Skip to main content

ناران کی سیر

 ناران کی سیر

راولپنڈی سے ناران کے سفر کی روداد جو ذاتی مشاہدے پر مشتمل ہے۔ اس سفرنامے میں مزید اہم مقامات کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔

اپنے شہر سے دور کوئی بھی سفر کرنے سے پہلے اس سے متعلق معلومات حاصل کرنا بہت ضروری ہے۔ شمالی علاقوں کا تفریحی دورہ کرنا ہو اور ہر قسم کی مشکلات سے محفوظ رہنا چاہتے ہوں تو بہتر ہے کہ کسی سیاحتی گروپ یا کمپنی کے ساتھ سفر کیا جائے۔ سیاحتی کمپنی کے خرچے تو زیادہ ہوتے ہیں لیکن یہ آپ کو اتنی سہولیات فراہم کرتی ہیں کہ آپ ہر قسم کی کوفت سے بچ جاتے ہیں۔

اگر آپ محدود خرچے میں ناران کی سیاحت کرنا چاہتے ہیں تو آپ کو راولپنڈی سے گائڈ کی خدمات حاصل کرنا ہونگی، اس کیلئے آپ پہلے سے معاوضہ اور مقامات طے کرسکتے ہیں۔ کچھ گائڈ آپ کو مناسب داموں میں ہوٹل کے کمرے اور طعام کا بندوبست کرواسکتے ہیں۔ جتنا تجربے کار گائڈ آپ کو ملے گا اتنا ہی آپ کا سیاحتی سفر بہتر ہوگا۔ جو حضرات اپنے گھر کی خواتین اور بچوں کے ساتھ ناران کا سفر کرنا چاہتے ہیں تو یہ بات مدِنظر رکھیں کہ ان کو طویل سفر کرنا ہوتا ہے اور آپ کو آرام کے کم مواقع میسر آسکتے ہیں۔ مجوعی طور پر یہ سیاحتی دورہ آپ کو تھکن میں مبتلاء کر سکتا ہے۔

 اب میں آپ کو اپنے ذاتی تجربے کے حوالے سے ناران کے سفر کے متعلق بتاتا ہوں۔ اگر آپ طویل سفر کرکے راولپنڈی آئے ہیں تو آپ کو ایک دن آرام کرنا ہوگا۔ بہتر ہے کہ تھوڑی سی ہمت کرکے آپ بالاکوٹ چلے جائیں اور وہاں ایک دن گزاریں۔ راولپنڈی سے بالاکوٹ کا سفر بہت دلچسپ ہے، آپ ہزارہ ڈویژن جانے والی موٹر وے پر سفر کرتے ہیں۔ راستے میں ایبٹ آباد سے گزرتے ہوئے مانسہرہ میں داخل ہوتے ہیں۔ آگے کا سفر تھوڑا دشوار گزار ہے پتلی اور ٹوٹی پھوٹی سڑکوں میں آپ کو مزید سفر کرنا ہے، لیکن راستوں میں آپ انتہائی خوبصورت مناظر سے لطف اندوز ہورہے ہوتے ہیں۔ اور پھر تقریباً چار گھنٹوں کے بعد آپ بالاکوٹ پہنچ جائیں گے۔

دیائے کنہار بالاکوٹ 

بالاکوٹ ایک بہت پرسکون جگہ ہے جہاں آپ دریائے کنہار کی موجوں سے لطف اندوز ہوسکتے ہیں اور اپنے نزدیک موجود پہاڑوں کا مشاہدہ کرسکتے ہیں۔ بالاکوٹ کا موسم راولپنڈی سے قدرے بہتر ہوتا ہے، دن گرم اور راتیں ٹھنڈی ہیں۔ وہاں کے بازار سے ضروریات کے سامان مل جاتے ہیں۔ بالاکوٹ نسبتاً مہنگا شہر ہے، اس میں آپ کو کھانے پینے میں خرچ زیادہ آئے گا۔

 یہاں سے آپ ناران کا سفر کرتے ہیں جو تقریباً تین گھنٹوں پر مشتمل ہے۔ لیکن راستوں میں اتنے زیادہ خوبصورت اور تفریحی مقامات آئیں گے کہ آپ کو ناران پہنچتے پہنچتے شام ہوجائے گی۔ سب سے پہلے کیوائی اور پارس نام کے انتہائی خوبصورت تفریحی مقام آئیں گے جہاں آپ رکنا پسند کریں گے (کیوائی سے بذریعہ جیپ ایک راستہ شگران اور سری پائے کی طرف جاتا ہے جس کی مسافت تقریباً پانچ گھنٹے کی ہے)۔

 اس کے بعد راستے بھر آبشاریں اور جھرنے آپ کی توجہ اپنی طرف مبذول کرواتے رہیں گے۔ پہاڑوں پر بنے مکانات بھی رنگین اور خوبصورت ملینگے۔ ناران سے تھوڑا پہلے کشمیر پوائنٹ کے نام سے ایک بہترین تفریحی مقام آئے گا جس کی خوبصورتی آپ کو مصحور کردے گی۔

