Skip to main content

نواز شریف

جب سے مملکتِ پاکستان کا قیام وجود میں آیا ہے تب سے ہی یہاں سیاسی استحکام کا فقدان رہا ہے۔ قائدِ اعظمؒ، لیاقت علی خانؒ اور دیگر حکمرانوں نے کچھ عرصہ تک ہی حکومت کی ذمہ داریاں اٹھائیں، لیکن باقائدہ حکومت کا آغاز جنرل ایوب خان کی صدارت سے شروع ہوا۔ یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ اسی دورِ حکومت میں پاکستان نہ صرف اپنے پیروں پر کھڑا ہوا بلکہ اس کا شمار ایشیاء کے ترقی یافتہ ممالک میں ہونے لگا۔ پاکستان کے خلاف سازش کرنے والے عناصر جانتے تھے کہ جب بھی یہاں مستحکم حکومت ہوگی تو ملک ترقی کرے گا۔ لہٰذا مختلف ذرائع استعمال کرکے ہمارے دشمن پاکستانی قوم میں مایوسی پھیلاتے رہے اور اس وقت کی موجود، حکومت کے خلاف الزامات کے ذریعے لوگوں کو حکومت سے بیزار کرنے کی کوشش کرتے رہے، یہاں تک کہ پرویز مشرف جیسے امریکہ کو سجدہ کرنے والے، وقت کے فرعون، کو بھی حکومت سے محروم ہونا پڑا۔

پاکستانی عوام میں تعلیم اور شعور کی کمی ہے جس کی وجہ سے وہ باآسانی سازشوں کا شکار ہوجاتے ہیں اور تبدیلی کی خواہش مند ہوجاتے ہیں۔ یہ نہیں غور کرتے کہ حکومت مستحکم ہے، ترقیاتی کام چل رہے ہیں، زندگی اچھی گزر رہی ہے، تمام کاروبارِ زندگی عمدگی سے چل رہا ہے۔ اس کے بجائے وہ لسانی، سیاسی، علاقائی اور مذہبی پروپیگنڈے کا شکار ہوکر حکومت کو گرانے میں اپنی توانائی خرچ کرنے پر تیار ہوجاتے ہیں۔ اس کی بدترین مثال 2017 کا دور ہے جب پاکستان کے معاشی اور سیاسی حالات نسبتاً بہتر تھے لیکن اداروں اور بیرونِ ملک سے کی جانے والی سازشوں کے نتیجے میں نوازشریف کو عہدے سے ہٹایا گیا اور ایک نئی سیاسی جماعت کیلئے راہ ہموار کی گئی۔

حکومت کا آغاز

یہ ایک اتفاق کی بات ہے کہ نواز شریف کو اس وقت حکومت ملی جب ملک کی معاشی، انتظامی اور خارجی حالات خراب تھے۔ یہ تو مخالفین بھی مانتے ہیں کہ نواز دور میں ہی ملک کی معیشت کو استحکام ملا، ادارے مضبوط ہوئے، خراب سیاسی حالات سے نجات ملی اور کرپشن میں کمی آئی۔ یہ مقولہ بھی انہیں موصوف کیلئے مشہور ہے "کھاتا تو ہے پر لگاتا بھی ہے"۔ باقی نوازشریف اور ان کی پارٹی میں کئی طرح کی کمزوریاں موجود ہیں اور غلط فیصلوں سے تاریخ بھری پڑی ہے۔ مثال کے طور پر ممتاز قادری کی پھانسی کا فیصلہ۔ انہیں غلط فیصلوں نے نواز حکومت کو کمزور کیا یہاں تک کہ حکومت سے ہاتھ ہی دھونے پڑے۔

سیاسی مفاہمت کا فقدان

نواز شریف کے مزاج میں یہ بات نہیں کہ وہ بدلتے ہوئے سیاسی حالات سے فائدہ اٹھا سکے اور نہ ہی وہ مخالف حالات میں خود کو بچاسکے۔ اکثر مخالف پارٹی کے سیاسی رہنما اپنی پارٹی سے الگ ہوئے لیکن نواز شریف نے ان کو اپنی پارٹی میں شمولیت کی دعوت نہیں دی اور ایک سیاسی حمایت سے خود کو محروم رکھا۔ اس کی ایک مثال آزاد کشمیر سے تعلق رکھنے والے بیرسٹر سلطان ہیں۔ اس کے علاوہ بھی متعدد مثالیں موجود ہیں۔ اپنی پارٹی میں اگر کسی سیاسی رہنما نے مخالفت کی تو اس کو فوراً ہٹادیا جس کا خمیازہ بعد میں ان کو بھگتنا پڑا۔ مفاہمت کی سیاست سے یہ موصوف دور ہی رہے، ہاں جب معاملات بالکل ہاتھ سے نکل گئے تب جاکر مفاہمت پر مجبور ہوئے۔

