Skip to main content

پاکستانی صنعت کتب کی زبوں حالی کے اسباب

پاکستانی صنعت کتب کی زبوں حالی کے اسباب

لائبریری سائنس ڈپارٹمنٹ کراچی یونیورسٹی کی ریٹائرڈ چئرپرسن میڈم ملاحت کلیم شیروانی کے قلم سے ایک تحقیقی اور فکری مضمون

بلند شرح ناخواندگی 

پاکستان شرح خواندگی کے اعتبار سے دنیا ہی میں نہیں بلکہ ایشیاء کے ترقی پزیر ممالک میں بھی بہت پیچھے ہے۔ پونیسکو کے اعدادو شمار کے مطابق عوامی جمہوریہ کوریا 90 فیصد، فلپائن، سری لنکا، تھائی لینڈ اور سنگاپور میں تقریباً 80 سے 90 فیصد کے درمیان شرح خواندگی ہے۔ بھارت میں یہ تناسب تقریباً 40 فیصد ہے جبکہ پاکستان میں سرکاری طور پر یہ دعویٰ کیا جاتا ہے کہ شرح خواندگی 26 فیصد ہے جس میں عورتوں کی شرح بمشکل 17 فیصد ہے۔

 ملک کی تین چوتھائی سے زیادہ آبادی پڑھنے لکھنے کی صلاحیت سے ہی محروم ہو تو کتاب کیسے فروغ پاسکتی ہے؟

 عادتِ مطالعہ کا فقدان

 شرح خواندگی کا تناسب تو پاکستان میں کم ہے ہی لیکن جو افراد تعلیم یافتہ ہیں ان کا ذوق مطالعہ بھی کچھ اتنا بلند نہیں بلکہ ہماری ثقافتی روایات میں "عادتِ مطالعہ" کی کوئی خاص جگہ ہے ہی نہیں۔ طلب و رسد کے پرانے قانون کے تحت یہ بات سمجھنا کچھ اتنا مشکل بھی نہیں کہ جب مطالعہ عوام الناس کی عادت یا شوق ہی نہیں تو "کتاب" بھی مطلوب نہیں اس لئے اشاعت و طباعت کتب کی موجودہ صورتحال بھی کوئی ایسی تعجب انگیز نہیں۔

نظامِ تعلیم

شرح خواندگی، عادت مطالعہ اور کتابوں کی ضرورت و طلب کا سلسلہ بنیادی طور پر کسی بھی ملک کے نظام تعلیم کے ساتھ جڑا ہوتا ہے۔ ہماری بدقسمتی یہ ہے کہ آزادی کے پچاس سے زیادہ سال گزرنے کے باوجود ہم اپنے ملک اور اپنی ضروریات کے مطابق "نظام تعلیم" رائج نہیں کرسکے۔ ابتدائی سالوں میں تو برطانوی نظام تعلیم جو تقسیم سے قبل برصغیر میں رائج تھا ہماری تعلیمی پالیسیوں کی بنیاد بنتا رہا لیکن وہ نظام بھی ملک کے سالانہ بجٹ میں تعلیم کے لئے مخصوص محدود رقم کی بناء پر صحیح طور پر کبھی کام نہیں کرسکا۔

سرکاری اداروں کی زبوں حالی نے نجی اداروں کیلئے راستہ کھولا، اس میں شک نہیں کہ ابتداء میں قائم ہونے والے نجی ادارے نیک نیتی اور خلوص سے قائم کئے گئے اور انہوں نے کسی حد تک فعال کردار بھی ادا کیا لیکن پچھلے چند سالوں میں خصوصاً بڑے شہروں کے اندر تعلیمی ادارے "تجارتی ادارے" بن گئے ہیں بنیادی تعلیم کا ڈھانچہ صرف اس حد تک باقی رہ گیا ہے کہ سرکاری بورڈ یا ڈائریکٹ منظور شدہ اداروں کے امتحانات منعقد کرادیں جبکہ نجی طور پر قائم ہونے والے یہ "تعلیمی تجارتی مرکز" اپنی مرضی سے کسی بھی بیرونِ ملک کے ادارے سے الحاق حاصل کرلیتے ہیں نتیجتاً اس وقت بڑے شہروں میں تعلیمی نظام کی کوئی واضح شکل ہی موجود نہیں، سب سے تکلیف دہ بات یہ ہے کہ خود ان اداروں کے لئے تو یہ بڑا منفعت بخش کاروبار ہے لیکن بحیثیت مجموعی پاکستانی قوم کی شرح خواندگی یا عادت مطالعہ کے فروغ میں یہ ادارے کوئی مثبت اثرات مرتب نہیں کررہے ہیں۔