کاغان کا خوبصورت نظارہ

 ںاران شہر کا بیرونی نظارہ بھی اپنی مثال آپ ہے۔ طویل سفر کے بعد ناران شہر میں آمد آپ کیلئے آرام اور اطمنان بخش ثابت ہوگی، ںاران ایک بہت بارونق وادی ہے، چاروں طرف سے خوبصورت پہاڑوں کا نظارہ آپ کرسکتے ہیں۔ پیدل کہیں بھی نکل جائیں آپ کو حسین مناظر دیکھنے کو ملیں گے۔

ناران کی خوبصورت وادی

 اس وادی میں آپ آرام کرنے کا خیال دل سے نکال دیں کیونکہ یہاں راتیں بھی جاگتی ہیں۔ یہاں کے بازار میں آپ کو ہر طرح کا سامان مل سکتا ہے۔ کھانے آپ کو انواع و اقسام کے ملیں گے جو آپ کی جیب پر بوجھ نہ بنیں۔ آپ چلتے چلتے تھک جائیں گے لیکن یہاں کی رونقیں ختم نہیں ہونگی۔ وادیِ ناران میں آپ کیلئے زیادہ دن ٹھرنا بہتر ہے۔ یہاں کا موسم نسبتاً سرد ہے، پانی کی فراوانی ہے، اکثر ہوٹلوں میں آپ کو پینے کا پانی مستقل بہتا ہوا نظر آئے گا۔ اسی وادی سے ایک راستہ بذریعہ جیپ جھیل سیف الملوک جاتا ہے۔ اس جیپ کا اونچے نیچے راستوں کا سفر آپ کو ہمشہ یاد رہے گا، اس سفر کا دورانیہ تقریباً پچاس منٹ پر مشتمل ہے ۔ جھیل کا نظارہ آپ کے حواس گم کردے گا، واقعی قدرت کا ایک حسین شاہکار یہ جھیل ہے۔

جھیل سیف الملوک

 ایک راستہ ناران سے بابوسر کی طرف جاتا ہے، راستے میں آپ کو ہیلی پیڈ ملے گا جس پر بیٹھ کر آپ پہاڑوں کی بلندی تک پرواز کر سکتے ہیں۔ تھوڑا آگے کشتی رانی کی جگہ ہے جہاں آپ مہم جوئی کا بھرپور مزہ لے سکتے ہیں، یہ مزہ آپ کبھی نہیں بھلا پائیں گے۔ بابوسر جانے والے راستے میں بھی خوبصورت آبشاریں اور حسین مناظر آئیں گے، خاص طور پر جلکھنڈ اور لولوسر جھیل اہم مقامات ہیں۔ بابوسر وہ لوگ نہیں جاسکتے جنہیں سانس کا مسئلہ ہو کیونکہ وہاں آکسیجن کم ہوتی ہے۔

ناران سے آپ واپسی پر بہتر ہوگا کہ آپ دوبارہ بالاکوٹ میں قیام کرلیں تاکہ آپ کو آرام کا وقت مل جائے۔ بالاکوٹ سے راولپنڈی جانے کے بجائے آپ کو "مری" جانا چاہئے تاکہ آپ کا سیاحتی سفر مزید خوش گوار اور یادگار ہوجائے۔ مری کے راستے میں مظفر آباد (آزاد کشمیر) آتا ہے جس کے نظارے آپ کو حیرت میں مبتلاء کردیں گے۔ سڑکیں بھی نسبتاً کشادہ اور صاف ستھری ملیں گی۔ اکثر جگہوں پر پہاڑوں سے مٹی اور پتھر سڑک پر گرے ہوئے نظر آئیں گے جو آپ ںاران کے سفر میں بھی دیکھ چکے ہونگے۔ ایک بلند مقام ایسا بھی آتا ہے جہاں سے پورا مظفر آباد دیکھا جاسکتا ہے۔

مظفر آباد کا خوبصورت نظارہ

 راستے میں دو خونصورت آبشاریں آئیں گی ایک دولائی اور دوسری چھتر پاس یا جس کو کشمیر آبشار بھی کہتے ہیں۔ ان آبشاروں تک جانے کیلئے کیبل کار استعمال ہوتی ہے جو دریائے نیلم کے اونپر سے گزرتی ہے۔ یہ آبشاریں بہت خوبصورت تفریحی مقام ہیں اور آپ یقیناً یہاں رکنا پسند کریں گے۔ اس کے بعد انتہائی خوبصورت بھوربن کا علاقہ شروع ہوتا ہے جہاں سے گزرتے ہوئے آپ مری میں داخل ہوتے ہیں۔

