Skip to main content

Posts

Showing posts with the label Islamic Posts

قرابت داروں کے حقوق

 قرابت داروں کے حقوق ہمارے معاشرے میں طبقاتی فرق بڑھتا جارہا ہے۔ ایک ہی خاندان میں اگر کوئی امیر ترین ہے تو باقی گھرانے غربت و افلاس کی زندگی گزار رہے ہیں۔ اس تناظر میں صلہ رحمی کی اہمیت بڑھ جاتی ہے۔ اللہ تعالیٰ جب کسی شخص کو مال و دولت عطاء فرماتے ہیں تو اس میں دوسروں کا بھی حصہ ہوتا ہے۔ دو ایک جیسی قابلیت و تجربہ رکھنے والے اشخاص کی آمدنی اکثر مختلف ہوتی ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ دولت کا حصول محض محنت و جستجو نہیں بلکہ خالص اللہ تعالیٰ کی طرف سے عنایت ہے، لحاظہ اس دولت پر صرف اپنا اوراپنے گھر والوں کا حق سمجھنا صحیح نہیں۔ ہمارے معاشرے کا المیہ یہ ہے کہ ایک ہی خاندان میں کچھ افراد امیر ترین ہوتے ہیں اور کچھ کا گزارا مشکل سے ہوتا ہے۔ جہاں پر قبائلی نظام رائج ہے وہاں اگر کوئی امیر ہوجائے تو پورا قبیلہ خود کو امیر سمجھنے لگتا ہے۔ کیونکہ اس امیر شخص کی دولت سے سب ایک حد تک فائدہ اٹھا لیتے ہیں۔ جب کہ موجودہ حالات میں یہ بات مشاہدے میں آرہی ہے کہ ایک بھائی تو بہت دولت مند ہے، اس کے بچے مہنگے تعلیمی اداروں میں پڑھ رہے ہیں جبکہ دوسرے بھائی کی اتنی استطاعت نہیں کہ وہ اپنے بچوں کی فیس ادا ک...

غیر مقلد اہلحدیث

 غیر مقلد اہلحدیث اہلحدیث کون ہیں؟ غیر مقلد سے کیا مراد ہے؟ اہلِ حدیث کو غیر مقلد کس وجہ سے کہا جاتا ہے؟ یہ وہ سوالات ہیں جن کے جوابات اس مضمون میں دینے کی کوشش کی گئی ہے۔ اہلحدیث وہ ہوتے ہیں جو حدیث کو حق مانتے اور اس پر عمل کرتے ہیں۔ اس لحاظ سے ہر مسلمان اہلحدیث ہوا یا دوسرے الفاظ میں ہر مسلمان کو اہلحدیث ہونا لازم ہے۔ غیر مقلد وہ مسلمان جو صحابہ کرام، تابعین فقہا کرام، اولیاء اور علماء کی تقلید (اعمال میں انکی نقل) نہیں کرتے بلکہ صرف نبی کریمﷺ کے اسوہ پر عمل کرنے کا دعوہ کرتے ہیں۔ اس لحاظ سے موجودہ اہلحدیث کہلائے جانے والے صاحبان دراصل غیر مقلد ہوئے۔  جس طرح ہر عمل کا ردِعمل ہوتا ہے اسی اصول کے مطابق غیر مقلد وجود میں آئے۔ جب اسلامی معاشرے میں شرک، بدعات اور رسومات میں اضافہ ہوتا گیا تو نتیجے میں یہ جماعت ظہور میں آئی جس نے غیر شرعی اعمال کے خلاف عملی جدوجہد کا آغاز کیا۔ ان کی توحید پرستی اور بنیادی دین کے احکامات پر عمل کرنا تو قابلِ تعریف ہے لیکن اس میں شدت پسندی صحیح نہیں۔ جاہل یا تو افراط کا شکار ہوتا ہے یا پھر تفریط کا۔ کچھ مسلک اگر دین میں غلو کرنے لگے ہیں تو غیر مقلد...

