Skip to main content

نام کے مسلمان

 نام کے مسلمان

اس بلاگ پوسٹ میں مسلمانوں کی دین کے ساتھ وابستگی کا ذکر کیا گیا ہے، کہ اپنی ذاتی زندگی میں کتنا دین پر عمل کرتے ہیں۔

اکثر آپ یہ سنتے ہوں گے کہ مولویوں کا زور صرف اس بات پر ہوتا ہے کہ مسلمان دین سے دوری کی وجہ سے مشکلات اور پریشانیوں میں مبتلا ہیں، جبکہ انہیں تعلیم، ہنر مندی، اخلاقیات اور قانون کی پاسداری پر زور دینا چاہئے۔ اسی بات کو موضوعِ گفتگو بنایا گیا ہے کہ دینِ اسلام ہمیں کیا سکھا رہا ہے اور ہم مسلمان عملی طور پر کیا کر رہے ہیں۔

مشاہدے میں یہ بات آتی جارہی ہے کہ بنیادی دین ہم مسلمانوں نے صرف نماز اور روزے کو سمجھ لیا ہے۔ ایک بڑا المیہ یہ ہے کہ جو پانچ وقت کے نمازی ہوتے ہیں انہیں مکمل دین دار سمجھا جاتا ہے اور اکثر ان سے لوگ اپنے مسئلے پوچھنا شروع ہوجاتے ہیں۔ یہ ایک غلط رجحان ہے، دینِ اسلام کے پانچ شعبے ہیں، عقائد، عبادات، معاملات/معاشیات، معاشرت اور اخلاقیات۔ ان پانچ میں سے ایک شعبہ عبادات کا پانچواں حصہ نماز ہے، تو جو شخص صرف نماز پابندی سے ادا کرتا ہو تو وہ کیسے مکمل دیندار کہلائے گا؟

دین ہماری زندگیوں سے نکلتا جارہا ہے۔ بحیثیت مسلمان ہم دین کے بغیر کچھ بھی نہیں کیونکہ دوسری قومیں ہم سے دنیاوی لحاظ سے بہت آگے ہیں۔ یہ صرف دین ہی ہے جو ہمیں دنیاوی زندگی میں کامیابی دلاسکتا ہے اور اخروی کامیابی تو یقینی ہے۔ بظاہر تو یہ جملہ معترضہ لگتا ہے کہ دین سے دوری ہی اصل مسائل کا سبب ہے لیکن یہ ایک حقیقت ہے جس کو جتنا جلدی سمجھ لیا جائے اچھا ہے کیونکہ اب ہمارے پاس دین کے علاوہ ہے ہی کیا جس سے ہم دوسری قوموں کا مقابلہ کر سکیں۔

اب ہم چند بنیادی باتوں سے زیرِبحث موضوع پر غور کرتے ہیں۔ معاشیات کو لیا جائے تو دین کی تعلیم کے مطابق منافع آٹے میں نمک کے برابر لینے اور مزدور کو اجرت بروقت دینے کا حکم موجود ہے۔ لیکن مشاہدے میں یہ آرہا ہے کہ منافع خوری، ملازمین کو تنخواہ تاخیر سے دینا، طے شدہ کام سے زیادہ کام لینا اور جب چاہے کام سے نکال دینے کی مشق بڑھتی جا رہی ہے۔ اس کے علاوہ مہیا کی جانے والے مالِ تجارت یا خدمات کا معیار بھی تسلی بخش نہیں ہوتا۔ اس کے بجائے ہمارے معاشرے میں موجود غیر ملکی کمپنیاں اس معاملے میں بہت بہتر ہیں جن کے سربراہ اکثر یہودی یا عیسائی ہوتے ہیں۔ تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ مسلمان آجر ایسا کیوں نہیں؟ وہ ہر سال حج اور عمرہ تو کرنا ضروری سمجھتا ہے لیکن اپنے ادارے کے غریب ملازمین کے لئے کچھ نہیں سوچتا۔

