Skip to main content

غیر مقلد اہلحدیث

 غیر مقلد اہلحدیث

اہلحدیث کون ہیں؟ غیر مقلد سے کیا مراد ہے؟ اہلِ حدیث کو غیر مقلد کس وجہ سے کہا جاتا ہے؟ یہ وہ سوالات ہیں جن کے جوابات اس مضمون میں دینے کی کوشش کی گئی ہے۔

اہلحدیث وہ ہوتے ہیں جو حدیث کو حق مانتے اور اس پر عمل کرتے ہیں۔ اس لحاظ سے ہر مسلمان اہلحدیث ہوا یا دوسرے الفاظ میں ہر مسلمان کو اہلحدیث ہونا لازم ہے۔ غیر مقلد وہ مسلمان جو صحابہ کرام، تابعین فقہا کرام، اولیاء اور علماء کی تقلید (اعمال میں انکی نقل) نہیں کرتے بلکہ صرف نبی کریمﷺ کے اسوہ پر عمل کرنے کا دعوہ کرتے ہیں۔ اس لحاظ سے موجودہ اہلحدیث کہلائے جانے والے صاحبان دراصل غیر مقلد ہوئے۔

 جس طرح ہر عمل کا ردِعمل ہوتا ہے اسی اصول کے مطابق غیر مقلد وجود میں آئے۔ جب اسلامی معاشرے میں شرک، بدعات اور رسومات میں اضافہ ہوتا گیا تو نتیجے میں یہ جماعت ظہور میں آئی جس نے غیر شرعی اعمال کے خلاف عملی جدوجہد کا آغاز کیا۔ ان کی توحید پرستی اور بنیادی دین کے احکامات پر عمل کرنا تو قابلِ تعریف ہے لیکن اس میں شدت پسندی صحیح نہیں۔ جاہل یا تو افراط کا شکار ہوتا ہے یا پھر تفریط کا۔ کچھ مسلک اگر دین میں غلو کرنے لگے ہیں تو غیر مقلد بھی ہر بات کو شرک اور بدعت قرار دینے لگے ہیں۔ ان کی نظر میں ان کے علاوہ سب مسالک بنیادی دین سے دور اور بدعات میں مبتلاء ہیں۔

 اس کی ایک مثال تسبیح پر ان کا اعتراض ہے۔ غیر مقلد کہتے ہیں کہ تسبیح کے دانوں پر ذکر کرنا اور گن گن کر ذکر کرنا بدعت ہے۔ جبکہ تسبیح محظ ذکر میں مدد دیتی ہے اور اس سے یاد دہانی کا کام لیا جاتا ہے۔ اور اسلام میں ساری عبادتیں گن کر ہی کی جاتی ہیں۔ ںمازوں میں پڑھی جانے والی رکعتیں، تسبیحات اور تسبیح فاطمہ بھی گن کر ہی پڑھی جاتی ہیں۔ ایک گھڑا ہوا قصہ بیان کرکے جس میں کوئی کہتا ہے کہ محبوب سے کیا حساب کتاب، اس کی بنیاد پر دین کے اصول مرتب کرنا حماقت ہے۔ 

غیر مقلد اہلحدیث، امام ابنِ تیمیہ کی تعلیمات سے متاثر ہیں۔ لیکن اپنی شدت پسندی کے سبب وہ آئماء کرام (امام ابو حنیفہ وغیرہ) سے متنفر ہیں۔ اب یہ شرعی اور اخلاقی اعتبار سے بھی مناسب نہیں کہ خود کو صحیح ثابت کرنے کیلئے یہ حضرات فقہاء کرام کو غلط ثابت کرنے میں اپنی توانائی خرچ کریں۔ یہ حضرات صرف صحیح بخاری کو ہی دین میں مستند سمجھتے ہیں اور حدیث کی دیگر کتابوں کو اہمیت نہیں دیتے۔ جبکہ جن علماء کرام نے صحیح بخاری کو مستند قرار دیا ہے انہیں نے باقی صحاح ستہ کی کتابوں کو بھی مستند قرار دیا۔ اس کے علاوہ بھی موطا مام مالک اور کتاب الآثار بھی صحیح کتابیں ہیں۔ امام بخاریؒ کا زمانہ حضور نبی کریمﷺ سے تقریباً 250 سال بعد کا ہے جبکہ فقہا کرام نے صحابہ کرام رضوان اللہ اجمعین کا زمانہ دیکھا ہے اور ان کی صحبت سے استفادہ کیا ہے تو زیادہ دین کی سمجھ ان ہی میں ہے۔

