Skip to main content

انبیاء و صحابہ کرام کی توحید پرستی

 انبیاء و صحابہ کرام کی توحید پرستی

توحید کے بغیر ہمارا ایمان مکمل نہیں ہوتا۔ کچھ مسالک میں توحید کو پسِ پشت ڈال دیا گیا ہے جس سے لوگوں کے عقائد پر برا اثر پڑریا ہے ایسے حالات میں ضروری ہے کہ توحید پر زور دیا جائے۔

توحید کا مطلب اللہ کو ایک ماننا اور خالص اسی کی طرف رجوع کرنا ہے۔ مدد بھی صرف اللہ سے مانگنی چاہئے۔ توحید کے بغیر دین مکمل نہیں ہوتا۔ بدقسمتی سے مسلمانوں میں کچھ فرقے ایسے پیدا ہو گئے ہیں کہ جو توحید پرستی کو انبیاء و اولیاء سے گستاخی اور دین سے دوری و ناسمجھی کا سبب سمجھتے ہیں۔ تمام انبیاء نے خالص توحید کی تعلیم دی۔ اس مضمون میں ہم ان انبیاء اور صحابہ کرام کا ذکر کریں گے جنہوں نے اپنے عمل سے توحید پرستی کو ثابت کیا۔

سب سے پہلے حضرت ابراھیمؑ کا واقعہ مشہور ہے جس میں نمرود نے آپ کو آگ کے میدان میں جلانا چاہا۔ اس موقع پر کئی فرشتے آپؑ کے پاس مدد کی پیشکش لیکر آئے تو آپؑ نے پوچھا کہ اللہ کے حکم سے آئے ہیں یا اپنی مرضی سے! جب جواب ملا کہ اللہ کا حکم نہیں تو آپ نے ان کی مدد لینے سے انکار کیا اور خالص اللہ تعالیٰ کی طرف اپنا گمان رکھا۔ ایسے موقع پر جب سامنے عظیم الشان آگ کا الاؤ موجود ہو اور جل جانے کا یقین ہو اس وقت خالص اللہ کی مدد کی امید رکھنا توحید پرستی کی اعلیٰ مثال ہے۔

ہمارے نبی کریمﷺ جب امہات المومنین کے ساتھ موجود ہوتے اور حضرت بلال رضی اللہ آذان دیتے تو آپﷺ خالص اللہ کی طرف متوجہ ہوجاتے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی مشہور روایت کا مفہوم ہے کہ حضورﷺ آذان کی آواز سنتے ہی ایسے ہوجاتے جیسے ہمیں جانتے ہی نہیں۔ اللہ تعالیٰ کی طرف ایسے متوجہ ہوجانا ہی توحید ہے۔ ہجرت کے موقع پر جب دشمن غار کے قریب پہنچ گئے تو آپ کے اطمنان کا یہ عالم تھا کہ فرمایا گھبرائیں نہیں اللہ ہم دونوں کے ساتھ ہے (مفہوم)۔ ایسے مشکل وقت میں بھی اللہ تعالیٰ پر بھروسہ رکھنا خالص توحید کی نشانی ہے۔ غزوات میں حضور نبی کریمﷺ مشکل سے مشکل وقت میں بھی کبھی پیچھے نہیں ہٹے اور خالص اللہ کی طرف متوجہ رہے۔

صحابہ کرام رضوان اللہ کی بات کریں تو توحید کی سب سے بڑی مثال حضرت ابوبکر رضی اللہ سے ملتی ہے۔ جب نبی کریمﷺ دنیا سے پردہ فرماگئے اس دن مسلمان بہت صدمے میں تھے۔ آکثر صحابہ کرام کو یقین نہیں آرہاتھا کہ حضورﷺ ہم میں نہیں رہے، ان میں حضرت عمر فاروق رضی اللہ بھی شامل تھے۔ ایسے موقع پر ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے مسلمانوں سے فرمایا جس کا مفہوم یہ ہے کہ حضرت محمدﷺ دنیا سے چلے گئے ہیں لیکن اللہ کی ذات ہمیشہ رہنے والی ہے۔ اس کے ساتھ قرآن کی آیت تلاوت کی جس کا مفہوم بھی یہی تھا۔ یہ واقعہ توحید پرستی کی اعلیٰ مثال ہے۔

حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ ایک بار طواف فرمارہے تھے تو ہجر اسود کو دیکھ کر فرمانے لگے۔ تو محض ایک پتھر ہے، حضور نبی کریمﷺ نے تجھے چوما تھا اس لئے میں بھی تجھے چوم رہا ہوں (مفہوم)۔ یہ بات توحید پرستی پر دلالت کرتی ہے۔

اماں عائشہ رضی اللہ عنہا پر جب جھوٹا الزام لگایا گیا اور آپ صدمے سے دوچار تھیں کہ آپ کی برآت کی آیات نازل ہوئیں اور رسولِ کریمﷺ نے آپ کو خوشخبری سنائی تو آپ کی والدہ نے رسولِ کریم کا شکریہ ادا کرنے کا کہا، جس پر حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ میں حضورﷺ کا نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرونگی جس نے میری برآت کا اعلان کیا اور مجھے اس صدمے سے نجات دلائی (مفہوم)۔ رسولِ کریمﷺ سامنے موجود ہیں، پھر بھی خالص اللہ کی طرف آپ نے رجوع کیا اس سے بڑھ کر توحید پرستی کی مثال اور کیا ہوگی۔

ایک دفعہ حضرت حسن رضی اللہ عنہ نے حضرت علی کرم اللہ وجہ سے پوچھا کیا آپ ہم سے محبت کرتے ہیں؟ جواب ملا جی ہاں۔ پھر پوچھا ہماری والدہ سے بھی محبت کرتے ہیں؟ تو فرمایا ہاں ان سے بھی۔ پھر پوچھا آپ ہمارے نانا سے بھی محبت کرتے ہیں؟ تو آپ نے جواب دیا ان سے بھی محبت کرتا ہوں۔ پھر اس کے پوچھا کہ کیا آپ اللہ سے بھی محبت کرتے ہیں؟ تو حضرت علی کرم اللہ وجہ نے جواب دیا بیشک اللہ سے بھی محبت ہے۔ تو اس پر حضرت حسن رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ آپ کے ایک دل میں اتنی زیادہ محبتیں کیسے جمع ہوگئیں (مفہوم)۔ تو اس قصے کا مقصد یہ ہے کہ محبت صرف اللہ سے ہی کرنی چاہئے اور باقی محبتیں اسی واسطے سے ہوں۔

ان تمام واقعات کا مقصد یہ ہے کہ جب توحید کی بات آئے تو ایک مسلمان کو کسی کی پرواہ نہ ہونی چاہئے۔ لوگ کیا کہیں گے اس سے قطع نظر ہوکر خالص اللہ کی طرف دھیان ہو اسی سے مدد مانگی جائے اور اسی سے امید رکھی جائے۔ مولانا محمد علی جوہر نے کیا خوب شعر فرمایا ہے؛

توحید تو یہ ہے کہ خدا حشر میں کہہ دے

یہ بندہ زمانے سے خفا میرے لیے ہے

Comments

Popular Posts

نواز شریف

جب سے مملکتِ پاکستان کا قیام وجود میں آیا ہے تب سے ہی یہاں سیاسی استحکام کا فقدان رہا ہے۔ قائدِ اعظمؒ، لیاقت علی خانؒ اور دیگر حکمرانوں نے کچھ عرصہ تک ہی حکومت کی ذمہ داریاں اٹھائیں، لیکن باقائدہ حکومت کا آغاز جنرل ایوب خان کی صدارت سے شروع ہوا۔ یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ اسی دورِ حکومت میں پاکستان نہ صرف اپنے پیروں پر کھڑا ہوا بلکہ اس کا شمار ایشیاء کے ترقی یافتہ ممالک میں ہونے لگا۔ پاکستان کے خلاف سازش کرنے والے عناصر جانتے تھے کہ جب بھی یہاں مستحکم حکومت ہوگی تو ملک ترقی کرے گا۔ لہٰذا مختلف ذرائع استعمال کرکے ہمارے دشمن پاکستانی قوم میں مایوسی پھیلاتے رہے اور اس وقت کی موجود، حکومت کے خلاف الزامات کے ذریعے لوگوں کو حکومت سے بیزار کرنے کی کوشش کرتے رہے، یہاں تک کہ پرویز مشرف جیسے امریکہ کو سجدہ کرنے والے، وقت کے فرعون، کو بھی حکومت سے محروم ہونا پڑا۔ پاکستانی عوام میں تعلیم اور شعور کی کمی ہے جس کی وجہ سے وہ باآسانی سازشوں کا شکار ہوجاتے ہیں اور تبدیلی کی خواہش مند ہوجاتے ہیں۔ یہ نہیں غور کرتے کہ حکومت مستحکم ہے، ترقیاتی کام چل رہے ہیں، زندگی اچھی گزر رہی ہے، تمام کاروبارِ زندگی عمد...

