Skip to main content

قرابت داروں کے حقوق

 قرابت داروں کے حقوق

ہمارے معاشرے میں طبقاتی فرق بڑھتا جارہا ہے۔ ایک ہی خاندان میں اگر کوئی امیر ترین ہے تو باقی گھرانے غربت و افلاس کی زندگی گزار رہے ہیں۔ اس تناظر میں صلہ رحمی کی اہمیت بڑھ جاتی ہے۔

اللہ تعالیٰ جب کسی شخص کو مال و دولت عطاء فرماتے ہیں تو اس میں دوسروں کا بھی حصہ ہوتا ہے۔ دو ایک جیسی قابلیت و تجربہ رکھنے والے اشخاص کی آمدنی اکثر مختلف ہوتی ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ دولت کا حصول محض محنت و جستجو نہیں بلکہ خالص اللہ تعالیٰ کی طرف سے عنایت ہے، لحاظہ اس دولت پر صرف اپنا اوراپنے گھر والوں کا حق سمجھنا صحیح نہیں۔

ہمارے معاشرے کا المیہ یہ ہے کہ ایک ہی خاندان میں کچھ افراد امیر ترین ہوتے ہیں اور کچھ کا گزارا مشکل سے ہوتا ہے۔ جہاں پر قبائلی نظام رائج ہے وہاں اگر کوئی امیر ہوجائے تو پورا قبیلہ خود کو امیر سمجھنے لگتا ہے۔ کیونکہ اس امیر شخص کی دولت سے سب ایک حد تک فائدہ اٹھا لیتے ہیں۔ جب کہ موجودہ حالات میں یہ بات مشاہدے میں آرہی ہے کہ ایک بھائی تو بہت دولت مند ہے، اس کے بچے مہنگے تعلیمی اداروں میں پڑھ رہے ہیں جبکہ دوسرے بھائی کی اتنی استطاعت نہیں کہ وہ اپنے بچوں کی فیس ادا کرسکے ۔ تو یہ اتنا تضاد کیوں؟ اگر ایک امیر بھائی اپنے بچوں کو عام تعلیمی اداروں میں پڑھالے تو وہ اپنے غریب بھائی کے بچوں کی تعلیم کا بوجھ بھی اٹھا سکتا ہے۔ اس سے معاشرے میں شرح خواندگی میں اضافہ ہوگا۔

اکثر یہ چیز بھی مشاہدے میں نظر آرہی ہے کہ جن بڑے گھروں میں کئی بھائی ایک ساتھ رہ رہے ہیں، ایک بھائی کے بچے پیزا، برگر کھارہے ہیں تو دوسرے بھائی کے بچے مستقل دال روٹی پر گزارا کررہے ہیں۔ ایک طرف بچے قیمتی کھلونوں سے کھیل رہے ہیں تو دوسرے بچے حسرت سے انکو دیکھ رہے ہوتے ہیں۔ آج سے تقریباً 30 سال پہلے تک یہ ماحول تھا کہ اگر اپنے بچوں کیلئے کھانے یا کھیلنے کی کوئی چیز خریدی ہے تو ساتھ ساتھ بھانجوں، بھتیجوں اور اکثر پڑوس کے بچوں کیلئے بھی وہی چیز خریدلی جاتی تھی۔ اب یہ ماحول شہری زندگی میں نظر نہیں آتا۔ لوگ آسائشوں کے چکر میں اپنے خرچے اتنے بڑھالیتے ہیں کہ دوسروں پر خرچ کرنے کیلئے گنجائش نہیں بچتی۔

ہمارا دین ہمیں صلہ رحمی کا حکم دیتا ہے۔ اپنے والدین، بیوی اور بچوں پر خرچ کرنے کی زیادہ فضیلت ہے۔ اسکے بعد اپنے قریبی رشتہ داروں، دوستوں اور پڑوسیوں پر مال خرچ کرنے کی تاکید کی گئی ہے۔ مزید اپنے دور کے رشتہ داروں/ سسرالیوں پر خرچ کرنا چاہئے، پھر اس کے بعد عام غرباء مساکین کا نمبر آتا ہے۔ لیکن ہمارے ہاں الٹا نظام چل رہا ہے۔ صدقات، خیرات اور زکوٰۃ اپنے گھر سے کئی کلومیٹر دور لوگوں پر خرچ کیا جاتا ہے۔ جگہ جگہ خیراتی تنظیمیں چندہ اکھٹا کرتی ہیں جو دور دراز علاقوں میں جہاں سہولیات کا فقدان ہے، وہاں خرچ کررہی ہوتی ہیں۔ آج کل سڑکوں پر دسترخوان سجانے کا بھی سلسلہ شروع ہوگیا ہے جہاں سے فقیر، مزدور اور نشئی افراد کھانا کھاتے ہیں۔ ان سب خیراتی کاموں کی اہمیت اپنی جگہ ہے لیکن پہلے اپنے قریب موجود افراد کا حق ہے۔ اگر ہم اپنے قرابت داروں کا خیال نہیں رکھیں گے تو ان خیراتی کاموں اور صدقات و زکوٰۃ کا کوئی اجر نہیں ملے گا۔

Comments