مسلمان پسماندہ کیوں؟
آج کا مسلمان فضول رسومات، تضیع اوقات اور فروعی اختلافات میں مبتلا ہونے کی وجہ سے زوال کا شکار ہوگیا ہے۔ دیگر اقوام نے اسلامی اصولوں کو بنیاد بناکر ترقی کی جانب سفر شروع کیا اور بلآخر عروج پر پہنچ گئے۔
تاریخ سے ثابت ہے کہ مسلمانوں کو حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے دور سے ہی عروج حاصل ہوگیا تھا۔ ایک طویل عرصہ مسلمانوں نے حاکم کی حیثییت سے گزارا۔ دیگر اقوام سے مزاحمت کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔ علوم و فنون میں بھی مسلمان سب سے آگے رہے اور معیارِ زندگی بھی دیگر اقوام سے بلند رہا۔ پھر آہستہ آہستہ مسلمان فضول رسومات، تضیع اوقات اور فروعی اختلافات میں مبتلا ہونے کی وجہ سے زوال کا شکار ہونا شروع ہوگئے۔ یہاں سے دیگر اقوام نے اسلامی اصولوں کو بنیاد بناکر ترقی کی جانب سفر شروع کیا اور بلآخر عروج پر پہنچ گئے۔
اب دنیا مسابقت کے دور میں داخل ہوگئی ہے لہٰذا ضروری ہے کہ اپنے اندر سے فضولیات کو نکال کر خود کو ترقی یافتہ اقوام کی صف میں جگہ بنائی جائے۔ ہمارے معاشرے میں درج ذیل کمزوریاں موجود ہیں جن کا سدِ باب لازمی ہونا چاہئے؛
خانگی مسائل
ہم لوگ اب تک اپنے خانگی مسائل سے ہی باہر نہ نکل سکے۔ جب شادی کے بعد کوئی لڑکی دلہن بن کر گھر میں آتی ہے تو لڑکے کے ماں باپ اور بہن بھائیوں کی کوشش ہوتی ہے کہ ماحول میں کوئی تبدیلی نہ آئے۔ لڑکا شادی سے پہلے جس طرح رہ رہا تھا اور وقت دے رہا تھا، اب بھی ویسا ہی برتاؤ کرے۔ دلہن کو بھی دباؤ ڈال کر اپنے ماحول میں ڈھالنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ یہ کوئی نہیں سوچتا کہ میاں بیوی کی اپنی بھی زندگی ہوتی ہے، دیگر معاملات ہوتے ہیں، اس لئے ان کو اپنی مرضی سے زندگی گزارنی چاہئے۔ لیکن گھر کے دیگر افراد کی وجہ سے گھر کا ماحول کشیدہ رہتا ہے۔
جب گھر کا ماحول ہی کشیدہ ہو تو ذہن مثبت کس طرح سوچ سکتا ہے۔ ہر وقت ذہن پراگندہ ہی رہے گا اور انسان اپنی معیارِ زندگی کو بہتر بنانے کی کوشش نہیں کرسکتا۔ گھریلو جھگڑے عام ہوگئے ہیں۔ خاندانی نظام تباہی کا شکار ہوتا جارہا ہے لیکن ہمارے ہاں اس پر کوئی بات نہیں کرتا بلکہ ڈراموں کے ذریعے گھریلو جھگڑوں کو اور بڑھاوا دیا جارہا ہے۔ اس کا سیدھا سادھا حل تو یہ ہے کہ شادی کے بعد دلہا دلہن کو رہنے کے لئے الگ جگہ دے دی جائے جہاں وہ اپنی مرضی سے زندگی گزارسکیں۔ کچھ شمالی علاقوں میں یہ نظام رائج یہ کہ شوہر دوسرے علاقوں میں پیسہ کمانے کے لئے جاتا ہے تو اس کو اجازت نہیں کہ اپنی بیوی کو ہمراہ لے جاسکے، اس مسئلے کا بھی سختی سے سدِ باب ہونا چاہئے۔
خاندانی مسائل
