Skip to main content

Posts

Showing posts with the label Special Topic

عیدِ قربان میں ایک غلط رجحان

 عیدِ قربان میں ایک غلط رجحان عیدِ قربان ایک مذہبی فریضہ ہے جس کا سال میں ایک ہی بار اعادہ ہوتا ہے۔ اس فریضے کی ادائگی میں زیادہ سے زیادہ اہتمام کرنا چاہئے کیونکہ یہ واجب بھی ہے اوراس کی ادائگی کیلئے دوسرے معاملات کو نظر انداز کیا جاسکتا ہے۔ ہمارا دین ہمیں اللہ کے احکامات پر عمل کرنا سکھاتا ہے اور خود ساختہ اعمال سے اجتناب برتنے پر زور دیتا ہے۔ بدعات پر عمل کرنے والا سنت سے دور ہوجاتا ہے، یہ ایک فطری و نفسیاتی عمل ہے۔ عیدالاضحیٰ کے موقع پر تمام مسلمانوں کو جو فطرہ ادا کرنے کی استطاعت رکھتے ہیں قربانی کا حکم دیا گیا ہے۔ شرعی لحاظ سے قربانی کا حکم واجبات میں آتا ہے۔ اس حکم کی ادائگی پر اتنا زیادہ زور دیا گیا ہے کہ اگر کسی شخص کی رقم عارضی طور پر رک گئی ہے اور اس کو ملنے کا یقین ہو تو اس کو چاہئے کہ قرض لیکر قربانی کا فریضہ ادا کرے۔ شریعت میں بوجھ نہیں، لحاظہ ہر مسلمان اپنی حیثیت کے مطابق قربانی کرسکتا ہے۔  قربانی کے سہل فریضے کو چند افراد نے مشکل بنادیا ہے۔ اپنی مرضی کا جانور ہی ذبح کرنے کا عمل اس فریضے کو گراں کردیتا ہے۔ چند ہزار روپے میں گائے کا ایک حصہ لیکر بھی قربانی ادا ہوج...

حقوقِ نسواں اور اسلام

 حقوقِ نسواں اور اسلام اسلام کس طرح مرد اور عورت میں برابری نہیں ہونے دیتا اور دین میں مرد اور عورت کی تفریق کس طرح سے ہےاس مضمون میں تفصیل سے ذکر کیا گیا ہے۔ اسلام ایسا مذہب ہے جو کچھ معاملات میں عورتوں کو مردوں کی برابری نہیں کرنے دیتا۔ عبادات میں مرد اور خواتین کو برابر اجر ملتا ہے لیکن دیگر شعبوں میں عورتوں کا اجر مرد سے الگ ہے۔ خواتین کو معاش کی فکر سے آزادی دے کر گھر اور خاوند کی ذمہ داری دے دی، ایک طرح سے عورت کو پورے گھر کا مالک بنادیا۔ جبکہ اب خواتین یہ چاہتی ہیں کہ پڑھ لکھ کر 35 سے 40 ہزار کی نوکری کریں۔ صبح سے شام تک بغیر آرام کے دفتر کا کام کریں (بینک میں تو اکثر رات تک کام کرنا پڑتا ہے)، بسوں ویگنوں اور چنچیوں میں سفر کریں تو یہ عورت خود کو آزاد اور کامیاب سمجھتی ہے۔ کئی عشروں سے خواتین کے ہاتھ میں تمام خانگی معاملات آگئے ہیں، مرد خارجی مسائل کے پیش نظر اب گھریلو مسائل میں عورتوں کی اطاعت کرتے نظر آتے ہیں۔ لیکن عورتیں اس کو غلامی سے تشبیہ دے رہی ہیں، انکے خیال میں دفاتر میں افسران کی اطاعت کرنا ہی اصل زندگی ہے اور گھر میں خواتین اپنی صلاحیتوں کو ضائع کررہی ہیں۔  ا...

