Skip to main content

Posts

Showing posts with the label Featured post

کراچی میں اونچے درخت؟

 کراچی میں اونچے درخت؟ پہلے کراچی میں اونچے درخت بہت زیادہ نظر آتے تھے لیکن اب ڈھونڈنے سے بھی نہیں ملتے۔ بچپن میں ہم کافی اونچے اونچے درخت دیکھا کرتے تھے، آبادی کے دباؤ اور گھروں کی تعمیر کے سلسلے میں وقت کے ساتھ ساتھ وہ درخت کٹتے گئے اور اب بڑے درخت مشکل سے ہی نظر آتے ہیں۔ کراچی شہر میں گرمی کی شدت میں ہر سال اضافہ ہوتا جا رہا ہے، ضرورت اس بات کی محسوس ہو رہی ہے کہ درخت زیادہ سے زیادہ لگائے جائیں۔ اس سلسلے میں عوامی اور کچھ حکومتی سطح پر کام ہو رہا ہے۔ لیکن گرمی کی شدت میں کمی ابھی تک محسوس نہیں ہو رہی ہے۔ مجھے خیال آیا کہ جب تک اونچے اور بڑے درخت نہیں لگیں گے تب تک مسئلہ حل نہیں ہوگا، تو سوچا کہ کیوں نہ ایک جائزہ لیا جائے کہ کراچی میں بڑے درخت آخر کتنے ہیں؟ میں نے سہراب گوٹھ سے بقائی میڈیکل یونیورسٹی تک سفر کے دوران اس بات کا مشاہدہ کیا کہ راستے میں کتنے اونچے درخت آتے ہیں۔ سہراب گوٹھ سے نیپا تک تو نوزائدہ درخت نظر آئے جس میں زرگ گل نمایاں تھے، نیپا سے کراچی یونیورسٹی تک خوب ہریالی نظر آئی جس میں نیم اور کونو کارپس کے درخت نمایاں تھے لیکن کوئی بھی زیادہ اونچا نہیں تھا جبکہ نیم کے...

پاکستانی صنعت کتب کی زبوں حالی کے اسباب

پاکستانی صنعت کتب کی زبوں حالی کے اسباب لائبریری سائنس ڈپارٹمنٹ کراچی یونیورسٹی کی ریٹائرڈ چئرپرسن میڈم ملاحت کلیم شیروانی کے قلم سے ایک تحقیقی اور فکری مضمون بلند شرح ناخواندگی  پاکستان شرح خواندگی کے اعتبار سے دنیا ہی میں نہیں بلکہ ایشیاء کے ترقی پزیر ممالک میں بھی بہت پیچھے ہے۔ پونیسکو کے اعدادو شمار کے مطابق عوامی جمہوریہ کوریا 90 فیصد، فلپائن، سری لنکا، تھائی لینڈ اور سنگاپور میں تقریباً 80 سے 90 فیصد کے درمیان شرح خواندگی ہے۔ بھارت میں یہ تناسب تقریباً 40 فیصد ہے جبکہ پاکستان میں سرکاری طور پر یہ دعویٰ کیا جاتا ہے کہ شرح خواندگی 26 فیصد ہے جس میں عورتوں کی شرح بمشکل 17 فیصد ہے۔  ملک کی تین چوتھائی سے زیادہ آبادی پڑھنے لکھنے کی صلاحیت سے ہی محروم ہو تو کتاب کیسے فروغ پاسکتی ہے؟  عادتِ مطالعہ کا فقدان  شرح خواندگی کا تناسب تو پاکستان میں کم ہے ہی لیکن جو افراد تعلیم یافتہ ہیں ان کا ذوق مطالعہ بھی کچھ اتنا بلند نہیں بلکہ ہماری ثقافتی روایات میں "عادتِ مطالعہ" کی کوئی خاص جگہ ہے ہی نہیں۔ طلب و رسد کے پرانے قانون کے تحت یہ بات سمجھنا کچھ اتنا مشکل بھی نہیں کہ جب مطا...

