چڑیا چڑے کی کہانی
مولانا ابوالکلام آزاد کی تصنیف غبارِ خاطر سے لیا گیا ایک قصہ جو قاری کو اپنی گرفت سے باہر نہیں نکلنے دیتا، اس کے منتخب حصے اختصار کے ساتھ یہاں بیان کئے گئے ہیں۔ انتہائی دلچسپ روداد ہے۔
زندگی میں بہت سی کہانیاں بنائیں۔ خود ایسی گزری جیسے ایک کہانی ہو۔ آئیے آپ کو آج چڑیا چڑے کی کہانی سناؤں۔
یہاں کمرے جو ہمیں رہنے کو ملے ہیں، پچھلی صدی کی تعمیرات کا نمونہ ہیں۔ چھت لکڑی کے شہتیروں کی ہے اور شہتیروں کے سہارے کے لئے محرابیں ڈال دی ہیں۔ نتیجہ یہ ہے کہ جا بجا گھونسلہ بنانے کے قدرتی گوشے نکل آئے اور گوریاؤں کی بستیاں آباد ہوگئیں۔ دن بھر ان کا ہنگامئہ تگ ودو گرم رہتا ہے۔گزشتہ سال جب یہاں ہم آئے تھے، تو ان چڑیوں کی آشیاں سازیوں نے بہت پریشان کردیا تھا۔ کمرہ کے مشرقی گوشہ میں منہ دھونے کی ٹیبل لگی ہے۔ ٹھیک اس کے اوپر نہیں معلوم کب سے ایک پرانا گھونسلہ تعمیر پاچکا تھا۔ دن بھر میدان سے تنکے چن چن کر لاتیں اور گھونسلے میں بچھانا چاہتیں۔ وہ ٹیبل پر گرکے اس کے کوڑے کرکٹ سے اَٹ دیتے۔ ادھر پانی کا جگ بھرواکے رکھا، اُدھر تنکوں کی بارش شروع ہوگئی۔
پچھم کی طرف چارپائی دیوار سے لگی تھی، اس کے اوپر نئی تعمیروں کی سرگرمیاں جاری تھیں۔ ان نئی تعمیروں کا ہنگامہ اور زیادہ عاجز کردینے والا تھا۔ان چڑیوں کو ذراسی تو چونچ ملی ہے اور مٹھی بھر کا بھی بدن نہیں، لیکن طلب و سعی کا جوش اس بلا کا پایا ہے کہ چند منٹوں کے اندر بالشت بھر کلفات کھود کے صاف کردیں۔ پہلے دیوار پر چونچ مار مار کے اتنی جگہ بنالیں گی کہ پنجے ٹیکنے کا سہارا نکل آئے۔ پھر اس پر پنجے جماکر چونچ کا پھاوڑا چلانا شروع کردیں گی اور اس زور سے چلائیں گی کہ سارا جسم سکڑ سکڑ کر کانپنے لگے گا اور پھر تھوڑی دیر کے بعد دیکھیے تو کئی انچ کلفات اڑچکی ہوگی۔ مکان چونکہ پرانا ہے، اس لئے سارے کمرے میں گرد کا دھواں پھیل جاتا ہے اور کپڑوں کو دیکھیے تو غبار کی تہیں جم گئی ہیں۔
چند دنوں تک تو میں نے صبر کیا، لیکن پھر برداشت نے صاف جواب دے دیا اور فیصلہ کرنا پڑا کہ اب لڑائی کے بغیر چارہ نہیں۔ یہاں میرے سامان میں ایک چھتری بھی آگئی ہے۔ میں نے اٹھائی اور اعلانِ جنگ کردیا۔ لیکن تھوڑی ہی دیر میں معلوم ہوگیا کہ اس کوتاہ دستی کے ساتھ ان حریفانِ سقف و محراب کا مقابلہ ممکن نہیں۔ حیران ہوکر کبھی چھتری کی نارسائی دیکھتا، کبھی حریفوں کی بلند آشیانی۔
