Skip to main content

Posts

Showing posts with the label Social Issues

مسلمانوں میں گروہ بندی اور ہمارا کردار

 مسلمانوں میں گروہ بندی اور ہمارا کردار مسلمانوں اور پاکستانیوں میں جو مختلف گروہ اس وقت ہیں انکی موجودگی میں ہمارا کیا کردار ہونا چاہئے۔ کسی گروہ میں شمولیت کس بنیاد پر کی جائے اس سے متعلق آپ یہ مضمون پڑھیں گے۔ مسلمانوں کی تاریخ گروہ بندی اور اختلافات سے بھری ہوئی ہے۔ بیرونی سازشوں کے نتیجے میں مسلمان رنگ، نسل، زبان، قبیلہ سیاست اور عقائد پر تقسیم در تقسیم ہوتے رہے۔ جب تک نبیِ کریم ﷺ موجود رہے مسلمان تمام اختلافات سے بچے رہے۔ لیکن آپﷺ کے پردہ فرمانے کے بعد سب سے پہلا اختلاف خلافت کے معاملے میں پیش آیا۔ صحابہ کرام رضوان اللہ اجمعین کی ایمانی بصیرت کی بدولت یہ اختلاف باقی نہ رہا۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے گیارہ سال کامیابی سے خلافت کے امور ادا کئے لیکن خفیہ سازشوں کی وجہ سے مسلمانوں میں خلافت پر اختلاف پیدا ہوا اور خلیفہ سوئم شہید کردئے گئے۔ اس کے بعد پھر مسلمان کبھی ایک نہ ہوسکے۔ مملکت پاکستان کی بات کریں تو اس کے قیام کے سلسلے میں بھی ہندوستان کے مسلمانوں میں شدید اختلاف رہا۔ بہرحال اللہ کی مدد سے پاکستان اسلام کے نام پر وجود میں آیا اور یہاں کے مسلمان ایک ہوکے رہے۔ بدقسمتی سے حک...

اسلامی معاشرے کا دیگر سے تقابل، ایک مثبت سوچ

 اسلامی معاشرے کا دیگر سے تقابل، ایک مثبت سوچ اس بلاگ پوسٹ میں مثبت انداز میں اسلامی معاشرے کا دیگر سے تقابل کیا گیا ہے۔ اسلام ہمیں امن اور سلامتی کا درس دیتا ہے جس کا اثر مسلمان کی انفرادی اور اجتماعی زندگی میں نظر آتا ہے۔ کچھ دہائی قبل سے قوم میں ایک سازش کے ذریعے مایوسی اور ناامیدی کے جذبات پھیلائے جارہے ہیں۔ اب نوبت یہاں تک آگئی ہے کہ اکثریت ملک سے بھاگنا چاہتی ہے۔ ان کو یہاں اپنا مستقبل تاریک نظر آتا ہے۔ لہٰذا اکثر افراد اپنی جمع پونجی، جائیدادیں فروخت کرکے دیگر ممالک جارہے ہیں۔ ہمارے ملک میں جو صحافت کا شعبہ ہے وہ زیادہ تر منفی خبریں پیش کرتا ہے۔ اپنی ریٹنگ بڑھانے کے چکر میں افسوسناک واقعات کو بہت بڑھا چڑھا کر بیان کیا جاتا ہے، لگتا ہے کہ ہمارے ہاں لوگ افراتفری کی زندگی گزاررہے ہیں۔ اگر کسی مذہبی شخصیت یا ادارے سے منسلک کوئی واقعہ رونما ہوجائے تو اس کی آڑ میں مذہبی اداروں اور شخصیات کو تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ یہ ثابت کرنے کی کوشش کی جاتی ہے کہ معاشرے میں موجود تمام خرابیوں کے ذمہ دار صرف یہ مذہنی طبقہ ہے۔ اس کے علاوہ قوم کی نمائندگی کرنے والے افراد کی بھی سازش کے تحت کر...

