Skip to main content

متحدہ قومی موومنٹ

 متحدہ قومی موومنٹ

اس پوسٹ میں ہم معاشرتی لحاظ سے مہاجر تنظیم کا جائزہ لیں گے۔ تنظیم کی بنیاد، عروج اور زوال کے اسباب پر تحریر ہے۔

جس معاشرے میں سفارش، لسانیت، اقربا پروری عام ہو وہاں متحدہ قومی موومنٹ جسی تنظیمیں وجود میں آہی جاتی ہیں۔ جب قابل نوجوانوں کو انکی قابلیت کے اعتبار سے یونیورسٹی میں داخلے اور سرکاری نوکریاں نہ ملیں تو وہ ایسی تنظیموں کے بازو بن جاتے ہیں۔ لاقانونیت، معاشرے کا انتشار اور افراتفری سے یہ تنظیمیں عروج پر پہنچ جاتی ہیں۔ سیاسی پشت پناہی اور عوام کی حمایت ان کی بنادوں کو مضبوط بنادیتی ہیں۔

مہاجر تنظیم کو شروع میں اپنا مقام بنانے کیلئے بہت زیادہ جدوجہد کرنی پڑی، پھر سازگار حالات نے فائدہ پہنچایا۔ کراچی کے لڑکوں کو میڈیکل کالجوں میں داخلہ نہیں ملتا تھا جبکہ اندرونِ سندھ کے طالبِ علم ترجیحی بنیاد پر داخلے حاصل کرلیا کرتے تھے۔ لسانیت کا سامنا بھی اندرونِ سندھ کے مہاجروں کو کرنا پڑتا تھا۔ جئے سندھ کے لڑکے مہاجر لڑکوں کے ساتھ بدمعاشی کرتے تھے، سرکاری اداروں میں مہاجروں کے ساتھ حقارت آمیز سلوک کیا جاتا تھا۔ یہ وہ عوامل تھے جس کی بنیاد پر تنظیم کی عظیم عمارت تعمیر ہوئی۔

متحدہ قومی موومنٹ سے پہلے مہاجر لڑکے جاعتِ اسلامی میں شامل ہوکر اپنا تحفظ یقینی بناتے تھے، لیکن وہ چونکہ ایک مذہبی تنظیم تھی جس کا ایک مخصوص مزاج تھا اس لئے یہ تنظیم کامیاب نہ ہو سکی۔ اس کے مقابلے میں مہاجر تنظیم کو جان اور مال سے قربانی دینے والے گھر میسر آگئے، جو حالات کے ستائے ہوئے تھے اور شدت سے اپنے مسائل کا حل چاہتے تھے۔ لحاظہ دیکھتے ہی دیکھتے مہاجر قومی موومنٹ سندھ کی ایک بڑی جماعت کے طور پر نظر آنے لگی جس نے الیکشن میں کئی صوبائی اور قومی اسمبلی کی سیٹیں جیتیں۔ اس تنظیم کو دبانے کیلئے جو جو ہتکنڈے استعمال کئے گئے ان سے تنظیم کو مزید ترقی ملی۔

مہاجر قومی موومنٹ کا مزاج جارحانہ تو تھا ہی لیکن پھرانکی سوچ اورعمل میں ملک کی سالمیت اور نظریات سے بغاوت مشاہدہ میں آنے لگی جس نے محبِ وطن صاحبان کو چونکا دیا اورلوگ آہستہ آہستہ تنظیم سے ہٹنے لگے، تنظیم میں اختلافِ رائے کی گنجائش نہیں رہی بلکہ اختلاف رکھنے والوں کو موت کی دھمکی دی جانے لگی۔ آپریشن سے متاثر ہونے والے گھرانے تباہ برباد ہوگئے اور تنظیم کی طرف سے کسی قسم کا سہارا نہ مل سکا۔ یہ وہ وجوہات تھیں جن سے اچھے لوگ تنظیم کو چھوڑ کر جانے لگے مہاجر تنظیم جو اپنے مفاد کیلئے متحدہ قومی موومنٹ کا نام استعمال کرنے لگی اس میں پھر بدمعاشوں اور سڑک چھاپ جیسے لوگوں کو پذیرائی ملنا شروع ہو گئی۔

یہ نظریاتی طور پر متحدہ کے زوال کا آغاز تھا، غیر قانونی اور جعلی ہتکنڈوں سے تنظیم تو چلتی رہی لیکن مہاجروں کے دلوں سے کب کی رخصت ہو گئی۔ عملی طور پر متحدہ کا اثرو رسوخ صرف کراچی شھر تک محدود رہ گیا۔ برسرِ اقتدار آنے والی حکومتیں بھی متحدہ سے فائدہ اٹھانے لگیں جس سے یہ تنظیم مضبوطی سے چلتی رہی۔ لیکن جب انکی من مانیاں ضرورت سے زیادہ بڑھنے لگیں تو اس تنظیم کو لگام دینے کی کوششیں شروع ہو گئیں۔ چونکہ اب عوام کی ہمدردیاں شاملِ حال نہ تھیں اس لئے خفیہ طور پر کئے گئے آپریشن سے ہی متحدہ کی کمر ٹوٹ گئی اور کراچی کے لوگوں نے بھی سکھ کا سانس لیا!!!۔