گوگل کے ذریعے کلیدی الفاظ کا چناؤ

 گوگل کے ذریعے کلیدی الفاظ کا چناؤ گوگل سرچ انجن کو استعمال کرتے ہوئے آپ ایسے کلیدی الفاظ کا انتخاب کرسکتے ہیں جو آپ کی پوسٹ کو وائرل کردے۔ کوئی بھی پوسٹ وجود میں لانے سے پہلے آپ کو پتا ہونا چاہئے کہ اس کو کتنے لوگ با آسانی دیکھ سکتے ہیں۔ یعنی کہ آپ کو کوشش کرنی چاہئے کہ آپ کی پوسٹ یا آرٹیکل زیادہ سے زیادہ لوگوں کی پہنچ میں ہو، اس کیلئے آپ کو خاص کلیدی الفاظ کا انتخاب کرنا پڑے گا۔ تو جناب خاص کلیدی الفاظ کیلئے گوگل سے بہتر کوئی پلیٹ فارم نہیں۔ میں آپ کو ایک مختصر طریقہ بتاتا ہوں جس سے آپ باآسانی گوگل سے اپنی پوسٹ کےحساب سے کلیدی الفاظ کا چناؤ کر سکتے ہیں۔ سب سے پہلے گوگل سرچ انجن کو کھولیں پھراپنی پوسٹ کے لحاظ سے کوئی لفظ گوگل میں لکھیں۔ جیسے ہی آپ نے کوئی لفظ گوگل میں لکھا تو فوراً آپ کو ایک مینؤ نظر آئے گا جس میں گوگل کی طرف سے کلیدی الفاظ دئے گئے ہوں گے۔ یہ وہ الفاظ ہیں جو گوگل میں بہت زیادہ ڈھونڈے جاتے ہیں اس لئے ان الفاظ کو اپنی پوسٹ میں استعمال کرنے سےآپ کی پوسٹ کی رسائی زیادہ سے زیادہ لوگوں تک ہو سکتی ہے۔  گوگل کی مدد سے حاصل شدہ الفاظ کو ٹیگ کے طور بھی استعمال کرنا چاہ...

ابنِ صفی کی عمران سیریز

 ابنِ صفی کی عمران سیریز علی عمران کا کردار ایک کھلنڈرے لڑکے جیسا ہے۔ عمران کا کردار اس شخص کی طرح ہے جو اکیلا پوری فوج پر بھاری ہو۔ یہی وجہ ہے کہ عمران سیریز کے انفرادی حیثیت والے ناول نسبتاً زیادہ دلچسپ ہیں۔ جس طرح جاسوسی دینا میں ہندوستان کا ماحول دکھایا گیا ہے اسی طرح عمران سیریز پاکستان کے ماحول پر مبنی ہے۔ عمران کا کردار اس شخص کی طرح ہے جو اکیلا پوری فوج پر بھاری ہو۔ یہی وجہ ہے کہ عمران سیریز کے انفرادی حیثیت والے ناول نسبتاً زیادہ دلچسپ ہیں۔ عمران سیریز کا پہلا ناول "خوفناک عمارت" 1955ء میں منظرِ عام پر آیا اور آخری ناول "آخری آدمی" 1980ء میں شائع ہوا۔ (بحوالہ وکی پیڈیا) عمران کا کردار عمران سیریز کے کئی ناول جاسوسی دنیا کے ناولوں کے مقابلے میں زیادہ مزاح سے بھرپور محسوس ہوئے، اس کی وجہ عمران کا مضحکہ خیز انداز ہے۔ اکثر عمران سے سچ مچ حماقتیں سرزد ہوجاتی ہیں جن کو پڑھ کر زیادہ لطف آتا ہے۔ عمران کا کردار ایسا انوکھا ہے کہ آنے والے مصنفین نے اس کو کہیں نہ کہیں لازمی نقل کیا ہے۔ جاسوسی دینا سے مقابلہ کریں توعلی عمران کسی وقت احمد کمال فریدی کی طرح بن جاتا ہے تو...

