مسلمانوں میں ناقص دین دار طبقہ
اس بلاگ میں دین دار طبقے کی کمزوریاں اور عام لوگوں کے ان سے بیزاری کے اسباب پر روشنی ڈالی گئی ہے۔
دین داروں اور دنیاداروں کا تقابل؛
جس معاشرے میں دنیا دار طبقہ فضول رسومات، فضول خرچیوں، غلط عقائد، غیر قوموں کی اندھی تقلید، طبقاتی نظام اور تعصبات وغیرہ میں مبتلا ہو اس معاشرے کے دین دار طبقہ کا ناقص ہونا اچنبھے کی بات نہیں۔ ظاہری دین اور اس کے احکامات تو دین داروں کے ہی طفیل زندہ ہیں۔ اگر یہ دین دار نہ ہوں تو اسلام کی اصل شکل ہی نہ رہے۔ اکثر لوگوں کو دین دار ناقص محسوس ہوتے ہیں کیونکہ وہ خود دین سے بیزار ہوتے ہیں۔ ایک معاشرہ میں دنیا دار ہمیشہ دین داروں سے زیادہ ہوتے ہیں لحاظہ اگر معاشرہ زوال پذیر ہے تو اس کے اصل ذمہ دار دنیا دار ہی کہلائے جائیں گے نہ کہ دین دار۔
ہمارے معاشرے میں دین دار طبقے کو ہر معاملے سے الگ رکھا جاتا ہے۔ زیادہ تر صرف درس اور تدریس تک ہی محدود رہتے ہیں۔ اسی طرح خانقاہ والے اور تبلیغ والے بھی اپنے دائرے تک ہی محدود ہیں۔ اگر کوئی عام شخص کسی خوشی، غم یا دیگر معاملے میں دین کی بات کرے تو اسے مولوی کہ کر چپ کروادیا جاتا ہے اور خود ساختہ رسومات کو ترجیح دی جاتی ہے۔ جب دین دار طبقے کو ہر معاملے سے دور رکھا جائے تو پھر معاشرے میں موجود خرابیوں کا ذمہ دار ان کو نہیں ٹھرایا جاسکتا۔
دین دارطبقے کی کمزوریاں؛
دین داروں کا سب سے بڑا مسئلہ خود کو دوسروں سے برتر سمجھنا ہے۔ پانچ وقت کا نمازی خود کو دوسروں سے افضل سمجھ رہا ہوتا ہے جبکہ دین کے پانچ ارکان ہیں اور ایک رکن عبادات کا پانچواں حصہ نماز ہے، تو صرف نماز پڑھنے سے کوئی خود کو کیسے کامل سمجھ سکتا ہے۔ ہمارا دین تو ہمیں انکساری کی تعلیم دیتا ہے لیکن دین دار اس کے الٹ ثابت ہورہے ہیں۔ کوئی دنیا دار شخص اگر دین داروں کے قریب آنا چاہے تو ان کا رویہ اس کی حوصلہ شکنی کرتا ہے۔ غیر مسلک والوں کیلئے دین داروں میں کوئی رواداری نظر نہیں آتی۔ معاشرے میں عود کر جانے والے نئے رجحانات سے بھی یہ متنفر رہتے ہیں جس سے فقہی مسائل میں اضافہ ہوجاتا ہے۔ دین کا بنیادی جز اعلٰی اخلاقیات ہیں جس سے ہمارا دین دار طبقہ دور نظر آتا ہے، لحاظ اور مروت کا بھی فقدان ہے۔
جو ادارے دین داروں کے ہیں اکثر وہاں کے ملازمین سے سخت کام لیا جاتا ہے اور تنخواہ کے معاملے میں بخل کا مظاہرہ کیا جاتا ہے۔ ہر سال حج یا عمرے پر جانے والے دین داروں کے ملازمین اپنے گھر کا ماہانہ خرچہ چلانے کے بھی قابل نہیں ہوتے علاوہ ازیں ہر وقت انکو ملازمت سے فارغ ہونے کا دھڑکا بھی لگا رہتا ہے۔ اکثر اوقات کار کی پابندی نہیں کی جاتی حتٰی کہ تعطیل میں بھی ملازمین کو بلالیا جاتا ہے۔ یقیناً سارے دین دار آجر ایسے نہیں ہوتے ہونگے لیکن اکثریت پیشہ ورانہ صلاحتیوں سے عاری نظر آتی ہے۔ دین دار خاتون سے شادی بھی اکثر مردوں کیلئے عذاب بن جاتی ہے کیونکہ انکو شوہر کی خدمت سے زیادہ اپنے حقوق سے متعلق فتوے یاد ہوتے ہیں۔
ہمارا دین ہر لحاظ سے کامل ہے۔ اس پر مکمل عمل کرنے سے ہی مسلمان دوسروں کیلئے مثال اور نمونہ بن سکتا ہے۔ درسِ نظامی اور تخصص کرنا ہی کافی نہیں بلکہ ہمارے نبی کریمﷺ کے اسوہ حسنہ پر عمل کرنا، لوگوں کے ساتھ اخلاق سے پیش آنا، دین میں آسانی کی نصیحت کرنا، معاملات اور معاشرت پر زور دینا اور انسانی حقوق کو ترجیح دینا؛ یہ ایسے کام ہے جن پر عمل کرنے سے ہمارا دین دار طبقہ قابلِ تقلید بن سکتا ہے۔
Comments
Post a Comment
آپ کی رائے ہمارے لئے بہت قیمتی ہے۔