نام کے مسلمان

 نام کے مسلمان اس بلاگ پوسٹ میں مسلمانوں کی دین کے ساتھ وابستگی کا ذکر کیا گیا ہے، کہ اپنی ذاتی زندگی میں کتنا دین پر عمل کرتے ہیں۔ اکثر آپ یہ سنتے ہوں گے کہ مولویوں کا زور صرف اس بات پر ہوتا ہے کہ مسلمان دین سے دوری کی وجہ سے مشکلات اور پریشانیوں میں مبتلا ہیں، جبکہ انہیں تعلیم، ہنر مندی، اخلاقیات اور قانون کی پاسداری پر زور دینا چاہئے۔ اسی بات کو موضوعِ گفتگو بنایا گیا ہے کہ دینِ اسلام ہمیں کیا سکھا رہا ہے اور ہم مسلمان عملی طور پر کیا کر رہے ہیں۔ مشاہدے میں یہ بات آتی جارہی ہے کہ بنیادی دین ہم مسلمانوں نے صرف نماز اور روزے کو سمجھ لیا ہے۔ ایک بڑا المیہ یہ ہے کہ جو پانچ وقت کے نمازی ہوتے ہیں انہیں مکمل دین دار سمجھا جاتا ہے اور اکثر ان سے لوگ اپنے مسئلے پوچھنا شروع ہوجاتے ہیں۔ یہ ایک غلط رجحان ہے، دینِ اسلام کے پانچ شعبے ہیں، عقائد، عبادات، معاملات/معاشیات، معاشرت اور اخلاقیات۔ ان پانچ میں سے ایک شعبہ عبادات کا پانچواں حصہ نماز ہے، تو جو شخص صرف نماز پابندی سے ادا کرتا ہو تو وہ کیسے مکمل دیندار کہلائے گا؟ دین ہماری زندگیوں سے نکلتا جارہا ہے۔ بحیثیت مسلمان ہم دین کے بغیر کچھ بھی ن...

ڈگریوں کا بوجھ اٹھائے گدھے

 ڈگریوں کا بوجھ اٹھائے گدھے ہمارے معاشرے میں لوگ کس طرح ڈگریوں کے حصول کیلئےبھیڑچال کا شکار ہیں۔ اور تعلیم کا مقصد کیا بنا لیا ہے اس سے متعلق  گفتگو کی گئی ہے۔ پاکستان میں تعلیم کا زوال اس وقت شروع ہوا تھا جب حکومتِ وقت نے تعلیم کے شعبے اور اداروں کو قومی ملکیت میں لیا۔ وہ تعلیمی ادارے جو اپنے معیار کے لحاظ سے قابلِ ذکر تھے، قومیانے کے بعد بیکار ہوکر رہ گئے۔ پہلے کے زمانے میں لوگ مڈل یا میٹرک پاس کرتے تھے تو انکی بہت قدر کی جاتی تھی۔ ان میں بہت زیادہ قابلیت ہوتی تھی اور نوکریاں بھی آرام سے مل جاتی تھیں۔ لیکن اب وہ دور آگیا ہے کہ لوگ پی ایچ ڈی کی اسناد ہاتوں میں لیکر گھوم رہے ہیں اور ان کی کوئی قدرومنزلت نہیں، نہ ہی کوئی مناسب نوکری مل رہی ہوتی ہے۔ تعلیم کا حصول اب نہایت سہل ہوگیا ہے۔ اسباق و مضامین کو سیاق و سباق سمجھے بغیر رٹنے اور محظ 33 فیصد نمبر حاصل کرکے کوئی بھی کسی بھی درجے میں کامیابی حاصل کر سکتا ہے۔ اور ایک بار سند حاصل ہوجائے تو لوگ خود کو علامہ سمجھنے لگتے ہیں، چاہتے ہیں کہ اب اعلٰی ملازمتوں کیلئے انھیں خود بلایا جائے گا۔ یہ احمقوں کی جنت میں رہنے والی بات ہے۔ ہونا...

