تبرکات مدینہ
مشہور مصنف ممتاز مفتی کی کتاب لبیک سے لیا گیا ایک اقتباس
بھا ئیو! سنو' سنو! یہ تم کہاں کھڑے ہو۔ مسجد نبویﷺ کی دیوار کے سایہ تلے چراغ کے زیر سائے۔ تم تو گھر سے اس عظیم چراغ کے نور سے منور ہونے کے لئے اتنی دور سے چل کر آئے ہو۔ رک جاؤ رک جاؤ بھائیو! یہ تم کیا خرید رہے ہو۔ تمہارے عزیزواقارب نے تو کہا تھا کہ مدینہ منورہ کی تسبیحیں لانا۔ یہ تسبیحیں مدینہ منورہ کی تو نہیں۔ یہ تو اٹلی کی بنی ہوئی ہیں۔ شاید ان کے منکوں میں وہ ذرات بھی شامل ہوں جو رومن کروسیڈرز کے گھوڑوں کے سموں سے جھڑے تھے۔
نہ نہ یہ جائے نماز نہ خریدنا۔ یہ جائے نماز مدینے شریف کے نہیں۔ ان پر تو پورپ کی چھاپ لگی ہے۔ جب تم یہ جائے نماز وطن لے کر جاؤ گے اور اپنے عزیزوں کو تحفے کے طور پر دو گے تو وہ سمجھیں گے کہ یہ جائے نماز مدینہ منورہ کے بنے ہوئے ہیں اور صبح شام ان جائے نماز کے ہر تار کو عقیدت سے چومیں گے۔ آنکھوں سے لگائیں گے۔ بھائیو! اپنے عزیزوں کو دھوکا نہ دو۔ یہ جائے نماز نہ خریدو۔
بھائیو! اس جھلمل جھلمل بازار میں کوئی بھی ایسی چیز موجود نہیں جو مدینہ منورہ یا مکہ معظمہ کی بنی ہوئی ہو۔ کوئی چیز نہیں جو سعودی عرب کی پاک سرزمین کی بنی ہوئی ہو۔ یہ جو کھجوروں کے ڈھیر تم دیکھ رہے ہو جنہیں دکاندار مدینے شریف کی کھجوروں کا ہانکا لگا کر بیچ رہا ہے، یہ بھی مدینہ منورہ کی نہیں۔ یہاں کوئی چیز مدینہ منورہ کی نہیں، یہاں کی کوئی چیز سعودی عرب کی بنی ہوئی نہیں۔ یہاں کوئی ایسی چیز نہیں جو کسی اسلامی ملک کی بنی ہوئی ہو۔
تم نے اپنا پیٹ کاٹ کاٹ کر تبرکات مدینہ خریدنے کے لئے پیسے جوڑے ہیں اور اب تم وہ پیسے یورپ کی بنی ہوئی مصنوعات پر خرچ کر رہے ہو۔ ایسی چیزوں کو خرید کر تم ہر سال کروڑوں روپے مغربی سرمایہ داروں کی تجوریوں میں بھر دیتے ہو۔ یہاں مدینہ منورہ کا صرف ایک تحفہ ہے۔۔۔خاک پاک۔
بھائیو! یہاں کوئی چیز ایسی نہیں جس پر مدینہ منورہ کی چھاپ لگی ہو۔ کوئی چیز ایسی نہیں جسے متبرک سمجھا جاسکے۔ یہاں کی خاک پاک بھی مدینہ منورہ کی مٹی سے نہیں بنی ہوئی۔ وہ بھی دساور سے درآمد کی جاتی ہے۔ کوئی چیز بھی اس قابل نہیں جو تبرک کے طور پر وطن لے جائی جاسکے، جو مدینہ منورہ کی سوغات کہلانے کے قابل ہو۔بھائیو۔ سنو سنو!!!
(ممتاز مفتی)
Comments
Post a Comment
آپ کی رائے ہمارے لئے بہت قیمتی ہے۔