معاملات کا ذکر کیا جائے تو دین میں تاکید ہے کہ اپنے قرابت داروں پر پہلے خرچ کیا جائے جس میں پڑوسی بھی شامل ہے۔ اب ہوتا یہ ہے کہ لوگ صدقہ و خیرات دینے کے لئے تو ضرورت مندوں کو تلاش کررہے ہوتے ہیں لیکن ان کا اپنا سگا بھائی معاشی مشکلات کا شکار ہوتا ہے۔ اپنے بچوں کو مہنگے اسکولوں میں پڑھایا جاتا ہے اور خاندان میں کئی بچے اسکول کی فیس ادا کرنے سے قاصر ہوتے ہیں۔ تو اگر ہمارے معاشرے میں یہ سوچ پیدا ہو جائے کہ ہمارے مہینے کے خرچے میں خاندان اور پڑوس والوں کا بھی حصہ رکھنا ہے تواجتماعی طور پر معاشرے میں بہتری آسکتی ہے۔

ایک بڑا مسئلہ وراثت کا ہے۔ جو اولاد والدین کے ساتھ رہ رہی ہوتی ہے وہ انکی جائداد پر اپنا حق جتانا شروع ہوجاتی ہے۔ اکثر وراثت اس وجہ سے رک جاتی ہے کہ جائداد فروخت نہیں کی جاتی جس سے حقداروں کو ان کا حصہ نہیں مل پاتا۔ آج کے دور میں بھی لڑکیوں کو وراثت سے محروم رکھا جارہا ہے اور دلیل دی جاتی ہے کہ انکی شادی میں چونکہ خرچہ زیادہ ہوا تھا اس لئے انکا اب جائداد میں حصہ نہیں۔ جو دولت مند ہیں انکو مجبور کیا جاتا ہے کہ وہ اپنے حصے سے دست بردار ہوجائیں۔ اب جو جائداد پر قبضہ کر بیٹھا ہے اس کی بلاء سے کوئی فاقے کرے انکو فرق نہیں پڑتا۔

ہمارے دین میں خوشی اور غم کے موقع سے متعلق بھی احکامات موجود ہیں لیکن ان پر عمل نہیں ہورہا۔ فضول رسموں کا لازماً احتمام کیا جاتا ہے چاہے حیثیت ہو یا نہ۔ دین کے احکامات کو پسِ پشت ڈال دیا جاتا ہے۔ مخلوط مجالس پر بھی اب کسی کو اعتراض نہیں ہورہا اور نہ ہی مخلوط تعلیم پر۔ جب کہ یہ دین کی کھلم کھلا خلاف ورزی ہے۔

ان چند باتوں سے ہم مسلمان اپنا محاسبہ کرسکتے ہیں کہ ہم کس جانب جارہے ہیں۔ یہ راستا ترقی کی طرف لے جارہا ہے یا تباہی کی طرف۔ تو جناب مولویوں کو برا کہنے سے پہلے اپنے گریبان میں جھانک لی جئے۔

Comments

Popular Posts

نواز شریف

جب سے مملکتِ پاکستان کا قیام وجود میں آیا ہے تب سے ہی یہاں سیاسی استحکام کا فقدان رہا ہے۔ قائدِ اعظمؒ، لیاقت علی خانؒ اور دیگر حکمرانوں نے کچھ عرصہ تک ہی حکومت کی ذمہ داریاں اٹھائیں، لیکن باقائدہ حکومت کا آغاز جنرل ایوب خان کی صدارت سے شروع ہوا۔ یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ اسی دورِ حکومت میں پاکستان نہ صرف اپنے پیروں پر کھڑا ہوا بلکہ اس کا شمار ایشیاء کے ترقی یافتہ ممالک میں ہونے لگا۔ پاکستان کے خلاف سازش کرنے والے عناصر جانتے تھے کہ جب بھی یہاں مستحکم حکومت ہوگی تو ملک ترقی کرے گا۔ لہٰذا مختلف ذرائع استعمال کرکے ہمارے دشمن پاکستانی قوم میں مایوسی پھیلاتے رہے اور اس وقت کی موجود، حکومت کے خلاف الزامات کے ذریعے لوگوں کو حکومت سے بیزار کرنے کی کوشش کرتے رہے، یہاں تک کہ پرویز مشرف جیسے امریکہ کو سجدہ کرنے والے، وقت کے فرعون، کو بھی حکومت سے محروم ہونا پڑا۔ پاکستانی عوام میں تعلیم اور شعور کی کمی ہے جس کی وجہ سے وہ باآسانی سازشوں کا شکار ہوجاتے ہیں اور تبدیلی کی خواہش مند ہوجاتے ہیں۔ یہ نہیں غور کرتے کہ حکومت مستحکم ہے، ترقیاتی کام چل رہے ہیں، زندگی اچھی گزر رہی ہے، تمام کاروبارِ زندگی عمد...

