Skip to main content

شیعت اور دینِ اسلام

 شیعت اور دینِ اسلام

شیعہ مذہب کا اسلام میں مقام اور معاشرے میں اس مذہب کے اثرات کا ذکر کیا گیا ہے۔

شیعیت اور اسلام دو الگ الگ مذاہب ہیں۔ اسلام کا شیعیت سے کوئی تعلق نہیں۔ شیعیت کی مماثلت یہود سے ہے، مزاجاً اہلِ تشیع اور یہود ایک ہیں۔ سب جانتے ہیں کہ یہود ہمیشہ اپنی سازشی ذہنیت کی وجہ سے بے دخل کئے گئے، یہی حال اہلِ تشیع کا ہے؛ عراق، شام اور بحرین میں یہی عناصر ہیں جو فساد پھیلارہے ہیں۔ ملک شام کا مسئلہ حل ہوجاتا اگر ایران مداخلت نہ کرتا؛ یہ جتنا بھی خون خرابہ ہوا ہے اس کے ذمہ دار شیعہ جنگجو ہیں۔ صحابہ کرام رضوان اللہ اجمعین سے بغض رکھنا، سازشی ذہن اور اہلِ ایمان کو بہانے بہانے اشتعال دلانا؛ یہود کا بھی یہی کام ہے۔ شیعہ مذہب اسلام میں نقب لگاکر شروع ہوا۔ کلمہ الگ، ارکان الگ، عقائد الگ؛ کچھ بھی دین کے مطابق نہیں۔

شیعہ مذہب کی کوئی ٹھوس بنیاد نہیں، یہ محظ سیاست اور ضد کی بناء پر وجود میں آیا۔ اس مذہب کی بنیادی باتیں ہر زمانے میں دلائل سے رد کی جاتی رہی ہیں "لیکن میں نہ مانوں" والی ذہنیت ہے۔ مثال کے طور پر حضرت علی کرم اللہ وجہ کی خلافت پر زور دینا حالانکہ آپ نے خود خلفاء راشدین کی بیعت کی تھی۔ تو جب حضرت علی کرم اللہ وجہ کو کوئی اعتراز نہیں تو یہ شیعہ کون ہوتے ہیں اعتراز کرنے والے۔ اگر شیعہ یہ دعوٰی کرے کہ حضرت علی کرم اللہ وجہ نے دل سے خلفاء راشدین کی بیعت نہیں کی تو یہ حضرت علی کرم اللہ وجہ پر جھوٹ اور بزدلی کا گھناؤنا الزام ہے۔ دوسری مثال حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کی وراثت کا ہے، جو کہ حضرت علی کرم اللہ وجہ کی خلافت میں بھی نہ ملی تو پھر کیسا اعتراز۔ ایک انتہائی غلیظ الزام یہ ہے کہ حضرت عمرفاروق رضی اللہ عنہ نے حضرت فاطمہ کو چوٹ پہنچائی جس سے آپ کی وفات ہوئی؛ یہ الزام بھی حضرت علی کرم اللہ وجہ کی شجاعت پر شک کرنا ہے۔ بہت سے شیعہ ظاہر میں خلفاء راشدین پر اعتراز نہیں کرتے لیکن کھلم کھلا حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ پر اعتراز کرتے ہیں کہ انہوں نے اقتدار کی خاطر حضرت علی کرم اللہ وجہ اور حضرت حسن رضی اللہ عنہ سے جنگ کی۔ جب حضرت حسن رضی اللہ عنہ نے آپ کی بیعت کرلی تو یہ الزام بھی ختم ہوجاتا ہے۔ اس پر مزید گفتگو کرنے سے حضرت حسن رضی اللہ عنہ پر بھی جھوٹ اور بزدلی کا الزام آتا ہے(معاذ اللہ)۔