پیدائشی ذہنی معذور بچے

 پیدائشی ذہنی معذور بچے یہ قانونِ قدرت ہے کہ کچھ بچے ذہین پیدا ہوتے ہیں اور کچھ ذہنی طور پر کمزور۔ لیکن معاشرتی عوامل بھی اس کے ذمہ دار ہیں جن کے متعلق اس مضمون میں بحث کی گئی ہے۔ اپنے اردگرد نظر دوڑائیں تو ہمیں ذہنی طور پر کمزور بچے کافی تعداد میں نظر آئیں گے، اس کی کئی وجوہات ہوسکتی ہیں جن کا تعلق ہماری معاشرتی، معاشی زندگی سے بھی ہے اور ذہنی اور جسمانی صحت سے بھی۔ جب بچہ دینا میں آنے سے پہلے نشوونما پا رہا ہوتا ہے اس وقت ماں کی ذہنی اور جسمانی صحت کا خاص خیال رکھنا ضروری ہے۔ ذہنی صحت کیلئے مندرجہ ذیل باتوں کا خیال رکھنا ضروری ہے؛  عورت امید سے ہو تو اس کو خوش اور مطمئن رکھا جائے، کمرہ صاف ستھرا اور مزین ہو  اس کے ساتھ یا اس کی موجودگی میں لڑائی جھگڑے سے پرہیز کیا جائے  معاشی تنگی کا رونا نہ رویا جائے  ہر ممکن طریقے سے اس کی خواہشات کو پورا کیا جائے، اگر استطاعت نہ ہو تو سستا متبادل طریقہ اپنایا جائے  ذہنی اور جسمانی مشقت سے بچایا جائے  ہمارے معاشرے کا ایک المیہ یہ ہے کہ بہو سے زیادہ بیٹی کی فکر کی جاتی ہے۔ یہاں یہ بات قابلِ غور ہے کہ جو بہو آپ لیکر ...

بجلی کے بحران کا ذمہ دار کون؟

 بجلی کے بحران کا ذمہ دار کون؟ بحیثیت قوم بجلی کے بحران کی ذمہ داری ہم سب پر عائد ہوتی ہے۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ جب اعلٰی سطح پر کوئی غلط فیصلہ ہورہا ہو تو اس کا خمیازہ آنے والے زمانے میں بھگتنا پڑتا ہے۔ اس وقت عوام کی غیر سنجیدگی آنے والے دور میں بحران کی صورت میں سامنے آجاتی ہے۔ بجلی کے موجودہ بحران کی درج ذیل تین بنیادی وجوہات ہیں؛ نئے ڈیم تعمیر نہ کرنا بجلی مہیا کرنے والی سرکاری کمپنیوں کو نجی تحویل میں دینا بجلی مہیا کرنے والی کمپنیوں سے غلط معاہدے کرنا نئے ڈیم تعمیر نہ کرنا؛ پوری دنیا کے ممالک میں پاکستان وہ واحد ملک ہے جہاں نئے ڈیم کی تعمیر کی سب سے زیادہ مخالفت کی جاتی ہے۔ اس مخالفت کی بنیاد اکثر سیاسی ہوتی ہے اور عوام حقائق کے برعکس اپنی سیاسی جماعت پر بھروسا کرتے ہوئے اس مخالفت میں شامل حال رہتے ہیں۔ ہم نے کبھی یہ نہیں سوچا کہ آنے والے وقت میں ہمیں کن کن مشکلات کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔ بس جو سیاسی لیڈر نے کہ دیا وہی سچ مان لیا۔ کالا باغ ڈیم ایک قدرتی ڈیم ہے جس میں نسبتاً کم خرچ آتا اور ہمیں بجلی تقریباً ایک روپے فی یونٹ تک موصول ہوتی۔ اس کی مخالفت تین صوبوں نے کی جس م...

