ظاہری شریعت کی اہمیت
شریعت میں ظاہر کی زیادہ اہمیت ہے یا باطن کی۔ اس مضمون میں ظاہری شریعت کی اہمیت واضح کی گئی ہے۔ اور اس سے متعلق معاشرے میں رائج خیالات کا رد کیا گیا ہے۔
دینِ اسلام ظاہری اور باطنی دونوں پر مشتمل ہے۔ کوئی بھی یہ بات نہیں کہ سکتا کہ ظاہری دین کے بجائے باطنی دین پرتوجہ دینی چاہئے۔ ہمارے نبی کریمﷺ نے بھی اپنے قول و فعل سے اس بات پر زور دیا ہے کہ مسلمان ظاہری طور پر بھی دوسرے مذاہب والوں سے مشابہت نہ رکھیں۔ شعائرِ اسلام کی دین میں بہت زیادہ اہمیت ہے۔ بدقسمتی سے آج اکثر مسلمان ظاہری دین کو اہمیت دینے کو تیار نہیں اور ظاہر پر توجہ دینے والے مسلمانوں کو مولوی کہ کر ان کا مذاق اڑایا جاتا ہے۔
یہ بات تو طے ہے کہ دین کا اصل مقصد اعلیٰ اخلاق پیدا کرنا ہے۔ ہمارے نبیﷺ اور صحابہ کرام رضوان اللہ نے اپنے اخلاق سے ہی دیگر اقوام کو متاثر کیا۔ جبکہ آج کے مسلمان کو بیکار سمجھا جاتا ہے۔ جب دیگر مذاہب کے لوگ مشاہدہ کرتے ہیں کہ مسلمان اپنے حلیے، اعمال اور خیالات میں انکے مشابہ ہیں تو وہ کس چیز سے متاثر ہوں؟ ظاہری دین کا ایک فائدہ تو یہی ہے کہ اس سے دین کو فروغ ملتا ہے اور شعائرِ اسلام نگاہوں کے سامنے زندہ ہیں۔ دل کا حال تو خدا ہی جانتا ہے۔ بظاہر تو کسی کی اچھائی برائی کا پتا چلنا مشکل ہے لیکن روشن خیال دکھنے والے مسلمان زیادہ تنگ نظر محسوس ہوتے ہیں کیونکہ وہ اپنی رائے میں اختلاف برداشت نہیں کرپاتے اور ظاہری دین داروں کے ساتھ حقارت کا سلوک کرتے ہیں۔
اکثر مسلمان ظاہری دین داروں کو منافق سمجھتے ہیں۔ انکے بقول ظاہری دین دار دوسروں سے اونچا ہونے کے لئے مذہب کا ڈھونگ رچارہے ہیں۔ جبکہ حقیقت یہ ہے کہ نوجوانوں کو دین پر چلنے کیلئے بہت مشکل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ لوگ طرح طرح کی باتیں کرتے ہیں، انکا بھری محفل میں مذاق بنایا جاتا ہے اور لوگ مولوی/ملا کہ کر حقارت سے پکارتے ہیں۔ ظاہری دین داروں کو نوکری حاصل کرنے میں بھی مشکل کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور اکثر لوگ دین داروں سے شادی کرنا پسند نہیں کرتے۔ یہی اصل قربانی ہے اسی لئے ایک حدیث میں فرمایا گیا ہے کہ جو شخص ایک سنت زندہ کرے گا اسے سو شہیدوں کا ثواب دیا جائے گا (مفہوم)۔
ایک بڑا مسئلہ ظاہر دین داروں سے لوگوں کی توقعات ہیں۔ جو نوجوان داڑھی رکھ لے، پائنچے اونچے کرلے تو لوگ اس کو شیخ عبدالقادر جیلانیؒ جیسا پرہیز گار سمجھنے لگتے ہیں۔ اب اگر وہ تھوڑا ہنس بول لے یا کوئی دنیاوی کام کرلے تو فوراً اسے ٹوک دیا جاتا ہے۔ اب اگر کوئی شریعت پر عمل کررہا ہے تو اس کاہرگز یہ مطلب نہیں کہ اس کے دل سے دنیا بالکل نکل گئی ہے۔ اس کے ساتھ بہرحال اس کا نفس موجود ہے جو اسکو گناہوں کی طرف رغبت دلاتا رہتا ہے۔ کچھ لوگوں کا یہ کہنا ہے کہ پہلے مکمل پرہیز گار بن جاؤ پھر ظاہری شریعت پر عمل کرنا، تو اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ کوئی بھی پھر شعائر اسلام کو زندہ نہیں کرسکتا کیونکہ مکمل پرہیز گار تو اولیاء کرام ہی ہوسکتے ہیں اور وہ خود کو ظاہر نہیں کرتے۔
آج کے دور میں دین دار نوجوان طبقہ ہی صحیح معنوں میں دین کی نمائندگی کررہا ہےورنہ دنیا دار مسلمان تو صرف نفس پرستی میں مبتلا نظر آتا ہے۔ اسکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں کا ماحول تو کسی بھی لحاظ سے اسلامی محسوس نہیں ہورہا بلکہ غیراقوام کی نقالی کرتا نظر آتا ہے۔ اس لئے ظاہری دین کی ضرورت کو سمجھنا چاہئے اور اس پر عمل کرنے والوں پر بےجا تنقید سے بچنا چاہیے۔
Comments
Post a Comment
آپ کی رائے ہمارے لئے بہت قیمتی ہے۔