Skip to main content

پاکستان تحریک انصاف

 پاکستان تحریک انصاف

تحریک انصاف پارٹی کی سیاسی سوچ اور رویوں سے متعلق ایک تبصرہ

بچپن سے ہم پڑھتے آرہے ہیں کہ اگر کسی لکیر کو بغیر چھوئے چھوٹا کرنا ہو تو اس سے بڑی لکیرکھینچو تو اول الذکر لکیر خود چھوٹی ہوجائے گی، اسی طرح اپنی عمارت کو اونچا کرو بجائے اسکے کہ دوسروں کی عمارتوں کو گرایا جائے۔ لیکن پاکستان تحریکِ انصاف سے وابستہ اور حمایت کرنے والوں نے شاید یہ کہاوتیں نہیں پڑھیں۔ اپنی عمارت اونچی کرنے کیلئے وہ دوسروں کی عمارتیں گرانا چاہتے ہیں اور اپنی لکیر کو بڑا کرنے کی ان میں قابلیت نہیں۔

تحریکِ انصاف غالباً وہ واحد جماعت ہے جودوسری جماعتوں کے عیب ظاہر کرکے اپنے آپ کو قابل ثابت کرنے کی کوشش کرتی ہے۔ اب اچھی بری باتیں تو سب میں ہوتی ہیں لیکن تحریکِ انصاف والے یہ چاہتے ہیں کہ ان کی جماعت کواور ان سے وابستہ لوگوں کو ہر عیب سے پاک سمجھا جائے اور ان کے علاوہ باقی سب برے ہیں۔ اکثر یہ کہتے نظر آتے ہیں کہ ستر سالوں سے پاکستان کو صحیح قیادت نہیں ملی، اور اب ان قابل لوگوں کو ستر سالوں کا ازالا کرنا ہے۔ جب کہ حقیقت یہ ہے کہ ڈھائی سال کی حکومت میں اب تک بوسیدہ نظام میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔ یہاں تک کہ لگتا ہے یہ حکومت تو پچھلی حکومتوں سے زیادہ ناکام اور ناکارہ ثابت ہو رہی ہے۔

امت اخبار میں بہت اچھی بات کہی گئی ہے کہ عمران خان کی عجیب گورنمنٹ ہے جو ہمیشہ مستقبل پر بولتی ہے، اور حال کےحالات پر سوال کرو تو ماضی پر بولنا شروع کردیتی ہے۔ یہ ہماری معاشرتی کمزوری ہے ہم منفی باتوں کا جلد اثر لے لیتے ہیں۔ ہمارے معاشرے میں کسی کو بدنام کرنا بہت آسان کام ہے کیونکہ اس پر کوئی دلیل نہیں مانگتا۔ اب چاہے وہ بندہ کتنا ہی قابل ہو اور اچھی کارکردگی دکھا چکا ہو لیکن بد اچھا بدنام برا۔ یہ مانا کہ پاکستان میں کوئی جماعت بھی کامل نہیں لہٰذا جس کی کارکردگی نسبتاً عمدہ ہو اسی کو بہتر سمجھنا چاہئے۔ اس لحاظ سے پاکستان مسلم لیگ (ن) سب سے بہترکارکردگی والی جماعت رہی ہے۔ لیکن کرپشن کے الزامات لگا کر اس جماعت کو نیچا کرنے کی کوششیں کافی عرصے سے کی جارہی ہیں۔ اس معاملے میں بھی تحریکِ انصاف کے حمایتی سب سے آگے ہیں۔