رسمی اور غیر رسمی تعلیم پر ایک نظر

 رسمی اور غیر رسمی تعلیم پر ایک نظر ہمارے معاشرے میں کتب بینی اور کتب خانوں سے دوری بڑھتی جارہی ہے۔ جس سے معاشرے میں موجود افراد کے عقل و شعور اور فہم میں کمی آتی جارہی ہے۔ اس کی وجوہات اور سدِباب پر اس مضمون میں بحث کی گئی ہے۔ ہمارے معاشرے میں رسمی تعلیم کو ہی زیادہ اہمیت دی جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسکول کے بستے بھاری سے بھاری ہوتے جارہے ہیں لیکن عقل و شعور ہمارے بچوں میں نظر نہیں آرہا۔ تعلیم کے ساتھ ساتھ تربیت بھی اہمیت رکھتی ہے۔ کچھ لوگ جاپان کی مثال دیتے ہیں کہ وہاں اخلاقی تعلیم اور تربیت پر زیادہ زور دیا جاتا ہے۔ لیکن یہ بات اکثر لوگوں کو نہیں معلوم کہ پہلے کے دور میں سرکاری اسکولوں میں تعلیم کے ساتھ ساتھ تربیت بھی دی جاتی تھی۔ میں اگر ذاتی تجربے کی بنیاد پر بات کروں تو ہمارے اسکول میں شروع سے ہی تعلیم کے ساتھ دین کے بنیادی مسائل جیسے طہارت و پاکیزگی، نماز، تلاوت اور جہاد کے مقاصد وغیرہ بھی سکھائے جاتے تھے۔ نظم و ضبط بھی تربیت کا حصہ تھے۔ اسکول محظ پانچ منٹ دیر سے آنے پر ڈنڈوں سے پٹائی ہوتی تھی۔ جسمانی مشقیں اور دیگر سرگرمیاں بھی ہماری تعلیم میں شامل تھیں۔ اور ان سرگرمیوں کے مق...

ابنِ صفی کی جاسوسی دنیا

 ابنِ صفی کی جاسوسی دنیا ابنِ صفی کا ایک شاہکار سلسلہ جاسوسی دنیا کے نام سے مشہور ہے۔ اس سلسلے میں احمد کمال فریدی اور ساجد حمید اہم کردار ہیں۔ جاسوسی دنیا کے ناول اپنے زمانے میں انتہائی مقبول ہوئے۔ اس مضمون میں تفصیل سے ذکر کیا گیا ہے۔ تعارف ابنِ صفی کا اصل نام اَسرار احمد ہے۔ آپ اترپردیش کے گاؤں "نارا" میں، 26 جولائی 1928ء میں پیدا ہوئے۔ آپ کا انتقال 26 جولائی 1980ء کو کراچی میں ہوا اور ناظم آباد میں پاپوش نگر کے قبرستان میں آپ کی تدفین ہوئی۔ آپ کا سب سے پہلا جاسوسی دنیا کا ناول "بھیانک مجرم" مارچ 1952 میں شائع ہوا جب کہ اسی سلسلے کا آخری ناول "صحرائی دیوانہ" جولائی 1979 میں منظرِ عام پر آیا۔ ابنِ صفی تقریباً تین سال تک عارضے میں مبتلاء رہے جس کے دوران ناول نہیں لکھے گئے۔ آپ نے ایک فلم کا اسکرپٹ بھی لکھا جس کا نام "دھماکہ"تھا لیکن یہ فلم کامیاب نہ ہوسکی۔ (بحوالہ وکی پیڈیا) علمیت ابنِ صفی کے تقریباً تمام ہی ناول ایک شاہکار کی حیثیت رکھتے ہیں۔ ان ناولوں کو پڑھ کر قاری محوِحیرت میں گم ہوجاتا ہے۔ معلومات کا دریا ایک کوزے میں بند ملتا ہے۔ انِ صفی کے...

