عوام الناس کی ذہنی اور جسمانی صلاحتیں
اپنی روزمرہ زندگی میں ہمیں لوگوں سے متعلق مختلف مشاہدات ہوتے ہیں جس سے ہمارے معاشرے میں موجود اجتماعی کمزوریوں کا پتا چلتا ہے۔ اس مضمون میں انہیں مشاہدات کا ذکر ہے۔
ایک عربی مقولہ ہے "العوام کلانعام" یعنی عوام جانوروں کی مانند ہوتے ہیں۔ قرآن میں بھی یہ نصیحت ملتی ہے جس کا مفہوم ہے کہ اگر ہم نے اکثریت کی پیروی کی تو ہم گمراہ ہوجائیں گے۔ مولانا ابوالکلام آزاد نے بھی ہمیشہ روشِ عام سے ہٹ کر چلنے کی تلقین کی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جمہوریت ایک ناپسندیدہ طرزِ حکمرانی ہے جس کے نتیجے میں اکثر بیکار حکومتیں وجود میں آتی ہیں۔ اور اس کی مثالیں انڈیا اور پاکستان کی حکومتوں کی کارکردگی سے ثابت ہے۔
اب ہم بات کرتے ہیں ہمارے معاشرے میں موجود عوام الناس کی جن کا مشاہدہ آئے دن ہوتا رہتا ہے۔ ہمارے ہاں اکثریت کا حال یہ ہے کہ جب ان سے بات کی جائے تو وہ اپنا کام روک کر بات سنتے اور جواب دیتے ہیں۔ جبکہ سماعت کانوں سے ہوتی ہے ہاتھ سے نہیں۔ جب لوگ اپنا ہاتھ روک کر بات سنتے رہیں گے تو وہ اپنا قیمتی وقت ہی برباد کررہے ہوتے ہیں۔ ایک بار ایک پیٹرول پمپ جانے کی ضرورت پیش آئی تو دیکھا کہ ایک پیٹرول مشین جو شروع میں لگی ہوئی تھی اس میں تو لمبی لائن لگی ہوئی ہے اور آگے موجود مشین میں صرف دو افراد موجود ہیں۔ میں نے فوراً آگے موٹرسائیکل بڑھائی اور ذراسی دیر میں پیٹرول بھروالیا جب کہ پہلی مشین والی لائین ویسی ہی رہی، یہ دیکھ کے مجھے بہت افسوس ہوا کہ لوگوں میں اتنا شعور بھی نہیں کہ آگے بڑھ کے دوسری مشین سے پیٹرول ڈلوالیں۔ اسی طرح ایک ویڈیو دیکھنے کا اتفاق ہوا جس میں کچھ دکاندار ڈاکوؤں سے لڑتے دکھائے گئے ہیں۔ اس میں افسوس کی بات یہ سامنے آئی کہ دو ڈاکو کسی کے قابو میں نہیں آرہے تھے اور دکاندار ڈاکوؤں پر جوس کے ڈبے پھینک رہے تھے۔ افسوس کہ دکانداروں کو اتنا شعور نہیں کہ ایسی چیز سے حملہ کیا جائے جس سے ڈاکو کو سنگین جسمانی نقصان پہنچ سکے۔ ان دو واقعات سے ہمارے لوگوں کی ذہنی اور جسمانی صلاحتیوں کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔
ٹریفک کے مسائل بھی اکثر لوگوں کے غلط رویوں کی بنیاد پر وجود میں آتے ہیں، جس پر ایک مکمل مضمون پہلے بھی لکھا جاچکا ہے۔
https://hamaremutabiq.blogspot.com/2024/05/karachi-traffic.html
یہ بھی شعور کی کمی کی وجہ سے ہے۔ عبادات میں بھی سنگین غلطیاں مشاہدے میں نظر آتی رہتی ہیں۔ فرائض کو کم اہمیت دینا اور رسمی عبادات پر زور ناقص العقل والوں کا ہی کام ہے۔ مساجد میں کچھ لوگ دروازوں کے سامنے ہی نیت باندھ لیتے ہیں جس سے آنے جانے والوں کو کوفت کا سامنا کرنا پڑتا ہے؛ اکثر لوگ نمازی کے سلام پھیرنے کا انتظار کرتے رہ جاتے ہیں اور نمازی قائدہ آخیرہ کو طول دے دیتا ہے، جبکہ ایسی صورت میں لازم ہے کہ مختصر درود پڑھ کر سلام پھیرلیا جائے تاکہ دوسروں کو انتظار نہ کرنا پڑے۔ اسی طرح آمدورفت کے راستے روک کر شامیانہ لگانے کے واقعات عام ہیں جس سے اجتماعی طور پر سب متاثر ہوتے ہیں تو جو عبادت دوسروں کی تکلیف کا باعث بنے اس کا کیا اجر ملے گا؟
خوشی اور غم کی رسومات بھی معاشرے پر بوجھ ہیں۔ ایک محدود آمدنی والے فرد کو بھی وہ تمام رسومات ادا کرنی پڑجاتی ہیں جو اس کے بجٹ سے باہر ہوں۔ بیمار کی عیادت کے لئے آنے والوں سے پریشانی میں اضافہ ہی ہوتا ہے، خاص طور پر ہسپتالوں میں مریض کی عیادت کو پورا خاندان پہنچ جاتا ہے جس سے وہاں کی انتظامیہ کو اپنے معاملات سنبھالنے مشکل ہوجاتے ہیں لیکن لوگوں نے تو اس کو فرض سمجھ رکھا ہے۔
اب ضرورت اس بات کی ہے کہ لوگ رسومات سے باہر نکلیں۔ جو کام بھی کریں سوچ سمجھ کر کریں۔ دوسروں کے آرام و سکون کا خیال رکھیں۔ اپنی ذہنی صلاحتیوں کو بڑھانے کیلئے مختلف موضوعات پر کتابیں پڑھیں (انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا پر معلومات حاصل کرنے سے ذہنی سطح بلند نہیں ہوتی، مکمل کتاب پڑھنا ضروری ہے)۔ جسمانی صلاحتیں بڑھانے کیلئے بھی مختلف سرگرمیاں اختیار کریں تاکہ ہمارا معاشرہ مجموعی طور پر اعلٰی معیار کا ہوجائے۔
Comments
Post a Comment
آپ کی رائے ہمارے لئے بہت قیمتی ہے۔