اب کسی دوسرے ہتھیار کی تلاش ہوئی۔ برآمدہ میں جالا صاف کرنے کا بانس پڑا تھا۔ دوڑتا ہوا گیا اور اسے اٹھا لایا۔ اب کچھ نہ پوچھیے کہ میدان کارزار میں کس زور کا رن پڑا۔ کمرہ میں چاروں طرف حریف طواف کررہا تھا اور میں بانس اٹھائے دیوانہ وار اس کے پیچھے دوڑرہا تھا۔ آخر میدان اپنے ہی ہاتھ رہا اور تھوڑی دیر کے بعد کمرہ ان حریفانِ سقف و محراب سے بالکل صاف تھا۔اب میں نے چھت کے تمام گوشوں پر فتح مندانہ نظر ڈالی؛ اور مطمئن ہوکر لکھنے میں مشغول ہوگیا۔ لیکن ابھی پندرہ منٹ بھی پورے نہیں گزرے ہوں گے کہ کیا سنتا ہوں، حریفوں کی رجز خوانیوں اور ہوا پیمائیوں کی آوازیں پھر اٹھ رہی ہیں۔ سر اٹھاکے جو دیکھا تو چھت کا ہر گوشہ ان کے قبضہ میں تھا۔ میں فوراً اٹھا اور بانس لاکر پھر معرکہ کارزار گرم کردیا۔
اس مرتبہ حریفوں نے بڑی پامردی دکھائی۔ ایک گوشہ چھوڑنے پر مجبور ہوتے تو دوسرے میں ڈٹ جاتے؛ لیکن بالآخر میدان کو پیٹھ دکھانی ہی پڑی۔ کمرے سے بھاگ کر برآمدہ میں آئے اور وہاں اپنا لاؤ لشکر نئے سرے سے جمانے لگے۔ میں نے وہاں بھی تعاقب کیا اور اس وقت تک ہتھیار ہاتھ سے نہیں رکھا کہ سرحد سے بہت دور تک میدان صاف نہیں ہوگیا تھا۔اب دشمن کی فوج تِتر بِتر ہوگئی تھی مگر یہ اندیشہ باقی تھا کہ کہیں پھر اکٹھی ہوکر میدان کا رخ نہ کرے۔ تجربے سے معلوم ہوا تھا کہ بانس کے نیزہ کی ہیبت دشمنوں پر خوب چھاگئی ہے۔ جس طرف رخ کرتا تھا، اسے دیکھتے ہی کلمئہ فرار پڑھتے تھے۔ اس لئے فیصلہ کیا کہ ابھی کچھ عرصہ تک اسے کمرہ ہی میں رہنے دیا جائے۔ اگر کسی اِکا دُکا حریف نے رخ کرنے کی جرات بھی کی تو یہ سر بفلک نیزہ دیکھ کر الٹے پاؤں بھاگنے پر مجبور ہوجائے گا۔ چنانچہ ایسا ہی کیا گیا۔
سب سے پرانا گھونسلہ منہ دھونے کی ٹیبل کے اوپر تھا۔ بانس اس طرح وہاں کھڑا کردیا گیا کہ اس کا سرا ٹھیک ٹھیک گھونسلے کے دروازے کے پاس پہنچ گیا تھا۔ اب گو مستقبل اندیشوں سے خالی نہ تھا، تاہم طبیعت مطمئن تھی کہ اپنی طرف سے سروسامان جنگ میں کوئی کمی نہیں کی گئی۔اب گیارہ بج رہے تھے۔ میں کھانے کے لئے چلاگیا۔ تھوڑی دیر کے بعد واپس آیا تو کمرہ میں قدم رکھتے ہی ٹھٹک کے رہ گیا۔ کیا دیکھتا ہوں کہ سارا کمرہ پھر حریف کے قبضہ میں ہے اور اس اطمینان و فراغت سے اپنے کاموں میں مشغول ہیں، جیسے کوئی حادثہ پیش آیا ہی نہیں۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ جس ہتھیار کی ہیبت پر اس درجہ بھروسہ کیا گیا تھا، وہی حریفوں کی کامجوئیوں کا ایک نیا آلہ ثابت ہوا۔ بانس کا سرا جو گھونسلے سے بالکل لگا ہوا تھا، گھونسلے میں جانے کے لئے اب دہلیز کا کام دینے لگا۔ تنکے چن چن کر لاتے ہیں اور اس نو تعمیر دہلیز پر بیٹھ کر بہ اطمینان تمام گھونسلے میں بچھاتے جاتے ہیں۔ ساتھ بھی چوں چوں بھی کرتے جاتے ہیں۔
