Skip to main content

کراچی میں اونچے درخت؟

 کراچی میں اونچے درخت؟

پہلے کراچی میں اونچے درخت بہت زیادہ نظر آتے تھے لیکن اب ڈھونڈنے سے بھی نہیں ملتے۔

بچپن میں ہم کافی اونچے اونچے درخت دیکھا کرتے تھے، آبادی کے دباؤ اور گھروں کی تعمیر کے سلسلے میں وقت کے ساتھ ساتھ وہ درخت کٹتے گئے اور اب بڑے درخت مشکل سے ہی نظر آتے ہیں۔

کراچی شہر میں گرمی کی شدت میں ہر سال اضافہ ہوتا جا رہا ہے، ضرورت اس بات کی محسوس ہو رہی ہے کہ درخت زیادہ سے زیادہ لگائے جائیں۔ اس سلسلے میں عوامی اور کچھ حکومتی سطح پر کام ہو رہا ہے۔ لیکن گرمی کی شدت میں کمی ابھی تک محسوس نہیں ہو رہی ہے۔

مجھے خیال آیا کہ جب تک اونچے اور بڑے درخت نہیں لگیں گے تب تک مسئلہ حل نہیں ہوگا، تو سوچا کہ کیوں نہ ایک جائزہ لیا جائے کہ کراچی میں بڑے درخت آخر کتنے ہیں؟

میں نے سہراب گوٹھ سے بقائی میڈیکل یونیورسٹی تک سفر کے دوران اس بات کا مشاہدہ کیا کہ راستے میں کتنے اونچے درخت آتے ہیں۔ سہراب گوٹھ سے نیپا تک تو نوزائدہ درخت نظر آئے جس میں زرگ گل نمایاں تھے، نیپا سے کراچی یونیورسٹی تک خوب ہریالی نظر آئی جس میں نیم اور کونو کارپس کے درخت نمایاں تھے لیکن کوئی بھی زیادہ اونچا نہیں تھا جبکہ نیم کے درخت تو کافی سالوں سے لگے ہوئے ہیں۔

آگے صفورہ تک تو سب بنجر تھا لیکن صفورہ سے ملیر کینٹ تک پورے روڈ میں دونوں اطراف خوب ہریالی ہی ہریالی تھی مگر افسوس کی بات کہ ان میں بھی کوئی اونچا درخت مشاہدے میں نہ آسکا۔

آگے کے سفر میں بقائی یونیورسٹی تک زیادہ تر نیم کے وہ درخت تھے جو حال ہی میں لگائے گئے تھے۔ آگے جاکر بقائی کیڈٹ کالج میں کئی بڑے اور اونچے درختوں پر نظر پڑی اور دل میں اللہ کا شکر ادا کیا کہ کہیں تو مجھے میرے مطلوبہ درخت ملے۔

تو یہ حال ہے کراچی شہر کا۔ اگر آپ کے مشاہدے میں ایسی کوئی بات ہے تو ہم سب سے ضرور شئیر کریں۔

Comments

Popular Posts

نواز شریف

جب سے مملکتِ پاکستان کا قیام وجود میں آیا ہے تب سے ہی یہاں سیاسی استحکام کا فقدان رہا ہے۔ قائدِ اعظمؒ، لیاقت علی خانؒ اور دیگر حکمرانوں نے کچھ عرصہ تک ہی حکومت کی ذمہ داریاں اٹھائیں، لیکن باقائدہ حکومت کا آغاز جنرل ایوب خان کی صدارت سے شروع ہوا۔ یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ اسی دورِ حکومت میں پاکستان نہ صرف اپنے پیروں پر کھڑا ہوا بلکہ اس کا شمار ایشیاء کے ترقی یافتہ ممالک میں ہونے لگا۔ پاکستان کے خلاف سازش کرنے والے عناصر جانتے تھے کہ جب بھی یہاں مستحکم حکومت ہوگی تو ملک ترقی کرے گا۔ لہٰذا مختلف ذرائع استعمال کرکے ہمارے دشمن پاکستانی قوم میں مایوسی پھیلاتے رہے اور اس وقت کی موجود، حکومت کے خلاف الزامات کے ذریعے لوگوں کو حکومت سے بیزار کرنے کی کوشش کرتے رہے، یہاں تک کہ پرویز مشرف جیسے امریکہ کو سجدہ کرنے والے، وقت کے فرعون، کو بھی حکومت سے محروم ہونا پڑا۔ پاکستانی عوام میں تعلیم اور شعور کی کمی ہے جس کی وجہ سے وہ باآسانی سازشوں کا شکار ہوجاتے ہیں اور تبدیلی کی خواہش مند ہوجاتے ہیں۔ یہ نہیں غور کرتے کہ حکومت مستحکم ہے، ترقیاتی کام چل رہے ہیں، زندگی اچھی گزر رہی ہے، تمام کاروبارِ زندگی عمد...