اونچی پوسٹوں پر بیٹھےگدھے

 اونچی پوسٹوں پر بیٹھےگدھے انٹرویو کے دوران پہش آنے والے مختلف مشاہدات اور تجربات ہمیں حاصل ہوتے رہتے ہیں، اس پوسٹ میں ہم انہیں کو موضوع بنائیں گے۔ جب ہم انٹرویو دینے جاتے ہیں تو ہمیں یہ مشاہدہ ہوتا ہے کہ اکثر انٹرویو لینے والے عقل و سمجھ سے عاری ہوتے ہیں۔ میں ایک تجربہ گوش گزار کرنا چاہوں گا۔ میری نوکری ختم ہو گئی تھی تو میں مختلف اداروں میں کوشش کر رہا تھا کہ ایک اسکول میں لائبریرین کی نوکری کا اشتہار دیکھاجس میں لکھا تھا کہ آپ کسی بھی وقت آکر انٹرویو دے سکتے ہیں، میرا چونکہ پندرہ سال کا تجربہ تھا لائبریرین کا اس لئے اعتماد کے ساتھ وہاں پہنچ گیا۔ انٹرویو لینے والی وہاں کی پرنسپل تھیں۔ میں نے اپنا بایو ڈیٹا انکے حوالے کیا تاکہ انکو میری قابلیت کا پتہ چل جائے۔ لیکن محترمہ نے اسکو دیکھے بنا مجھ سے پوچھا کہ آپ کو لائبریری سے متعلق کچھ معلوم ہے؟ اور کیا آپ لائبریری کو سنبھال سکتے ہیں؟ یہ سن کہ میں ہکا بکا رہ گیا، بہرحال نوکری کا معاملہ تھا اس لئے کہا کہ جی ہاں میں لائبریری سنبھال سکتا ہوں تو مجھ سے کہ رہی ہیں کہ یہاں ایک لڑکی لائبریری سنبھالتی تھی اور اس سے اچھا لائبریرین انکو نہیں مل...

روایتی زندگی بمقابلہ جدیدیت(ماڈرن ازم)

 روایتی زندگی بمقابلہ جدیدیت(ماڈرن ازم) ہمارے معاشرے میں جو نئے رجحانات سامنے آرہے ہیں ان کا تقابل گذشتہ دور سے کیا گیا ہے۔ اسلام سے پہلےدنیا ذہنی پسماندگی کا شکار تھی۔ اسلام نے ایک جدید سوچ عطا کی جس میں پچھلی زندگی سے لوگوں کو چھٹکارا ملا۔ اس لحاظ سے جدیدیت کا آغاز اسلام کی دعوت سے ہوا۔ اس وقت اس جدیدیت کے خلاف اکثریت نے مزاحمت کی اور یہ جواز پیش کیا کہ "ہم نے تواپنے آباؤاجداد کو ایسا کرتے نہیں دیکھا۔ اسی طرح ہر ادوار میں جدیدیت کی مخالفت کی گئی، لیکن اسلام کی آمد کو دیکھا جائے تو اس جدیدیت سے لوگوں کو فائدہ پہنچا اور غیر ضروری رسومات و توہمات کا خاتمہ ہوا۔ نتیجتاً اسلام نے انسان کی زندگی کو آسان کردیا۔ آنے والے ادوار میں جدیدیت کے نام پرنئے نئے رجحانات متعارف کروائے گئے جن کا بظاہر مقصد لوگوں کی زندگیوں کو سہل کرنا تھا لیکن اکثر رجحانات سے معاشرے میں بگاڑ پیدا ہوا۔ اس مضمون میں موجودہ حالات کے حساب سے روایتی زندگی اور جدیدیت کا تقابل پیش کیا گیا ہے۔ سب سے پہلے روایتی اور سادہ زندگی کا خاکہ پیش کرتے ہیں۔ روایتی گھریلو زندگی میں ماں گھر میں کام کرتی اور بچوں کو سنبھالتی ہے، پورا ...

