Skip to main content

بریلوی مسلک کا ایک پہلو

 بریلوی مسلک کا ایک پہلو

مصنف نے اس پوسٹ میں غیر جانبداری کے ساتھ بریلوی مسلک کا ایک پہلو اجاگر کیا ہے جس کا مقصد صرف سوچ کو دعوت دینا ہے۔

بریلوی مسلک، فقہ حنفی کے ماننے والوں کا ہے۔ اس میں جو فقہ کے مسائل پڑھائے جاتے ہیں وہ دوسرے مسالک میں بھی مانے جاتے ہیں یا مماثلت رکھتے ہیں۔ فقہ کے لحاظ سے دیکھا جائے تو بریلوی اور دیوبندی مسلک میں 95٪ مسائل ایک جیسے ہیں۔ بہت سے مدارس میں دونوں جانب فقہ کا ایک ہی نصاب ہے۔

اختلافات اکثر عقائد اورافکار میں نظر آتے ہیں۔ اور یہی افکار اور نظریات ہیں جو جھگڑوں یا نفرت کا باعث ہیں۔ اگر ان نظریات اور افکار کو پس پشت ڈال دیا جائے اور اعمال پر زور ہو تو منافرت سے بچا جا سکتا ہے۔

اسلام میں زیادہ تر مسالک اپنے اپنے نظریات کے لحاظ سے قرآن اور حدیث کے اعمال پر بحث کرتے ہیں، زور اس بات پر ہوتا ہے کہ وہ زیادہ بہتر ان بنیادی عقائد، فرائض اور واجبات کو سمجھتے ہیں۔

بریلوی مسلک کا ایک پہلو جو زیر موضوع ہے وہ یہ ہے کہ ان کا زورسب سے زیادہ ان اعمال پر ہوتا ہے جو محض مباحات میں شمار ہوتے ہیں۔ جن کو کرنے نہ کرنے سے کوئی گناہ نہیں ہوتا۔ جبکہ زور فرائض، واجبات اور منکرات پر ہونا چاہیئے۔ لیکن چونکہ بنیادی عقائد ایک جیسے ہیں اور فقہ کے مسائل میں بھی زیادہ اختلاف نہیں اس لئے اپنی الگ حیثیت برقرار رکھنے کے لئے بریلوی علماء کو ان اعمال کا دفاع کرنا پڑجاتا ہے جو نہ فرض ہیں، نہ واجب اور نہ ہی حضورﷺ و صحابہ کرام کے اعمال سے ثابت ہیں۔

قرآن میں ایک آیت ہے جس کا مفہوم ہے کہ میں تم ہی جیسا انسان ہوں، یہ نبی کریمﷺ کے الفاظ کو بیان کیا گیا ہے۔ لیکن اتنی واضح آیت کے باوجود وہ تاویلیں پیش کرنے لگتے ہیں کہ اس آیت کا مطلب وہ نہیں جو آپ سمجھ رہے ہیں بلکہ وہ ہے جو ہم سمجھا رہے ہیں۔

ایک عالم کی کتاب دیکھنے کا اتفاق ہوا جس میں وہ میلاد شریف کے لازم ہونے کی تاویل پیش کرتے ہوئے ایک حدیث بیان کرتے ہیں، جسکا مفہوم یہ ہے کہ نبی کریمﷺ پیر کا روزہ رکھتے تھے کیونکہ آپ اس دن پیدا ہوئے تھے تو اس لئے ہمیں بھی میلاد النبیﷺ منانا چاہئے۔ اب کسی بھی بریلوی عالم سے پوچھیں کہ اگر کوئی شخص 12 ربیع الاول کو پانچوں وقت کی نماز جماعت کے ساتھ پڑھے اور منکرات سے خود کو بچائے لیکن میلاد کے دن کو عید کی طرح نہ منائے تو کیا وہ گناہ گار ہوگا؟ یقیناً کوئی بھی اس شخص کے گناہ گار ہونے کا فتوہ نہیں دے سکتا تو ایسے عمل کیلئے اتنی تاویلیں پیش کرنا، اس کو ایمان کا لازمی جز قرار دینا اور اس مسئلے پر لڑائی جھگڑے پر اتر آنا کہاں کی عقلمندی ہے۔

اسی طرح نبی کریمﷺ کے اعمال کو اختیار کرنے پر زور دینے کے بجائے ہم اس بات پر بحث کرتے رہیں کہ آپ نور ہیں یا بشر، حاضر ناضر اور عالم الغیب ہیں یا نہیں! تو اس سے دین کی کونسی خدمت ہو رہی ہے۔ بلکہ فضول بحث جس کا قیامت میں کوئی سوال نہیں ہوگا اس میں لوگوں کو مبتلا کرکے وقت کا ضیاع کیا جا رہا ہے۔

تو ثابت ہوتا ہے کہ اگر بریلوی علماء۔۔ فرائض، واجبات کو کرنے اور منکرات کے بچنے پر زور دیں تو ان سے کوئی اختلاف نہ ہو۔