اپنی وہمی فتح مندیوں کا یہ حسرت انگیز انجام دیکھ کر بے اختیار ہمت نے جواب دے دیا۔ صاف نظر آگیا کہ چند لمحوں کے لئے حریف کو عاجز کردینا تو آسان ہے مگر ان کے جوشِ استقامت کا مقابلہ کرنا آسان نہیں؛ اور اب اس میدان میں ہار مان لینے کے سوا کوئی چارئہ کار نہیں رہا۔
اب یہ فکر ہوئی کہ ایسی رسم و راہ اختیار کرنی چاہیے کہ ان ناخواندہ مہمانوں کے ساتھ ایک گھر میں گزارہ ہوسکے۔ سب سے پہلے چارپائی کا معاملہ سامنے آیا۔ یہ بالکل نئی تعمیرات کی زد میں تھی۔ پرانی عمارت کے گرنے اور نئی تعمیروں کے سروسامان سے جس قدر گردوغبار اور کوڑا کرکٹ نکلتا، سب کا سب اسی پر گرتا۔ اس لئے اسے دیوار سے اتنا ہٹادیا گیا کہ براہ راست زد میں نہ رہے۔ اس تبدیلی سے کمرہ کی شکل ضرور بگڑگئی لیکن اب اس کا علاج ہی کیا تھا؟ جب خود اپنا گھر ہی اپنے قبضہ میں نہ رہا تو پھر شکل و ترتیب کی آرائشوں کی کسے فکر ہوسکتی تھی؟ البتہ منہ دھونے کے ٹیبل کا معاملہ اتنا آسان نہ تھا۔ وہ جس گوشے میں رکھا گیا تھا، صرف وہی جگہ اِس کے لئے نکل سکتی تھی، ذرا بھی اِدھر اُدھر کی گنجائش نہ تھی۔ مجبوراً یہ انتظام کرنا پڑا کہ بازار سے بہت سے جھاڑن منگواکر رکھ لیے اور ٹیبل کی ہر چیز پر ایک ایک جھاڑن ڈال دیا۔
ایک دن خیال ہوا کہ جب صلح ہوگئی تو چاہیے کہ پوری طرح صلح ہو۔ یہ ٹھیک نہیں کہ رہیں ایک ہی گھر میں اور رہیں بیگانوں کی طرح۔ میں نے باورچی خانے سے تھوڑا سا کچا چاول منگوایا اور جس صوفے پر بیٹھا کرتا ہوں، اس کے سامنے کی دری پر چند دانے چھٹک دیئے۔ پھر اس طرح سنبھل کے بیٹھ گیا، جیسے شکاری دام بچھاکے بیٹھ جاتا ہے۔ کچھ دیر تک تو مہمانوں کو توجہ نہیں ہوئی؛ اگر ہوئی بھی تو ایک غلط انداز نظر سے معاملہ آگے نہیں بڑھا۔ لیکن پھر صاف نظر آگیا کہ نیلے رنگ کی دری پر سفید سفید ابھرے ہوئے دانوں کی کشش ایسی نہیں کہ کام نہ کرجائے۔
پہلے ایک چڑیا آئی اور اِدھر اُدھر کودنے لگی۔ بظاہر چہچہانے میں مشغول تھی مگر نظر دانوں پر تھی۔ پھر دوسری آئی اور پہلی کے ساتھ مل کر دری کا طواف کرنے لگی۔ پھر تیسری اور چوتھی بھی پہنچ گئی اور کبھی دانوں پر نظر پڑتی، کبھی دانہ ڈالنے والے پر۔ پھر کچھ دیر کے بعد آہستہ آہستہ قدم بڑھنے لگے۔ لیکن براہِ راست دانوں کی طرف نہیں۔ آڑے ترچھے ہوکر بڑھتے اور کتراکر نکل جاتے۔ گویا یہ بات دکھائی جارہی تھی کہ خدا نخواستہ ہم دانوں کی طرف نہیں بڑھ رہے ہیں۔ ناگہاں ایک تنومند چڑے نے جو اپنی قلندرانہ بےدماغی اور رندانہ جراتوں کے لحاظ سے پورے حلقہ میں ممتاز تھا، سلسلہ کار کی درازی سے اکتا کر بے باکانہ قدم اٹھادیا اور زبان حال سے نعرہ مستانہ لگاتا ہوا، بہ یک دفعہ دانوں پر ٹوٹ پڑا۔ اس کا ایک قدم اٹھنا تھا کہ معلوم ہوا جیسے اچانک تمام رکے ہوئے قدموں کے بندھن کھل پڑے۔ غور کیجیے، تو اس کارگاہِ عمل کے ہر گوشہ کی قدم رانیاں ہمیشہ اسی ایک قدم کے انتظار میں رہا کرتی ہیں۔ جب تک یہ نہیں اٹھتا، سارے قدم زمین میں گڑے رہتے ہیں۔