پاکستان کا مطلب کیا؟

 پاکستان کا مطلب کیا؟ پاکستان جس مقصد کیلئے بنایا گیا تھا اس پر عمل نہ ہوسکا۔ جس کی وجہ سے ہم مسائل کا شکار ہیں۔ شریعت کے نفاذ میں  ہی ہمارے تمام مسائل کا حل موجود ہے۔ لفظ "پاکستان" ذہن میں آتے ہی مملکت کے ساتھ ساتھ اسلام کا تصور بھی پیدا ہوتا ہے۔ "پاکستان کا مطلب کیا؟" کے جواب میں لاالٰہ الااللہ ہی زبان پر آتا ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ پاکستان اور اسلام ایک دوسرے کے لازم و ملزوم ہیں۔ حقیقت یہی ہے کہ یہ ملک اسلام کے نام پر قائم کیا گیا ہے۔ کسی اور اسلامی ملک کے نام کے ساتھ اسلام کا تصور ذہن میں نہیں آتا۔ مثال کے طور پر بنگلہ دیش کا نام لیتے ہی بنگالی زبان اور تہذیب کا تصور آتا ہے اسی طرح ایران میں فارسی اور ترکیہ میں ترک تہذیب و ثقافت کا تصور غالب ہے۔  دنیا میں محض دو ممالک مذہب کے نام پر وجود میں آئے ہیں، ایک پاکستان اور دوسرا اسرائیل۔ بدقسمتی سے اسرائیل کے مقابلے میں پاکستان میں کبھی بھی مذہب کو رائج کرنے کی کوشش نہیں کی گئی۔ اسلام کو محض چند عبادات اور مساجد و مدارس تک محدود رکھا گیا۔ جب پاکستان میں پہلا آئین مرتب کیا جارہا تھا تو اس پر غور ہورہا تھا کہ کون سا د...

موجودہ پاکستانی فلمیں اور ڈرامے

 موجودہ پاکستانی فلمیں اور ڈرامے اس پوسٹ میں ہم گزشتہ چند سالوں سے نشر ہونے والے ڈراموں اور فلموں کے رجحانات و موضوعات کا جائزہ لیں گے۔ ماضی کے پاکستانی ڈرامے اور فلمیں دیکھیں تو آپ کو احساس ہوتا ہے کہ یہ بہت حد تک ہماری تہذیب اور ثقافت کو اجاگر کرتے نظر آتے ہیں۔ ملاقات کے وقت سلام کرنا اور کوئی کام کرنے سے پہلے ﷽ پڑھنا، کرداروں کویہ سب کرتے ہوئے دکھایا جاتا تھا۔ کہانی کا موضوع ایسا ہوتا تھا کہ جس سے اخلاقی تربیت بھی ہوتی تھی۔ بچوں کو والدین کا اور بیوی کو شوہر کا ادب کرنا سکھایا جاتا تھا۔ خواتین کو مہذب لباس نہ پہننے پر ٹوکا جاتا تھا اور ساتھ ہی ایمان و اتحاد کی تعلیم دی جاتی تھی۔ مثال کے طور پر ایک پنجابی فلم کے سین میں منور ظریف اپنی بیوی کو مخلوط محفل میں ناچتے دیکھ کر اس کو روکتا ہے اور ایسے ڈائلاگ ادا کرتا ہے کہ جس سے اس کام کی کراہیت ظاہر ہوتی ہے۔ اسی طرح عمر شریف کے اس زمانے کے اسٹیج شو میں مسلمانوں کو لسانیت سے بچنے کا سبق ہنستے کھیلتے دیا جاتا تھا، اس زمانے میں لسانی فسادات عام تھے اس لئے یہ نصیحتیں لوگوں کو کچھ سوچنے پر مجبور کر دیتی تھیں۔ کئی فلموں میں کرداروں کو مصیبت ...