تو بظاہر شیعہ مذہب کے ماننے والے آلِ رسول سے محبت کا دعوٰی تو کرتے ہیں لیکن حقیقتاً ان کے عقائد سے تحقیرکا اظہار ہوتا ہے۔ کربلا کا افسوس ناک واقعہ جو ہوا اس کو بھی ان لوگوں نے اپنے سیاسی مقاصد کیلئے استعمال کیا۔ غیر جانب داری سے سوچیں تو جن لوگوں نے حضرت حسین رضی اللہ عنہ کو بلایا اور دھوکا دیا وہ زیادہ بڑے مجرم تھے نہ کہ یزید اور اس کی افواج۔ یہاں تک کہ حضرت حسین رضی اللہ عنہ کو شہید کرنے والے وہی لوگ تھے جنہوں نے حضرت کو دھوکے سے بلایا۔ لیکن کبھی بھی ان اہلِ تشیع نے ان کوفیوں کو برا نہیں بولا بلکہ اپنی ساری توپوں کا رخ یزید اور اس کے خاندان والوں کی طرف رکھا تاکہ اس سے سیاسی فائدہ اٹھا سکیں۔

شیعہ مذہب سے ہمیشہ اسلام کو نقصان پہنچا۔ نئے نئے دین کے کام ایجاد کرنا، اپنے ہاتھوں بنائی گئی چیزوں کو مبارک ہستیوں سے منسوب کرکے انہیں متبرک کردینا اور انکی حرمت کیلئے ماراماری کرنا یہ انکے کارنامے ہیں۔ ماضی میں اسلامی حکومتوں کو انکی ریشہ دوانیوں کے سبب نقصان پہنچتا رہا۔ اج بھی ان کا وجود مسلمانوں کیلئے کوفت کا باعث ہے۔ محرم میں تعزیے نکالنا ان کا مذہبی فریضہ ہے جس کی وجہ سے عام تعطیل کرنی پڑتی ہے، سڑکیں بند کردی جاتی ہیں جس سے وہاں کے رہائشی مشکلات کا شکار ہوجاتے ہیں، امن و امان کا خطرہ پیدا ہو جاتا ہے، جلوس کے راستوں میں آنے والے مسلمانوں کے مدارس اور مساجد کو خطرہ رہتا ہے اور انکی اشتعال دلانے والی حرکتوں سے نقص امن اور فساد کا خدشہ رہتا ہے۔

شیعہ مذہب ایسا فتنہ ہے کہ اس کو جتنا دبایا جائے یہ اتنا ہی بڑھتا ہے لہٰذا اس کا علاج یہ ہے کہ شیعیت کے آثار اور نشانات کو مٹادیا جائے (علَم وغیرہ)، شیعہ کو زبردستی یا حکمت کے ساتھ قانون کا پابند کیا جائے، تمام کلیدی عہدوں سے ان کو نکال دیا جائے تاکہ قانون کی بالادستی اور مضبوطی رہے۔ اہلِ تشیع کو پابند کرنا ہوگا کہ وہ اپنی تمام مذہبی رسومات اپنی بارگاہوں میں ادا کریں، تعزیے صرف مقررہ راستوں سے گزارے جائیں، لاؤڈ اسپیکر پر مکمل پابندی ہو، سبیلیں راستوں کو بند کرکے نہ لگائی جائیں اور اشتعال دلانے والی باتوں پر بروقت کاروائی کی جائے تو اس فتنے سے محفوظ رہا جاسکتا ہے۔

Comments

Popular Posts

نواز شریف

جب سے مملکتِ پاکستان کا قیام وجود میں آیا ہے تب سے ہی یہاں سیاسی استحکام کا فقدان رہا ہے۔ قائدِ اعظمؒ، لیاقت علی خانؒ اور دیگر حکمرانوں نے کچھ عرصہ تک ہی حکومت کی ذمہ داریاں اٹھائیں، لیکن باقائدہ حکومت کا آغاز جنرل ایوب خان کی صدارت سے شروع ہوا۔ یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ اسی دورِ حکومت میں پاکستان نہ صرف اپنے پیروں پر کھڑا ہوا بلکہ اس کا شمار ایشیاء کے ترقی یافتہ ممالک میں ہونے لگا۔ پاکستان کے خلاف سازش کرنے والے عناصر جانتے تھے کہ جب بھی یہاں مستحکم حکومت ہوگی تو ملک ترقی کرے گا۔ لہٰذا مختلف ذرائع استعمال کرکے ہمارے دشمن پاکستانی قوم میں مایوسی پھیلاتے رہے اور اس وقت کی موجود، حکومت کے خلاف الزامات کے ذریعے لوگوں کو حکومت سے بیزار کرنے کی کوشش کرتے رہے، یہاں تک کہ پرویز مشرف جیسے امریکہ کو سجدہ کرنے والے، وقت کے فرعون، کو بھی حکومت سے محروم ہونا پڑا۔ پاکستانی عوام میں تعلیم اور شعور کی کمی ہے جس کی وجہ سے وہ باآسانی سازشوں کا شکار ہوجاتے ہیں اور تبدیلی کی خواہش مند ہوجاتے ہیں۔ یہ نہیں غور کرتے کہ حکومت مستحکم ہے، ترقیاتی کام چل رہے ہیں، زندگی اچھی گزر رہی ہے، تمام کاروبارِ زندگی عمد...

