پیدائشی ذہنی معذور بچے
یہ قانونِ قدرت ہے کہ کچھ بچے ذہین پیدا ہوتے ہیں اور کچھ ذہنی طور پر کمزور۔ لیکن معاشرتی عوامل بھی اس کے ذمہ دار ہیں جن کے متعلق اس مضمون میں بحث کی گئی ہے۔
اپنے اردگرد نظر دوڑائیں تو ہمیں ذہنی طور پر کمزور بچے کافی تعداد میں نظر آئیں گے، اس کی کئی وجوہات ہوسکتی ہیں جن کا تعلق ہماری معاشرتی، معاشی زندگی سے بھی ہے اور ذہنی اور جسمانی صحت سے بھی۔ جب بچہ دینا میں آنے سے پہلے نشوونما پا رہا ہوتا ہے اس وقت ماں کی ذہنی اور جسمانی صحت کا خاص خیال رکھنا ضروری ہے۔ ذہنی صحت کیلئے مندرجہ ذیل باتوں کا خیال رکھنا ضروری ہے؛
عورت امید سے ہو تو اس کو خوش اور مطمئن رکھا جائے، کمرہ صاف ستھرا اور مزین ہو
اس کے ساتھ یا اس کی موجودگی میں لڑائی جھگڑے سے پرہیز کیا جائے
معاشی تنگی کا رونا نہ رویا جائے
ہر ممکن طریقے سے اس کی خواہشات کو پورا کیا جائے، اگر استطاعت نہ ہو تو سستا متبادل طریقہ اپنایا جائے
ذہنی اور جسمانی مشقت سے بچایا جائے
ہمارے معاشرے کا ایک المیہ یہ ہے کہ بہو سے زیادہ بیٹی کی فکر کی جاتی ہے۔ یہاں یہ بات قابلِ غور ہے کہ جو بہو آپ لیکر آئے ہیں وہ آپ ہی کی آنے والی نسل کو بڑھاوا دے رہی ہے تو اس کا خیال اپنی بیاہی ہوئی بیٹی سے زیادہ رکھنا چاہئے۔ اپنی بہو کو آرام اور راحت پہنچائیں گے تو آپکے پوتے پوتیاں صحت مند پیدا ہونگے۔
مشاہدے میں جو ذہنی معذور یا ذہنی طور پر کمزور بچے نظر آرہے ہیں اس کی سب سے بڑی وجہ سسرال والوں کا رویہ ہے۔ شادی کے بعد سے ہی سہاگن کو نوکرانی سمجھ کے گھر کے کام کروائے جاتے ہیں۔ شوہر کے ساتھ ہنسی مذاق پر ٹوکا جاتا ہے۔ لڑکی کسی پسندیدہ شے کی فرمائش کرے تو برا مانا جاتا ہے۔ لڑائی جھگڑا چیخ و پکار عام ہوگیا ہے جس سے بچے کی صحت، پیدائش سے پہلے ہی متاثر ہوجاتی ہے۔
صحت کے حوالے سے دیکھا جائے تو اس دور میں خالص خوراک کا حصول مشکل ہے۔ ساتھ ہی بازار کے کھانے اور محض ذائقے دار اشیاء کا استعمال بڑھتا جارہا ہے جس کا اثر بچے کی صحت پر پڑسکتا ہے۔ ضروری ہے لڑکیوں کو بچپن ہی سے اچھی اور معیاری خوراک دی جائے۔ ہمارے معاشرے میں لڑکوں کی خوراک کا خاص خیال رکھا جاتا ہے جبکہ لڑکیوں کی طرف مائیں توجہ نہیں دیتیں۔ کچھ علاقوں میں ایسا بھی ہوتا ہے کہ مرد حضرات گوشت کا سالن کھارہے ہیں اور گھر کی خواتین چٹنی سے روٹی کھاتی ہیں۔
لڑکیاں جب ماں بننے کے مراحل سے گزرتی ہیں تو ان کو لازمی بھرپور صحت اور تندرستی کی ضرورت ہوتی ہے۔ تعلیم کا بے جا بوجھ اور ملازمتوں کیلئے دھکے کھانے سے بھی لڑکیوں کی صحت متاثر ہوتی ہے جس سے وہ کثرتِ اولاد کے قابل نہیں رہ پاتی۔ ویسے بھی زیادہ پڑھی لکھی خواتین اچھی مائیں ثابت نہیں ہورہی ہیں اور ملازمت والی خواتین اپنی صحت کا خیال نہیں رکھ سکتی ہیں۔ لہٰذا ضرورت اس بات کی ہے کہ لڑکیوں کا لڑکوں سے زیادہ خیال رکھا جائے اور ان کو طاقتور خوراک مہیا کی جائے ان پر تعلیم کا بوجھ کم ڈالا جائے اور گھریلو آمدنی والے کام سکھائے جائیں تاکہ وہ بیرونی مسائل سے بھی محفوظ رہ سکیں۔
Comments
Post a Comment
آپ کی رائے ہمارے لئے بہت قیمتی ہے۔