خانگی مسائل کی طرح فضول کے خاندانی مسائل سے بھی ہمارا معاشرہ بھرا ہوا ہے۔ یہ مسائل خوشی اور غم کے موقعے پر سامنے آتے ہیں۔ بہت سے خاندانوں میں شادی بیاہ کرنا عذاب سے کم نہیں۔ کہیں پر دلہا کو پورے خاندان کے کپڑے، جوتے وغیرہ کا انتظام کرنا پڑتا ہے تو کہیں سسرال والوں کی نازبرداریاں برداشت کرنی پڑتی ہیں۔ لڑکی والوں کیلئے سب سے بڑا مسئلہ جہیز ہے۔ نئے دور کے رجحانات کی وجہ سے مہنگی اشیاء کی خواہشات میں بھی اضافہ ہوگیا ہے۔ ائیرکنڈیشن، گاڑی اور موٹر سائیکل کے مطالبات بھی عام ہوگئے ہیں۔
رشتوں کے سلسلے میں بھی خاندانی مسائل سامنے آتے ہیں۔ کچھ خاندانوں میں لازم کرلیا جاتا ہے کہ فلاں خاندان میں یا فلاں زبان بولنے والوں میں رشتہ نہیں کرنا۔ اب کتنا ہی اچھا رشتہ موجود ہو لیکن فضول روایتوں کی آڑ سامنے آجاتی ہے۔ پھر کچھ خاندان والوں نے اپنی بنائی ہوئی رسموں کو لازم کرلیا ہے۔ اگر طرفین میں سے کسی نے ان رسومات کا لحاظ نہیں رکھا تو رشتہ ختم ہوجاتا ہے، اکثر باراتیں واپس لوٹ جاتی ہیں۔ ان لوگوں کو یہ بات سمجھ میں نہیں آتی کہ دنیا کتنی آگے نکل گئی ہے، اور ہم ابھی تک اپنی روایات اور رسومات سے چھٹکارا نہیں پاسکے۔
خاندان میں اگر کوئی ترقی کررہا ہو، یا اپنا معیارِ زندگی بہتر کرلے تو یہ بات بھی دوسروں سے ہضم نہیں ہوتی۔ لوگ جلن اور حسد کا شکار ہوجائے ہیں۔ اپنے ہی قریبی کوشش کرتے ہیں کہ کوئی ان سے آگے نہ نکل جائے، اور رکاوٹیں ڈالنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اگر کوئی رشتہ خاندان سے باہر کرتا ہے تو اعتراض ہوتا ہے کہ ہم میں کیا کمی تھی جو غیروں کے پاس چلے گئے۔ اور اسی بات پر اکثر قطع تعلق کرلیا جاتا ہے۔
وراثت کے مسائل
گھر کے سربراہ کی وفات کی صورت میں جائیداد میں حصہ دینے میں تاخیر کی جاتی ہے اور اس کو بڑا ثواب کا کام سمجھا جاتا ہے۔ اگر کوئی بیٹا امیر ہے تو اس پر دباؤ ڈالا جاتا ہے کہ وہ اپنا حصہ چھوڑ دے۔ اسی طرح وہ لڑکیاں جن کی شادی ہوچکی ہے اور وہ خوشحال زندگی گزاررہی ہیں تو ان کو بھی جائیداد میں سے حصہ نہیں دیا جاتا اور نوبت یہ آجاتی ہے کہ تنگ آکر عدالتوں سے رجوع کرنا پڑجاتا ہے۔ لوگ یہ نہیں سوچتے کہ وراثت کے قوانین دین میں موجود ہیں، یہ اللہ کے احکامات ہیں جن پر عمل کرنا لازمی ہے۔ اللہ تعالیٰ جانتے ہیں کہ کس کو کتنا حصہ دینا چاہئے۔ اس میں امیر غریب، مرد و عورت، کنوارے یا شادی شدہ کی کوئی قید نہیں۔ ضروری کہ جو وراثت کے احکامات ہیں ان پر من و عن عمل کیا جائے، اپنی عقل و سمجھ کو پسِ پشت ڈال دینا چاہئے۔
اونچے مزاج
ہمارے معاشرے میں کوئی شخص اگر اونچے عہدے پر فائز ہوجائے تو وہ اپنے ہاتھ سے کام کرنا پسند نہیں کرتا۔ مزاج ایسا ہو گیا ہے کہ ہر شخص چپڑاسی کا انتظار کرتا ہے کہ وہ آئے تو صفائی کرے اور انکی خدمت کیلئے موجود ہو۔ ایک چھوٹا عہدے دار بھی خود سے پانی پینا پسند نہیں کرتا۔ جبکہ ترقی یافتہ قوموں کو دیکھیں تو ویاں صدر، وزرا اور امیر طبقا بھی اپنے ہاتھ سے کام کرنے میں شرم محسوس نہیں کرتے۔
ہمارے ہاں بڑے عہدے داروں کو اتنی زیادہ سہولیات دے دی جاتی ہیں کہ وہ مفت خوری کا عادی ہوجاتا ہے۔ اور سرکار سے ملی ہوئی سہولیات کو بے دردی سے استعمال کرتا ہے، جبکہ انہیں سہولیات سے اکثر عوام الناس محروم رہتے ہیں۔
روزگار کے لئے کوئی بھی حلال ذرائع آمدنی اختیار کئے جاسکتے ہیں، لیکن ہمارے معاشرے میں اکثریت کرسی پر بیٹھ کر ملازمت کرنا چاہتی ہے۔ مزدوری کرنے، مال بیچنے میں شرم محسوس کی جاتی ہے۔ پیسہ خرچ کرکے اعٰلی اسناد حاصل کرنے والے نام نہاد تعلیم یافتہ افراد کو صرف بڑا افسر بننے سے دلچسپی ہوتی ہے۔ خود سے کاروبار کرنا اور اپنا مقام بنانا کسی کو پسند نہیں۔ ترقی یافتہ اقوام میں امیر کبیر افراد کی اولاد بھی مزدوروں کی طرح کام کرتی نظر آتی ہے اور اس کو باعث شرم نہیں سمجھتی۔
صفائی ستھرائی کا اہتمام
صفائی کے معاملے میں بھی ہم پستی کا شکار ہیں۔ جب کہ صفائی ستھرائی ہمارے دین میں شامل ہے۔ ایک بیماری جو ہماری قوم میں عام ہے وہ ہے تھوکنا۔ پان، گٹکے وغیرہ کھانے والے تو بڑے انداز سے پچکاری مارتے ہیں اور ان کو کوئی شرم محسوس نہیں ہوتی۔ اکثر موٹر سائیکل والے حضرات تھوکتے وقت یہ احساس نہیں کرتے کہ ہوا کے زور پر چھینٹیں کسی اور پر بھی پڑسکتی ہیں۔
قوانین کی پابندی
قوانین کی، خاص طور پر ٹریفک کے قوانین کی خلاف ورزی کرنا عام ہوگیا ہے۔ محض ایک شخص کی وجہ سے پورا ٹریفک کا نظام جام ہوجاتا ہے اور گھنٹوں سڑک پر کھڑے کھڑے ضائع ہوجاتے ہیں۔ ایندھن کا ضیاں بھی مشاہدے میں آتا ہے جبکہ ہمارے ملک میں ایندھن کی کمی ہے۔ اگر سفر کرتے وقت دوسروں کا لحاظ کیا جائے تو اس سے سب کا بھلا ہوجائے۔ جلد بازی کے چکر میں آپ اکثر اپنا ہی نقصان کر بیٹھتے ہیں۔
تعلیمی مسائل
ہمارے ہاں جب سے تعلیم قومی ملکیت میں آئی ہے تب سے ہی تعلیم کا زوال شروع ہوگیا تھا۔ پہلے تعلیم شعور اور آگاہی کیلئے حاصل کی جاتی تھی اور اب تعلیم کا مقصد صرف امتحان میں کامیاب ہونا اور اسناد کا حصول رہ گیا ہے۔ طلباء کو کچھ آئے یا نہ آئے ان کو سند پکڑادی جاتی ہے جس کو حاصل کرکے وہ دوسروں کو خود سے کمتر سمجھنے لگتے ہیں۔ بنیادی طور پر تعلیم ہی قوموں کو ترقی کے عروج پر پہنچاتی ہے لیکن یہاں تو ہر ایرا غیرا تعلیمی اسناد لیکر گھوم رہا ہے، اور عملی زندگی میں صفر ہوتا ہے۔
ہمارے یہاں تعلیم کا حصول بہت آسان ہوگیا ہے۔ مونٹیسوری سے لیکر ماسٹر ڈگری تک تعلیمی سہولیات دینے والے ادارے محض دولت کمانے کے لئے بیٹھے ہیں، معیارِ تعلیم پر زور نہیں دیا جاتا۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ایسا تعلیمی نظام بنایا جائے کہ صرف قابل لوگ ہی آگے بڑھ سکیں اور نالائقوں سے اسناد کو دور رکھا جائے۔ تعلیم کو کاروبار نہ بنایا جائے، اس کے سخت معیارات ہوں اور اس کا مقصد قوم کی فلاح، نئی ایجادات اور ترقی وغیرہ ہو۔
انتظامی مسائل
