ڈگریوں کا بوجھ اٹھائے گدھے
ہمارے معاشرے میں لوگ کس طرح ڈگریوں کے حصول کیلئےبھیڑچال کا شکار ہیں۔ اور تعلیم کا مقصد کیا بنا لیا ہے اس سے متعلق گفتگو کی گئی ہے۔
پاکستان میں تعلیم کا زوال اس وقت شروع ہوا تھا جب حکومتِ وقت نے تعلیم کے شعبے اور اداروں کو قومی ملکیت میں لیا۔ وہ تعلیمی ادارے جو اپنے معیار کے لحاظ سے قابلِ ذکر تھے، قومیانے کے بعد بیکار ہوکر رہ گئے۔ پہلے کے زمانے میں لوگ مڈل یا میٹرک پاس کرتے تھے تو انکی بہت قدر کی جاتی تھی۔ ان میں بہت زیادہ قابلیت ہوتی تھی اور نوکریاں بھی آرام سے مل جاتی تھیں۔ لیکن اب وہ دور آگیا ہے کہ لوگ پی ایچ ڈی کی اسناد ہاتوں میں لیکر گھوم رہے ہیں اور ان کی کوئی قدرومنزلت نہیں، نہ ہی کوئی مناسب نوکری مل رہی ہوتی ہے۔
تعلیم کا حصول اب نہایت سہل ہوگیا ہے۔ اسباق و مضامین کو سیاق و سباق سمجھے بغیر رٹنے اور محظ 33 فیصد نمبر حاصل کرکے کوئی بھی کسی بھی درجے میں کامیابی حاصل کر سکتا ہے۔ اور ایک بار سند حاصل ہوجائے تو لوگ خود کو علامہ سمجھنے لگتے ہیں، چاہتے ہیں کہ اب اعلٰی ملازمتوں کیلئے انھیں خود بلایا جائے گا۔ یہ احمقوں کی جنت میں رہنے والی بات ہے۔ ہونا دراصل یہ چاہئے تھا کہ اعلٰی درجوں میں صرف انہی کو داخلہ ملے جو اس کے واقعی اہل ہیں۔ اور تعلیم کا ہدیہ بھی اتنا زیادہ ہو کہ ہر کس و ناکس کے لئے اعلٰی تعلیم کا حصول سہل نہ ہو۔ مثال کے طور پر سرکاری میڈیکل کالجوں میں غریب لوگ ڈاکٹر تو بن جاتے ہیں لیکن انکی کمائی زیادہ نہیں ہوتی لہٰذا ان میں سے بہت سے فارماسوٹیکل کمپنیوں میں چلے جاتے ہیں تاکہ زیادہ پیسہ کما سکیں۔ اس طرح لوگ ڈگریوں کو ضائع کردیتے ہیں اور تعلیم کا مقصد فوت ہوجاتا ہے۔ لڑکیاں زیادہ تر شادی کیلئے پڑھائی کررہی ہوتی ہیں تاکہ ان کو اچھا رشتہ مل جائے۔
ثابت ہوا کہ تعلیم حاصل کرنے کا مقصد محظ ذاتی کامیابی کا حصول ہے۔ ڈاکٹر عبدالوہاب صاحب جب کراچی یونیورسٹی کے وائس چانسلر بنے تو انہوں نے داخلہ اور امتحانی فیس میں اضافہ کردیا تھا، جس پر ایک سیاسی جماعت نے احتجاج بھی کیا اور ڈاکٹر صاحب کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا کہ فیس میں اضافے سے غریبوں کیلئے تعلیم کا حصول مشکل ہوجائے گا۔ ڈاکٹر عبدالوہاب صاحب نے دوٹوک انداز میں بیان دیا کہ غریبوں کو اتنا زیادہ پڑھنے کی ضرورت نہیں بلکہ انہیں ہنر مند ہونا چاہئے یا کوئی نوکری کرکے اپنے کنبے کی مالی معاونت کرنی چاہیے۔ یہ ڈاکٹر صاحب کی دوراندیشی تھی جس کو لوگوں نے غلط انداز سے لیا۔ آج ہم معاشرے میں دیکھ رہے ہیں کہ جو لوگ ڈگریاں لئے گھوم رہے ہیں وہ محظ نوکریوں کے محتاج ہیں اگر کسی وجہ سے نوکری ختم ہوجائے تو مہینوں دوسری نوکری نہیں ملتی اور ایسے تعلیم یافتہ کو گھر بیٹھنا پڑتا ہے کیونکہ کوئی ہنر نہیں آتا نہ ہی محنت مزدوری کرسکتے ہیں۔ تو جناب اعلٰی تعلیم ہمارے نوجوانوں کو ناکارہ کررہی ہے۔
آخر میں ان گدھوں کا ذکر کروں گا جو اپنے اوپر ڈگریوں کا بوجھ لادتے جارہے ہیں۔ میں ایک تعلیمی ادارے میں نئے داخلہ لینے والوں کو مشاورت فراہم کرتا ہوں تو ایک صاحبہ سے پوچھا آپ کی تعلیم کیا ہے اور کس مضمون میں داخلہ چاہئے تو بولیں "میں نے اردو میں ماسٹرز کیا ہے اور اب میں انگریزی میں ماسٹرز کرنا چاہتی ہوں"۔ جب ان سے پوچھا کہ پھر آپ نے اردو میں ماسٹرز کیوں کیا تو ان کے پاس اس کا جواب نہ تھا۔ ایک محترمہ ایم فل کا معلوم کرنے آئیں تو میں نے کہا آپ ایم فل کیوں کرنا چاہتی ہیں تو بولیں "گھر بیٹھ کر پھر کیا کروں"۔ اس کے علاوہ بہت سے لوگ معلوم کرتے ہیں کہ ہمارے پاس ڈگری ہے، ہم مزید کیا کرسکتے ہیں۔ تو میں جواب دیتا ہوں کہ آپ اب تعلیم کی جان چھوڑ دیں اور کوئی کام کریں۔
Comments
Post a Comment
آپ کی رائے ہمارے لئے بہت قیمتی ہے۔