مری کا خوبصورت ہوٹل

مری میں موسم آپ کو سرد اور خوشگوار ملے گا۔ مری کے قدرتی مناظر میں آپ کھوجائیں گے، یہاں سبزہ سب سے زیادہ ہے۔ سڑک کے کنارے پورے پورے جنگلات آپ کے ساتھ ساتھ محوِسفر ہونگے۔ یہاں کا مال روڈ اپنی رات بھر کی رونق کی وجہ سے مشہور ہے۔ کھانے آپ کو مناسب داموں میں اور ہر علاقے کے مل جائیں گے۔ پینے کے پانی کا یہاں بہت مسئلہ ہے اس لئے بہتر ہوگا کہ راستے میں کسی چشمے سے پانی بھر لیا جائے۔ یہاں نوسرباز بہت زیادہ تعداد میں ہیں اس لئے کسی پر بھی اعتبار نہ کریں اور اپنے سیاحتی رہنما کے کہنے پر چلتے رہیں۔ مری سے براستہ اسلام آباد آپ راولپنڈی جائیں گے۔ راستے میں لیک ویو پارک آئے گا جہاں آپ ایک اچھا وقت گزار سکتے ہیں۔ راولپنڈی سے پھر آپ اپنے شھر کا رخ کرسکتے ہیں، تو اس طرح ہمارا ناران کا سفر اپنی حسین یادوں کے ساتھ اختتام کو پہنچ گیا۔

مری کا ڈاک خانہ

Comments

Popular Posts

نواز شریف

جب سے مملکتِ پاکستان کا قیام وجود میں آیا ہے تب سے ہی یہاں سیاسی استحکام کا فقدان رہا ہے۔ قائدِ اعظمؒ، لیاقت علی خانؒ اور دیگر حکمرانوں نے کچھ عرصہ تک ہی حکومت کی ذمہ داریاں اٹھائیں، لیکن باقائدہ حکومت کا آغاز جنرل ایوب خان کی صدارت سے شروع ہوا۔ یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ اسی دورِ حکومت میں پاکستان نہ صرف اپنے پیروں پر کھڑا ہوا بلکہ اس کا شمار ایشیاء کے ترقی یافتہ ممالک میں ہونے لگا۔ پاکستان کے خلاف سازش کرنے والے عناصر جانتے تھے کہ جب بھی یہاں مستحکم حکومت ہوگی تو ملک ترقی کرے گا۔ لہٰذا مختلف ذرائع استعمال کرکے ہمارے دشمن پاکستانی قوم میں مایوسی پھیلاتے رہے اور اس وقت کی موجود، حکومت کے خلاف الزامات کے ذریعے لوگوں کو حکومت سے بیزار کرنے کی کوشش کرتے رہے، یہاں تک کہ پرویز مشرف جیسے امریکہ کو سجدہ کرنے والے، وقت کے فرعون، کو بھی حکومت سے محروم ہونا پڑا۔ پاکستانی عوام میں تعلیم اور شعور کی کمی ہے جس کی وجہ سے وہ باآسانی سازشوں کا شکار ہوجاتے ہیں اور تبدیلی کی خواہش مند ہوجاتے ہیں۔ یہ نہیں غور کرتے کہ حکومت مستحکم ہے، ترقیاتی کام چل رہے ہیں، زندگی اچھی گزر رہی ہے، تمام کاروبارِ زندگی عمد...

داڑھی کا جواز

  داڑھی کا جواز اگر کوئی شخص کہے کہ سر پر ہمیشہ استرا پھیرنا چاہیے تاکہ انسان بالوں سے پیدا ہونے والی پریشانیوں سے بچا رہے، اگر بال ہونگے تو جوئیں بھی ہونگی، بال لمبے ہوکر منہ پر آئیں گے، بال ہوا سے بکھر تے رہیں گے اور انسان ان میں جنگلی لگے گا لہٰذا سر کے بالوں کے بغیر انسان زیادہ خوبصورت لگے گا، تو ایسے شخص کو آپ کیا جواب دیں گے؟ ظاہر ہے کہ اس شخص کو کہا جائے گا کہ بال اگنا ایک قدرتی عمل ہے، اس کو روکنے کے بجائے ہمیں ان کو آراستہ کرنا چاہیے، ان کی صفائی ستھرائی کا خیال رکھنا چاہیے تو یہ بال ہماری شخصیت میں خوبصورتی کا باعث بنیں گے بہ نسبت ٹنڈ کے! یہی جواب اصل میں داڑھی کے جواز کیلئے استعمال کیا جاسکتا ہے۔ اس کیلئے فتاویٰ کی ضرورت نہیں۔ قدرت نے داڑھی مرد کو عطاء کی ہے۔ اب مردوں کا کام ہے کہ اپنے چہروں کو روزانہ چھیلنے کے بجائے داڑھی کو بڑھنے دیں اور اس کو آراستہ کریں اور اپنی مردانگی کا ثبوت اپنے چہروں سے دیں۔ کچھ لوگ اپنی گفتگو میں یہ کہتے ہوئے نظر آتے ہیں کہ فلاں شخص داڑھی رکھ کے جھوٹ بول رہا ہے، یا کچھ افراد نے داڑھی رکھی ہوئی ہے اور خواتین کو دیکھتے پھرتے ہیں۔ ایسے لوگ...