شمسی توانائی کی اہمیت اور معاشرے میں اس کا رجحان

 شمسی توانائی کی اہمیت اور معاشرے میں اس کا رجحان شمسی توانائی سے کیسے فائدہ اٹھایا جائے، خاص طور پر شہر میں رہنے والے اس کو کیسے استعمال کریں؟ لوگوں کی نظر میں اسکی کتنی اہمیت ہے؟ اور لوگ اس سے فائدہ کوئی نہیں حاصل کرتے؟ ان سب سوالوں کے جوابات اس مضمون میں ملیں گے۔ زندہ قومیں ہمیشہ اپنے وسائل سے فائدہ اٹھاتی ہیں اور وہ بھی بہتر منصوبہ بندی کے ساتھ جبکہ زوال پذیر اقوام صرف شکوے اور شکایت تک محدود رہتی ہیں۔ اپنی محرومیوں کا الزام کبھی ناقص نظام پر لگاتے ہیں تو کبھی حکمرانوں پر۔ لیکن خود سے کوئی مثبت قدم اٹھانا نہیں چاہتے۔ یہ سب جانتے ہیں کہ مشرقی ممالک میں سورج سارا سال اپنی روشنی بکھیرتا ہے جبکہ مغربی ممالک میں لوگ سورج کی جھلک دیکھنے کو ترس جاتے ہیں۔  ہمارے خطے میں سورج اپنی بھرپور روشنی کے ساتھ جلوہ گر ہوتا ہے، تو ضرورت اس بات کی ہے کہ اس کی توانائی سے بھرپور، روشنی سے فائدہ اٹھایا جائے۔ بجلی کا استعمال دن بہ دن بڑھتا جارہا ہے اور جو ذرائع ہم بجلی کیلئے استعمال کررہے ہیں وہ بہت مہنگے ہیں جس کا اثر ہمارے بجلی کے بلوں میں نظر آتا ہے۔ اس کے علاوہ بجلی کی لوڈشیڈنگ بھی ایک بہت بڑ...

معاشرے میں منفرد نام رکھنے کا رجحان

 معاشرے میں منفرد نام رکھنے کا رجحان ہمارے معاشرے میں لوگ اپنے بچوں کے منفرد نام رکھنے کی کوشش کرتے نظر آتے ہیں جس کی وجہ سے کئی عجیب وغریب نام سامنے آرہے ہیں۔ ہمارے معاشرے میں اکثر لوگ بچوں کے ناموں کے معاملے میں بھیڑ چال کا شکار ہوگئے ہیں، منفرد نام رکھنے کی کوشش میں اکثریت ایسے نام رکھ رہی ہے جو اسم معرفہ کی تعریف پر پورا نہیں اترتے بلکہ کئی تو فعل کہلاتے ہیں۔ ایک بزرگ سے کسی شخص نے پوچھا کہ حضرت کوئی ایسا منفرد نام بتائیں جو روئے زمین پر کسی نے نہ رکھا ہو۔ تو وہ بزرگ بولے کہ تم اپنے لڑکے کا نام ابلیس رکھ لو، یہ نام روئے زمین پر کسی انسان نے نہیں رکھا۔ وہ صاحب ناراض ہو گئے، بولے کوئی مناسب نام بتائیں، تو بزرگ نے کہا " ایسا کرو تم عزازیل نام رکھ لو یہ بھی منفرد ہے" یہ سن کر وہ صاحب غصے میں وہاں سے چل دئے۔ تو کہنے کا مقصد یہ ہے کہ منفرد نام رکھنے کا خبط اب عام ہو گیا ہے۔ ایک بزرگ جن کا تعلق تصوف سے ہے وہ کہتے ہیں کہ بچوں کے نام سادہ اور آسان رکھنے چاہئے، کیونکہ اس سے بچے کی شخصیت پر مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ مثال کے طور پر علی، عمر، حامد، ابراھیم، یوسف اور لڑکیوں میں ثناء، ہ...