 حدیث کی تعلیمات کے بغیر "فقہ" نہیں۔ ہمارے فقہا کرام میں بہت سے محدث بھی تھے۔ صرف حدیث کی کتاب دیکھ لینے سے آپ مسائل معلوم نہیں کرسکتے، کیونکہ کچھ احادیث میں متضاد باتیں ہوسکتی ہیں جو ایک عام شخص کے فہم سے ماورا ہوں۔ کیونکہ صحابہ کرام رضوان اللہ میں سے کچھ نے حضورﷺ کو بچپن، کچھ نے جوانی اور کچھ نے بڑھاپے میں دیکھا تھا، اور اکثر صحابہ مدینے سے دور کسی اور مقام پر رہائش پذیر ہوگئے تھے، لحاظہ کہیں کہیں صحابہ رضوان اللہ میں فروعی اختلاف پایا جاتا ہے، صرف علماء کرام ہی ان کو سمجھ کر دین کے مسائل معلوم کرسکتے ہیں۔ خود سے حدیث پڑھنے والے بھٹک سکتے ہیں۔ یہ ہمارے آئماء کرام کا ملت پر احسان ہے کہ انہوں نے دین کو قیامت تک کیلئے آسان کردیا۔

 یہ جہالت اور ناسمجھی کی بات ہے کہ آپ ضد میں آکر فقہ کی کتابوں کو رد کردیں اور صرف صحیح بخاری کو ہی تنہا قابلِ اعتبار کتاب قرار دیں، جبکہ ان کے علماء کو بھی مسائل میں کبھی کبھار علماءِ اہلسنت کی طرف رجوع کرنا پڑتا ہے۔ ڈاکٹر ذاکر نائک بھی کچھ مسائل کے جواب میں علماءِ کرام کا حوالہ دیتے ہیں اور انکی طرف رجوع کرنے کی تاکید کرتے ہیں۔ اگر غیر مقلد اہلحدیث، امام ابنِ تیمیہ کے افکار پرمکمل عمل کریں اور باقی فقہا کرام کی بےجا مخالفت نہ کریں تو ان سے کوئی اختلاف نہیں۔

Comments

Popular Posts

نواز شریف

جب سے مملکتِ پاکستان کا قیام وجود میں آیا ہے تب سے ہی یہاں سیاسی استحکام کا فقدان رہا ہے۔ قائدِ اعظمؒ، لیاقت علی خانؒ اور دیگر حکمرانوں نے کچھ عرصہ تک ہی حکومت کی ذمہ داریاں اٹھائیں، لیکن باقائدہ حکومت کا آغاز جنرل ایوب خان کی صدارت سے شروع ہوا۔ یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ اسی دورِ حکومت میں پاکستان نہ صرف اپنے پیروں پر کھڑا ہوا بلکہ اس کا شمار ایشیاء کے ترقی یافتہ ممالک میں ہونے لگا۔ پاکستان کے خلاف سازش کرنے والے عناصر جانتے تھے کہ جب بھی یہاں مستحکم حکومت ہوگی تو ملک ترقی کرے گا۔ لہٰذا مختلف ذرائع استعمال کرکے ہمارے دشمن پاکستانی قوم میں مایوسی پھیلاتے رہے اور اس وقت کی موجود، حکومت کے خلاف الزامات کے ذریعے لوگوں کو حکومت سے بیزار کرنے کی کوشش کرتے رہے، یہاں تک کہ پرویز مشرف جیسے امریکہ کو سجدہ کرنے والے، وقت کے فرعون، کو بھی حکومت سے محروم ہونا پڑا۔ پاکستانی عوام میں تعلیم اور شعور کی کمی ہے جس کی وجہ سے وہ باآسانی سازشوں کا شکار ہوجاتے ہیں اور تبدیلی کی خواہش مند ہوجاتے ہیں۔ یہ نہیں غور کرتے کہ حکومت مستحکم ہے، ترقیاتی کام چل رہے ہیں، زندگی اچھی گزر رہی ہے، تمام کاروبارِ زندگی عمد...