 حکومت کی سرپرستی اور اس کو حاصل قانونی تحفظ ہی کسی ملک میں ایسا نظام تعلیم قائم کرسکتی ہے جو دوررس نتائج کا حامل ہو۔

عوام کی قوتِ خرید

 ایک طرف تو روزافزوں مہنگائی اور فی کس آمدنی کا عدم توازن پاکستان کی خراب معیشت کا نتیجہ ہے تو دوسری طرف کتابوں کی طلب کم ہونے کی وجہ سے اور صنعت کتب کے وسائل کم ہونے کی وجہ سے کتابوں کی قیمتیں زیادہ ہیں، اپنی بنیادی ضروریات زندگی پوری کرنے کے بعد عام آدمی میں اتنی قوت باقی نہیں رہتی کہ وہ کسی مہنگے شوق کی تکمیل کرے جبکہ بدقسمتی سے"کتاب" شوق اور دلچسپی کی ترجیحات میں بھی عام طور پر بہت پیچھے ہے۔

عوامی کتب خانوں کا ناقص نظام

تعلیمی نظام اور تعلیمی اداروں کی طرح پاکستان میں کتب خانے بھی صحیح طور پر قائم نہیں ہوسکے۔ یونیورسٹیوں کی سطح پر کتب خانوں کی حالت دوسرے تعلیمی اداروں کے مقابلے میں پھر بہتر ہے، لیکن عوامی کتب خانوں کے حوالے سے صورتحال انتہائی خراب ہے۔ چھوٹے چھوٹے عوامی کتب خانوں کا نظام ملک کی شرح خواندگی کو بھی بلند کرسکتا ہے اور صنعت کتب کے فروغ میں بھی اہم کردار ادا کرسکتا ہے کیونکہ ان کتب خانوں کی صورت میں شائع ہونے والی کتب کیلئے بازار فراہم ہوسکتا ہے۔

 پاکستان میں "بلدیاتی عوامی کتب خانوں" کا نظام موجود ہے لیکن اکثر کتب خانوں میں پرانے ذخائر کتب اور فرسودہ طریقہ خدمات کی وجہ سے ان کا کوئی فعال کردار سامنے نہیں آیا۔

(ملاحت کلیم شیروانی)

Comments

Popular Posts

نواز شریف

جب سے مملکتِ پاکستان کا قیام وجود میں آیا ہے تب سے ہی یہاں سیاسی استحکام کا فقدان رہا ہے۔ قائدِ اعظمؒ، لیاقت علی خانؒ اور دیگر حکمرانوں نے کچھ عرصہ تک ہی حکومت کی ذمہ داریاں اٹھائیں، لیکن باقائدہ حکومت کا آغاز جنرل ایوب خان کی صدارت سے شروع ہوا۔ یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ اسی دورِ حکومت میں پاکستان نہ صرف اپنے پیروں پر کھڑا ہوا بلکہ اس کا شمار ایشیاء کے ترقی یافتہ ممالک میں ہونے لگا۔ پاکستان کے خلاف سازش کرنے والے عناصر جانتے تھے کہ جب بھی یہاں مستحکم حکومت ہوگی تو ملک ترقی کرے گا۔ لہٰذا مختلف ذرائع استعمال کرکے ہمارے دشمن پاکستانی قوم میں مایوسی پھیلاتے رہے اور اس وقت کی موجود، حکومت کے خلاف الزامات کے ذریعے لوگوں کو حکومت سے بیزار کرنے کی کوشش کرتے رہے، یہاں تک کہ پرویز مشرف جیسے امریکہ کو سجدہ کرنے والے، وقت کے فرعون، کو بھی حکومت سے محروم ہونا پڑا۔ پاکستانی عوام میں تعلیم اور شعور کی کمی ہے جس کی وجہ سے وہ باآسانی سازشوں کا شکار ہوجاتے ہیں اور تبدیلی کی خواہش مند ہوجاتے ہیں۔ یہ نہیں غور کرتے کہ حکومت مستحکم ہے، ترقیاتی کام چل رہے ہیں، زندگی اچھی گزر رہی ہے، تمام کاروبارِ زندگی عمد...