بریلوی مسلک کا ایک پہلو

 بریلوی مسلک کا ایک پہلو مصنف نے اس پوسٹ میں غیر جانبداری کے ساتھ بریلوی مسلک کا ایک پہلو اجاگر کیا ہے جس کا مقصد صرف سوچ کو دعوت دینا ہے۔ بریلوی مسلک، فقہ حنفی کے ماننے والوں کا ہے۔ اس میں جو فقہ کے مسائل پڑھائے جاتے ہیں وہ دوسرے مسالک میں بھی مانے جاتے ہیں یا مماثلت رکھتے ہیں۔ فقہ کے لحاظ سے دیکھا جائے تو بریلوی اور دیوبندی مسلک میں 95٪ مسائل ایک جیسے ہیں۔ بہت سے مدارس میں دونوں جانب فقہ کا ایک ہی نصاب ہے۔ اختلافات اکثر عقائد اورافکار میں نظر آتے ہیں۔ اور یہی افکار اور نظریات ہیں جو جھگڑوں یا نفرت کا باعث ہیں۔ اگر ان نظریات اور افکار کو پس پشت ڈال دیا جائے اور اعمال پر زور ہو تو منافرت سے بچا جا سکتا ہے۔ اسلام میں زیادہ تر مسالک اپنے اپنے نظریات کے لحاظ سے قرآن اور حدیث کے اعمال پر بحث کرتے ہیں، زور اس بات پر ہوتا ہے کہ وہ زیادہ بہتر ان بنیادی عقائد، فرائض اور واجبات کو سمجھتے ہیں۔ بریلوی مسلک کا ایک پہلو جو زیر موضوع ہے وہ یہ ہے کہ ان کا زورسب سے زیادہ ان اعمال پر ہوتا ہے جو محض مباحات میں شمار ہوتے ہیں۔ جن کو کرنے نہ کرنے سے کوئی گناہ نہیں ہوتا۔ جبکہ زور فرائض، واجبات اور منکرا...

بدعت کی تعریف اور دین میں اس کے اثرات

 بدعت کی تعریف اور دین میں اس کے اثرات بدعت کسے کہتے ہیں؟ اس کے نقصانات اور فوائد کیا کیا ہیں؟ مسلمانوں پر اس کے کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں؟ ان باتوں پر اس مضمون میں بحث کی گئی ہے۔ جس فعل شرعی کا سبب اور محرک حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں موجود ہو اور کوئی مانع بھی نہ ہو اس کے باوجود نہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا ہو نہ صحابہٴ کرام کو اس کے کرنے کا حکم دیا ہو اور نہ ترغیب دی ہو، اس عمل کو دین کا حصہ سمجھ کر کرنا بدعت کہلاتا ہے۔  بدعت، ہر نئی بات یا کام کو کہتے ہیں۔ دینِ اسلام میں بدعت کو کبیرہ گناہوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہمارے آخری نبی آنحضرتﷺ نے مکمل دین ہم تک پہنچایا ہے، لہٰذا ہمیں دین میں مزید کسی اضافے کی ضرورت نہیں۔ اب حالات تو تبدیل ہوتے رہتے ہیں اور نئی نئی جدتیں پیدا ہورہی ہیں تو پھر دین پر اس کی اصل صورت میں کیسے عمل کیا جاسکتا ہے؟ مثال کے طور پر پہلے لوگ اونٹوں پر سفر کرکے حج کرنے جاتے تھے، بعد میں ہوائی جہاز، کشتیوں، موٹر کاروں اور بسوں میں حج کیلئے جانے لگے تو یہ عمل ایک بدعت میں آتا ہے اور بدعت تو جائز نہیں، پھر بدعت سے کیسے بچا جائ...

