مسلمانوں میں گروہ بندی اور ہمارا کردار
مسلمانوں اور پاکستانیوں میں جو مختلف گروہ اس وقت ہیں انکی موجودگی میں ہمارا کیا کردار ہونا چاہئے۔ کسی گروہ میں شمولیت کس بنیاد پر کی جائے اس سے متعلق آپ یہ مضمون پڑھیں گے۔
مسلمانوں کی تاریخ گروہ بندی اور اختلافات سے بھری ہوئی ہے۔ بیرونی سازشوں کے نتیجے میں مسلمان رنگ، نسل، زبان، قبیلہ سیاست اور عقائد پر تقسیم در تقسیم ہوتے رہے۔ جب تک نبیِ کریم ﷺ موجود رہے مسلمان تمام اختلافات سے بچے رہے۔ لیکن آپﷺ کے پردہ فرمانے کے بعد سب سے پہلا اختلاف خلافت کے معاملے میں پیش آیا۔ صحابہ کرام رضوان اللہ اجمعین کی ایمانی بصیرت کی بدولت یہ اختلاف باقی نہ رہا۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے گیارہ سال کامیابی سے خلافت کے امور ادا کئے لیکن خفیہ سازشوں کی وجہ سے مسلمانوں میں خلافت پر اختلاف پیدا ہوا اور خلیفہ سوئم شہید کردئے گئے۔ اس کے بعد پھر مسلمان کبھی ایک نہ ہوسکے۔
مملکت پاکستان کی بات کریں تو اس کے قیام کے سلسلے میں بھی ہندوستان کے مسلمانوں میں شدید اختلاف رہا۔ بہرحال اللہ کی مدد سے پاکستان اسلام کے نام پر وجود میں آیا اور یہاں کے مسلمان ایک ہوکے رہے۔ بدقسمتی سے حکمرانوں کی غلط پالیسیوں کے نتیجے میں مشرقی پاکستان ہم سے علحیدہ ہوا اور باقی ملک میں لسانی اور مذہبی اختلاف رونما ہونے لگے۔ آج تک کی صورتحال کا جائزہ لیں تو پاکستانی مسلمان گروہ در گروہ نظر آتے ہیں۔ کچھ سالوں سے یہ مشاہدہ میں آرہا ہے کہ پاکستانی قوم دو حصوں میں تقسیم ہورہی ہے۔ اس کا سلسلہ سب سے پہلے پرویز مشرف کے دور میں شروع ہوا۔ مشرف کی حمایت، لال مسجد آپریشن، افتخار چوہدری کی عہدے پر بحالی، امریکہ سے اتحاد اور محسن پاکستان ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے معاملے میں قوم واضح طور پر دو حصوں میں تقسیم نظر آئی۔ اس کے بعد عمران خان کے حکومت کے خلاف دھرنے اور اس کے بعد اس کی اپنی حکومت کے معاملے میں بھی دو گروہ مشاہدہ میں آئے جن کے اختلاف کا سلسلہ تاحال جاری ہے۔
پاکستانیوں کے دوگروہ میں تقسیم کے اندر دلچسپ بات یہ ہے کہ دونوں کے اندر ہر طبقے کے لوگ موجود ہیں۔ چاہے ان کا تعلق مذہبی، لسانی، حکومتی مشنری یا فوج سے ہو دونوں میں ان کے حمایتی موجود ہیں۔ تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ قوم صرف دو ہی حصوں میں کیوں تقسیم ہورہی ہے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ اب دور آگیا ہے حق اور باطل کے معرکہ کا۔ ایک گروہ حق پر ہوگا اور دوسرا باطل۔ چاہے دونوں خود کو حق پر سمجھتے ہوں۔ اب مزید یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ ایک عام پاکستانی کس گروہ کی حمایت کرے؟ تو اس کا سیدھا اور صاف جواب یہ کہ جس گروہ کو بہتر سمجھتا ہے بس اس کا ہی ساتھ دیتا رہے کیونکہ اللہ تعالیٰ انسان کی نیت کو دیکھتے ہیں۔ اچھی نیت والے کو ضرور اجر ملے گا۔
مستقبل کے بارے میں صاحبِ بصیرت لوگ یہ کہ رہے ہیں کہ جو لوگ کسی بھی گروہ میں شامل نہیں یا جو بیچ کے لوگ ہیں وہ سب ختم ہوجائیں گے۔ لحاظہ اگر کوئی نظریاتی اور عملی طور پر کسی گروہ سے وابستہ نہیں تو اب اپنی عقل اور سمجھ کے مطابق اسے کسی ایک گروہ کی حمایت کرنی چاہئے۔ واللہُ اعلم بالصواب
Comments
Post a Comment
آپ کی رائے ہمارے لئے بہت قیمتی ہے۔