اس چڑے کا یہ بے باکانہ اقدام کچھ ایسا دل پسند واقع ہوا کہ اسی وقت دل نے ٹھان لی، اس مردکار سے رسم و راہ بڑھانی چاہیے۔ میں نے اس کا نام قلندر رکھ دیا۔ دو تین دن تک اسی طرح ان کی خاطر تواضع ہوتی رہی۔ دن میں دو تین مرتبہ دانے دری پر ڈال دیتا۔ ایک ایک کرکے آتے اور ایک ایک دانہ چن لیتے۔ کبھی دانہ ڈالنے میں دیر ہوجاتی تو قلندر آکر چوں چوں کرنا شروع کردیتا کہ وقت معہود گزررہا ہے۔ اس صورت حال نے اب اطمینان دلادیا تھا کہ پردہ حجاب اٹھ چکا۔ وہ وقت دور نہیں کہ رہی سہی جھجک بھی نکل جائے۔
چند دنوں کے بعد میں نے اس معاملہ کا دوسرا قدم اٹھایا۔ سگریٹ کے خالی ٹین کا ایک ڈھکنا لیا۔ اس میں چاول کے دانے ڈالے بتدریج تین دنوں میں بالکل اپنے سامنے رکھ دیا۔ اتنا قرب دیکھ کر پہلے تو مہمانوں کو کچھ تامل ہوا۔ دری کے پاس آگئے مگر قدموں میں جھجک تھی اور نگاہوں میں تذبذب بول رہا تھا۔ لیکن اتنے میں قلندر اپنے قلندرانہ نعرے لگاتا ہوا آپہنچا اور اس کی رندانہ جراتیں دیکھ کر سب کی جھجک دور ہوگئی۔ گویا اس راہ میں سب قلندر ہی کے پیرو ہوئے۔
رفتہ رفتہ ان آہوانِ ہوائی کو یقین ہوگیا کہ یہ صورت ہمیشہ صوفے پر دکھائی دیتی ہے، آدمی ہونے پر بھی آدمیوں کی طرح خطرناک نہیں ہے۔ بارہا ایسا ہوا کہ میں اپنے خیالات میں محو، لکھنے میں مشغول ہوں؛ اتنے میں کوئی دلنشین بات نوک قلم پر آگئی اور بے اختیار میرا سرو شانہ ہلنے لگا، یا منہ سے ہا نکل گیا، اور یکایک زور سے پروں کے اڑنے کی ایک پُھرسی آواز سنائی دی۔ اب جو دیکھتا ہوں تو معلوم ہوا کہ ان یارانِ بے تکلف کا ایک طائفہ میری بغل میں بیٹھا بے تامل اپنی اچھل کود میں مشغول تھا۔ اچانک انہوں نے دیکھا کہ یہ پتھر اب ہلنے لگا ہے، تو گھبراکر اڑگئے۔ عجب نہیں، اپنے جی میں کہتے ہوں، یہاں صوفے پر ایک پتھر پڑا رہتا ہے، لیکن کبھی کبھی آدمی بن جاتا ہے!۔
اس بستی کی سب سے خوبصورت چڑیا کا نام موتی رکھا ہے۔ چھریرا بدن، نکلتی ہوئی گردن، مخروطی دُم، اور گول گول آنکھوں میں ایک عجیب طرح کا بولتا ہوا بھولا پن۔ جب دانہ چگنے کے لئے آئے گی، تو ہر دانے پر میری طرف دیکھتی جائے گی۔ اس بستی کے اگر عام باشندوں سے قطع نظر کرلی جائے، تو خواص میں چند شخصیتیں خصوصیت کے ساتھ قابلِ ذکر ہیں۔ قلندر اور موتی سے آپ کی تقریب ہوچکی ہے، اب مختصراً ملا اور صوفی کا حال سن لیجیے۔ ایک چڑا بڑا ہی تنومند اور جھگڑالو ہے۔ جب دیکھو زبان فرفر چل رہی ہے، اور سر اٹھا ہوا اور سینہ تنا ہوا رہتا ہے۔ جو بھی سامنے آجائے، دودو ہاتھ کیے بغیر نہیں رہے گا۔ کیا مجال کہ ہمسایہ کا کوئی چڑا اس محلہ کے اندر قدم رکھ سکے۔ کئی شہ زوروں نے ہمت دکھائی لیکن پہلے ہی مقابلہ میں چت ہوگئے۔ فرمائیے، اگر اس کا نام ملا نہ رکھتا تو اور کیا رکھتا؟