لڑکیوں کی شادی کیلئے کفو کی اہمیت

لڑکیوں کی شادی کیلئے کفو کی اہمیت اسلامی فقہ میں کفو کیا ہے۔ اس کی شرعی حیثیت اور معاملات واضح کئے گئے ہیں۔ شادی کے موقع پر کفو کی اہمیت پر زور دیا گیا ہے۔ دینِ اسلام میں جو بھی احکامات ہیں ان کا مقصد ایک بہترین معاشرہ تخلیق کرنا ہے جہاں کسی قسم کا کوئی فساد نہ ہو۔ شرعی احکامات ہر طرح کی انسانی ضروریات اور جذبات کا احاطہ کرتے ہیں اور ممکنہ خطرات سے معاشرے کو محفوظ رکھتے ہیں۔ اللہ تعالٰی کے نزدیک حلال کاموں میں سب سے برا عمل طلاق ہے۔ میاں بیوی میں علحیدگی ہو تو اس عمل سے شیطان سب سے زیادہ خوش ہوتا ہے۔ اسی لئے لڑکیوں کی شادی کیلئے کفو کی بہت اہمیت ہے اور شریعت میں اس پر زور دیا گیا ہے۔ آج کل کے دور میں طلاق کی شرح بڑھتی جارہی ہے لحاظہ اب تمام رشتوں میں کفو کو اہمیت دینی ہوگی۔ کفو کی تعریف؛ لفظ کفو، سورۃ اخلاص میں ملتا ہے، اس کا مطلب ہمسری یا برابری کے ہیں۔ یعنی دو افراد میں قبیلہ یا خاندان، معاشی حیثیت، تعلیمی قابلیت، رنگ و روپ اور معاشرتی زندگی میں اگر برابری ہو تو اس کو کفو کہا جائے گا۔ شرعی لحاظ سے لڑکی کا کفو ایسے دیکھا جاتا ہے کہ لڑکا مرتبے کے لحاظ سے لڑکی سے اونپر یا برابر ہو۔ اگر ...

مدارس کے طلباء کی تعلیم و تربیت

 مدارس کے طلباء کی تعلیم و تربیت مدارس نے آج کے دور میں ایسا نظامِ تعلیم اپنایا ہوا ہے جو کہ ہماری تہذیب، روایات اور مذہب کے عین مطابق ہے۔ اس مضمون میں مدارس کے نظام کے متعلق مختصر گفتگو کی گئی ہے۔ کسی بھی ملک کی نظریاتی اور تہذیبی اساس کی حفاظت کیلئے اس کا نظامِ تعلیم اہمیت رکھتا ہے۔ اعلیٰ تعلیم سے ہی اخلاقی اور مادی ترقی ممکن ہے۔ لیکن اس کیلئے ضروری ہے کہ تعلیم عام فہم زبان میں اور اپنی روایات و عقائد کے مطابق ہو۔ بدقسمتی سے ہمارے تعلیمی ادارے ان سب باتوں سے مبرا ہیں اور محظ مغربی ذریعہ تعلیم اور ماحول کو اجاگر کررہے ہیں۔ دینی تعلیمی ادارے اس معاملے میں اپنی روایات کو برقرار رکھے ہوئے ہیں۔ جو قوم اپنے اصل کو بھول جائے تو اس کی دنیا میں کوئی حیثیت نہیں ہوتی۔  مدارس میں طالبِ علم کی تعلیم کے ساتھ ساتھ تربیت پر بھی زور دیا جاتا ہے۔ اساتذہ کا احترام سب سے زیادہ مدارس میں ہی دیکھنے کو ملتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ پرانے طلبا و طالبات کا اکرام اور نئے کا خیال بھی رکھا جاتا ہے۔ سیاسی اور علاقائی تعصب بھی کم ہی دیکھنے کو ملتا ہے۔ جبکہ عام تعلیمی اداروں میں تعصب کی بنیاد پر لڑائی جھگڑا عا...

ظاہری شریعت کی اہمیت

 ظاہری شریعت کی اہمیت شریعت میں ظاہر کی زیادہ اہمیت ہے یا باطن کی۔ اس مضمون میں ظاہری شریعت کی اہمیت واضح کی گئی ہے۔ اور اس سے متعلق معاشرے میں رائج خیالات کا رد کیا گیا ہے۔ دینِ اسلام ظاہری اور باطنی دونوں پر مشتمل ہے۔ کوئی بھی یہ بات نہیں کہ سکتا کہ ظاہری دین کے بجائے باطنی دین پرتوجہ دینی چاہئے۔ ہمارے نبی کریمﷺ نے بھی اپنے قول و فعل سے اس بات پر زور دیا ہے کہ مسلمان ظاہری طور پر بھی دوسرے مذاہب والوں سے مشابہت نہ رکھیں۔ شعائرِ اسلام کی دین میں بہت زیادہ اہمیت ہے۔ بدقسمتی سے آج اکثر مسلمان ظاہری دین کو اہمیت دینے کو تیار نہیں اور ظاہر پر توجہ دینے والے مسلمانوں کو مولوی کہ کر ان کا مذاق اڑایا جاتا ہے۔ یہ بات تو طے ہے کہ دین کا اصل مقصد اعلیٰ اخلاق پیدا کرنا ہے۔ ہمارے نبیﷺ اور صحابہ کرام رضوان اللہ نے اپنے اخلاق سے ہی دیگر اقوام کو متاثر کیا۔ جبکہ آج کے مسلمان کو بیکار سمجھا جاتا ہے۔ جب دیگر مذاہب کے لوگ مشاہدہ کرتے ہیں کہ مسلمان اپنے حلیے، اعمال اور خیالات میں انکے مشابہ ہیں تو وہ کس چیز سے متاثر ہوں؟ ظاہری دین کا ایک فائدہ تو یہی ہے کہ اس سے دین کو فروغ ملتا ہے اور شعائرِ اسلام ...

