ٹریفک کا نظام اور ہم
کراچی شہر میں جو آمدورفت کے مسائل بڑھتے جارہے ہیں اس میں ہمارا کتنا کردار ہے اور سدباب کس حد تک ہوسکتا ہے۔
کراچی اور دیگر شہروں میں ٹریفک کے جو مسائل نظر آتے ہیں ان میں سے اکثر کے ذمہ دار ہم خود ہوتے ہیں۔ اگر ہم سواری کے دوران اپنے رویے درست کرلیں تو ٹریفک کا نظام بہتر ہوسکتا ہے۔ ترقی یافتہ ممالک میں قانون کی سختیاں ٹریفک کے اصول کی خلاف ورزی سے روک دیتی ہیں، لیکن ہمارے ہاں قانون کی پابندی نہ ہونے کی وجہ سے ٹریفک کے اصولوں کی خلاف ورزی عام بات ہے۔
کراچی شہر میں کبھی بھی لوگوں کے آمدورفت کے نظام پر توجہ نہیں دی گئی (ماسوائے نعمت اللہ خان مرحوم کے کہ ان کے دور میں لوگوں کیلئے آمدورفت کا نظام نسبتاً بہتر تھا)۔ ایک دور میں موٹر سائکل والے چنگچی رکشے چلتے تھے جن سے لوگ فائدہ اٹھارہے تھے، اس پر بھی پابندی لگادی گئی۔ اب لوگوں کیلئے کوئی بھی مناسب اور سستی سواری دستیاب نہیں جس کی وجہ سے اکثریت ذاتی سواری کو ترجیح دے رہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کراچی شہر میں گاڑیاں اور موٹر سائکلیں بڑھتی جارہی ہیں اور ساتھ ہی ساتھ ٹریفک کے مسائل میں بھی اضافہ ہورہا ہے۔ اگر حکومتی سطح پر عام لوگوں کی آمدورفت کا انتظام کرلیا جائے تو لوگوں کو ذاتی سواری کی ضرورت نہ ہو اور ٹریفک کا دباؤ کم سے کم ہوجائے۔
اکثر لوگ یہ کہتے ہیں کہ ٹریفک کے سخت قوانین سے ہی اس کا نظام بہتر ہوسکتا ہے، یہ بات ایک حد تک ہی درست ہے۔ ہمارے ہاں غربت نسبتاً زیادہ ہے، لوگوں کی دسترست میں اکثر پرانی گاڑیاں ہی میسر آتی ہیں جن کو وہ اپنے نام بھی نہیں کروارہے ہوتے؛ ساتھ ہی انکے لئے ملازمت سے چٹھی لیکر سواری کا لائسنس بنوانا مشکل ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ لائسنس بنوانے کا نظام اتنا پیچیدہ ہےکہ لوگ اس سے دور ہی رہنا پسند کرتے ہیں۔ مزید برآں جب حکومت عوام کو سہولت مہیا نہیں کرسکتی تو اس کو کوئی حق نہیں پہنچتا کہ وہ قانون کے نام پر لوگوں کو پابند کرے۔ اور اگر حکومت ذاتی سواری رکھنے والوں پر سخت قانونی پابندیاں لگائے تو یہ کھلم کھلا ظلم کرنے کے مترادف ہوگا۔
اب دوسرے پہلو پر نظر ڈالتے ہیں جس میں لوگ خود ٹریفک کے نظام میں خلل کے ذمےدار ہیں۔ جلد بازی میں سواری کو تیز چلانا، پہلے آگے نکلنا اور دوسروں کو راستہ نہ دینا یہ وہ غلط حرکات ہیں جن کا مشاہدہ زورمرہ کے معمولات میں نظر آتا ہے (گھنٹوں اپنے اوقات ضائع کرنے والی قوم کو یہ زیب نہیں دیتا)۔ اکثر سڑک کی درمیانی اور تیسری لائن جو تیز گاڑیوں کے لئے ہوتی ہے اس میں لوگ آہستہ رفتار سے گاڑیاں چلاتے ہیں جس سے ٹریفک کی روانی متاثر ہوتی ہے۔ کچھ لوگ سڑک کی لائن تبدیل کرتے ہوئے اور چوراہوں سے گزرتے ہوئے جلد بازی سے کام لیتے ہیں جس سے حادثات کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ چند سالوں سے ایک مسئلہ بہت زیادہ مشاہدے میں آرہا ہے کہ چھوٹی سڑکوں اور گلیوں میں لوگ اپنی بڑی گاڑیاں لے جاتے ہیں جس سے دوسرے لوگوں کے آمدورفت کا راستہ رک جاتا ہے اور لوگ کوفت میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔ اور راستوں میں گاڑیاں/موٹرسائکلیں کھڑی کردینا یہ مرض معاشرے میں وائرس کی طرح پھیلتا جارہاہے۔
اس طرح کی اور بھی غلطیاں ہیں جو سفر کرنے والے بھگتتے رہتے ہیں۔ طبّی ماہرین کے مطابق ٹریفک کے مسائل سے لوگوں کی ذہنی صحت پر برا اثر پڑرہا ہے۔ گھنٹوں ٹریفک میں پھنسے رہنے کی وجہ سے لوگ بلڈپریشر، ہائپرٹینشن اور نفسیاتی عوارض میں مبتلا ہورہے ہیں۔ اس لئے ضرورت اس بات کی ہے کہ اگر حکومتی سطح پر مذکورہ بالا مسئلے پر کچھ کام نہ کیا جارہا ہو تب بھی ذاتی حیثیت میں رہتے ہوئے خود سے ٹریفک کے مسائل کی کمی کیلئے کوشش کرتے رہیں، اس امید پر کہ شاید معاشرے میں کچھ بہتری آجائے۔
Comments
Post a Comment
آپ کی رائے ہمارے لئے بہت قیمتی ہے۔