ایک رہنما کو اصل میں ایسا ہی ہونا چاہیے۔ اگر وہ محض مصلحت کا ہی شکار ہوتا رہے گا تو ایسی حکمرانی کا کیا فائدہ۔ جب چلنا ہی دوسروں کے اشارے پر ہے تو بندہ کوئی اور کام کرلے۔ حکمران کو تو تمام معاملات اپنے ہاتھ میں رکھنے چاہئیں تاکہ وہ بروقت فیصلے کرسکے اور دباؤ کا شکار نہ ہو۔

بڑے اداروں سے دشمنی

نواز شریف کے مزاج کی وجہ سے اکثر ان کو ملک کے بڑے اداروں سے مخالفت اور مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا۔ ان اداروں میں فوج، عدلیہ اور صحافت شامل ہے۔ نوازشریف نے ان اداروں کی مخالفت اور مزاحمت کو سختی سے کچلنے کی کوشش کی جبکہ وہ دور اندیشی کا مظاہرہ کرتے ہوئے معاملات کو سنبھال سکتے تھے۔ اکثر موصوف ان اداروں کے خلاف کامیاب رہے لیکن جب شکست کا سامنا کیا تو اپنی حکومت کو ہی کھودیا۔

مذکورہ بالا تین اداروں میں ملک دشمن عناصر کا اثر و رسوخ موجود ہے۔ جب وہ دیکھتے ہیں کہ ملک سیاسی لحاظ سے مستحکم ہورہا ہے، ایک رہنما عوام میں مقبول ہورہا ہے، حکومت اور قانون کی گرفت مضبوط ہورہی ہے تو وہ حرکت میں آجاتے ہیں اور ملک کے خلاف مزاحمت کا ماحول پیدا کردیتے ہیں۔ ایک حکمران اچھا ہو یا برا جب وہ لمبے عرصے تک حکومت کرتا ہے تو اس سے آئین و قوانین مضبوط ہوتے ہیں۔

حکومتوں کے خلاف سازش کا شکار محض نوازشریف ہی نہیں رہے بلکہ کئی نامور حکمرانوں نے بھی ان سازشوں کا سامنا کیا ہے۔ جس طرح پاکستان کے بڑے اداروں میں سازشی عناصر موجود ہیں اسی طرح ان میں ایک طبقہ ایسا بھی ہے جو کہ صرف ملک کے مفادات کا سوچتا ہے اور اس کیلئے ہر قسم کی قربانی دینے کیلئے تیار رہتا ہے۔ یہ طبقہ جب دیکھتا ہے کہ ملک کا حکمران، ملک کے مفادات کا خیال نہیں رکھ رہا، اپنے اختیارات کا ناجائز فائدہ اٹھا رہا ہے، ملک کے نظریاتی اور زمینی سرحدوں کو کمزور کررہا ہے، تو ایسے میں بھی اندرونِ خانہ، اس حکمران کو ہٹانے کی کوششیں کی جاتی ہیں۔

نواز شریف کے مختلف ادوار

نواز شریف کی حکمرانی کا آغاز ضیاء الحق شہید کے زمانے میں ہوا۔ وہ پنجاب کے گورنر نامزد ہوئے اور اپنی کارکردگی سے عوام کا دل جیتا۔ بعد میں بے نظیر کی حکومت کے خاتمے کے بعد وزیرِ اعظم کا عہدہ سنبھالا اور بے نظیر کی انتقامی سیاست سے لوگوں کو نجات دلائی۔ نواز شریف میں کچھ تو خاص تھا جس کی وجہ سے اس نے لوگوں کے دلوں پر بھی حکمرانی کی۔ اسی چاہت اور محبت کا نتیجہ تھا کہ دوسری بار جب انتخابات جیتے تو تاریخ کی پہلی انتہائی مضبوظ حکومت قائم کی۔

نواز شریف کے دورِ حکومت میں سب سے زیادہ سادگی، خود مختاری، احتساب اور کرپشن سے پاک سرکاری معاملات پر زور دیا گیا۔ موصوف کے بڑے کارناموں میں موٹر وے کی تعمیر، بیوہ عورتوں کے قرضے معاف کرنا، بزرگ شہریوں کو خاص سہولیات مہیا کرنا، شادی بیاہ کے اخراجات کو محدود کرنا اور ذرائع آمدورفت کو بہتر بنانا ہے۔ نواز شریف نے اندرونی اور بیرونی، انتہائی دباؤ کے باوجود پانچ ایٹمی دھماکے کرواکر پوری دنیا کو حیرت زدہ کردیا تھا۔ یہ کارنامہ ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔

آخری دورِ حکومت میں بھی  تباہ حال اداروں کی بحالی کا کام احسن طریقے سے سراانجام دیا۔ پاکستان ریلوے تقریباً اختام پذیر تھا، لیکن انہیں کے ایک وزیر نے اس ادارے کو پھر سے اپنے پیروں پر کھڑا کیا۔ ماضی میں بھی پاکستان ٹیلیوژن جیسے ادارے کو منافع بخش ادارے میں تبدیل کیا تھا۔ اس وقت پاکستانی ڈرامے تمیز و تہذیب کا آئینہ تھے۔ خواتین دوپٹے کے بغیر اسکرین پر نہیں آسکتی تھیں۔ اشتہارات میں بھی بے حودگی اور عریانی کو ختم کیا گیا تھا۔ آخری دور حکومت نے نواز شریف کی کارکردگی بہت بہتر رہی۔ قرضوں کی ادائیگی بروقت ہورہی تھی، کراچی سے ایک دہشت گرد تنظیم کا خاتمہ کردیا گیا تھا، شمالی علاقوں اور بلوچستان میں بھی حالات قابو میں تھے اور ملک معاشی اور سیاسی لحاظ سے مضبوط تھا؛ لیکن پھر ہماری عوام تبدیلی کے خوشنما نعروں کا شکار ہوگئی اور پھر تبدیلی آگئی۔

Comments

Popular Posts

داڑھی کا جواز

  داڑھی کا جواز اگر کوئی شخص کہے کہ سر پر ہمیشہ استرا پھیرنا چاہیے تاکہ انسان بالوں سے پیدا ہونے والی پریشانیوں سے بچا رہے، اگر بال ہونگے تو جوئیں بھی ہونگی، بال لمبے ہوکر منہ پر آئیں گے، بال ہوا سے بکھر تے رہیں گے اور انسان ان میں جنگلی لگے گا لہٰذا سر کے بالوں کے بغیر انسان زیادہ خوبصورت لگے گا، تو ایسے شخص کو آپ کیا جواب دیں گے؟ ظاہر ہے کہ اس شخص کو کہا جائے گا کہ بال اگنا ایک قدرتی عمل ہے، اس کو روکنے کے بجائے ہمیں ان کو آراستہ کرنا چاہیے، ان کی صفائی ستھرائی کا خیال رکھنا چاہیے تو یہ بال ہماری شخصیت میں خوبصورتی کا باعث بنیں گے بہ نسبت ٹنڈ کے! یہی جواب اصل میں داڑھی کے جواز کیلئے استعمال کیا جاسکتا ہے۔ اس کیلئے فتاویٰ کی ضرورت نہیں۔ قدرت نے داڑھی مرد کو عطاء کی ہے۔ اب مردوں کا کام ہے کہ اپنے چہروں کو روزانہ چھیلنے کے بجائے داڑھی کو بڑھنے دیں اور اس کو آراستہ کریں اور اپنی مردانگی کا ثبوت اپنے چہروں سے دیں۔ کچھ لوگ اپنی گفتگو میں یہ کہتے ہوئے نظر آتے ہیں کہ فلاں شخص داڑھی رکھ کے جھوٹ بول رہا ہے، یا کچھ افراد نے داڑھی رکھی ہوئی ہے اور خواتین کو دیکھتے پھرتے ہیں۔ ایسے لوگ...

ناران کی سیر

 ناران کی سیر راولپنڈی سے ناران کے سفر کی روداد جو ذاتی مشاہدے پر مشتمل ہے۔ اس سفرنامے میں مزید اہم مقامات کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ اپنے شہر سے دور کوئی بھی سفر کرنے سے پہلے اس سے متعلق معلومات حاصل کرنا بہت ضروری ہے۔ شمالی علاقوں کا تفریحی دورہ کرنا ہو اور ہر قسم کی مشکلات سے محفوظ رہنا چاہتے ہوں تو بہتر ہے کہ کسی سیاحتی گروپ یا کمپنی کے ساتھ سفر کیا جائے۔ سیاحتی کمپنی کے خرچے تو زیادہ ہوتے ہیں لیکن یہ آپ کو اتنی سہولیات فراہم کرتی ہیں کہ آپ ہر قسم کی کوفت سے بچ جاتے ہیں۔ اگر آپ محدود خرچے میں ناران کی سیاحت کرنا چاہتے ہیں تو آپ کو راولپنڈی سے گائڈ کی خدمات حاصل کرنا ہونگی، اس کیلئے آپ پہلے سے معاوضہ اور مقامات طے کرسکتے ہیں۔ کچھ گائڈ آپ کو مناسب داموں میں ہوٹل کے کمرے اور طعام کا بندوبست کرواسکتے ہیں۔ جتنا تجربے کار گائڈ آپ کو ملے گا اتنا ہی آپ کا سیاحتی سفر بہتر ہوگا۔ جو حضرات اپنے گھر کی خواتین اور بچوں کے ساتھ ناران کا سفر کرنا چاہتے ہیں تو یہ بات مدِنظر رکھیں کہ ان کو طویل سفر کرنا ہوتا ہے اور آپ کو آرام کے کم مواقع میسر آسکتے ہیں۔ مجوعی طور پر یہ سیاحتی دورہ آپ کو تھکن میں مبت...