تیسری جنس کے مسائل اور شریعت میں اس کا حل
برصغیر میں تیسری جنس سے وابسطہ افراد کئی طرح کی معاشرتی مسائل کا شکار ہیں جن کے حل کیلئے کوششیں کی جارہی ہیں۔ جبکہ شریعت میں اس کا آسان حل موجود ہے۔
انڈیا اور پاکستان میں تیسری جنس سے تعلق رکھنے والے افراد معاشرتی مسائل کا شکار ہیں۔ مغربی ممالک میں مادہ پرستی اور آزادی کی بدولت ایسے افراد کامیاب زندگی گزار سکتے ہیں لیکن برصغیر میں اس کا کوئی تصور نہیں۔ پاکستان میں خواجہ سرا معاشرے میں قبول نہیں کئے جاتے جس کی وجہ سے ان کیلئے باوقار زندگی گزارنا ممکن نہیں، وراثت میں بھی انکو حصہ نہیں دیا جاتا اور شادیاں بھی نہیں کرائی جاتیں۔ اسی وجہ سے گزشتہ دور میں سپریم کورٹ کی طرف سے ان کیلئے قانون سازی کی گئی اور ان افراد کو علحیدہ سے شناخت عطاء کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ سرکاری محکموں میں بھی ان کے لئے جگہ مختص کرنے کی سفارش کی گئی ہے تاکہ یہ افراد پرسکون زندگی گزارسکیں۔
باحیثیت مسلمان ہمارا یہ ایمان ہے کہ اللہ تعلٰی کا کوئی کام بھی مصلحت سے خالی نہیں۔ ایسے افراد جن کی جنس کا تعین ممکن نہیں ان سے ایسے کام لئے جاسکتے ہیں جو عام افراد سے نہیں ہوسکتے۔ کیونکہ ایسے افراد جسمانی اور نفسیاتی لحاظ سے زیادہ مضبوط ہوتے ہیں، عام افراد میں جو جذباتی کمزوریاں پائی جاتی ہیں ان سے بھی یہ پاک ہوتے ہیں۔ پرانے ادوار میں بادشاہ اور امیر اپنی خواتین کی حفاظت اور دوسری ضروریات کیلئے خواجہ سرا کو رکھا کرتے تھے اور ان پر پورا اعتماد کرتے تھے۔ اسی طرح ہمارے معاشرے میں موجود کئی کام ایسے ہیں جو خواجہ سرا باآسانی کرسکتے ہیں بانسبت عام افراد کے۔ ایسے کاموں کی تفصیل نفسیات کے ماہرین بتاسکتے ہیں۔ اس طرح خواجہ سرا معاشرے کا ایک کارآمد حصہ بن سکتے ہیں۔
ہمارا دین ایک مکمل دین ہے اس میں ہر مسئلہ کا حل موجود ہے۔ فقہ کے مسائل میں تیسری جنس کا کوئی علحٰیدہ سے تصور نہیں۔ اگر کسی فرد کی جنسی تعین میں مشکل پیش آئے تو شریعت میں یہ دیکھا جاتا ہے کہ جسمانی لحاظ سے اس شخص کا رجحان مردانہ ہے یا زنانہ، تو جس طرف اس کا رجحان ہوگا وہ شخص اسی جنس کا تصور کیا جائے گا۔ اس قانون کے تحت ایسے اشخاص کو نوکری مل جائے گی، وراثت میں حصہ مل جائے گا اور وہ شادی بھی کرسکے گا۔ جبکہ اگر انکو ایک علحیدہ جنس مان لیا جائے تو ان کیلئے معاشرے میں نارمل زندگی گزارنا ممکن نہیں رہے گا۔
Comments
Post a Comment
آپ کی رائے ہمارے لئے بہت قیمتی ہے۔