اہلِ قرآن، جدید فتنہ

 اہلِ قرآن، جدید فتنہ امت مسلمہ میں نئے نئے فتنے ظہور میں آرہے ہیں جن سے متعلق آگاہی ضروری ہے۔ ان فتنوں سے بچنے کیلئے عام مسلمان کو اسلام کی بنیادی چیزوں کا پتا ہونا چاہئے۔ اس مضمون میں ایسے ہی فتنے کا ذکر ہے۔ اہلِ قرآن وہ لوگ ہیں جن کا یہ ایمان ہے کہ سارے علوم و فنون چونکہ قرآن میں موجود ہیں اس لئے کسی اور کتاب کی اور کسی عالم کی ضرورت نہیں۔ یہ لوگ فقہا کے ساتھ ساتھ احادیث کا بھی انکار کرتے ہیں اور اس کیلئے مختلف تاویلات پیش کرتے ہیں۔ ایک شخص جو ان پڑھ ہے، ظاہر ہے کہ اسے قرآن پڑھنے اور سمجھنے کیلئے کسی سمجھدار کی ضرورت ہوگی تو وہ سمجھدار شخص عالم کے قائم مقام ہوا، لحاظہ یہ فتنہ اس چھوٹی سی مثال سے ہی باطل ثابت ہوجاتا ہے۔  اللہ تعالیٰ نے پہلے انبیاءؑ کو مبعوث فرمایا پھر کتاب نازل کی۔ اگر صرف قرآن ہی کافی تھا تو نبی کی کیا ضرورت؟ انسان سے ہی انسان بنتے ہیں۔ ایک مثال سامنے ہو تو عمل میں آسانی ہوجاتی ہے۔ حدیث سے متعلق اہلِ قرآن کہتے ہیں کہ چونکہ صحابہ کرام کا دور حضور نبی کریمﷺ سے سو سال بعد کا ہے اس لئے احادیث کا اعتبار نہیں، یہ غلط سوچ ہے۔ اصل میں نبی کریمﷺ اور صحابہ کرام رضوان...

مسلمانوں میں ناقص دین دار طبقہ

 مسلمانوں میں ناقص دین دار طبقہ اس بلاگ میں دین دار طبقے کی کمزوریاں اور عام لوگوں کے ان سے بیزاری کے اسباب پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ دین داروں اور دنیاداروں کا تقابل؛ جس معاشرے میں دنیا دار طبقہ فضول رسومات، فضول خرچیوں، غلط عقائد، غیر قوموں کی اندھی تقلید، طبقاتی نظام اور تعصبات وغیرہ میں مبتلا ہو اس معاشرے کے دین دار طبقہ کا ناقص ہونا اچنبھے کی بات نہیں۔ ظاہری دین اور اس کے احکامات تو دین داروں کے ہی طفیل زندہ ہیں۔ اگر یہ دین دار نہ ہوں تو اسلام کی اصل شکل ہی نہ رہے۔ اکثر لوگوں کو دین دار ناقص محسوس ہوتے ہیں کیونکہ وہ خود دین سے بیزار ہوتے ہیں۔ ایک معاشرہ میں دنیا دار ہمیشہ دین داروں سے زیادہ ہوتے ہیں لحاظہ اگر معاشرہ زوال پذیر ہے تو اس کے اصل ذمہ دار دنیا دار ہی کہلائے جائیں گے نہ کہ دین دار۔ ہمارے معاشرے میں دین دار طبقے کو ہر معاملے سے الگ رکھا جاتا ہے۔ زیادہ تر صرف درس اور تدریس تک ہی محدود رہتے ہیں۔ اسی طرح خانقاہ والے اور تبلیغ والے بھی اپنے دائرے تک ہی محدود ہیں۔ اگر کوئی عام شخص کسی خوشی، غم یا دیگر معاملے میں دین کی بات کرے تو اسے مولوی کہ کر چپ کروادیا جاتا ہے اور خود ساخت...

