داڑھی کا جواز
اگر کوئی شخص کہے کہ سر پر ہمیشہ استرا پھیرنا چاہیے
تاکہ انسان بالوں سے پیدا ہونے والی پریشانیوں سے بچا رہے، اگر بال ہونگے تو جوئیں
بھی ہونگی، بال لمبے ہوکر منہ پر آئیں گے، بال ہوا سے بکھر تے رہیں گے اور انسان
ان میں جنگلی لگے گا لہٰذا سر کے بالوں کے بغیر انسان زیادہ خوبصورت لگے گا، تو ایسے
شخص کو آپ کیا جواب دیں گے؟
ظاہر ہے کہ اس شخص کو کہا جائے گا کہ بال اگنا ایک
قدرتی عمل ہے، اس کو روکنے کے بجائے ہمیں ان کو آراستہ کرنا چاہیے، ان کی صفائی
ستھرائی کا خیال رکھنا چاہیے تو یہ بال ہماری شخصیت میں خوبصورتی کا باعث بنیں گے
بہ نسبت ٹنڈ کے!
یہی جواب اصل میں داڑھی کے جواز کیلئے استعمال کیا
جاسکتا ہے۔ اس کیلئے فتاویٰ کی ضرورت نہیں۔ قدرت نے داڑھی مرد کو عطاء کی ہے۔ اب
مردوں کا کام ہے کہ اپنے چہروں کو روزانہ چھیلنے کے بجائے داڑھی کو بڑھنے دیں اور
اس کو آراستہ کریں اور اپنی مردانگی کا ثبوت اپنے چہروں سے دیں۔
کچھ لوگ اپنی گفتگو میں یہ کہتے ہوئے نظر آتے ہیں
کہ فلاں شخص داڑھی رکھ کے جھوٹ بول رہا ہے، یا کچھ افراد نے داڑھی رکھی ہوئی ہے
اور خواتین کو دیکھتے پھرتے ہیں۔ ایسے لوگ جاہل ہوتے ہیں جن کو یہی نہیں پتا کہ
داڑھی رکھی نہیں جاتی بلکہ چھوڑی جاتی ہے۔ داڑھی رکھنے کا تو اسی موقعے پر کہا
جائے گا اگر داڑھی اگانے کیلئے مختلف جتن کئے جائیں، اس کو بڑھانے کیلئے بہت سے
اہتمام کی ضرورت پڑے۔ جبکہ داڑھی کا صفایا کرنے کیلئے خسروں کو ایک برتن میں پانی
لینا ہوتا ہے، سردیوں میں پانی گرم کرنا پڑتا ہے، پھر مختلف انداز کی کریمیں چہرے
پر لگانا پڑتی ہیں اور پھر استرے یا بلیڈ سے چہروں کو کھرجنا پڑتا ہے تب کہیں جاکے
داڑھی سے چھٹکارا ملتا ہے۔
داڑھی صاف کرنے میں توانائی، وقت اور پیسہ ضائع
ہوتا ہے۔ کچھ لوگ کہتے ہیں کہ داڑھی کے بغیر مرد زیادہ خوبصورت لگتا ہے؛ اس کی وجہ
یہ ہے کہ داڑھی کے بغیر چہرے پر نسوانیت کا اثر محسوس ہوتا ہے، اور اسی نسوانیت کی
وجہ سے مرد خوبصورت نظر آتا ہے۔ لیکن مرد کی اصل خوبصورتی مردانہ وجاہت، ہمت اور
بہادری میں ہوتی ہے۔ مردانہ حسن کیلئے داڑھی کا ہونا لازمی ہے۔
آج سے 30 سال پہلے جب داڑھی والے لوگ بہت کم تھے، اس وقت ایسے جملے سننے میں
آتے تھے کہ فلاں شخص نمازی ہوکے جھوٹ بول رہا ہے یا لوگ نمازی ہونے کے باوجود خواتین
کو گھورتے ہیں۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ معاشرے میں اس طرح کیوں تفریق پیدا ہو رہی
ہے؟ میرے مطابق یہ تفریق اصل میں بے نمازی اور بغیر داڑھی والے افراد کی وجہ سے
ہوتی ہے۔ کیونکہ پہلے تو سارے مسلمان نمازی اور داڑھی والے ہوتے تھے تو اس وقت تو
کوئی یہ بات نہیں کرتا تھا کہ تم داڑھی رکھ کے یہ خراب کام کررہے ہو یا تم نمازی
ہوکے غلط بات کررہے ہو، کیونکہ سب کے اعمال اور چہرے ایک جیسے ہی تھے! پہلے تو سزا
کے طور پر مجرموں کی داڑھی مونچھیں صاف کردی جاتی تھیں تاکہ وہ عبرت کا نشان بن
جائے۔
جس طرح سر کے بالوں کو ضرورت سے زیادہ بڑھایا جائے تو وہ پریشانی کا باعث بن
جاتے ہیں، یعنی کہ ان کی صفائی میں زیادہ وقت صرف ہوگا، ان کو باندھنا پڑے گا اور
گرمیوں میں یہ بال تکلیف دہ ہوجائیں گے؛ اسی طرح داڑھی کے بال بھی ایک حد تک بڑھنے
دینا ہی مناسب ہےتاکہ انکی صفائی، تراش خراش اور خوبصورتی قائم رہے۔ ہمارے دین نے
ہمیں یہ سکھایا ہے کہ ہمیں داڑھی کے بال کس حد تک بڑھانے ہیں اور کب خط بنوانا ہے۔
دینِ اسلام میں داڑھی چھوڑنا واجب ہے اس لئے ہر مسلمان مرد کو اس کا اہتمام کرنا
چاہئے۔
Comments
Post a Comment
آپ کی رائے ہمارے لئے بہت قیمتی ہے۔