داڑھی کا جواز

  داڑھی کا جواز اگر کوئی شخص کہے کہ سر پر ہمیشہ استرا پھیرنا چاہیے تاکہ انسان بالوں سے پیدا ہونے والی پریشانیوں سے بچا رہے، اگر بال ہونگے تو جوئیں بھی ہونگی، بال لمبے ہوکر منہ پر آئیں گے، بال ہوا سے بکھر تے رہیں گے اور انسان ان میں جنگلی لگے گا لہٰذا سر کے بالوں کے بغیر انسان زیادہ خوبصورت لگے گا، تو ایسے شخص کو آپ کیا جواب دیں گے؟ ظاہر ہے کہ اس شخص کو کہا جائے گا کہ بال اگنا ایک قدرتی عمل ہے، اس کو روکنے کے بجائے ہمیں ان کو آراستہ کرنا چاہیے، ان کی صفائی ستھرائی کا خیال رکھنا چاہیے تو یہ بال ہماری شخصیت میں خوبصورتی کا باعث بنیں گے بہ نسبت ٹنڈ کے! یہی جواب اصل میں داڑھی کے جواز کیلئے استعمال کیا جاسکتا ہے۔ اس کیلئے فتاویٰ کی ضرورت نہیں۔ قدرت نے داڑھی مرد کو عطاء کی ہے۔ اب مردوں کا کام ہے کہ اپنے چہروں کو روزانہ چھیلنے کے بجائے داڑھی کو بڑھنے دیں اور اس کو آراستہ کریں اور اپنی مردانگی کا ثبوت اپنے چہروں سے دیں۔ کچھ لوگ اپنی گفتگو میں یہ کہتے ہوئے نظر آتے ہیں کہ فلاں شخص داڑھی رکھ کے جھوٹ بول رہا ہے، یا کچھ افراد نے داڑھی رکھی ہوئی ہے اور خواتین کو دیکھتے پھرتے ہیں۔ ایسے لوگ...

ناران کی سیر

 ناران کی سیر راولپنڈی سے ناران کے سفر کی روداد جو ذاتی مشاہدے پر مشتمل ہے۔ اس سفرنامے میں مزید اہم مقامات کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ اپنے شہر سے دور کوئی بھی سفر کرنے سے پہلے اس سے متعلق معلومات حاصل کرنا بہت ضروری ہے۔ شمالی علاقوں کا تفریحی دورہ کرنا ہو اور ہر قسم کی مشکلات سے محفوظ رہنا چاہتے ہوں تو بہتر ہے کہ کسی سیاحتی گروپ یا کمپنی کے ساتھ سفر کیا جائے۔ سیاحتی کمپنی کے خرچے تو زیادہ ہوتے ہیں لیکن یہ آپ کو اتنی سہولیات فراہم کرتی ہیں کہ آپ ہر قسم کی کوفت سے بچ جاتے ہیں۔ اگر آپ محدود خرچے میں ناران کی سیاحت کرنا چاہتے ہیں تو آپ کو راولپنڈی سے گائڈ کی خدمات حاصل کرنا ہونگی، اس کیلئے آپ پہلے سے معاوضہ اور مقامات طے کرسکتے ہیں۔ کچھ گائڈ آپ کو مناسب داموں میں ہوٹل کے کمرے اور طعام کا بندوبست کرواسکتے ہیں۔ جتنا تجربے کار گائڈ آپ کو ملے گا اتنا ہی آپ کا سیاحتی سفر بہتر ہوگا۔ جو حضرات اپنے گھر کی خواتین اور بچوں کے ساتھ ناران کا سفر کرنا چاہتے ہیں تو یہ بات مدِنظر رکھیں کہ ان کو طویل سفر کرنا ہوتا ہے اور آپ کو آرام کے کم مواقع میسر آسکتے ہیں۔ مجوعی طور پر یہ سیاحتی دورہ آپ کو تھکن میں مبت...