تیسری جنس کے مسائل اور شریعت میں اس کا حل

 تیسری جنس کے مسائل اور شریعت میں اس کا حل برصغیر میں تیسری جنس سے وابسطہ افراد کئی طرح کی معاشرتی مسائل کا شکار ہیں جن کے حل کیلئے کوششیں کی جارہی ہیں۔ جبکہ شریعت میں اس کا آسان حل موجود ہے۔ انڈیا اور پاکستان میں تیسری جنس سے تعلق رکھنے والے افراد معاشرتی مسائل کا شکار ہیں۔ مغربی ممالک میں مادہ پرستی اور آزادی کی بدولت ایسے افراد کامیاب زندگی گزار سکتے ہیں لیکن برصغیر میں اس کا کوئی تصور نہیں۔ پاکستان میں خواجہ سرا معاشرے میں قبول نہیں کئے جاتے جس کی وجہ سے ان کیلئے باوقار زندگی گزارنا ممکن نہیں، وراثت میں بھی انکو حصہ نہیں دیا جاتا اور شادیاں بھی نہیں کرائی جاتیں۔ اسی وجہ سے گزشتہ دور میں سپریم کورٹ کی طرف سے ان کیلئے قانون سازی کی گئی اور ان افراد کو علحیدہ سے شناخت عطاء کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ سرکاری محکموں میں بھی ان کے لئے جگہ مختص کرنے کی سفارش کی گئی ہے تاکہ یہ افراد پرسکون زندگی گزارسکیں۔  باحیثیت مسلمان ہمارا یہ ایمان ہے کہ اللہ تعلٰی کا کوئی کام بھی مصلحت سے خالی نہیں۔ ایسے افراد جن کی جنس کا تعین ممکن نہیں ان سے ایسے کام لئے جاسکتے ہیں جو عام افراد سے نہیں ہوسکتے...

انبیاء و صحابہ کرام کی توحید پرستی

 انبیاء و صحابہ کرام کی توحید پرستی توحید کے بغیر ہمارا ایمان مکمل نہیں ہوتا۔ کچھ مسالک میں توحید کو پسِ پشت ڈال دیا گیا ہے جس سے لوگوں کے عقائد پر برا اثر پڑریا ہے ایسے حالات میں ضروری ہے کہ توحید پر زور دیا جائے۔ توحید کا مطلب اللہ کو ایک ماننا اور خالص اسی کی طرف رجوع کرنا ہے۔ مدد بھی صرف اللہ سے مانگنی چاہئے۔ توحید کے بغیر دین مکمل نہیں ہوتا۔ بدقسمتی سے مسلمانوں میں کچھ فرقے ایسے پیدا ہو گئے ہیں کہ جو توحید پرستی کو انبیاء و اولیاء سے گستاخی اور دین سے دوری و ناسمجھی کا سبب سمجھتے ہیں۔ تمام انبیاء نے خالص توحید کی تعلیم دی۔ اس مضمون میں ہم ان انبیاء اور صحابہ کرام کا ذکر کریں گے جنہوں نے اپنے عمل سے توحید پرستی کو ثابت کیا۔ سب سے پہلے حضرت ابراھیمؑ کا واقعہ مشہور ہے جس میں نمرود نے آپ کو آگ کے میدان میں جلانا چاہا۔ اس موقع پر کئی فرشتے آپؑ کے پاس مدد کی پیشکش لیکر آئے تو آپؑ نے پوچھا کہ اللہ کے حکم سے آئے ہیں یا اپنی مرضی سے! جب جواب ملا کہ اللہ کا حکم نہیں تو آپ نے ان کی مدد لینے سے انکار کیا اور خالص اللہ تعالیٰ کی طرف اپنا گمان رکھا۔ ایسے موقع پر جب سامنے عظیم الشان آگ کا ال...

