Skip to main content

اہلِ قرآن، جدید فتنہ

 اہلِ قرآن، جدید فتنہ

امت مسلمہ میں نئے نئے فتنے ظہور میں آرہے ہیں جن سے متعلق آگاہی ضروری ہے۔ ان فتنوں سے بچنے کیلئے عام مسلمان کو اسلام کی بنیادی چیزوں کا پتا ہونا چاہئے۔ اس مضمون میں ایسے ہی فتنے کا ذکر ہے۔

اہلِ قرآن وہ لوگ ہیں جن کا یہ ایمان ہے کہ سارے علوم و فنون چونکہ قرآن میں موجود ہیں اس لئے کسی اور کتاب کی اور کسی عالم کی ضرورت نہیں۔ یہ لوگ فقہا کے ساتھ ساتھ احادیث کا بھی انکار کرتے ہیں اور اس کیلئے مختلف تاویلات پیش کرتے ہیں۔ ایک شخص جو ان پڑھ ہے، ظاہر ہے کہ اسے قرآن پڑھنے اور سمجھنے کیلئے کسی سمجھدار کی ضرورت ہوگی تو وہ سمجھدار شخص عالم کے قائم مقام ہوا، لحاظہ یہ فتنہ اس چھوٹی سی مثال سے ہی باطل ثابت ہوجاتا ہے۔ 

اللہ تعالیٰ نے پہلے انبیاءؑ کو مبعوث فرمایا پھر کتاب نازل کی۔ اگر صرف قرآن ہی کافی تھا تو نبی کی کیا ضرورت؟ انسان سے ہی انسان بنتے ہیں۔ ایک مثال سامنے ہو تو عمل میں آسانی ہوجاتی ہے۔ حدیث سے متعلق اہلِ قرآن کہتے ہیں کہ چونکہ صحابہ کرام کا دور حضور نبی کریمﷺ سے سو سال بعد کا ہے اس لئے احادیث کا اعتبار نہیں، یہ غلط سوچ ہے۔ اصل میں نبی کریمﷺ اور صحابہ کرام رضوان اللہ اجمعین کا زمانہ ایک ہی ہے۔ حضورﷺ کے وصال کے فوراً بعد تابعین کا زمانہ شروع ہوجاتا ہے۔ اور پھر سلسلہ بہ سلسلہ علماء کے ذریعے شریعت ہم تک پہنچی۔

 اگر کوئی اہلِ قرآن بحث پر اتر آئے اور ضعیف و موضوع احادیث کا حوالہ دے تو اس وقت چاہئے کہ اس سے پوچھا جائے؛ جو کتاب آپ کے ہاتھ میں ہے پہلے ثابت کریں کہ وہ قرآن ہے۔ وہ جواب دے گا کہ قرآن میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اس کتاب کو ہم نے نازل کیا اور ہم ہی اس کے محافظ ہیں (مفہوم)۔ تو جواب دیا جائے کہ یہ آیت بھی ہوسکتا ہے کہ کسی نے خود سے ڈال دی ہو۔ تو اہلِ قرآن شرعی اعتبار سے یہ ثابت نہیں کرسکتا کہ جو قرآن ہمارے پاس ہے وہ اصل کتاب ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ نبیِ کریمﷺ کے ذریعے ہی قرآن صحابہ کرام رضوان اللہ، پھر تابعینؒ، تبع تابعینؒ، اولیاِ کرامؒ، علماِ کرامؒ اور پھر ہم تک پہنچا۔ اس کے حافظین بھی متواتر ہر زمانے میں موجود رہے ہیں۔ لحاظہ ہم تو کہ سکتے ہیں کہ یہی قرآن مجید ہے۔ لیکن اہلِ قرآن تو سنت اور احادیث کا انکار کررہا ہے، وہ کیسے ثابت کرے گا قرآن کی اصلیت؟ 

اہلِ قرآن اور ان سے ملتے جلتے اور فتنے اس بات پر زور دیتے ہیں کہ ان کے عقائد پر عمل کرنے سے امت میں اختلاف ختم ہوجائے گا۔ حالانکہ جہاں علم ہوتا ہے وہاں اختلاف لازمی ہوتا ہے۔ ڈاکٹر حضرات کی رائے میں اختلاف پایا جاتا ہے۔ سیاسی نظریات میں اختلاف سب کے سامنے ہے۔ معاشی ماہرین بھی اکثر ایک بات پر متفق نہیں ہوتے۔ اس کے متضاد جاہل اور منفی سوچ والے ایک جیسے خیالات پر متفق ہوجاتے ہیں۔ تو اہلِ قرآن خود کو صحیح ثابت کرنے کیلئے اتحادِ امت کا شوشہ چھوڑتے ہیں۔ اسی طرح دیگر باطل فرقے بھی اتحادِ مسلم یا وحدتِ مسلم کا نعرہ لگا کر لوگوں کو دھوکا دینے کی کوشش کرتے رہتے ہیں۔

 موجودہ دور میں ایک کے بعد ایک فتنوں سے مسلمانوں کا واسطہ پڑرہاہے۔ اس میں زیادہ تر وہ مبتلاء ہورہے ہیں جو دین سے دور ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ دین کی بنیادی معلومات سب کو ہو اور ہمیں یہ معلوم ہو کہ ہم مسلمان کیوں ہیں۔ ہمیشہ علماءِ کرام کے قریب رہنا چاہئے اور نئے فتنوں سے آگاہی حاصل کرنا چاہئے۔  اگر کوئی ہمیں اپنے باطل عقائد سے متاثر کرنےکی کوشش کرے تو ہمیں اپنے صحیح عقائد سے اس کا مقابلہ کرنا چاہئے۔