تحریکِ انصاف سے وابستہ لوگوں پر جب کوئی اعتراض کیا جائے توان کے حمایتی ن لیگ والوں پر کیچڑ اچھالنا شروع ہو جاتے ہیں، بجائے اس کے کہ اعتراض کا جواب دیا جائے۔ حکومت کی کارکردگی پر سوال ہو تو ماضی کی حکومتوں کی غلطیاں اور کمزوریاں واضح کرنے لگتے ہیں۔ ناقص انتظامات پر شکوہ کریں تو یہ انصاف پسند کہتے ہیں کہ ستر سال کا گند اتنی جلدی کیسے صاف ہو!۔ ان کا کوئی وزیر اگر غیر شائستہ حرکت میں مبتلا ہو تو دوسری جماعتوں کے وزیروں کے غیر شائستہ روویے یاد دلانے لگتے ہیں۔ ایسے میں سیدھی سادھی عوام کیا کرے، کس سے فریاد کرے، سب لوگ اچھے حالات کی امید پر قائم ہیں لیکن انکی امیدیں کب پوری ہونگی۔

ایک بزرگ کا قول ہے کہ کبھی بھی کسی مذہبی اور سیاسی جماعت میں شامل مت ہونا، کیونکہ آپ کو اپنی جماعت اور اس کے لیڈر کی غلطیوں کو بھی درست ثابت کرنا پڑجاتا ہے۔ یہی کام ہمارے معاشرے میں ہو رہا ہے، اپنا لیڈر سب سے پاک اور اپنی جماعت سب سے کامل ثابت کرنے کی کوششیں عام ہیں۔ اس کوشش میں لوگ کبھی کبھار حد سے گزر جاتے ہیں۔ رشتوں کے تقدس، دوستی، بڑوں کا ادب کسی چیز کا لحاظ نہیں رہتا جس کی وجہ سے دلوں میں دوریاں بڑھتی جاتی ہیں۔ پڑھے لکھے خاندانی لوگ بھی جہالت کی انتہا کو چھونے لگتے ہیں۔

 لہٰذا ضرورت اس بات کی ہے کہ اپنے لیڈر کی حمایت میں اعتدال سے کام لیں، اس کی غلطیوں اور کمزوریوں کو تسلیم کریں اور بقول کسی شخص کے اپنے لیڈر کی حمایت کریں مگر اس کی گائے کے گوبر کو گاجر کا حلوہ ثابت کرنے کی کوشش نہ کریں۔

Comments

Popular Posts

نواز شریف

جب سے مملکتِ پاکستان کا قیام وجود میں آیا ہے تب سے ہی یہاں سیاسی استحکام کا فقدان رہا ہے۔ قائدِ اعظمؒ، لیاقت علی خانؒ اور دیگر حکمرانوں نے کچھ عرصہ تک ہی حکومت کی ذمہ داریاں اٹھائیں، لیکن باقائدہ حکومت کا آغاز جنرل ایوب خان کی صدارت سے شروع ہوا۔ یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ اسی دورِ حکومت میں پاکستان نہ صرف اپنے پیروں پر کھڑا ہوا بلکہ اس کا شمار ایشیاء کے ترقی یافتہ ممالک میں ہونے لگا۔ پاکستان کے خلاف سازش کرنے والے عناصر جانتے تھے کہ جب بھی یہاں مستحکم حکومت ہوگی تو ملک ترقی کرے گا۔ لہٰذا مختلف ذرائع استعمال کرکے ہمارے دشمن پاکستانی قوم میں مایوسی پھیلاتے رہے اور اس وقت کی موجود، حکومت کے خلاف الزامات کے ذریعے لوگوں کو حکومت سے بیزار کرنے کی کوشش کرتے رہے، یہاں تک کہ پرویز مشرف جیسے امریکہ کو سجدہ کرنے والے، وقت کے فرعون، کو بھی حکومت سے محروم ہونا پڑا۔ پاکستانی عوام میں تعلیم اور شعور کی کمی ہے جس کی وجہ سے وہ باآسانی سازشوں کا شکار ہوجاتے ہیں اور تبدیلی کی خواہش مند ہوجاتے ہیں۔ یہ نہیں غور کرتے کہ حکومت مستحکم ہے، ترقیاتی کام چل رہے ہیں، زندگی اچھی گزر رہی ہے، تمام کاروبارِ زندگی عمد...

