بجلی کے بحران کا ذمہ دار کون؟
بحیثیت قوم بجلی کے بحران کی ذمہ داری ہم سب پر عائد ہوتی ہے۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ جب اعلٰی سطح پر کوئی غلط فیصلہ ہورہا ہو تو اس کا خمیازہ آنے والے زمانے میں بھگتنا پڑتا ہے۔ اس وقت عوام کی غیر سنجیدگی آنے والے دور میں بحران کی صورت میں سامنے آجاتی ہے۔
بجلی کے موجودہ بحران کی درج ذیل تین بنیادی وجوہات ہیں؛
نئے ڈیم تعمیر نہ کرنا
بجلی مہیا کرنے والی سرکاری کمپنیوں کو نجی تحویل میں دینا
بجلی مہیا کرنے والی کمپنیوں سے غلط معاہدے کرنا
نئے ڈیم تعمیر نہ کرنا؛
پوری دنیا کے ممالک میں پاکستان وہ واحد ملک ہے جہاں نئے ڈیم کی تعمیر کی سب سے زیادہ مخالفت کی جاتی ہے۔ اس مخالفت کی بنیاد اکثر سیاسی ہوتی ہے اور عوام حقائق کے برعکس اپنی سیاسی جماعت پر بھروسا کرتے ہوئے اس مخالفت میں شامل حال رہتے ہیں۔ ہم نے کبھی یہ نہیں سوچا کہ آنے والے وقت میں ہمیں کن کن مشکلات کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔ بس جو سیاسی لیڈر نے کہ دیا وہی سچ مان لیا۔
کالا باغ ڈیم ایک قدرتی ڈیم ہے جس میں نسبتاً کم خرچ آتا اور ہمیں بجلی تقریباً ایک روپے فی یونٹ تک موصول ہوتی۔ اس کی مخالفت تین صوبوں نے کی جس میں بلوچستان کی مخالفت محض باقی دو صوبوں کی حمایت میں کی گئی تھی۔ اصل اختلاف سندھ اور صوبہ سرحد کی سیاسی جماعتوں کو تھا۔ اس وقت کی عوام جن کا تعلق ان سیاسی جماعتوں سے نہیں تھا وہ بہرحال تعداد میں زیادہ ہی تھے پھر بھی انہوں نے اس کی تعمیر کیلئے آواز نہیں اٹھائی۔ اگر کوئی سیاسی لیڈر دعوہ کرتا ہے کہ کالا باغ ڈیم اس کی لاش پر ہی بنایا جاسکتا ہے، تو دیگر عوامی نمائندے یہ دعوہ کرسکتے تھے کہ ڈیم کی تعمیر ہماری لاشوں پر ہی روکی جاسکتی ہے، اس طرح طاقت کا توازن کچھ اور ہوتا۔
سندھ کی عوام تو ذہنی پسماندگی کا شکار ہے، انہیں تو اپنی سیاسی جماعتوں کے علاوہ کچھ نظر نہیں آتا لیکن صوبہ سرحد کی عوام نے صحیح معنوں میں غلطی کی اور سب کو اس کا خمیازہ برداشت کرنا پڑرہا ہے۔ اس وقت اگر کئی بڑے ڈیم تعمیر ہوجاتے تو آج پاکستان کی معیشت بہت مضبوط ہوتی۔
بجلی مہیا کرنے والی سرکاری کمپنیوں کو نجی تحویل میں دینا؛
جب تک بجلی سرکاری اداروں کے تحت مہیا کی جارہی تھی اس وقت بجلی اور اس کی ادائیگی سے متعلق شکایات کا ازالا ہوجایا کرتا تھا۔ اگر قیمت میں غلط اضافہ ہوتا تو وہ بینک والے ہی وصولی کے وقت درست کرلیا کرتے تھے، جس کیلئے صارف کے پاس پرانی ادائیگی کا ثبوت دینا لازم تھا۔ بجلی کے دفاتر میں بھی شکایات بروقت دور کی جاتی تھیں۔ لیکن کچھ سیاسی جماعتوں نے اپنے مفاد کیلئے مہم چلائی کہ بجلی چلانے والی کمپنوں کو نجی سطح پر چلایا جائے تاکہ عوام کو زیادہ سے زیادہ جدید سہولیات مہیا کی جاسکیں۔