داڑھی کا جواز

  داڑھی کا جواز اگر کوئی شخص کہے کہ سر پر ہمیشہ استرا پھیرنا چاہیے تاکہ انسان بالوں سے پیدا ہونے والی پریشانیوں سے بچا رہے، اگر بال ہونگے تو جوئیں بھی ہونگی، بال لمبے ہوکر منہ پر آئیں گے، بال ہوا سے بکھر تے رہیں گے اور انسان ان میں جنگلی لگے گا لہٰذا سر کے بالوں کے بغیر انسان زیادہ خوبصورت لگے گا، تو ایسے شخص کو آپ کیا جواب دیں گے؟ ظاہر ہے کہ اس شخص کو کہا جائے گا کہ بال اگنا ایک قدرتی عمل ہے، اس کو روکنے کے بجائے ہمیں ان کو آراستہ کرنا چاہیے، ان کی صفائی ستھرائی کا خیال رکھنا چاہیے تو یہ بال ہماری شخصیت میں خوبصورتی کا باعث بنیں گے بہ نسبت ٹنڈ کے! یہی جواب اصل میں داڑھی کے جواز کیلئے استعمال کیا جاسکتا ہے۔ اس کیلئے فتاویٰ کی ضرورت نہیں۔ قدرت نے داڑھی مرد کو عطاء کی ہے۔ اب مردوں کا کام ہے کہ اپنے چہروں کو روزانہ چھیلنے کے بجائے داڑھی کو بڑھنے دیں اور اس کو آراستہ کریں اور اپنی مردانگی کا ثبوت اپنے چہروں سے دیں۔ کچھ لوگ اپنی گفتگو میں یہ کہتے ہوئے نظر آتے ہیں کہ فلاں شخص داڑھی رکھ کے جھوٹ بول رہا ہے، یا کچھ افراد نے داڑھی رکھی ہوئی ہے اور خواتین کو دیکھتے پھرتے ہیں۔ ایسے لوگ...

ناران کی سیر

 ناران کی سیر راولپنڈی سے ناران کے سفر کی روداد جو ذاتی مشاہدے پر مشتمل ہے۔ اس سفرنامے میں مزید اہم مقامات کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ اپنے شہر سے دور کوئی بھی سفر کرنے سے پہلے اس سے متعلق معلومات حاصل کرنا بہت ضروری ہے۔ شمالی علاقوں کا تفریحی دورہ کرنا ہو اور ہر قسم کی مشکلات سے محفوظ رہنا چاہتے ہوں تو بہتر ہے کہ کسی سیاحتی گروپ یا کمپنی کے ساتھ سفر کیا جائے۔ سیاحتی کمپنی کے خرچے تو زیادہ ہوتے ہیں لیکن یہ آپ کو اتنی سہولیات فراہم کرتی ہیں کہ آپ ہر قسم کی کوفت سے بچ جاتے ہیں۔ اگر آپ محدود خرچے میں ناران کی سیاحت کرنا چاہتے ہیں تو آپ کو راولپنڈی سے گائڈ کی خدمات حاصل کرنا ہونگی، اس کیلئے آپ پہلے سے معاوضہ اور مقامات طے کرسکتے ہیں۔ کچھ گائڈ آپ کو مناسب داموں میں ہوٹل کے کمرے اور طعام کا بندوبست کرواسکتے ہیں۔ جتنا تجربے کار گائڈ آپ کو ملے گا اتنا ہی آپ کا سیاحتی سفر بہتر ہوگا۔ جو حضرات اپنے گھر کی خواتین اور بچوں کے ساتھ ناران کا سفر کرنا چاہتے ہیں تو یہ بات مدِنظر رکھیں کہ ان کو طویل سفر کرنا ہوتا ہے اور آپ کو آرام کے کم مواقع میسر آسکتے ہیں۔ مجوعی طور پر یہ سیاحتی دورہ آپ کو تھکن میں مبت...