داڑھی کا جواز

  داڑھی کا جواز اگر کوئی شخص کہے کہ سر پر ہمیشہ استرا پھیرنا چاہیے تاکہ انسان بالوں سے پیدا ہونے والی پریشانیوں سے بچا رہے، اگر بال ہونگے تو جوئیں بھی ہونگی، بال لمبے ہوکر منہ پر آئیں گے، بال ہوا سے بکھر تے رہیں گے اور انسان ان میں جنگلی لگے گا لہٰذا سر کے بالوں کے بغیر انسان زیادہ خوبصورت لگے گا، تو ایسے شخص کو آپ کیا جواب دیں گے؟ ظاہر ہے کہ اس شخص کو کہا جائے گا کہ بال اگنا ایک قدرتی عمل ہے، اس کو روکنے کے بجائے ہمیں ان کو آراستہ کرنا چاہیے، ان کی صفائی ستھرائی کا خیال رکھنا چاہیے تو یہ بال ہماری شخصیت میں خوبصورتی کا باعث بنیں گے بہ نسبت ٹنڈ کے! یہی جواب اصل میں داڑھی کے جواز کیلئے استعمال کیا جاسکتا ہے۔ اس کیلئے فتاویٰ کی ضرورت نہیں۔ قدرت نے داڑھی مرد کو عطاء کی ہے۔ اب مردوں کا کام ہے کہ اپنے چہروں کو روزانہ چھیلنے کے بجائے داڑھی کو بڑھنے دیں اور اس کو آراستہ کریں اور اپنی مردانگی کا ثبوت اپنے چہروں سے دیں۔ کچھ لوگ اپنی گفتگو میں یہ کہتے ہوئے نظر آتے ہیں کہ فلاں شخص داڑھی رکھ کے جھوٹ بول رہا ہے، یا کچھ افراد نے داڑھی رکھی ہوئی ہے اور خواتین کو دیکھتے پھرتے ہیں۔ ایسے لوگ...

ناران کی سیر

 ناران کی سیر راولپنڈی سے ناران کے سفر کی روداد جو ذاتی مشاہدے پر مشتمل ہے۔ اس سفرنامے میں مزید اہم مقامات کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ اپنے شہر سے دور کوئی بھی سفر کرنے سے پہلے اس سے متعلق معلومات حاصل کرنا بہت ضروری ہے۔ شمالی علاقوں کا تفریحی دورہ کرنا ہو اور ہر قسم کی مشکلات سے محفوظ رہنا چاہتے ہوں تو بہتر ہے کہ کسی سیاحتی گروپ یا کمپنی کے ساتھ سفر کیا جائے۔ سیاحتی کمپنی کے خرچے تو زیادہ ہوتے ہیں لیکن یہ آپ کو اتنی سہولیات فراہم کرتی ہیں کہ آپ ہر قسم کی کوفت سے بچ جاتے ہیں۔ اگر آپ محدود خرچے میں ناران کی سیاحت کرنا چاہتے ہیں تو آپ کو راولپنڈی سے گائڈ کی خدمات حاصل کرنا ہونگی، اس کیلئے آپ پہلے سے معاوضہ اور مقامات طے کرسکتے ہیں۔ کچھ گائڈ آپ کو مناسب داموں میں ہوٹل کے کمرے اور طعام کا بندوبست کرواسکتے ہیں۔ جتنا تجربے کار گائڈ آپ کو ملے گا اتنا ہی آپ کا سیاحتی سفر بہتر ہوگا۔ جو حضرات اپنے گھر کی خواتین اور بچوں کے ساتھ ناران کا سفر کرنا چاہتے ہیں تو یہ بات مدِنظر رکھیں کہ ان کو طویل سفر کرنا ہوتا ہے اور آپ کو آرام کے کم مواقع میسر آسکتے ہیں۔ مجوعی طور پر یہ سیاحتی دورہ آپ کو تھکن میں مبت...