Comments

Popular Posts

نواز شریف

جب سے مملکتِ پاکستان کا قیام وجود میں آیا ہے تب سے ہی یہاں سیاسی استحکام کا فقدان رہا ہے۔ قائدِ اعظمؒ، لیاقت علی خانؒ اور دیگر حکمرانوں نے کچھ عرصہ تک ہی حکومت کی ذمہ داریاں اٹھائیں، لیکن باقائدہ حکومت کا آغاز جنرل ایوب خان کی صدارت سے شروع ہوا۔ یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ اسی دورِ حکومت میں پاکستان نہ صرف اپنے پیروں پر کھڑا ہوا بلکہ اس کا شمار ایشیاء کے ترقی یافتہ ممالک میں ہونے لگا۔ پاکستان کے خلاف سازش کرنے والے عناصر جانتے تھے کہ جب بھی یہاں مستحکم حکومت ہوگی تو ملک ترقی کرے گا۔ لہٰذا مختلف ذرائع استعمال کرکے ہمارے دشمن پاکستانی قوم میں مایوسی پھیلاتے رہے اور اس وقت کی موجود، حکومت کے خلاف الزامات کے ذریعے لوگوں کو حکومت سے بیزار کرنے کی کوشش کرتے رہے، یہاں تک کہ پرویز مشرف جیسے امریکہ کو سجدہ کرنے والے، وقت کے فرعون، کو بھی حکومت سے محروم ہونا پڑا۔ پاکستانی عوام میں تعلیم اور شعور کی کمی ہے جس کی وجہ سے وہ باآسانی سازشوں کا شکار ہوجاتے ہیں اور تبدیلی کی خواہش مند ہوجاتے ہیں۔ یہ نہیں غور کرتے کہ حکومت مستحکم ہے، ترقیاتی کام چل رہے ہیں، زندگی اچھی گزر رہی ہے، تمام کاروبارِ زندگی عمد...

داڑھی کا جواز

  داڑھی کا جواز اگر کوئی شخص کہے کہ سر پر ہمیشہ استرا پھیرنا چاہیے تاکہ انسان بالوں سے پیدا ہونے والی پریشانیوں سے بچا رہے، اگر بال ہونگے تو جوئیں بھی ہونگی، بال لمبے ہوکر منہ پر آئیں گے، بال ہوا سے بکھر تے رہیں گے اور انسان ان میں جنگلی لگے گا لہٰذا سر کے بالوں کے بغیر انسان زیادہ خوبصورت لگے گا، تو ایسے شخص کو آپ کیا جواب دیں گے؟ ظاہر ہے کہ اس شخص کو کہا جائے گا کہ بال اگنا ایک قدرتی عمل ہے، اس کو روکنے کے بجائے ہمیں ان کو آراستہ کرنا چاہیے، ان کی صفائی ستھرائی کا خیال رکھنا چاہیے تو یہ بال ہماری شخصیت میں خوبصورتی کا باعث بنیں گے بہ نسبت ٹنڈ کے! یہی جواب اصل میں داڑھی کے جواز کیلئے استعمال کیا جاسکتا ہے۔ اس کیلئے فتاویٰ کی ضرورت نہیں۔ قدرت نے داڑھی مرد کو عطاء کی ہے۔ اب مردوں کا کام ہے کہ اپنے چہروں کو روزانہ چھیلنے کے بجائے داڑھی کو بڑھنے دیں اور اس کو آراستہ کریں اور اپنی مردانگی کا ثبوت اپنے چہروں سے دیں۔ کچھ لوگ اپنی گفتگو میں یہ کہتے ہوئے نظر آتے ہیں کہ فلاں شخص داڑھی رکھ کے جھوٹ بول رہا ہے، یا کچھ افراد نے داڑھی رکھی ہوئی ہے اور خواتین کو دیکھتے پھرتے ہیں۔ ایسے لوگ...

ناران کی سیر

 ناران کی سیر راولپنڈی سے ناران کے سفر کی روداد جو ذاتی مشاہدے پر مشتمل ہے۔ اس سفرنامے میں مزید اہم مقامات کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ اپنے شہر سے دور کوئی بھی سفر کرنے سے پہلے اس سے متعلق معلومات حاصل کرنا بہت ضروری ہے۔ شمالی علاقوں کا تفریحی دورہ کرنا ہو اور ہر قسم کی مشکلات سے محفوظ رہنا چاہتے ہوں تو بہتر ہے کہ کسی سیاحتی گروپ یا کمپنی کے ساتھ سفر کیا جائے۔ سیاحتی کمپنی کے خرچے تو زیادہ ہوتے ہیں لیکن یہ آپ کو اتنی سہولیات فراہم کرتی ہیں کہ آپ ہر قسم کی کوفت سے بچ جاتے ہیں۔ اگر آپ محدود خرچے میں ناران کی سیاحت کرنا چاہتے ہیں تو آپ کو راولپنڈی سے گائڈ کی خدمات حاصل کرنا ہونگی، اس کیلئے آپ پہلے سے معاوضہ اور مقامات طے کرسکتے ہیں۔ کچھ گائڈ آپ کو مناسب داموں میں ہوٹل کے کمرے اور طعام کا بندوبست کرواسکتے ہیں۔ جتنا تجربے کار گائڈ آپ کو ملے گا اتنا ہی آپ کا سیاحتی سفر بہتر ہوگا۔ جو حضرات اپنے گھر کی خواتین اور بچوں کے ساتھ ناران کا سفر کرنا چاہتے ہیں تو یہ بات مدِنظر رکھیں کہ ان کو طویل سفر کرنا ہوتا ہے اور آپ کو آرام کے کم مواقع میسر آسکتے ہیں۔ مجوعی طور پر یہ سیاحتی دورہ آپ کو تھکن میں مبت...