Comments

Popular Posts

نواز شریف

جب سے مملکتِ پاکستان کا قیام وجود میں آیا ہے تب سے ہی یہاں سیاسی استحکام کا فقدان رہا ہے۔ قائدِ اعظمؒ، لیاقت علی خانؒ اور دیگر حکمرانوں نے کچھ عرصہ تک ہی حکومت کی ذمہ داریاں اٹھائیں، لیکن باقائدہ حکومت کا آغاز جنرل ایوب خان کی صدارت سے شروع ہوا۔ یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ اسی دورِ حکومت میں پاکستان نہ صرف اپنے پیروں پر کھڑا ہوا بلکہ اس کا شمار ایشیاء کے ترقی یافتہ ممالک میں ہونے لگا۔ پاکستان کے خلاف سازش کرنے والے عناصر جانتے تھے کہ جب بھی یہاں مستحکم حکومت ہوگی تو ملک ترقی کرے گا۔ لہٰذا مختلف ذرائع استعمال کرکے ہمارے دشمن پاکستانی قوم میں مایوسی پھیلاتے رہے اور اس وقت کی موجود، حکومت کے خلاف الزامات کے ذریعے لوگوں کو حکومت سے بیزار کرنے کی کوشش کرتے رہے، یہاں تک کہ پرویز مشرف جیسے امریکہ کو سجدہ کرنے والے، وقت کے فرعون، کو بھی حکومت سے محروم ہونا پڑا۔ پاکستانی عوام میں تعلیم اور شعور کی کمی ہے جس کی وجہ سے وہ باآسانی سازشوں کا شکار ہوجاتے ہیں اور تبدیلی کی خواہش مند ہوجاتے ہیں۔ یہ نہیں غور کرتے کہ حکومت مستحکم ہے، ترقیاتی کام چل رہے ہیں، زندگی اچھی گزر رہی ہے، تمام کاروبارِ زندگی عمد...

داڑھی کا جواز

  داڑھی کا جواز اگر کوئی شخص کہے کہ سر پر ہمیشہ استرا پھیرنا چاہیے تاکہ انسان بالوں سے پیدا ہونے والی پریشانیوں سے بچا رہے، اگر بال ہونگے تو جوئیں بھی ہونگی، بال لمبے ہوکر منہ پر آئیں گے، بال ہوا سے بکھر تے رہیں گے اور انسان ان میں جنگلی لگے گا لہٰذا سر کے بالوں کے بغیر انسان زیادہ خوبصورت لگے گا، تو ایسے شخص کو آپ کیا جواب دیں گے؟ ظاہر ہے کہ اس شخص کو کہا جائے گا کہ بال اگنا ایک قدرتی عمل ہے، اس کو روکنے کے بجائے ہمیں ان کو آراستہ کرنا چاہیے، ان کی صفائی ستھرائی کا خیال رکھنا چاہیے تو یہ بال ہماری شخصیت میں خوبصورتی کا باعث بنیں گے بہ نسبت ٹنڈ کے! یہی جواب اصل میں داڑھی کے جواز کیلئے استعمال کیا جاسکتا ہے۔ اس کیلئے فتاویٰ کی ضرورت نہیں۔ قدرت نے داڑھی مرد کو عطاء کی ہے۔ اب مردوں کا کام ہے کہ اپنے چہروں کو روزانہ چھیلنے کے بجائے داڑھی کو بڑھنے دیں اور اس کو آراستہ کریں اور اپنی مردانگی کا ثبوت اپنے چہروں سے دیں۔ کچھ لوگ اپنی گفتگو میں یہ کہتے ہوئے نظر آتے ہیں کہ فلاں شخص داڑھی رکھ کے جھوٹ بول رہا ہے، یا کچھ افراد نے داڑھی رکھی ہوئی ہے اور خواتین کو دیکھتے پھرتے ہیں۔ ایسے لوگ...

ناران کی سیر

 ناران کی سیر راولپنڈی سے ناران کے سفر کی روداد جو ذاتی مشاہدے پر مشتمل ہے۔ اس سفرنامے میں مزید اہم مقامات کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ اپنے شہر سے دور کوئی بھی سفر کرنے سے پہلے اس سے متعلق معلومات حاصل کرنا بہت ضروری ہے۔ شمالی علاقوں کا تفریحی دورہ کرنا ہو اور ہر قسم کی مشکلات سے محفوظ رہنا چاہتے ہوں تو بہتر ہے کہ کسی سیاحتی گروپ یا کمپنی کے ساتھ سفر کیا جائے۔ سیاحتی کمپنی کے خرچے تو زیادہ ہوتے ہیں لیکن یہ آپ کو اتنی سہولیات فراہم کرتی ہیں کہ آپ ہر قسم کی کوفت سے بچ جاتے ہیں۔ اگر آپ محدود خرچے میں ناران کی سیاحت کرنا چاہتے ہیں تو آپ کو راولپنڈی سے گائڈ کی خدمات حاصل کرنا ہونگی، اس کیلئے آپ پہلے سے معاوضہ اور مقامات طے کرسکتے ہیں۔ کچھ گائڈ آپ کو مناسب داموں میں ہوٹل کے کمرے اور طعام کا بندوبست کرواسکتے ہیں۔ جتنا تجربے کار گائڈ آپ کو ملے گا اتنا ہی آپ کا سیاحتی سفر بہتر ہوگا۔ جو حضرات اپنے گھر کی خواتین اور بچوں کے ساتھ ناران کا سفر کرنا چاہتے ہیں تو یہ بات مدِنظر رکھیں کہ ان کو طویل سفر کرنا ہوتا ہے اور آپ کو آرام کے کم مواقع میسر آسکتے ہیں۔ مجوعی طور پر یہ سیاحتی دورہ آپ کو تھکن میں مبت...