داڑھی کا جواز

  داڑھی کا جواز اگر کوئی شخص کہے کہ سر پر ہمیشہ استرا پھیرنا چاہیے تاکہ انسان بالوں سے پیدا ہونے والی پریشانیوں سے بچا رہے، اگر بال ہونگے تو جوئیں بھی ہونگی، بال لمبے ہوکر منہ پر آئیں گے، بال ہوا سے بکھر تے رہیں گے اور انسان ان میں جنگلی لگے گا لہٰذا سر کے بالوں کے بغیر انسان زیادہ خوبصورت لگے گا، تو ایسے شخص کو آپ کیا جواب دیں گے؟ ظاہر ہے کہ اس شخص کو کہا جائے گا کہ بال اگنا ایک قدرتی عمل ہے، اس کو روکنے کے بجائے ہمیں ان کو آراستہ کرنا چاہیے، ان کی صفائی ستھرائی کا خیال رکھنا چاہیے تو یہ بال ہماری شخصیت میں خوبصورتی کا باعث بنیں گے بہ نسبت ٹنڈ کے! یہی جواب اصل میں داڑھی کے جواز کیلئے استعمال کیا جاسکتا ہے۔ اس کیلئے فتاویٰ کی ضرورت نہیں۔ قدرت نے داڑھی مرد کو عطاء کی ہے۔ اب مردوں کا کام ہے کہ اپنے چہروں کو روزانہ چھیلنے کے بجائے داڑھی کو بڑھنے دیں اور اس کو آراستہ کریں اور اپنی مردانگی کا ثبوت اپنے چہروں سے دیں۔ کچھ لوگ اپنی گفتگو میں یہ کہتے ہوئے نظر آتے ہیں کہ فلاں شخص داڑھی رکھ کے جھوٹ بول رہا ہے، یا کچھ افراد نے داڑھی رکھی ہوئی ہے اور خواتین کو دیکھتے پھرتے ہیں۔ ایسے لوگ...

ناران کی سیر

 ناران کی سیر راولپنڈی سے ناران کے سفر کی روداد جو ذاتی مشاہدے پر مشتمل ہے۔ اس سفرنامے میں مزید اہم مقامات کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ اپنے شہر سے دور کوئی بھی سفر کرنے سے پہلے اس سے متعلق معلومات حاصل کرنا بہت ضروری ہے۔ شمالی علاقوں کا تفریحی دورہ کرنا ہو اور ہر قسم کی مشکلات سے محفوظ رہنا چاہتے ہوں تو بہتر ہے کہ کسی سیاحتی گروپ یا کمپنی کے ساتھ سفر کیا جائے۔ سیاحتی کمپنی کے خرچے تو زیادہ ہوتے ہیں لیکن یہ آپ کو اتنی سہولیات فراہم کرتی ہیں کہ آپ ہر قسم کی کوفت سے بچ جاتے ہیں۔ اگر آپ محدود خرچے میں ناران کی سیاحت کرنا چاہتے ہیں تو آپ کو راولپنڈی سے گائڈ کی خدمات حاصل کرنا ہونگی، اس کیلئے آپ پہلے سے معاوضہ اور مقامات طے کرسکتے ہیں۔ کچھ گائڈ آپ کو مناسب داموں میں ہوٹل کے کمرے اور طعام کا بندوبست کرواسکتے ہیں۔ جتنا تجربے کار گائڈ آپ کو ملے گا اتنا ہی آپ کا سیاحتی سفر بہتر ہوگا۔ جو حضرات اپنے گھر کی خواتین اور بچوں کے ساتھ ناران کا سفر کرنا چاہتے ہیں تو یہ بات مدِنظر رکھیں کہ ان کو طویل سفر کرنا ہوتا ہے اور آپ کو آرام کے کم مواقع میسر آسکتے ہیں۔ مجوعی طور پر یہ سیاحتی دورہ آپ کو تھکن میں مبت...