مہنگائی کے اسباب اور ہماری ذمہ داریاں

مہنگائی کے اسباب اور ہماری ذمہ داریاں اس بلاگ میں آپ مہنگائی کے وہ اسباب پڑھیں گے جن کا تعلق عوام الناس سے ہے۔ ہماری غلط ترجیحات ہی مہنگائی میں اضافے کا باعث بنتی ہیں۔ اگر یہ کہا جائے کہ مہنگائی کے اصل ذمہ دار ہم خود ہیں تو غلط نہ ہوگا۔ ہمارے اجتماعی رویے ہی مہنگائی کو بڑھاوا دیتے ہیں۔ پہلے زندگی سادہ تھی، لوگوں میں خلوص تھا، مہمان نوازی تھی، کھانا کم پڑنے کی صورت میں چٹنی سے روٹی کھالی جاتی تھی۔ اسکول جاتے بچوں کو آدھی پنسل توڑ کر دی جاتی تھی۔ دفاتر لوگ سائکل پر جاتے تھے (آج بھی سائکل کو رواج دینا بہتر ہے تاکہ ٹریفک کے مسائل اور پٹرول کے خرچ سے نجات ملے)۔ تفریح کیلئے باہر گھومنے اور ہوٹل کے کھانے کا رواج نہیں تھا اس لئے انتہائی کم تنخواہ میں بھی گزارا ہوجاتا تھا۔ اب تنخواہیں نسبتاً کہیں زیادہ ہیں لیکن گھر کا خرچہ چلانا عذاب ہوگیا ہے۔ لوگ بھیڑ میں بھی گھر والوں کو لیکر نکل جاتے ہیں اور باہر کی مہنگی اشیاء پر بے دریغ پیسہ خرچ کررہےہوتے ہیں۔ ایک غلط رجحان یہ پیدا ہو گیا ہے کہ بچوں کو بڑے اور مہنگے اسکول میں پڑھایا جائے۔ کم تنخواہ اور زیادہ خرچ کے باوجود والدین بچوں کو مہنگے اسکول کے ساتھ...

مہنگائی کی رفتار (ماضی سے موازنہ)

 مہنگائی کی رفتار (ماضی سے موازنہ) اس بلاگ میں ذاتی تجربہ کی بنیاد پر مہنگائی کا تجزیہ کیا گیا ہے۔ صدر ضیاءالحق شہید سے لیکر موجودہ دور تک کے حالات کا موازنہ کیا گیا ہے۔ اس وقت جو مہنگائی کی رفتار چل رہی ہے اس کا موازنہ ماضی سے لگائیں تو زمین آسمان کا فرق محسوس ہوتا ہے۔ پہلے چیزیں سالوں میں جاکر مہنگی ہوتی تھیں لیکن اب لگتا ہے قیمتیں زورانہ بڑھ رہی ہیں۔ کچھ اشیاء کی قیمتیں کم زیادہ ہوتی رہتی ہیں جیسے موسمی پھل، سبزیاں اور مرغی کا گوشت وغیرہ۔ لیکن کچھ چیزیں جب مہنگی ہوتی ہیں تو انکی قیمتیں واپس کم نہیں ہوتیں۔ اس مضمون میں دونوں اشیاء کا ذکر ہوگا۔  پہلے زمانے میں لوگوں کا طرزِ زندگی سادہ تھا اس لئے انکو مہنگائی کا اتنا اثر محسوس نہیں ہوتا تھا۔ کوئی شے وقتی طور پر مہنگی ہوگئی تو اس کی جگہ دوسری چیز استعمال کرلی (اس موضوع پر میرا دوسرا مضمون  مہنگائی کے اسباب پڑھیے)۔ اب ہم سب نے خود کو غیر ضروری چیزوں اور سہولیات کا عادی بنالیا ہے جس کے نتیجے میں ہمیں ان چیزوں کی گرانی کو برداشت کرنا پڑتا ہے۔ میں اپنے بچپن سے لیکر موجودہ دور تک کی مہنگائی کا ذکر کروں گا جو میرا ذاتی تجزیہ ہوگ...

