بدعت کی تعریف اور دین میں اس کے اثرات
بدعت کسے کہتے ہیں؟ اس کے نقصانات اور فوائد کیا کیا ہیں؟ مسلمانوں پر اس کے کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں؟ ان باتوں پر اس مضمون میں بحث کی گئی ہے۔
جس فعل شرعی کا سبب اور محرک حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں موجود ہو اور کوئی مانع بھی نہ ہو اس کے باوجود نہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا ہو نہ صحابہٴ کرام کو اس کے کرنے کا حکم دیا ہو اور نہ ترغیب دی ہو، اس عمل کو دین کا حصہ سمجھ کر کرنا بدعت کہلاتا ہے۔
بدعت، ہر نئی بات یا کام کو کہتے ہیں۔ دینِ اسلام میں بدعت کو کبیرہ گناہوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہمارے آخری نبی آنحضرتﷺ نے مکمل دین ہم تک پہنچایا ہے، لہٰذا ہمیں دین میں مزید کسی اضافے کی ضرورت نہیں۔
اب حالات تو تبدیل ہوتے رہتے ہیں اور نئی نئی جدتیں پیدا ہورہی ہیں تو پھر دین پر اس کی اصل صورت میں کیسے عمل کیا جاسکتا ہے؟ مثال کے طور پر پہلے لوگ اونٹوں پر سفر کرکے حج کرنے جاتے تھے، بعد میں ہوائی جہاز، کشتیوں، موٹر کاروں اور بسوں میں حج کیلئے جانے لگے تو یہ عمل ایک بدعت میں آتا ہے اور بدعت تو جائز نہیں، پھر بدعت سے کیسے بچا جائے؟ اس کیلئے ہمیں بدعت کی مکمل تعریف سمجھنا ہوگی اور کونسی بدعت جائزوناجائز ہیں ان کو دیکھنا ہوگا۔
بدعت دو طرح کی ہوتی ہیں۔ عربی میں ان کو "البدعۃ فی الدین" اور "البدعۃ لالدین" کہا جاتا ہے، یعنی بدعت دین کیلئے اور بدعت دین میں۔ جو بدعت دین کے لئے ہو وہ جائز ہے جیسے کہ حج کیلئے ہوائی جہاز کا سفر کرنا، اور جو بدعت دین میں ہو وہ ہر طرح ناجائز ہے چاہے وہ بدعتِ حسنہ ہو یا بدعتِ سیئہ۔ بدعت حسنہ کی اختراع اپنے نفس کے اطمنان کیلئے نکالی گئی تھی، دین سے اس کا کوئی تعلق نہیں۔ مجدد الف ثانیؒ، بدعتِ حسنہ سے بچنے کی تاکید کیا کرتے تھے۔ آج دین میں جو نئے نئے کام کئے جارہے ہیں ان کو بدعتِ حسنہ کا نام دے دیا جاتا ہے۔ ایک گروہ اپنی بدعات کو حسنہ اور دوسروں کی بدعات کو سیئہ قرار دے دیتا ہے۔ جبکہ ضرورت اس بات کی ہے کہ تمام بدعات سے بچا جائے۔
بدعات کے شروع ہونے کے بہت سے اسباب ہیں، مثلاً؛
۔1۔کفار سے متاثر ہوکر (جیسے موسیٰؑ کی قوم کا گوسالہ کو پوجنا)
۔2- اپنے نفس کو مطمئن کرنے کیلئے (جیسے نمازِ جنازہ کے بعد پھر دعا کرنا)
۔3- نوافل اور مستحباب کے اجر سے متاثر ہوکر ان کو اپنے اونپر لازم کرلینا (جیسے شبِ برات میں شب بیداری اور روزہ رکھنا)
۔4- فرائض وَ واجبات کی پابندی سے بچنے کیلئے، یہ سمجھ کر کہ بدعت کرنے سے جو اجر ملے گا وہ فرائض و واجبات کے برابر ہے، وغیرہ۔
کچھ علماء نے صحابہ کرام رضوان اللہ کے اعمال سے بدعت حسنہ کو جائز کرنے کی کوشش کی ہے، مثلاً فجر کی آذان میں اضافی کلمات، جمعہ کی نماز میں دو آذانیں وغیرہ۔ لیکن یہ بدعات دین کیلئے تھیں، مزید یہ کہ صحابہ کرام رضوان اللہ سے ایک عام انسان کا کیا مقابلہ؟
بدعتِ حسنہ کیوں جائز نہیں؟
کیوںکہ جو لوگ بدعات پر سختی سے عمل کرتے ہیں وہ فرائض، واجبات اور سنتوں سے غافل ہوجاتے ہیں۔ مثال کے طور پر، عیدالاضحٰی میں قربانی کرنا واجب ہے چاہے وہ صاحبِ نصاب ہو یا نہ۔ اب بہت سے لوگ قربانی کو چھوڑ دیتے ہیں اور وجہ اسباب کی کمی بتاتے ہیں۔ لیکن پھر یہی لوگ مجلس میں اور میلاد میں بے تحاشہ پیسہ خرچ کرتے ہیں اور اس کو باعثِ ثواب سمجھتے ہیں، جبکہ مجلس اور میلاد نہ تو فرائض میں آتے ہیں اور نہ ہی سنت عمل ہے۔
Comments
Post a Comment
آپ کی رائے ہمارے لئے بہت قیمتی ہے۔