داڑھی کا جواز

  داڑھی کا جواز اگر کوئی شخص کہے کہ سر پر ہمیشہ استرا پھیرنا چاہیے تاکہ انسان بالوں سے پیدا ہونے والی پریشانیوں سے بچا رہے، اگر بال ہونگے تو جوئیں بھی ہونگی، بال لمبے ہوکر منہ پر آئیں گے، بال ہوا سے بکھر تے رہیں گے اور انسان ان میں جنگلی لگے گا لہٰذا سر کے بالوں کے بغیر انسان زیادہ خوبصورت لگے گا، تو ایسے شخص کو آپ کیا جواب دیں گے؟ ظاہر ہے کہ اس شخص کو کہا جائے گا کہ بال اگنا ایک قدرتی عمل ہے، اس کو روکنے کے بجائے ہمیں ان کو آراستہ کرنا چاہیے، ان کی صفائی ستھرائی کا خیال رکھنا چاہیے تو یہ بال ہماری شخصیت میں خوبصورتی کا باعث بنیں گے بہ نسبت ٹنڈ کے! یہی جواب اصل میں داڑھی کے جواز کیلئے استعمال کیا جاسکتا ہے۔ اس کیلئے فتاویٰ کی ضرورت نہیں۔ قدرت نے داڑھی مرد کو عطاء کی ہے۔ اب مردوں کا کام ہے کہ اپنے چہروں کو روزانہ چھیلنے کے بجائے داڑھی کو بڑھنے دیں اور اس کو آراستہ کریں اور اپنی مردانگی کا ثبوت اپنے چہروں سے دیں۔ کچھ لوگ اپنی گفتگو میں یہ کہتے ہوئے نظر آتے ہیں کہ فلاں شخص داڑھی رکھ کے جھوٹ بول رہا ہے، یا کچھ افراد نے داڑھی رکھی ہوئی ہے اور خواتین کو دیکھتے پھرتے ہیں۔ ایسے لوگ...

ناران کی سیر

 ناران کی سیر راولپنڈی سے ناران کے سفر کی روداد جو ذاتی مشاہدے پر مشتمل ہے۔ اس سفرنامے میں مزید اہم مقامات کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ اپنے شہر سے دور کوئی بھی سفر کرنے سے پہلے اس سے متعلق معلومات حاصل کرنا بہت ضروری ہے۔ شمالی علاقوں کا تفریحی دورہ کرنا ہو اور ہر قسم کی مشکلات سے محفوظ رہنا چاہتے ہوں تو بہتر ہے کہ کسی سیاحتی گروپ یا کمپنی کے ساتھ سفر کیا جائے۔ سیاحتی کمپنی کے خرچے تو زیادہ ہوتے ہیں لیکن یہ آپ کو اتنی سہولیات فراہم کرتی ہیں کہ آپ ہر قسم کی کوفت سے بچ جاتے ہیں۔ اگر آپ محدود خرچے میں ناران کی سیاحت کرنا چاہتے ہیں تو آپ کو راولپنڈی سے گائڈ کی خدمات حاصل کرنا ہونگی، اس کیلئے آپ پہلے سے معاوضہ اور مقامات طے کرسکتے ہیں۔ کچھ گائڈ آپ کو مناسب داموں میں ہوٹل کے کمرے اور طعام کا بندوبست کرواسکتے ہیں۔ جتنا تجربے کار گائڈ آپ کو ملے گا اتنا ہی آپ کا سیاحتی سفر بہتر ہوگا۔ جو حضرات اپنے گھر کی خواتین اور بچوں کے ساتھ ناران کا سفر کرنا چاہتے ہیں تو یہ بات مدِنظر رکھیں کہ ان کو طویل سفر کرنا ہوتا ہے اور آپ کو آرام کے کم مواقع میسر آسکتے ہیں۔ مجوعی طور پر یہ سیاحتی دورہ آپ کو تھکن میں مبت...