شادی یا پڑھائی

 شادی یا پڑھائی ہمارے معاشرے میں موجود ایک غلط رجحان اور اس کے نقصانات ہمارے معاشرے میں والدین بچوں کی پڑھائی کو اتنا زیادہ اہمیت دینے لگے ہیں کہ لگتا ہے اس کے علاوہ اور کسی کام کی اہمیت نہیں۔ لڑکیاں جب جوان ہوتی ہیں تو ان میں سے اکثر کے رشتے آنا شروع ہوجاتے ہیں۔ لیکن والدین کی کوشش ہوتی ہے کہ لڑکی کی شادی اسکی پڑھائی مکمل ہونے کے بعد کی جائے جس کی وجہ سے اس کے رشتے واپس چلے جاتے ہیں۔ اگر والدین لڑکی سے شادی کا پوچھیں تو وہ بھی انکار کر دیتی ہے جس کی سب سے بڑی وجہ اس کی فطری شرم و حیا ہے، لیکن والدین اسی کو حرفِ آخر سمجھ لیتے ہیں اور اپنی ذمہ داری کو بوجھ سمجھتے ہوئے اس مسئلہ کو ٹال دیتے ہیں یہ سوچ کر کہ لڑکی کی گریجویشن مکمل ہو تو پھر اس کی شادی کا سوچا جائے۔ لیکن پڑھائی کے بعد پھر وہ رشتے نہیں مل پاتے۔ یہ صورتحال لڑکیوں کے لئے نفسیاتی عوارض کا سبب بن جاتا ہے۔ اب قابلیت تو زیادہ ہے لیکن جوڑ کے رشتے میسر نہیں تو یہ لڑکیاں کیا کریں۔ اس طرح یہ رجحان ہمارے معاشرے میں بڑھتا جا رہا ہے۔ اب فرض کریں کسی لڑکی نے شادی سے انکار صرف اس لئے کیا ہو کہ اسے شرم آرہی تھی یا اس وقت اس کا قلبی رجحان...

مسلمان پسماندہ کیوں؟

مسلمان پسماندہ کیوں؟ آج کا مسلمان فضول رسومات، تضیع اوقات اور فروعی اختلافات میں مبتلا ہونے کی وجہ سے زوال کا شکار ہوگیا ہے۔ دیگر اقوام نے اسلامی اصولوں کو بنیاد بناکر ترقی کی جانب سفر شروع کیا اور بلآخر عروج پر پہنچ گئے۔ تاریخ سے ثابت ہے کہ مسلمانوں کو حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے دور سے ہی عروج حاصل ہوگیا تھا۔ ایک طویل عرصہ مسلمانوں نے حاکم کی حیثییت سے گزارا۔ دیگر اقوام سے مزاحمت کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔ علوم و فنون میں بھی مسلمان سب سے آگے رہے اور معیارِ زندگی بھی دیگر اقوام سے بلند رہا۔ پھر آہستہ آہستہ مسلمان فضول رسومات، تضیع اوقات اور فروعی اختلافات میں مبتلا ہونے کی وجہ سے زوال کا شکار ہونا شروع ہوگئے۔ یہاں سے دیگر اقوام نے اسلامی اصولوں کو بنیاد بناکر ترقی کی جانب سفر شروع کیا اور بلآخر عروج پر پہنچ گئے۔ اب دنیا مسابقت کے دور میں داخل ہوگئی ہے لہٰذا ضروری ہے کہ اپنے اندر سے فضولیات کو نکال کر خود کو ترقی یافتہ اقوام کی صف میں جگہ بنائی جائے۔ ہمارے معاشرے میں درج ذیل کمزوریاں موجود ہیں جن کا سدِ باب لازمی ہونا چاہئے؛ خانگی مسائل ہم لوگ اب تک اپنے خانگی مسائل سے ہی باہر نہ نکل ...

عوام الناس کی ذہنی اور جسمانی صلاحتیں

 عوام الناس کی ذہنی اور جسمانی صلاحتیں اپنی روزمرہ زندگی میں ہمیں لوگوں سے متعلق مختلف مشاہدات ہوتے ہیں جس سے ہمارے معاشرے میں موجود اجتماعی کمزوریوں کا پتا چلتا ہے۔ اس مضمون میں انہیں مشاہدات کا ذکر ہے۔ ایک عربی مقولہ ہے "العوام کلانعام" یعنی عوام جانوروں کی مانند ہوتے ہیں۔ قرآن میں بھی یہ نصیحت ملتی ہے جس کا مفہوم ہے کہ اگر ہم نے اکثریت کی پیروی کی تو ہم گمراہ ہوجائیں گے۔ مولانا ابوالکلام آزاد نے بھی ہمیشہ روشِ عام سے ہٹ کر چلنے کی تلقین کی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جمہوریت ایک ناپسندیدہ طرزِ حکمرانی ہے جس کے نتیجے میں اکثر بیکار حکومتیں وجود میں آتی ہیں۔ اور اس کی مثالیں انڈیا اور پاکستان کی حکومتوں کی کارکردگی سے ثابت ہے۔ اب ہم بات کرتے ہیں ہمارے معاشرے میں موجود عوام الناس کی جن کا مشاہدہ آئے دن ہوتا رہتا ہے۔ ہمارے ہاں اکثریت کا حال یہ ہے کہ جب ان سے بات کی جائے تو وہ اپنا کام روک کر بات سنتے اور جواب دیتے ہیں۔ جبکہ سماعت کانوں سے ہوتی ہے ہاتھ سے نہیں۔ جب لوگ اپنا ہاتھ روک کر بات سنتے رہیں گے تو وہ اپنا قیمتی وقت ہی برباد کررہے ہوتے ہیں۔ ایک بار ایک پیٹرول پمپ جانے کی ضرورت پیش ...