شیعت اور دینِ اسلام

 شیعت اور دینِ اسلام شیعہ مذہب کا اسلام میں مقام اور معاشرے میں اس مذہب کے اثرات کا ذکر کیا گیا ہے۔ شیعیت اور اسلام دو الگ الگ مذاہب ہیں۔ اسلام کا شیعیت سے کوئی تعلق نہیں۔ شیعیت کی مماثلت یہود سے ہے، مزاجاً اہلِ تشیع اور یہود ایک ہیں۔ سب جانتے ہیں کہ یہود ہمیشہ اپنی سازشی ذہنیت کی وجہ سے بے دخل کئے گئے، یہی حال اہلِ تشیع کا ہے؛ عراق، شام اور بحرین میں یہی عناصر ہیں جو فساد پھیلارہے ہیں۔ ملک شام کا مسئلہ حل ہوجاتا اگر ایران مداخلت نہ کرتا؛ یہ جتنا بھی خون خرابہ ہوا ہے اس کے ذمہ دار شیعہ جنگجو ہیں۔ صحابہ کرام رضوان اللہ اجمعین سے بغض رکھنا، سازشی ذہن اور اہلِ ایمان کو بہانے بہانے اشتعال دلانا؛ یہود کا بھی یہی کام ہے۔ شیعہ مذہب اسلام میں نقب لگاکر شروع ہوا۔ کلمہ الگ، ارکان الگ، عقائد الگ؛ کچھ بھی دین کے مطابق نہیں۔ شیعہ مذہب کی کوئی ٹھوس بنیاد نہیں، یہ محظ سیاست اور ضد کی بناء پر وجود میں آیا۔ اس مذہب کی بنیادی باتیں ہر زمانے میں دلائل سے رد کی جاتی رہی ہیں "لیکن میں نہ مانوں" والی ذہنیت ہے۔ مثال کے طور پر حضرت علی کرم اللہ وجہ کی خلافت پر زور دینا حالانکہ آپ نے خود خلفاء راشدین...

تبلیغی جماعت کے احوال وَ اثرات

 تبلیغی جماعت کے احوال وَ اثرات برصغیر میں تبلیغی جماعت کی شروعات، طریقہ کار، نظریات اور معاشرے پر ان کے اثرات سے متعلق مختصر تنقیدی مضمون ہے۔ تبلیغی جماعت پوری دنیا میں اشاعتِ اسلام کیلئے جدوجہد کررہی ہے۔ ان کے کام کے نتائج بہت حوصلہ افزا ہیں اور قدر کی نگاہ سے دیکھے جاتے ہیں۔ ہر طرح کے اختلافات سے دوری اور متنازع جماعتوں سے غیر وابستگی کی وجہ سے ہر جگہ ان کو قبول کرلیا جاتا ہے۔ یہ جماعت نیک، پرہیزگار اور باعمل لوگوں پر مشتمل ہے جنہیں بڑے علماءکرام کی حمایت بھی حاصل ہے۔ قرآن میں اللہ تعلٰی فرماتے ہیں "اے ایمان والوں پورے کے پورے دین میں شامل ہوجاؤ (مفہوم)" یعنی دین کا کوئی بھی شعبہ ایک مسلمان چھوڑ نہیں سکتا۔ اس لحاظ سے دیکھا جائے تو تبلیغی جماعت میں کچھ کمزوریاں نظر آتی ہیں جس سے یہ کامل نہیں ہوسکے اور یہی وجہ ہے کہ ہر سال اس جماعت میں لاکھوں افراد کی شمولیت کے باوجود معاشرے میں کوئی فرق محسوس نہیں ہوتا۔  تبلیغی جماعت کا سلسلہ 1925 کے بعد سے شروع ہوا جس کی بنیاد مولانا الیاس کاندھلوی نے رکھی۔ اس وقت کے بڑے علماءِ کرام نے اس جماعت کے طریقہ کار پر اعتراض کیا تھا لیکن مولانا صا...