ان سیاسی جماعتوں کے دباؤ اور عوام کی حمایت کے نتیجے میں بجلی کی ترسیل کا نظام نجی اداروں کے سپرد کردیا گیا اور پھر یہیں سے عوام کی اصل مشکلات کا آغاز ہوا۔ اب اگر بجلی کی قیمت میں واضح فرق ہو تو عوام کو ان کے دفاتر جانا پڑتا ہے جہاں سے ہدایت ملتی ہے کہ پہلے ادائیگی کی جائے، اس کے بعد قیمت میں فرق کو دیکھا جائے گا۔ پس ثابت ہوا کہ اگر عوام اس وقت بجلی کی ترسیل کا نظام بجی اداروں کو دینے کی مخالفت کرتی تو آج یہ دن نہ دیکھنا پڑتا۔
بجلی مہیا کرنے والی کمپنیوں سے غلط معاہدے کرنا؛
جس زمانے میں بجلی مہیا کرنے والے نجی اداروں سے معاہدے کئے جارہے تھے اس وقت ایک بڑی سیاسی جماعت نے اس کی مخالفت کی تھی اور یہ جتایا تھا کہ ان معاہدوں کی رو سے بجلی بہت مہنگی ملے گی۔ لیکن اس وقت عوام نے اس تنبیہ کو سنجیدگی سے نہیں لیا اور معاہدے کے خلاف احتجاج نہیں کرسکے جس کی وجہ سے آج بجلی انتہائی مہنگے داموں موصول ہورہی ہے۔ یہ بات ریکارڈ میں موجود ہے کہ کن سیاسی جماعتوں نے بجلی کی ترسیل سے متعلق غلط فیصلے کئے اور اس کی مخالفت کس کس نے کی۔ ذرا سی تحقیق سے یہ بات معلوم کی جاسکتی ہے۔
لوگ یہ سمجھ رہے ہیں کہ بجلی موجودہ حکومت میں مہنگی ہوئی ہے پہلے اتنی نہیں تھی، تو یہ بات غلط ہے۔ پہلے کی حکومتیں بجلی کی قیمتوں میں عوام کو سبسڈی دیتی آرہی تھیں جس کا نقصان معیشت کو ہورہا تھا۔ اب "آی ایم ایف" سے کئے گئے موجودہ معاہدے کی رو سے حکومت عوام کو سبسڈی نہیں دے سکتی جس کے نتیجے میں بجلی انتہائی مہنگی ہو گئی ہے۔ ظاہر ہے کہ ملک سبسڈی پر نہیں چلا کرتا۔ سیاسی فوائد حاصل کرنے کیلئے عوام کو وقتی سہولت دی جاتی ہے جس کا نتیجہ آنے والے وقت میں بھگتنا پڑتا ہے۔
ایک مسئلے کی طرف لوگوں کو توجہ دلائی جارہی ہے کہ سرکاری ملازمین کو مفت میں بجلی نہ دی جائے تاکہ بجلی کے بحران میں کمی کی جاسکے۔ لیکن عوام یہ نہیں جانتی کہ مفت بجلی دینے کا سلسلہ تو 70 سال سے جاری ہے۔ اس وقت بجلی سستی تھی تو کسی کو محسوس نہیں ہوا، اب جب کہ بجلی بہت قیمتی ہوگئی ہے تو اس بات کو شدت سے محسوس کیا جارہا ہے۔ ایک قانون جب بن جاتا ہے تو اس کو بدلنا اتنا آسان نہیں ہوتا۔
بجلی کے موجودہ بحران ماضی کے غلط فیصلوں کا نتیجہ ہے جس سے باآسانی گلوخلاصی ممکن نہیں۔ جو احتجاج اِس وقت ہورہے ہیں اگر اسی زمانے میں کئے جاتے تو آج اس بحران کا سامنا نہ کرنا پڑتا۔
Comments
Post a Comment
آپ کی رائے ہمارے لئے بہت قیمتی ہے۔