیم عمارت تعمیر ہوئی...