لڑکیوں کی شادی کیلئے کفو کی اہمیت
اسلامی فقہ میں کفو کیا ہے۔ اس کی شرعی حیثیت اور معاملات واضح کئے گئے ہیں۔ شادی کے موقع پر کفو کی اہمیت پر زور دیا گیا ہے۔
دینِ اسلام میں جو بھی احکامات ہیں ان کا مقصد ایک بہترین معاشرہ تخلیق کرنا ہے جہاں کسی قسم کا کوئی فساد نہ ہو۔ شرعی احکامات ہر طرح کی انسانی ضروریات اور جذبات کا احاطہ کرتے ہیں اور ممکنہ خطرات سے معاشرے کو محفوظ رکھتے ہیں۔ اللہ تعالٰی کے نزدیک حلال کاموں میں سب سے برا عمل طلاق ہے۔ میاں بیوی میں علحیدگی ہو تو اس عمل سے شیطان سب سے زیادہ خوش ہوتا ہے۔ اسی لئے لڑکیوں کی شادی کیلئے کفو کی بہت اہمیت ہے اور شریعت میں اس پر زور دیا گیا ہے۔ آج کل کے دور میں طلاق کی شرح بڑھتی جارہی ہے لحاظہ اب تمام رشتوں میں کفو کو اہمیت دینی ہوگی۔
کفو کی تعریف؛
لفظ کفو، سورۃ اخلاص میں ملتا ہے، اس کا مطلب ہمسری یا برابری کے ہیں۔ یعنی دو افراد میں قبیلہ یا خاندان، معاشی حیثیت، تعلیمی قابلیت، رنگ و روپ اور معاشرتی زندگی میں اگر برابری ہو تو اس کو کفو کہا جائے گا۔ شرعی لحاظ سے لڑکی کا کفو ایسے دیکھا جاتا ہے کہ لڑکا مرتبے کے لحاظ سے لڑکی سے اونپر یا برابر ہو۔ اگر کسی ایک مرتبے پر لڑکا، لڑکی سے کم ہے اور دوسری حیثیت میں اس کا مرتبہ زیادہ ہے تو ایسا شخص بھی کفو پر پورا اترسکتا ہے۔ اکثر علماء کرام کھانے میں پسند نا پسند، نمک اور مرچوں کے استعمال کے لحاظ سے بھی کفو دیکھ رہے ہوتے ہیں۔
مسلمان خاتون کے کفو کا معیار؛
۔ آزاد عورت کا غلام کے ساتھ کفو نہیں۔
اس سے متعلق مشہور واقعہ حضورﷺ کی پھوپھی زاد حضرت زینب رضی اللہ عنہا اور حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کی شادی کا ہے۔ کفو نا ہونے کی وجہ سے دونوں قابلِ احترام ہستیوں کا رشتہ قائم نہ رہ سکا۔
۔ سادات کا کفو سادات کے ساتھ ہے۔
اس کے علاوہ سادات، صدیقی اور فاروقی خاندان میں بھی رشتہ کرسکتے ہیں۔
۔ قریشِ عرب کا کفو قریش کے ساتھ ہے۔
ماضی میں جزیرۃ العرب کے مرد حضرات ریاست حیدرآباد دکن میں روزگار کی تلاش میں آئے تھے اور مقامی خواتین سے شادیاں کی تھیں۔ اس لئے اگلے زمانے میں حیدرآبادی نوجوان بھی عربوں کی نظر میں کفو میں شامل تھے۔
۔ عربوں کا کفو عربوں کے ساتھ ہے۔
مسلمان خاتون کا کفو پیدائشی مسلمان مرد کے ساتھ ہے۔
نومسلم، اہلِ کتاب اور مشرک مرد سے نکاح مناسب نہیں۔
عقائد کے لحاظ سے کفو کا معیار۔
اہلسنت لڑکی کا شیعہ، بوہری، آغاخانی اور فساق و فجار یا دہریے سے نکاح مناسب نہیں۔ جو خاندان دیندار نہیں ہوتے ان میں عمل کی کمی کی وجہ سے اس بات کو اہمیت نہیں دی جاتی لیکن دین دار گھرانوں میں صحیح العقیدہ کو ترجیح دینی چاہئے۔
مسلک کے لحاظ سے کفو کا معیار۔
کچھ مسالک میں زیادہ اختلاف نہیں ہوتا، جیسے دیوبندی کا اہلحدیث، جماعت اسلامی اور کچھ بریلوی علماء سے معمولی سا اختلاف ہے تو آپس کی ذہنی ہم آہنگی سے کفو ہوسکتا ہے۔ ان میں سے جو گروہ شدید اختلاف رکھتے ہیں ان میں رشتہ کرنے میں احتیاط لازمی ہے۔
اس کے علاوہ حسب نسب، بول چال، رکھ رکھاؤ کی بنیاد پر بھی کفو دیکھنا چاہئے۔
اگر لڑکی تمیزدار خاندان جو اعلیٰ درجے کی گفتگو کرتا ہے، سے تعلق رکھتی ہو تو وہ عامیانہ زبان استعمال کرنے والے خاندان میں کیسے گزارا کرسکتی ہے۔ · تعلیمی قابلیت کی بھی بہت اہمیت ہے۔ لیکن موجودہ دور میں لڑکیاں لڑکوں سے نسبتاً زیادہ تعلیم یافتہ ہیں تو اس سلسلے میں ضروری ہے کہ لڑکا تعلیمی لحاظ سے قریب ترین ہو یا دیگر علوم و فنون میں مہارت رکھتا ہو۔ مندرجہ بالا تجاویز کو مدِنظر رکھا جائے تو امید ہے کہ رشتے مضبوط اور پائدار ثابت ہوں گے۔
Comments
Post a Comment
آپ کی رائے ہمارے لئے بہت قیمتی ہے۔