معاشرے میں اختلافِ رائے اور برداشت

 معاشرے میں اختلافِ رائے اور برداشت ہمارے معاشرے میں پڑھے لکھے قابل افراد میں بھی برداشت کا مادہ زوال پذیر ہوتا جارہا ہے۔ اس کی کئی وجوہات ہوسکتی ہیں۔ اس مضمون میں چند محرکات کا ذکر ہے جن سے عدم برداشت میں اضافہ ہورہا ہے۔ ہمارے معاشرے میں اپنی رائے کو حتمی سمجھنے کا رجحان اتنا بڑھ گیا ہے کہ اختلافِ رائے کو جہالت اور ناسمجھی کا سبب مانا جاتا ہے۔ پڑھے لکھے روشن خیال افراد ہر معاملے میں اپنا فیصلہ سنانے لگتے ہیں اور سامنے سے دی جانے والی دلیل کو سننے کے روادار نہیں ہوتے۔ ایک فلم کا مشہور ڈائلاگ جو ایک ملزم وکیل کو بولتا ہے کہ آپ وکیل ہی رہیں جج بننے کی کوشش نہ کریں۔ تو آج کل ہر شخص جج بننا چاہ رہا ہے وکیل بن کے دلیل سے کوئی بات نہیں کرنا چاہتا۔  کچھ عرصے سے ایک سیاسی جماعت کے کارکنان اپنی جماعت اور اس کے نمائندوں کے علاوہ باقی سب کو چور اور ڈاکو ثابت کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ اس میں مزاحیہ بات یہ ہے کہ جب کوئی نمائندہ انکی جماعت چھوڑدے تو وہ نالائق ہوجاتا ہے اور (انکی نگاہ) میں چور جماعتوں سے کوئی انکی جماعت میں شامل ہوجائے تو وہ صادق اور امین کہلاتا ہے۔ ان سے اختلاف رکھنے والے شخص...

ٹریفک کا نظام اور ہم

ٹریفک کا نظام اور ہم کراچی شہر میں جو آمدورفت کے مسائل بڑھتے جارہے ہیں اس میں ہمارا کتنا کردار ہے اور سدباب کس حد تک ہوسکتا ہے۔ کراچی اور دیگر شہروں میں ٹریفک کے جو مسائل نظر آتے ہیں ان میں سے اکثر کے ذمہ دار ہم خود ہوتے ہیں۔ اگر ہم سواری کے دوران اپنے رویے درست کرلیں تو ٹریفک کا نظام بہتر ہوسکتا ہے۔ ترقی یافتہ ممالک میں قانون کی سختیاں ٹریفک کے اصول کی خلاف ورزی سے روک دیتی ہیں، لیکن ہمارے ہاں قانون کی پابندی نہ ہونے کی وجہ سے ٹریفک کے اصولوں کی خلاف ورزی عام بات ہے۔ کراچی شہر میں کبھی بھی لوگوں کے آمدورفت کے نظام پر توجہ نہیں دی گئی (ماسوائے نعمت اللہ خان مرحوم کے کہ ان کے دور میں لوگوں کیلئے آمدورفت کا نظام نسبتاً بہتر تھا)۔ ایک دور میں موٹر سائکل والے چنگچی رکشے چلتے تھے جن سے لوگ فائدہ اٹھارہے تھے، اس پر بھی پابندی لگادی گئی۔ اب لوگوں کیلئے کوئی بھی مناسب اور سستی سواری دستیاب نہیں جس کی وجہ سے اکثریت ذاتی سواری کو ترجیح دے رہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کراچی شہر میں گاڑیاں اور موٹر سائکلیں بڑھتی جارہی ہیں اور ساتھ ہی ساتھ ٹریفک کے مسائل میں بھی اضافہ ہورہا ہے۔ اگر حکومتی سطح پر عام لوگوں...

