تبلیغی جماعت کے احوال وَ اثرات
برصغیر میں تبلیغی جماعت کی شروعات، طریقہ کار، نظریات اور معاشرے پر ان کے اثرات سے متعلق مختصر تنقیدی مضمون ہے۔
تبلیغی جماعت پوری دنیا میں اشاعتِ اسلام کیلئے جدوجہد کررہی ہے۔ ان کے کام کے نتائج بہت حوصلہ افزا ہیں اور قدر کی نگاہ سے دیکھے جاتے ہیں۔ ہر طرح کے اختلافات سے دوری اور متنازع جماعتوں سے غیر وابستگی کی وجہ سے ہر جگہ ان کو قبول کرلیا جاتا ہے۔ یہ جماعت نیک، پرہیزگار اور باعمل لوگوں پر مشتمل ہے جنہیں بڑے علماءکرام کی حمایت بھی حاصل ہے۔ قرآن میں اللہ تعلٰی فرماتے ہیں "اے ایمان والوں پورے کے پورے دین میں شامل ہوجاؤ (مفہوم)" یعنی دین کا کوئی بھی شعبہ ایک مسلمان چھوڑ نہیں سکتا۔ اس لحاظ سے دیکھا جائے تو تبلیغی جماعت میں کچھ کمزوریاں نظر آتی ہیں جس سے یہ کامل نہیں ہوسکے اور یہی وجہ ہے کہ ہر سال اس جماعت میں لاکھوں افراد کی شمولیت کے باوجود معاشرے میں کوئی فرق محسوس نہیں ہوتا۔
تبلیغی جماعت کا سلسلہ 1925 کے بعد سے شروع ہوا جس کی بنیاد مولانا الیاس کاندھلوی نے رکھی۔ اس وقت کے بڑے علماءِ کرام نے اس جماعت کے طریقہ کار پر اعتراض کیا تھا لیکن مولانا صاحب نے اس کارِخیر کو انجام دے ہی ڈالا۔ علماء کرام نے بہرحال اس جماعت کو قبول کرلیا اور درسِ نظامی کے فاضل علماء کو اس جماعت میں وقت لگانے کی ترغیب بھی دی جاتی ہے۔ تبلیغی جماعت کی کامیابی میں مولانا عبدالوہاب کا سب سے بڑا ہاتھ ہے۔ مولانا صاحب نے اپنی پوری زندگی تبلیغِ دین کے کام پر وقف کردی، دیگر معاملات سے مزید متنازعہ امور سے خود کو بچائے رکھا جس سے اس جماعت کو ہر طبقے میں قبولیت ملی۔
اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے اس کے کسی بھی شعبے کو چھوڑ کر مسلمان کامیاب نہیں ہوسکتا۔ تبلیغی جماعت نے خود کو تبلیغ اور فضائل تک محدود کرکیا اور اس پر مطمئن ہوگئے مزید یہ کہ دوسرے شعبوں سے وابستہ جماعتوں کو تنقید کا نشانہ بنانا شروع کردیا جو کہ دین کی ہی خدمت کررہے تھے۔ یہ جماعت اس خوش فہمی کا شکار ہے کہ تبلیغ کے ذریعے ہی دنیا میں انقلاب لایا جاسکتا ہے۔ جب کہ علماء کرام کہتے ہیں کہ یہ جماعت ہزارسال بھی محنت کرتی رہے تب بھی دین کا نفاذ قائم نہیں کرواسکتی۔ دین تو جنابِ نبیِ کریم ﷺ کے طریقے سے ہی قائم ہوسکتا ہے اپنے طریقوں سے نہیں۔ سیاست اور جہاد بھی دین کا ہی حصہ ہیں جس سے اجتناب مناسب نہیں۔
تبلیغی جماعت کا طریقہ کار اکثر مناسب نہیں ہوتا اور دوسروں کے لئے کوفت کا باعث بن جاتا ہے۔ اکثر کھانے کے یا گھر کے کسی اہم کام کے دوران اس جماعت کے ارکان دروازے پر آجاتے ہیں اور بغیر وقفے کے اپنا طویل درس شروع کردیتے ہیں جس سے سننے والا بےزار ہوجاتا ہے اور کچھ لوگ تو ان سے دور بھاگنے لگتے ہیں۔ جبکہ تبلیغ کا کام حکمت اور موقع کی مناسبت سے کیا جاتا ہے۔ فضائل کے نام پر ضعیف احادیث کا مجموعہ لوگوں میں منتقل کیا جارہا ہے جس سے لوگ نادانستی میں خلافِ سنت عمل کرنے لگتے ہیں۔ ان کی اصطلاح کے حساب سے وقت لگانے والے کو اہمیت حاصل ہوتی ہے جب کہ مشاہدہ ہے کہ چار مہینے لگانے والے بھی جب واپس آتے ہیں تو ان کے اندر کارگزاری کے علاوہ کوئی تبدیلی نہیں محسوس ہوتی۔
موجودہ دور میں تبلیغی جماعت اور متنازعہ ہوگئی ہے۔ مولانا طارق جمیل نے ایک جماعت کی سیاسی حمایت کرکے خود کو اور تبلیغی جماعت کے افراد کو غلط راہ پر ڈال دیا ہے۔ تو اب تبلیغی یہ بات نہیں کہ سکتے کہ ان کا کسی مسلک یا سیاسی گروپ سے تعلق نہیں۔
ہندوستان میں دین اولیاءِ کرام نے پھیلایا تھا۔ ایک ایک ولیِ کامل نے کئی لاکھ افراد کو مسلمان کیا تھا۔ اولیاءِ کرام کے راستے پر چل کر ہی دین کی اشاعت اور اقامت کا کام کیا جاسکتا ہے بصورتِ دیگر ہم لوگ کامل مسلمان نہیں بن سکتے اور نہ ہی دوسرے مذاہب والوں کیلئے مثال قائم کرسکتے ہیں۔
Comments
Post a Comment
آپ کی رائے ہمارے لئے بہت قیمتی ہے۔