معاشرے میں اختلافِ رائے اور برداشت
ہمارے معاشرے میں پڑھے لکھے قابل افراد میں بھی برداشت کا مادہ زوال پذیر ہوتا جارہا ہے۔ اس کی کئی وجوہات ہوسکتی ہیں۔ اس مضمون میں چند محرکات کا ذکر ہے جن سے عدم برداشت میں اضافہ ہورہا ہے۔
ہمارے معاشرے میں اپنی رائے کو حتمی سمجھنے کا رجحان اتنا بڑھ گیا ہے کہ اختلافِ رائے کو جہالت اور ناسمجھی کا سبب مانا جاتا ہے۔ پڑھے لکھے روشن خیال افراد ہر معاملے میں اپنا فیصلہ سنانے لگتے ہیں اور سامنے سے دی جانے والی دلیل کو سننے کے روادار نہیں ہوتے۔ ایک فلم کا مشہور ڈائلاگ جو ایک ملزم وکیل کو بولتا ہے کہ آپ وکیل ہی رہیں جج بننے کی کوشش نہ کریں۔ تو آج کل ہر شخص جج بننا چاہ رہا ہے وکیل بن کے دلیل سے کوئی بات نہیں کرنا چاہتا۔
کچھ عرصے سے ایک سیاسی جماعت کے کارکنان اپنی جماعت اور اس کے نمائندوں کے علاوہ باقی سب کو چور اور ڈاکو ثابت کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ اس میں مزاحیہ بات یہ ہے کہ جب کوئی نمائندہ انکی جماعت چھوڑدے تو وہ نالائق ہوجاتا ہے اور (انکی نگاہ) میں چور جماعتوں سے کوئی انکی جماعت میں شامل ہوجائے تو وہ صادق اور امین کہلاتا ہے۔ ان سے اختلاف رکھنے والے شخص کو چوروں کا حمایتی اور ملک دشمن سوچ رکھنے والا سمجھا جاتا ہے، لحاظہ اگر کبھی بحث و مباحثہ ہو تو یہ لوگ شدت پر اتر آتے ہیں۔ اپنی بات کو ثابت کرنے کیلئے اکثر (نعوذ بااللہ) قرآن و حدیث کے خود ساختہ حوالے دینے لگ جاتے ہیں۔ انکی جماعت کا نمائندہ اعلیٰ بھی دوسرے لیڈران کیلئے خراب القابات استعمال کرنےسے گریز نہیں کرتا۔ اور یہی حال اس جماعت کے حمایتیوں کا بھی ہے۔
لوگوں کی ذہن سازی میں میڈیا کا رول بہت زیادہ ہوگیا ہے۔ جیو ٹی وی چینل دیکھنے والوں کا نظریہ اور ہے، اے آر وائی دیکھنے والوں کا اور۔ یعنی کہ لوگوں کی اپنی عقل شعور و سمجھ کچھ بھی نہیں، بس جس نے جو ٹی وی چینل پکڑلیا وہ اسی کے نظریات کا حامل ہوگیا۔ اس میں بہرحال اپنا مزاج بھی شامل ہوتا ہے۔ اسی طرح سوشل میڈیا گروپس اور پیجز کا ہے۔ ہر ایک جج بن کر اپنے فیصلے نافذ کرنے کی کوشش کررہا ہوتا ہے۔ پوسٹس ایسی بناتے ہیں کہ بس یہی حرفِ آخر ہے اور مزید بحث کی گنجائش نہیں۔ بہرحال اگر پہلے سے ہی آپ کا ذہن ایک مخصوص خیالات کا مالک ہے تو آپ کو اس سے متعلقہ باتیں ہی اچھی لگیں گی۔ اب ایک پوسٹ کے منظرِ عام پر آتے ہی اس پر ایک دوسرے کو جاہل اور کم عقل ثابت کرنے پر زور شروع ہوجاتا ہے، جبکہ ضرورت اس بات کی ہے کہ دلیل کے ساتھ پوسٹ کی حمایت یا مخالفت کی جائے۔
ایک بُرا رجحان معاشرے میں، خود کو ہرفن مولا سمجھنا ہے۔ کوئی طبی مسئلہ ہو، تکنیکی کام ہو یا دین کا کوئی معاملہ؛ ہر شخص خود کو ہی کامل سمجھ کے مشورے یا فتوے دینا شروع کردیتا ہے۔ اگر ان سے پوچھا جائے کہ آپ کے پاس اتنی قیمتی معلومات کہاں سے آئیں؟ تو جواب میں سوشل میڈیا کے حوالے دینا شروع کردیں گے۔ اس کا قوم کو یہ نقصان ہورہا ہےکہ اکثریت نے تخلیقی کتابیں و دیگر ادب پڑھنا چھوڑ دیا ہے؛ ادھوری اور نامکمل معلومات کو اور اپنی عقل وشعور کو ہی کافی سمجھ لیا ہے۔ اس طرح کی زندگی اور طرزِ عمل سے ہی لایعنی بحث ومباحثہ اور عدم برداشت کا ماحول بڑھتا جارہا ہے۔
کوشش اس بات کی کرنی چاہئے کہ فضول گفتگو سے بچا جائے، دوسرے کی بات کی تہ تک پہنچنے کی کوشش کی جائے، اپنی بات دلائل سے ثابت کی جائے (میڈیا کے حوالوں کے بغیر) اور اگر کوئی آپ کی بات نہ مانے تو دوسرے ہلکے موضوعات پر گفتگو شروع کردینی چاہئے۔ اس سے آپس میں اختلافات اور فساد سے بچا جاسکتا ہے۔
Comments
Post a Comment
آپ کی رائے ہمارے لئے بہت قیمتی ہے۔