داڑھی کا جواز

  داڑھی کا جواز اگر کوئی شخص کہے کہ سر پر ہمیشہ استرا پھیرنا چاہیے تاکہ انسان بالوں سے پیدا ہونے والی پریشانیوں سے بچا رہے، اگر بال ہونگے تو جوئیں بھی ہونگی، بال لمبے ہوکر منہ پر آئیں گے، بال ہوا سے بکھر تے رہیں گے اور انسان ان میں جنگلی لگے گا لہٰذا سر کے بالوں کے بغیر انسان زیادہ خوبصورت لگے گا، تو ایسے شخص کو آپ کیا جواب دیں گے؟ ظاہر ہے کہ اس شخص کو کہا جائے گا کہ بال اگنا ایک قدرتی عمل ہے، اس کو روکنے کے بجائے ہمیں ان کو آراستہ کرنا چاہیے، ان کی صفائی ستھرائی کا خیال رکھنا چاہیے تو یہ بال ہماری شخصیت میں خوبصورتی کا باعث بنیں گے بہ نسبت ٹنڈ کے! یہی جواب اصل میں داڑھی کے جواز کیلئے استعمال کیا جاسکتا ہے۔ اس کیلئے فتاویٰ کی ضرورت نہیں۔ قدرت نے داڑھی مرد کو عطاء کی ہے۔ اب مردوں کا کام ہے کہ اپنے چہروں کو روزانہ چھیلنے کے بجائے داڑھی کو بڑھنے دیں اور اس کو آراستہ کریں اور اپنی مردانگی کا ثبوت اپنے چہروں سے دیں۔ کچھ لوگ اپنی گفتگو میں یہ کہتے ہوئے نظر آتے ہیں کہ فلاں شخص داڑھی رکھ کے جھوٹ بول رہا ہے، یا کچھ افراد نے داڑھی رکھی ہوئی ہے اور خواتین کو دیکھتے پھرتے ہیں۔ ایسے لوگ...

ناران کی سیر

 ناران کی سیر راولپنڈی سے ناران کے سفر کی روداد جو ذاتی مشاہدے پر مشتمل ہے۔ اس سفرنامے میں مزید اہم مقامات کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ اپنے شہر سے دور کوئی بھی سفر کرنے سے پہلے اس سے متعلق معلومات حاصل کرنا بہت ضروری ہے۔ شمالی علاقوں کا تفریحی دورہ کرنا ہو اور ہر قسم کی مشکلات سے محفوظ رہنا چاہتے ہوں تو بہتر ہے کہ کسی سیاحتی گروپ یا کمپنی کے ساتھ سفر کیا جائے۔ سیاحتی کمپنی کے خرچے تو زیادہ ہوتے ہیں لیکن یہ آپ کو اتنی سہولیات فراہم کرتی ہیں کہ آپ ہر قسم کی کوفت سے بچ جاتے ہیں۔ اگر آپ محدود خرچے میں ناران کی سیاحت کرنا چاہتے ہیں تو آپ کو راولپنڈی سے گائڈ کی خدمات حاصل کرنا ہونگی، اس کیلئے آپ پہلے سے معاوضہ اور مقامات طے کرسکتے ہیں۔ کچھ گائڈ آپ کو مناسب داموں میں ہوٹل کے کمرے اور طعام کا بندوبست کرواسکتے ہیں۔ جتنا تجربے کار گائڈ آپ کو ملے گا اتنا ہی آپ کا سیاحتی سفر بہتر ہوگا۔ جو حضرات اپنے گھر کی خواتین اور بچوں کے ساتھ ناران کا سفر کرنا چاہتے ہیں تو یہ بات مدِنظر رکھیں کہ ان کو طویل سفر کرنا ہوتا ہے اور آپ کو آرام کے کم مواقع میسر آسکتے ہیں۔ مجوعی طور پر یہ سیاحتی دورہ آپ کو تھکن میں مبت...