مدارس کے طلباء کی تعلیم و تربیت
مدارس نے آج کے دور میں ایسا نظامِ تعلیم اپنایا ہوا ہے جو کہ ہماری تہذیب، روایات اور مذہب کے عین مطابق ہے۔ اس مضمون میں مدارس کے نظام کے متعلق مختصر گفتگو کی گئی ہے۔
کسی بھی ملک کی نظریاتی اور تہذیبی اساس کی حفاظت کیلئے اس کا نظامِ تعلیم اہمیت رکھتا ہے۔ اعلیٰ تعلیم سے ہی اخلاقی اور مادی ترقی ممکن ہے۔ لیکن اس کیلئے ضروری ہے کہ تعلیم عام فہم زبان میں اور اپنی روایات و عقائد کے مطابق ہو۔ بدقسمتی سے ہمارے تعلیمی ادارے ان سب باتوں سے مبرا ہیں اور محظ مغربی ذریعہ تعلیم اور ماحول کو اجاگر کررہے ہیں۔ دینی تعلیمی ادارے اس معاملے میں اپنی روایات کو برقرار رکھے ہوئے ہیں۔ جو قوم اپنے اصل کو بھول جائے تو اس کی دنیا میں کوئی حیثیت نہیں ہوتی۔
مدارس میں طالبِ علم کی تعلیم کے ساتھ ساتھ تربیت پر بھی زور دیا جاتا ہے۔ اساتذہ کا احترام سب سے زیادہ مدارس میں ہی دیکھنے کو ملتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ پرانے طلبا و طالبات کا اکرام اور نئے کا خیال بھی رکھا جاتا ہے۔ سیاسی اور علاقائی تعصب بھی کم ہی دیکھنے کو ملتا ہے۔ جبکہ عام تعلیمی اداروں میں تعصب کی بنیاد پر لڑائی جھگڑا عام بات ہے۔
مدارس میں ابھی تک یہ نظام رائج ہے کہ طالبِ علم پڑھ کر ہی امتحان پاس کرسکتا ہے۔ نقل اور دیگر غلط ذرائع سے کامیابی حاصل کرنا ممکن نہیں۔ اس لئے مدارس سے فارغ التحصیل افراد سے گفتگو کرنے سے پتا چلتا ہے کہ واقعی تعلیم یافتہ ہیں۔ جس موضوع پر بھی بات ہو عالم کی اس میں دسترس نظر آتی ہے۔ یہ محض تنگ نظری کی بات ہے کہ مدارس کے نصاب کو دقیانوسی سمجھا جائے۔ یونیورسٹیوں میں بھی تو ایسے ڈپارٹمنٹ موجود ہوتے ہیں جہان ریاضی اور سائنسی مضامین نہیں پڑھائے جاتے لیکن ان پر کوئی بھی اعتراض نہیں کرتا تو پھر مدارس کے نصاب پر اعتراض کیوں؟ تو جو لوگ اعتراض کرتے ہیں کہ مدارس میں جدید تعلیم مہیا نہیں کی جاتی اس لئے مدارس کے طالب دوسروں سے پیچھے ہیں۔ ایسے لوگوں سے گزارش ہے کہ پہلے یونیورسٹیوں میں موجود آرٹس کے ڈپارٹمنٹ بند کروائیں پھر مدارس پر اعتراض کریں۔
مدارس کا موجودہ نظام تقریباً 250 سالوں سے قائم ہے۔ پاکستان کے تعلیمی بورڈ کارکردگی کے لحاظ سے زوال پذیر ہوتے جارہے ہیں لیکن تمام مسالک کے مدارس کے جو مجالس علمی ہیں ان سب نے اپنی کارکردگی کو سنبھالا ہوا ہے، اس میں مزید جدت نظر آرہی ہے۔ اگر مدارس کی تعلیم کو برابری کی بنیاد پر اہمیت دی جائے تو ہر ادارے میں مدارس کے افراد ہی نظر آئیں گے اور ہر ادارہ بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کرے گا۔ کیونکہ ہمارا عام نظامِ تعلیم ہمیں قابل افراد مہیا نہیں کررہا بلکہ محض کاغذ کے ٹکڑے مہیا کررہا ہے جس کی بدولت ایک شخص اعلیٰ تعلیم یافتہ کہلاتا ہے چاہے اس کو عملی طور پر کچھ آتا ہو یا نہ۔
مدارس کی تعلیم کا سب سے بڑا فائدہ عقائد اور اعمال کی درستگی ہے۔ ہم سب مسلمان ہیں لیکن ہم میں سے اکثر دین کی بنیادی تعلیم سے بھی واقف نہیں۔ اِدھر اُدھر سے سن کر دین پر عمل کررہے ہوتے ہیں۔ تو یہ مدارس ہی ہیں جو دین کی حفاظت کا نظام قائم کئے ہوئے ہیں اور شریعت کو 1400 سال سے اپنی اصل شکل میں ہمارے سامنے قائم رکھا ہوا ہے۔
Comments
Post a Comment
آپ کی رائے ہمارے لئے بہت قیمتی ہے۔