زنا یا شادی

 زنا یا شادی نئی نسل کی ترجیحات اور جذبات سے متعلق مضمون، اور ان کیلئے معاشرے میں موجود مواقع اللہ تعالیٰ نے انسان کو مکلف مخلوق بنایا ہے چناچہ اس کے خمیر میں مثبت اور منفی جذبات رکھے گئے ہیں تاکہ وہ اللہ تعالیٰ کی معارف حاصل کرسکے۔ انسان کے جذبات اور خواہشات کیلئے اللہ تعالیٰ نے نفس کو پیدا فرمایا، تاکہ انسان کی آزمائش ہو اور اس میں کھانے پینے، سونے، مستقبل کیلئے مال و دولت ذخیرہ کرنے اور جنس کی تسکین کا جذبہ پیدا ہو۔ یہی جذبات ہوتے ہیں جو انسان کو محنت، جدوجہد اور ایجادات کی طرف ابھارتے ہیں۔ ایک خاص عمر تک پہنچتے ہی انسان کو جنس مخالف میں کشش محسوس ہونا شروع ہوجاتی ہے جس کی تکمیل کا ذریعہ نکاح ہے۔ دینِ اسلام میں نکاح کو بہت سہل کردیا گیا ہے جو دوسرے مذاہب میں نہیں۔ بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں ذات برادری، خود نمائی، شان و شوکت، خاندانی رسومات کا اظہار اور ذاتی مفاد کی وجوہات کے سبب نکاح کو مشکل ترین بنادیا گیا ہے۔ اب نوجوان طبقہ کرے تو کیا کرے۔ نکاح کر نہیں سکتے، اس خواہش کا اظہار نہیں کر سکتے کیونکہ ہمارے معاشرے میں اس کو برا سمجھا جاتا ہے۔ کچھ سال پہلے تک نوجوان نسل اپنے بڑوں کو...

انسانی ضرورتوں کا احساس

  انسانی ضرورتوں کا احساس ہمارا معاشرہ کس طرح انسانی جذبات اور احساسات سے عاری ہے اس سے متعلق مضمون ہے۔ اس مضمون میں صرف دو مسائل کا ذکر کیا گیا ہے۔ ہم جس معاشرے میں رہتے ہیں اس میں انسانی ضرورت کی دو چیزوں کا فقدان نظر آتا ہے ایک استنجا خانے اور دوسرا جائز جنسی عمل کی تکمیل۔ یہ ہماری انتہائی بدقسمتی ہے کہ جب ہم کسی کام سے بازار جاتے ہیں تو اجابت کی ضرورت کی تکمیل کیلئے کوئی جگہ نظر نہیں آتی۔ اب ہم میں سے اکثر لوگ اپنی ضرورت کو مجبوراً روک لیتے ہیں جو کہ طبی اعتبار سے غلط ہے اور کئی جسمانی مسائل کا سبب بن سکتا ہے۔ لیکن نہ حکومتی سطح پر اور نہ ہی سماجی لحاظ سے اس ضرورت کو سمجھا گیا ہے۔ دیگر ترقی یافتہ ممالک میں جگہ جگہ پبلک ٹوائلٹ موجود ہوتے ہیں۔ لیکن ہمارے یہاں شازونادر ہی عوامی جگہوں پر کوئی واش روم پایا جاتا ہو۔ کئی سال پہلے ایک جاپان کے وزیر پاکستان آئے تو اس بات پر تعجب کا اظہار کیا کہ پورے راستے میں انہیں ایک بھی پبلک ٹوائلٹ نظر نہیں آیا تو یہ قوم اپنی ضرورت کیسے پوری کرتی ہوگی؟ دوسرا اہم مسئلہ جنسی جذبات کی جائز تکمیل ہے۔ ہمارے معاشرے میں شادی کبھی بھی نوجوانوں کی مرضی سے نہی...