ٹھیک اس کے برعکس ایک دوسرا چڑا ہے۔ اسے جب دیکھیے اپنی حالت میں گم اور خاموش ہے۔ بہت کیا، تو کبھی کبھار ایک ہلکی سی ناتمام چوں کی آواز نکال دی۔ دوسرے چڑے اس کا پیچھا کرتے رہتے ہیں، پھر بھی اس کی زبان کھلتی نہیں۔ میں نے یہ حال دیکھا تو اس کا نام صوفی رکھ دیا۔
موتی کے گھونسلے سے ایک بچے کی آواز عرصہ سے آرہی تھی۔ وہ جب دانوں پر چونچ مارتی، تو ایک دو دانوں سے زیادہ نہ لیتی اور گھونسلے کا رخ کرتی۔ وہاں اس کے پہںچتے ہی بچے کا شور شروع ہوجاتا۔ ایک دن صبح کیا دیکھتا ہوں، گھونسلے سے اڑتی ہوئی اتری تو اس کے ساتھ ایک چھوٹا سا بچہ بھی ادھوری پرواز کے پروبال کے ساتھ نیچے گرگیا۔ موتی بار بار اس کے پاس جاتی اور اڑنے کا اشارہ کرکے اوپر کی طرف اڑنے لگتی لیکن بچے میں اثر پذیری کی کوئی علامت دکھائی نہیں دیتی تھی۔ ماں صبح سے لے کر شام تک برابر اڑنے کی تلقین کرتی رہی، مگر اس پر، کچھ ایسی مردنی سی چھاگئی تھی کہ کوئی جواب نہیں ملتا۔ لیکن تیسرے دن صبح کو ایک عجیب معاملہ پیش آیا۔ دھوپ کی ایک لکیر کمرہ کے اندر دور تک چلی گئی تھی، یہ اس میں کھڑا ہوگیا تھا؛ اچانک کیا دیکھتا ہوں کہ یکایک آنکھیں کھول کر ایک جھرجھری سی لے رہا ہے۔ پھر گردن آگے کرکے فضا کی طرف دیکھنے لگا۔ پھر پروں کو سکیڑ کر ایک مرتبہ کھولا، بند کیا، اور پھر جو ایک مرتبہ جست لگاکر اڑا، تو بیک دفعہ تیر کی طرح میدان میں جاپہنچا اور پھر ہوائی کی طرح فضا میں اڑکر نظروں سے غائب ہوگیا۔
یہ منظر اس درجہ عجیب اور غیر متوقع تھا کہ پہلے تو مجھے اپنی نگاہوں پر شبہ ہونے لگا، لیکن ایک واقعہ جو ظہور میں آچکا تھا، اب اس میں شبہ کی گنجائش کہاں باقی رہی تھی؟ دراصل جونہی اس بچے کی سوئی ہوئی خود شناسی جاگ اٹھی، چشم زدن کے اندر جوشِ پرواز کی ایک برق وار تڑپ نے اس کا پورا جسم ہلاکر اچھال دیا۔
ٹھیک اسی طرح انسان کے اندر کی خود شناسی بھی جب تک سوئی رہتی ہے، باہر کا کوئی ہنگامئہ سعی اسے بیدار نہیں کرسکتا۔ لیکن جونہی اس کے اندر کا عرفان جاگ اٹھا، اور اسے معلوم ہوگیا، کہ اس کی چھپی ہوئی حقیقت کیا ہے، تو پھر چشم زدن کے اندر سارا انقلابِ حال انجام پاجاتا ہے، اور ایک ہی جست میں حضیض خاک سے اڑکر رفعتِ افلاک تک پہنچ جاتا ہے۔
Comments
Post a Comment
آپ کی رائے ہمارے لئے بہت قیمتی ہے۔