داڑھی کا جواز

  داڑھی کا جواز اگر کوئی شخص کہے کہ سر پر ہمیشہ استرا پھیرنا چاہیے تاکہ انسان بالوں سے پیدا ہونے والی پریشانیوں سے بچا رہے، اگر بال ہونگے تو جوئیں بھی ہونگی، بال لمبے ہوکر منہ پر آئیں گے، بال ہوا سے بکھر تے رہیں گے اور انسان ان میں جنگلی لگے گا لہٰذا سر کے بالوں کے بغیر انسان زیادہ خوبصورت لگے گا، تو ایسے شخص کو آپ کیا جواب دیں گے؟ ظاہر ہے کہ اس شخص کو کہا جائے گا کہ بال اگنا ایک قدرتی عمل ہے، اس کو روکنے کے بجائے ہمیں ان کو آراستہ کرنا چاہیے، ان کی صفائی ستھرائی کا خیال رکھنا چاہیے تو یہ بال ہماری شخصیت میں خوبصورتی کا باعث بنیں گے بہ نسبت ٹنڈ کے! یہی جواب اصل میں داڑھی کے جواز کیلئے استعمال کیا جاسکتا ہے۔ اس کیلئے فتاویٰ کی ضرورت نہیں۔ قدرت نے داڑھی مرد کو عطاء کی ہے۔ اب مردوں کا کام ہے کہ اپنے چہروں کو روزانہ چھیلنے کے بجائے داڑھی کو بڑھنے دیں اور اس کو آراستہ کریں اور اپنی مردانگی کا ثبوت اپنے چہروں سے دیں۔ کچھ لوگ اپنی گفتگو میں یہ کہتے ہوئے نظر آتے ہیں کہ فلاں شخص داڑھی رکھ کے جھوٹ بول رہا ہے، یا کچھ افراد نے داڑھی رکھی ہوئی ہے اور خواتین کو دیکھتے پھرتے ہیں۔ ایسے لوگ...

ناران کی سیر

 ناران کی سیر راولپنڈی سے ناران کے سفر کی روداد جو ذاتی مشاہدے پر مشتمل ہے۔ اس سفرنامے میں مزید اہم مقامات کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ اپنے شہر سے دور کوئی بھی سفر کرنے سے پہلے اس سے متعلق معلومات حاصل کرنا بہت ضروری ہے۔ شمالی علاقوں کا تفریحی دورہ کرنا ہو اور ہر قسم کی مشکلات سے محفوظ رہنا چاہتے ہوں تو بہتر ہے کہ کسی سیاحتی گروپ یا کمپنی کے ساتھ سفر کیا جائے۔ سیاحتی کمپنی کے خرچے تو زیادہ ہوتے ہیں لیکن یہ آپ کو اتنی سہولیات فراہم کرتی ہیں کہ آپ ہر قسم کی کوفت سے بچ جاتے ہیں۔ اگر آپ محدود خرچے میں ناران کی سیاحت کرنا چاہتے ہیں تو آپ کو راولپنڈی سے گائڈ کی خدمات حاصل کرنا ہونگی، اس کیلئے آپ پہلے سے معاوضہ اور مقامات طے کرسکتے ہیں۔ کچھ گائڈ آپ کو مناسب داموں میں ہوٹل کے کمرے اور طعام کا بندوبست کرواسکتے ہیں۔ جتنا تجربے کار گائڈ آپ کو ملے گا اتنا ہی آپ کا سیاحتی سفر بہتر ہوگا۔ جو حضرات اپنے گھر کی خواتین اور بچوں کے ساتھ ناران کا سفر کرنا چاہتے ہیں تو یہ بات مدِنظر رکھیں کہ ان کو طویل سفر کرنا ہوتا ہے اور آپ کو آرام کے کم مواقع میسر آسکتے ہیں۔ مجوعی طور پر یہ سیاحتی دورہ آپ کو تھکن میں مبت...