Skip to main content

Posts

Showing posts with the label Political Post

نواز شریف

جب سے مملکتِ پاکستان کا قیام وجود میں آیا ہے تب سے ہی یہاں سیاسی استحکام کا فقدان رہا ہے۔ قائدِ اعظمؒ، لیاقت علی خانؒ اور دیگر حکمرانوں نے کچھ عرصہ تک ہی حکومت کی ذمہ داریاں اٹھائیں، لیکن باقائدہ حکومت کا آغاز جنرل ایوب خان کی صدارت سے شروع ہوا۔ یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ اسی دورِ حکومت میں پاکستان نہ صرف اپنے پیروں پر کھڑا ہوا بلکہ اس کا شمار ایشیاء کے ترقی یافتہ ممالک میں ہونے لگا۔ پاکستان کے خلاف سازش کرنے والے عناصر جانتے تھے کہ جب بھی یہاں مستحکم حکومت ہوگی تو ملک ترقی کرے گا۔ لہٰذا مختلف ذرائع استعمال کرکے ہمارے دشمن پاکستانی قوم میں مایوسی پھیلاتے رہے اور اس وقت کی موجود، حکومت کے خلاف الزامات کے ذریعے لوگوں کو حکومت سے بیزار کرنے کی کوشش کرتے رہے، یہاں تک کہ پرویز مشرف جیسے امریکہ کو سجدہ کرنے والے، وقت کے فرعون، کو بھی حکومت سے محروم ہونا پڑا۔ پاکستانی عوام میں تعلیم اور شعور کی کمی ہے جس کی وجہ سے وہ باآسانی سازشوں کا شکار ہوجاتے ہیں اور تبدیلی کی خواہش مند ہوجاتے ہیں۔ یہ نہیں غور کرتے کہ حکومت مستحکم ہے، ترقیاتی کام چل رہے ہیں، زندگی اچھی گزر رہی ہے، تمام کاروبارِ زندگی عمد...

متحدہ قومی موومنٹ

 متحدہ قومی موومنٹ اس پوسٹ میں ہم معاشرتی لحاظ سے مہاجر تنظیم کا جائزہ لیں گے۔ تنظیم کی بنیاد، عروج اور زوال کے اسباب پر تحریر ہے۔ جس معاشرے میں سفارش، لسانیت، اقربا پروری عام ہو وہاں متحدہ قومی موومنٹ جسی تنظیمیں وجود میں آہی جاتی ہیں۔ جب قابل نوجوانوں کو انکی قابلیت کے اعتبار سے یونیورسٹی میں داخلے اور سرکاری نوکریاں نہ ملیں تو وہ ایسی تنظیموں کے بازو بن جاتے ہیں۔ لاقانونیت، معاشرے کا انتشار اور افراتفری سے یہ تنظیمیں عروج پر پہنچ جاتی ہیں۔ سیاسی پشت پناہی اور عوام کی حمایت ان کی بنادوں کو مضبوط بنادیتی ہیں۔ مہاجر تنظیم کو شروع میں اپنا مقام بنانے کیلئے بہت زیادہ جدوجہد کرنی پڑی، پھر سازگار حالات نے فائدہ پہنچایا۔ کراچی کے لڑکوں کو میڈیکل کالجوں میں داخلہ نہیں ملتا تھا جبکہ اندرونِ سندھ کے طالبِ علم ترجیحی بنیاد پر داخلے حاصل کرلیا کرتے تھے۔ لسانیت کا سامنا بھی اندرونِ سندھ کے مہاجروں کو کرنا پڑتا تھا۔ جئے سندھ کے لڑکے مہاجر لڑکوں کے ساتھ بدمعاشی کرتے تھے، سرکاری اداروں میں مہاجروں کے ساتھ حقارت آمیز سلوک کیا جاتا تھا۔ یہ وہ عوامل تھے جس کی بنیاد پر تنظیم کی عظیم عمارت تعمیر ہوئی...

پاکستان تحریک انصاف

 پاکستان تحریک انصاف تحریک انصاف پارٹی کی سیاسی سوچ اور رویوں سے متعلق ایک تبصرہ بچپن سے ہم پڑھتے آرہے ہیں کہ اگر کسی لکیر کو بغیر چھوئے چھوٹا کرنا ہو تو اس سے بڑی لکیرکھینچو تو اول الذکر لکیر خود چھوٹی ہوجائے گی، اسی طرح اپنی عمارت کو اونچا کرو بجائے اسکے کہ دوسروں کی عمارتوں کو گرایا جائے۔ لیکن پاکستان تحریکِ انصاف سے وابستہ اور حمایت کرنے والوں نے شاید یہ کہاوتیں نہیں پڑھیں۔ اپنی عمارت اونچی کرنے کیلئے وہ دوسروں کی عمارتیں گرانا چاہتے ہیں اور اپنی لکیر کو بڑا کرنے کی ان میں قابلیت نہیں۔ تحریکِ انصاف غالباً وہ واحد جماعت ہے جودوسری جماعتوں کے عیب ظاہر کرکے اپنے آپ کو قابل ثابت کرنے کی کوشش کرتی ہے۔ اب اچھی بری باتیں تو سب میں ہوتی ہیں لیکن تحریکِ انصاف والے یہ چاہتے ہیں کہ ان کی جماعت کواور ان سے وابستہ لوگوں کو ہر عیب سے پاک سمجھا جائے اور ان کے علاوہ باقی سب برے ہیں۔ اکثر یہ کہتے نظر آتے ہیں کہ ستر سالوں سے پاکستان کو صحیح قیادت نہیں ملی، اور اب ان قابل لوگوں کو ستر سالوں کا ازالا کرنا ہے۔ جب کہ حقیقت یہ ہے کہ ڈھائی سال کی حکومت میں اب تک بوسیدہ نظام میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔ ی...