Skip to main content

شادی یا پڑھائی

 شادی یا پڑھائی

ہمارے معاشرے میں موجود ایک غلط رجحان اور اس کے نقصانات

ہمارے معاشرے میں والدین بچوں کی پڑھائی کو اتنا زیادہ اہمیت دینے لگے ہیں کہ لگتا ہے اس کے علاوہ اور کسی کام کی اہمیت نہیں۔ لڑکیاں جب جوان ہوتی ہیں تو ان میں سے اکثر کے رشتے آنا شروع ہوجاتے ہیں۔ لیکن والدین کی کوشش ہوتی ہے کہ لڑکی کی شادی اسکی پڑھائی مکمل ہونے کے بعد کی جائے جس کی وجہ سے اس کے رشتے واپس چلے جاتے ہیں۔

اگر والدین لڑکی سے شادی کا پوچھیں تو وہ بھی انکار کر دیتی ہے جس کی سب سے بڑی وجہ اس کی فطری شرم و حیا ہے، لیکن والدین اسی کو حرفِ آخر سمجھ لیتے ہیں اور اپنی ذمہ داری کو بوجھ سمجھتے ہوئے اس مسئلہ کو ٹال دیتے ہیں یہ سوچ کر کہ لڑکی کی گریجویشن مکمل ہو تو پھر اس کی شادی کا سوچا جائے۔ لیکن پڑھائی کے بعد پھر وہ رشتے نہیں مل پاتے۔ یہ صورتحال لڑکیوں کے لئے نفسیاتی عوارض کا سبب بن جاتا ہے۔ اب قابلیت تو زیادہ ہے لیکن جوڑ کے رشتے میسر نہیں تو یہ لڑکیاں کیا کریں۔ اس طرح یہ رجحان ہمارے معاشرے میں بڑھتا جا رہا ہے۔

اب فرض کریں کسی لڑکی نے شادی سے انکار صرف اس لئے کیا ہو کہ اسے شرم آرہی تھی یا اس وقت اس کا قلبی رجحان اس طرف نہیں تھا اور بعد میں ہو گیا تو اس کے جذبات کا کیا حشر ہوگا۔ یونیورسٹی کے ماحول میں جاکر، جہاں آزادی بہت زیادہ ہوتی ہے اور مرد حضرات؛ طلبہ، ملازمین اور اساتذہ کی شکل میں اس کے سامنے موجود ہوں تو کیا فطری لحاظ سے اس کے جذبات کا رخ ان کی طرف ہوگا یا نہیں؟

اب تعلیم کو تو ہم نے اہمیت دے دی لیکن کیا ہمارے لڑکے اور لڑکیاں بھی تعلیم کو اسی طرح اہمیت دے رہے ہیں جس طرح ان سے امید کی جارہی ہوتی ہے؟ میرا ذاتی تجربہ کے لحاظ سے اس کا جواب نفی میں ہے۔ اکثر طالبِ علم یونیورسٹی کی تعلیم کو تفریح سمجھتے ہیں، جنسِ مخالف سے تعلق کو تسکین کا ذریعہ سمجھ رہے ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جب تعلیمی اداروں میں کوئی سرگرمی ہو رہی ہو تو اسکو زیادہ اہمیت دی جاتی ہے، پڑھائی کے مقابلے میں۔

لڑکے اور لڑکیوں کے غیر اخلاقی تعلقات اور حرکات بھی مشاہدے میں آرہے ہوتے ہیں۔ جن کی نشاندہی والدین کو کی جاتی ہے لیکن والدین کے پاس اس کا کوئی حل نہیں ہوتا سوائے شرمندگی کے۔ اور مزید یہ کہ تعلیمی اداروں میں منشیات کی سپلائی بھی ایک بڑا سنگین مسئلہ ہے جس سے اپنی اولاد کو بچانا بھی والدین کے لئے چیلنج کی حیثیت رکھتا ہے۔

تو اس کا حل یہ ہے کہ بچوں کی شادی کو پڑھائی کے مقابلے میں زیادہ اہمیت دی جائے۔ ہم سب جانتے ہیں کہ پڑھائی کے بعد اکثر کو ڈھنگ کی نوکریاں نہیں ملتی، صرف چند ہزار کی نوکری کیلئے ان بچوں کے جذبات کو آزمائش میں ڈالنا عقلمندی نہیں۔ ہاں شادی کی بعد اگر پڑھائی ممکن ہو تو اس میں کوئی حرج نہیں۔ ویسے بہتر تو یہ ہے کہ ایک عام ذہانت رکھنے والے بچے کو کوئی ہنر سکھایا جائے چہ جائکہ اسے کوئی مشکل ڈگری پروگرام میں ڈالا جائے، جس سے وہ چار سال میں محض جان چھڑانا پسند کرے!!۔

Comments

Popular Posts

نواز شریف

جب سے مملکتِ پاکستان کا قیام وجود میں آیا ہے تب سے ہی یہاں سیاسی استحکام کا فقدان رہا ہے۔ قائدِ اعظمؒ، لیاقت علی خانؒ اور دیگر حکمرانوں نے کچھ عرصہ تک ہی حکومت کی ذمہ داریاں اٹھائیں، لیکن باقائدہ حکومت کا آغاز جنرل ایوب خان کی صدارت سے شروع ہوا۔ یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ اسی دورِ حکومت میں پاکستان نہ صرف اپنے پیروں پر کھڑا ہوا بلکہ اس کا شمار ایشیاء کے ترقی یافتہ ممالک میں ہونے لگا۔ پاکستان کے خلاف سازش کرنے والے عناصر جانتے تھے کہ جب بھی یہاں مستحکم حکومت ہوگی تو ملک ترقی کرے گا۔ لہٰذا مختلف ذرائع استعمال کرکے ہمارے دشمن پاکستانی قوم میں مایوسی پھیلاتے رہے اور اس وقت کی موجود، حکومت کے خلاف الزامات کے ذریعے لوگوں کو حکومت سے بیزار کرنے کی کوشش کرتے رہے، یہاں تک کہ پرویز مشرف جیسے امریکہ کو سجدہ کرنے والے، وقت کے فرعون، کو بھی حکومت سے محروم ہونا پڑا۔ پاکستانی عوام میں تعلیم اور شعور کی کمی ہے جس کی وجہ سے وہ باآسانی سازشوں کا شکار ہوجاتے ہیں اور تبدیلی کی خواہش مند ہوجاتے ہیں۔ یہ نہیں غور کرتے کہ حکومت مستحکم ہے، ترقیاتی کام چل رہے ہیں، زندگی اچھی گزر رہی ہے، تمام کاروبارِ زندگی عمد...

داڑھی کا جواز

  داڑھی کا جواز اگر کوئی شخص کہے کہ سر پر ہمیشہ استرا پھیرنا چاہیے تاکہ انسان بالوں سے پیدا ہونے والی پریشانیوں سے بچا رہے، اگر بال ہونگے تو جوئیں بھی ہونگی، بال لمبے ہوکر منہ پر آئیں گے، بال ہوا سے بکھر تے رہیں گے اور انسان ان میں جنگلی لگے گا لہٰذا سر کے بالوں کے بغیر انسان زیادہ خوبصورت لگے گا، تو ایسے شخص کو آپ کیا جواب دیں گے؟ ظاہر ہے کہ اس شخص کو کہا جائے گا کہ بال اگنا ایک قدرتی عمل ہے، اس کو روکنے کے بجائے ہمیں ان کو آراستہ کرنا چاہیے، ان کی صفائی ستھرائی کا خیال رکھنا چاہیے تو یہ بال ہماری شخصیت میں خوبصورتی کا باعث بنیں گے بہ نسبت ٹنڈ کے! یہی جواب اصل میں داڑھی کے جواز کیلئے استعمال کیا جاسکتا ہے۔ اس کیلئے فتاویٰ کی ضرورت نہیں۔ قدرت نے داڑھی مرد کو عطاء کی ہے۔ اب مردوں کا کام ہے کہ اپنے چہروں کو روزانہ چھیلنے کے بجائے داڑھی کو بڑھنے دیں اور اس کو آراستہ کریں اور اپنی مردانگی کا ثبوت اپنے چہروں سے دیں۔ کچھ لوگ اپنی گفتگو میں یہ کہتے ہوئے نظر آتے ہیں کہ فلاں شخص داڑھی رکھ کے جھوٹ بول رہا ہے، یا کچھ افراد نے داڑھی رکھی ہوئی ہے اور خواتین کو دیکھتے پھرتے ہیں۔ ایسے لوگ...

ناران کی سیر

 ناران کی سیر راولپنڈی سے ناران کے سفر کی روداد جو ذاتی مشاہدے پر مشتمل ہے۔ اس سفرنامے میں مزید اہم مقامات کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ اپنے شہر سے دور کوئی بھی سفر کرنے سے پہلے اس سے متعلق معلومات حاصل کرنا بہت ضروری ہے۔ شمالی علاقوں کا تفریحی دورہ کرنا ہو اور ہر قسم کی مشکلات سے محفوظ رہنا چاہتے ہوں تو بہتر ہے کہ کسی سیاحتی گروپ یا کمپنی کے ساتھ سفر کیا جائے۔ سیاحتی کمپنی کے خرچے تو زیادہ ہوتے ہیں لیکن یہ آپ کو اتنی سہولیات فراہم کرتی ہیں کہ آپ ہر قسم کی کوفت سے بچ جاتے ہیں۔ اگر آپ محدود خرچے میں ناران کی سیاحت کرنا چاہتے ہیں تو آپ کو راولپنڈی سے گائڈ کی خدمات حاصل کرنا ہونگی، اس کیلئے آپ پہلے سے معاوضہ اور مقامات طے کرسکتے ہیں۔ کچھ گائڈ آپ کو مناسب داموں میں ہوٹل کے کمرے اور طعام کا بندوبست کرواسکتے ہیں۔ جتنا تجربے کار گائڈ آپ کو ملے گا اتنا ہی آپ کا سیاحتی سفر بہتر ہوگا۔ جو حضرات اپنے گھر کی خواتین اور بچوں کے ساتھ ناران کا سفر کرنا چاہتے ہیں تو یہ بات مدِنظر رکھیں کہ ان کو طویل سفر کرنا ہوتا ہے اور آپ کو آرام کے کم مواقع میسر آسکتے ہیں۔ مجوعی طور پر یہ سیاحتی دورہ آپ کو تھکن میں مبت...