Comments

Popular Posts

نواز شریف

جب سے مملکتِ پاکستان کا قیام وجود میں آیا ہے تب سے ہی یہاں سیاسی استحکام کا فقدان رہا ہے۔ قائدِ اعظمؒ، لیاقت علی خانؒ اور دیگر حکمرانوں نے کچھ عرصہ تک ہی حکومت کی ذمہ داریاں اٹھائیں، لیکن باقائدہ حکومت کا آغاز جنرل ایوب خان کی صدارت سے شروع ہوا۔ یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ اسی دورِ حکومت میں پاکستان نہ صرف اپنے پیروں پر کھڑا ہوا بلکہ اس کا شمار ایشیاء کے ترقی یافتہ ممالک میں ہونے لگا۔ پاکستان کے خلاف سازش کرنے والے عناصر جانتے تھے کہ جب بھی یہاں مستحکم حکومت ہوگی تو ملک ترقی کرے گا۔ لہٰذا مختلف ذرائع استعمال کرکے ہمارے دشمن پاکستانی قوم میں مایوسی پھیلاتے رہے اور اس وقت کی موجود، حکومت کے خلاف الزامات کے ذریعے لوگوں کو حکومت سے بیزار کرنے کی کوشش کرتے رہے، یہاں تک کہ پرویز مشرف جیسے امریکہ کو سجدہ کرنے والے، وقت کے فرعون، کو بھی حکومت سے محروم ہونا پڑا۔ پاکستانی عوام میں تعلیم اور شعور کی کمی ہے جس کی وجہ سے وہ باآسانی سازشوں کا شکار ہوجاتے ہیں اور تبدیلی کی خواہش مند ہوجاتے ہیں۔ یہ نہیں غور کرتے کہ حکومت مستحکم ہے، ترقیاتی کام چل رہے ہیں، زندگی اچھی گزر رہی ہے، تمام کاروبارِ زندگی عمد...

داڑھی کا جواز

  داڑھی کا جواز اگر کوئی شخص کہے کہ سر پر ہمیشہ استرا پھیرنا چاہیے تاکہ انسان بالوں سے پیدا ہونے والی پریشانیوں سے بچا رہے، اگر بال ہونگے تو جوئیں بھی ہونگی، بال لمبے ہوکر منہ پر آئیں گے، بال ہوا سے بکھر تے رہیں گے اور انسان ان میں جنگلی لگے گا لہٰذا سر کے بالوں کے بغیر انسان زیادہ خوبصورت لگے گا، تو ایسے شخص کو آپ کیا جواب دیں گے؟ ظاہر ہے کہ اس شخص کو کہا جائے گا کہ بال اگنا ایک قدرتی عمل ہے، اس کو روکنے کے بجائے ہمیں ان کو آراستہ کرنا چاہیے، ان کی صفائی ستھرائی کا خیال رکھنا چاہیے تو یہ بال ہماری شخصیت میں خوبصورتی کا باعث بنیں گے بہ نسبت ٹنڈ کے! یہی جواب اصل میں داڑھی کے جواز کیلئے استعمال کیا جاسکتا ہے۔ اس کیلئے فتاویٰ کی ضرورت نہیں۔ قدرت نے داڑھی مرد کو عطاء کی ہے۔ اب مردوں کا کام ہے کہ اپنے چہروں کو روزانہ چھیلنے کے بجائے داڑھی کو بڑھنے دیں اور اس کو آراستہ کریں اور اپنی مردانگی کا ثبوت اپنے چہروں سے دیں۔ کچھ لوگ اپنی گفتگو میں یہ کہتے ہوئے نظر آتے ہیں کہ فلاں شخص داڑھی رکھ کے جھوٹ بول رہا ہے، یا کچھ افراد نے داڑھی رکھی ہوئی ہے اور خواتین کو دیکھتے پھرتے ہیں۔ ایسے لوگ...

ناران کی سیر

 ناران کی سیر راولپنڈی سے ناران کے سفر کی روداد جو ذاتی مشاہدے پر مشتمل ہے۔ اس سفرنامے میں مزید اہم مقامات کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ اپنے شہر سے دور کوئی بھی سفر کرنے سے پہلے اس سے متعلق معلومات حاصل کرنا بہت ضروری ہے۔ شمالی علاقوں کا تفریحی دورہ کرنا ہو اور ہر قسم کی مشکلات سے محفوظ رہنا چاہتے ہوں تو بہتر ہے کہ کسی سیاحتی گروپ یا کمپنی کے ساتھ سفر کیا جائے۔ سیاحتی کمپنی کے خرچے تو زیادہ ہوتے ہیں لیکن یہ آپ کو اتنی سہولیات فراہم کرتی ہیں کہ آپ ہر قسم کی کوفت سے بچ جاتے ہیں۔ اگر آپ محدود خرچے میں ناران کی سیاحت کرنا چاہتے ہیں تو آپ کو راولپنڈی سے گائڈ کی خدمات حاصل کرنا ہونگی، اس کیلئے آپ پہلے سے معاوضہ اور مقامات طے کرسکتے ہیں۔ کچھ گائڈ آپ کو مناسب داموں میں ہوٹل کے کمرے اور طعام کا بندوبست کرواسکتے ہیں۔ جتنا تجربے کار گائڈ آپ کو ملے گا اتنا ہی آپ کا سیاحتی سفر بہتر ہوگا۔ جو حضرات اپنے گھر کی خواتین اور بچوں کے ساتھ ناران کا سفر کرنا چاہتے ہیں تو یہ بات مدِنظر رکھیں کہ ان کو طویل سفر کرنا ہوتا ہے اور آپ کو آرام کے کم مواقع میسر آسکتے ہیں۔ مجوعی طور پر یہ سیاحتی دورہ آپ کو تھکن میں مبت...