تبرکات مدینہ

 تبرکات مدینہ مشہور مصنف ممتاز مفتی کی کتاب لبیک سے لیا گیا ایک اقتباس بھا ئیو! سنو' سنو! یہ تم کہاں کھڑے ہو۔ مسجد نبویﷺ کی دیوار کے سایہ تلے چراغ کے زیر سائے۔ تم تو گھر سے اس عظیم چراغ کے نور سے منور ہونے کے لئے اتنی دور سے چل کر آئے ہو۔ رک جاؤ رک جاؤ بھائیو! یہ تم کیا خرید رہے ہو۔ تمہارے عزیزواقارب نے تو کہا تھا کہ مدینہ منورہ کی تسبیحیں لانا۔ یہ تسبیحیں مدینہ منورہ کی تو نہیں۔ یہ تو اٹلی کی بنی ہوئی ہیں۔ شاید ان کے منکوں میں وہ ذرات بھی شامل ہوں جو رومن کروسیڈرز کے گھوڑوں کے سموں سے جھڑے تھے۔ نہ نہ یہ جائے نماز نہ خریدنا۔ یہ جائے نماز مدینے شریف کے نہیں۔ ان پر تو پورپ کی چھاپ لگی ہے۔ جب تم یہ جائے نماز وطن لے کر جاؤ گے اور اپنے عزیزوں کو تحفے کے طور پر دو گے تو وہ سمجھیں گے کہ یہ جائے نماز مدینہ منورہ کے بنے ہوئے ہیں اور صبح شام ان جائے نماز کے ہر تار کو عقیدت سے چومیں گے۔ آنکھوں سے لگائیں گے۔ بھائیو! اپنے عزیزوں کو دھوکا نہ دو۔ یہ جائے نماز نہ خریدو۔ بھائیو! اس جھلمل جھلمل بازار میں کوئی بھی ایسی چیز موجود نہیں جو مدینہ منورہ یا مکہ معظمہ کی بنی ہوئی ہو۔ کوئی چیز نہیں جو سعودی ...

ناران کی سیر

 ناران کی سیر راولپنڈی سے ناران کے سفر کی روداد جو ذاتی مشاہدے پر مشتمل ہے۔ اس سفرنامے میں مزید اہم مقامات کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ اپنے شہر سے دور کوئی بھی سفر کرنے سے پہلے اس سے متعلق معلومات حاصل کرنا بہت ضروری ہے۔ شمالی علاقوں کا تفریحی دورہ کرنا ہو اور ہر قسم کی مشکلات سے محفوظ رہنا چاہتے ہوں تو بہتر ہے کہ کسی سیاحتی گروپ یا کمپنی کے ساتھ سفر کیا جائے۔ سیاحتی کمپنی کے خرچے تو زیادہ ہوتے ہیں لیکن یہ آپ کو اتنی سہولیات فراہم کرتی ہیں کہ آپ ہر قسم کی کوفت سے بچ جاتے ہیں۔ اگر آپ محدود خرچے میں ناران کی سیاحت کرنا چاہتے ہیں تو آپ کو راولپنڈی سے گائڈ کی خدمات حاصل کرنا ہونگی، اس کیلئے آپ پہلے سے معاوضہ اور مقامات طے کرسکتے ہیں۔ کچھ گائڈ آپ کو مناسب داموں میں ہوٹل کے کمرے اور طعام کا بندوبست کرواسکتے ہیں۔ جتنا تجربے کار گائڈ آپ کو ملے گا اتنا ہی آپ کا سیاحتی سفر بہتر ہوگا۔ جو حضرات اپنے گھر کی خواتین اور بچوں کے ساتھ ناران کا سفر کرنا چاہتے ہیں تو یہ بات مدِنظر رکھیں کہ ان کو طویل سفر کرنا ہوتا ہے اور آپ کو آرام کے کم مواقع میسر آسکتے ہیں۔ مجوعی طور پر یہ سیاحتی دورہ آپ کو تھکن میں مبت...

چڑیا چڑے کی کہانی

 چڑیا چڑے کی کہانی مولانا ابوالکلام آزاد کی تصنیف غبارِ خاطر سے لیا گیا ایک قصہ جو قاری کو اپنی گرفت سے باہر نہیں نکلنے دیتا، اس کے منتخب حصے اختصار کے ساتھ یہاں بیان کئے گئے ہیں۔ انتہائی دلچسپ روداد ہے۔ زندگی میں بہت سی کہانیاں بنائیں۔ خود ایسی گزری جیسے ایک کہانی ہو۔ آئیے آپ کو آج چڑیا چڑے کی کہانی سناؤں۔ یہاں کمرے جو ہمیں رہنے کو ملے ہیں، پچھلی صدی کی تعمیرات کا نمونہ ہیں۔ چھت لکڑی کے شہتیروں کی ہے اور شہتیروں کے سہارے کے لئے محرابیں ڈال دی ہیں۔ نتیجہ یہ ہے کہ جا بجا گھونسلہ بنانے کے قدرتی گوشے نکل آئے اور گوریاؤں کی بستیاں آباد ہوگئیں۔ دن بھر ان کا ہنگامئہ تگ ودو گرم رہتا ہے۔گزشتہ سال جب یہاں ہم آئے تھے، تو ان چڑیوں کی آشیاں سازیوں نے بہت پریشان کردیا تھا۔ کمرہ کے مشرقی گوشہ میں منہ دھونے کی ٹیبل لگی ہے۔ ٹھیک اس کے اوپر نہیں معلوم کب سے ایک پرانا گھونسلہ تعمیر پاچکا تھا۔ دن بھر میدان سے تنکے چن چن کر لاتیں اور گھونسلے میں بچھانا چاہتیں۔ وہ ٹیبل پر گرکے اس کے کوڑے کرکٹ سے اَٹ دیتے۔ ادھر پانی کا جگ بھرواکے رکھا، اُدھر تنکوں کی بارش شروع ہوگئی۔  پچھم کی طرف چارپائی دیوار سے ل...