شہری اور علاقائی بنیادوں پر بغیر منصوبہ بندی کے کام کیا جاتا ہے۔ ایک جگہ سڑک تعمیر ہوجائے تو کچھ عرصے بعد خیال آتا ہے کہ اس میں نکاسی آب، بجلی اور گیس کے پائپ ڈالنے ہیں۔ نتیجتاً سڑک کو کھود کر دوبارہ سے تعمیر کی جاتی ہے۔ کراچی شہر میں بارشیں کم ہورہی تھیں تو نکاسی کے نالوں میں تعمیرات شروع کردی گئیں۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ جب زیادہ برسات ہوئی تو پورے شہر میں پانی بھر گیا اور کئی مہینوں کے بعد خارج ہوا۔ بڑے بڑے مہنگے علاقے بھی بارش میں ڈوب گئے۔ شہر میں بے ہنگم تعمیرات کی بھرمار ہے جس سے صحت اور صفائی کے مسائل جنم لے رہے ہیں اور ہمارے بڑے شہر کچرا کنڈی بن گئے ہیں۔ جس کا جب بھی دل چاہتا ہے اپنے مکان کو بلند کرلیتا ہے۔ اس کے لئے رشوت کا سہارا لیا جاتا ہے۔
با صلاحیت افراد کی ناقدری
اکثر افراد میں کچھ قدرتی صلاحتیں ہوتی ہیں جن سے نوعِ انسانی کو فائدہ پہنچایا جاسکتا ہے۔ لیکن پاکستان میں زیادہ تر قابل افراد کی صلاحیتوں کی قدر نہیں کی جاتی۔ قیامِ پاکستان کے بعد بہت سے فلمساز، افسانہ نگار، شاعر، موسیقار وغیرہ ہجرت کرکے آئے لیکن یہاں ان کی قدر کرنے والا کوئی نہیں تھا۔ لہٰذا وہ واپس انڈیا چلے گئے اور اونچا نام کمایا۔ آج تک ہمارے باصلاحیت فنکار انڈیا جاکر نام کما رہے ہیں۔ انڈیا میں باصلاحیت افراد کی نسبتاً زیادہ قدر کی جاتی ہے۔ کئی افراد جن کا تعلق چھوٹے طبقے سے تھا، ترقی کرکے عروج پر پہنچ گئے۔ جبکہ ہمارے ہاں جان پہچان اور پیسے والے ہی ترقی کرسکتے ہیں۔
ہمارے قابل نوجوان ترقی یافتہ ممالک میں رہائش اختیار کررہے ہیں اور اپنی صلاحیتوں سے غیروں کو فائدہ پہنچارہے ہیں۔ اگر کوئی بھولا بھٹکا باہر سے پڑھ کے واپس آجائے تو اس کو یہاں کام کرنے کے مواقع نہیں ملتے۔ اس کے ساتھی اور افسران اس کی کارکردگی میں نقص نکالتے ہیں اور رکاوٹیں پیدا کرنا شروع کردیتے ہیں، کیونکہ وہ ان سے زیادہ باصلاحیت ہوتا ہے۔ زیادہ تعلیم یافتہ اور باصلاحیت افراد کو ہمارے یہاں ذلت کی زندگی گزارنی پڑتی ہے۔ ملک کو ایٹمی قوت بنانے والے ڈاکٹر قدیر خان کے ساتھ جو ظلت آمیز سلوک کیا گیا وہ تاریخ میں ہمیشہ افسوس کے ساتھ یاد رکھا جائے گا۔
مایوسی و بددلی
مندرجہ بالا مسائل کی موجودگی میں ترقی کرنا ممکن نظر نہیں آتا۔ لیکن مایوسی زیادہ بڑا مسئلہ ہے۔ ہمارے دشمن جو ہمیں پسماندہ رکھنا چاہتے ہیں وہ قوم میں مایوسی اور بددلی کے جذبات کو بڑھاوا دے رہے ہیں۔ اس کام کیلئے الیکٹرانک میڈیا کو استعمال کیا جارہا ہے۔ یہ میڈیا لوگوں کی کردار کشی کرکے بھی عوام کو بددل کرتا ہے۔ مزید کچھ سیاسی جماعتیں بھی لوگوں کو مایوس اور مشتعل کرنے میں ملوث رہی ہیں۔ لیکن امید کا دامن کبھی بھی ہاتھ سے نہیں چھوڑنا چاہئے۔ حالات کو بہتر کرنے کا سب سے آسان طریقہ؛ خود کو بدلنا ہے۔ جب لوگوں کی اکثریت خود کو تبدیل کرے گی تو ہی معاشرے میں مثبت تبدیلی آئے گی۔
Comments
Post a Comment
آپ کی رائے ہمارے لئے بہت قیمتی ہے۔