بچے وہابی

 بچے وہابی یہ ایک واقعہ ہے جو ہمیں بہت کچھ سوچنے اور سمجھنے پر مجبور کر دیتا ہے۔ ایک مزاحیہ تجربہ ہے۔ ہمارے ابو کی ممانی کا انتقال ہوا تو ہم سب گھر والے تعزیت کیلئے چلے گئے۔ اب جیسا کہ آج کل رجحان ہے کہ میت کو اس وقت تک دفن نہیں کرتے جب تک دوسرے شہر اور ملک سے سب آکرآخری دیدار نہ کر لیں۔ ہم سب چونکہ سہ پہر سے ہی آگئے تھے اس لئے جنازہ اور تدفین کے انتظار میں بیٹھ گئے۔ اب یہ فیصلہ نہیں ہو پا رہا کہ کب جنازہ پڑھایا جائے اور تدفین ہو۔ اس بحث میں کافی وقت لگ گیا، جس کے نتیجے میں جنازہ اور تدفین میں رات کے دس بج گئے۔ اب بچے تو سہ پہر سے بھوکے تھے، میت والے گھر میں تو کھانے کی بات ویسے بھی نہیں کی جاسکتی، جتنے بسکٹ اور نمکو پرس میں رکھے تھے سب ختم ہو گئے اور بچوں کی بھوک نہ مٹ سکی۔ بالآخر رات کے تقریباً ساڑھے دس بجے دسترخوان لگا اور بریانی کے تھال سامنے رکھ دیئے گئے۔ اب کھانا شروع کرنے کا سب سوچ ہی رہے تھے کہ اچانک مرحومہ کے بھائی نے زور سے کہا کہ ابھی کوئی کھانا نہیں کھائے گا، پہلے اس پر نیاز دی جائے گی۔ اب آپ سب ذرا تصور کریں! بھوک سے برا حال ہو اور آپ کو مزید انتظار کا کہا جائے تو کیا ...

زمین کے بادل

 زمین کے بادل اس مضمون میں شہرہ آفاق مصنف ابنِ صفی کے شاہکار ناول زمین کے بادل پر تبصرہ کیا گیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ناول کے کرداروں کا تذکرہ اور اشتیاق احمد کے کرداروں سے ان کا مختصر تقابل موجود ہے۔ ابنِ صفی کے شاہکار ناولوں میں سے ایک "زمین کے بادل" ہے۔ اس ناول کی سب سے دلچسپ بات احمد کمال فریدی اور علی عمران کی ملاقات ہے۔ اس ناول میں فریدی، حمید اور قاسم ایک سازش کے تحت ناول میں شامل ہوئے جبکہ علی عمران اور صفدر ایک میٹنگ میں شرکت کرتے ہیں جس کا مقصد زیرو لینڈ کو ڈھونڈنا تھا۔ بعد میں دونوں پارٹیاں تاریک وادی کے سفر پر روانہ ہوتی ہیں جہاں ان کی دلچسپ مرحلے پر ملاقات ہوجاتی ہے۔ ناول کو غیر ضروری طوالت سے بچایا گیا ہے جس سے اس کو پڑھتے وقت بوریت محسوس نہیں ہوئی۔ درندوں کی بستی" کا علی عمران اور "پہاڑوں کی ملکہ" کے کمال فریدی دونوں اپنی جگہ عروج پر ہیں لیکن ںاول میں کسی ایک ہی کو ہیرو کے طور پر پیش کیا جاسکتا تھا۔ کرنل فریدی اپنی بردبار شخصیت کی بنا پر قابلِ احترام سمجھے جاتے ہیں، اس لئے بہتر یہی تھا کہ مہم کا سہرا ان کے ہی سر باندھا جائے۔ لہٰذا عملی طور پر کرنل ...