انسانی ضرورتوں کا احساس
ہمارا معاشرہ کس طرح انسانی جذبات اور احساسات سے عاری ہے اس سے متعلق مضمون ہے۔ اس مضمون میں صرف دو مسائل کا ذکر کیا گیا ہے۔
ہم جس معاشرے
میں رہتے ہیں اس میں انسانی ضرورت کی دو چیزوں کا فقدان نظر آتا ہے ایک استنجا
خانے اور دوسرا جائز جنسی عمل کی تکمیل۔ یہ ہماری انتہائی بدقسمتی ہے کہ جب ہم کسی
کام سے بازار جاتے ہیں تو اجابت کی ضرورت کی تکمیل کیلئے کوئی جگہ نظر نہیں آتی۔
اب ہم میں سے اکثر لوگ اپنی ضرورت کو مجبوراً روک لیتے ہیں جو کہ طبی اعتبار سے
غلط ہے اور کئی جسمانی مسائل کا سبب بن سکتا ہے۔ لیکن نہ حکومتی سطح پر اور نہ ہی
سماجی لحاظ سے اس ضرورت کو سمجھا گیا ہے۔ دیگر ترقی یافتہ ممالک میں جگہ جگہ پبلک
ٹوائلٹ موجود ہوتے ہیں۔ لیکن ہمارے یہاں شازونادر ہی عوامی جگہوں پر کوئی واش روم
پایا جاتا ہو۔ کئی سال پہلے ایک جاپان کے وزیر پاکستان آئے تو اس بات پر تعجب کا
اظہار کیا کہ پورے راستے میں انہیں ایک بھی پبلک ٹوائلٹ نظر نہیں آیا تو یہ قوم
اپنی ضرورت کیسے پوری کرتی ہوگی؟
دوسرا اہم
مسئلہ جنسی جذبات کی جائز تکمیل ہے۔ ہمارے معاشرے میں شادی کبھی بھی نوجوانوں کی
مرضی سے نہیں بلکہ اس کے گھر والوں کی مرضی سے ہوتی ہے۔ گھر والے ہی یہ طے کرتے
ہیں کہ لڑکے یا لڑکی کی شادی کب، کس سے اور کس طرح کی جائے۔ یہاں تک کہ شادی کے
کھانوں کا انتخاب بھی ان کے ہاتھ میں نہیں ہوتا۔ لڑکے کیلئے دلہن کا انتخاب
انتہائی پیچیدہ عمل ہوگیا ہے۔ لڑکے والے اپنا معیار اتنا اونچا کرلیتے ہیں کہ اس
حساب سے لڑکی ملنا ناممکن لگنے لگتا ہے، جبکہ لڑکے کی نہ شکل دیکھی جاتی ہے اور نہ
معیار۔ اب لڑکا انتظار کرتا رہ جاتا ہے اور اس کیلئے دلہن منتخب نہیں ہوتی۔ تو
ایسا محسوس ہوتا ہے کہ شادی جذبات کی تکمیل کیلئے نہیں بلکہ اپنی رسومات اور ارمان
نکالنے کا بہانہ ہے۔
اگر کسی لڑکے
کی بہنیں موجود ہوں تو یہ نا ممکن ہے کہ وہ اپنی شادی کا سوچ سکے۔ بہنیں کتنی ہی
چھوٹی ہوں، لڑکے کو کہا جاتا ہے کہ پہلے انکی شادیاں ہونگی پھر تمہاری باری آئے
گی۔ اب لڑکا چاہے 30 سال کا ہو تب بھی اس کی شادی کی جگہ اسکی بہنوں کی شادی کو
ترجیح دی جاتی ہے۔ اب لڑکا اپنے جذبات کی تکمیل کیلئے کیا کرے۔ اگر وہ کسی لڑکی سے
اظہارِ محبت کرچکا ہے تو اس لڑکی کو بھی اس سے شادی کیلئے انتظار کرنا پڑے گا۔ یہ
ہمارے معاشرے کی انتہائی بے حسی کی علامت ہے۔ جو معاشرہ پبلک ٹوائلٹ کی اہمیت کو
نہ سمجھتا ہو وہ انسانی جذبات کو کیا سمجھے گا۔
ایک اہم مسئلہ
بیوہ اور مطلقہ خواتین کی شادی کا ہے۔ اگر ان عورتیں کے بچے ہوں یا انکی عمر زیادہ
ہو تو انکی دوسری شادی کو معاشرہ ناپسند کرتا ہے۔ جبکہ ہمارے مذہب میں بیوہ اور
مطلقہ کی دوسری شادی پر زور دیا گیا ہے، لیکن مذہب تو ہمارے معاشرے میں محض رسومات
کی حد تک رہ گیا ہے، عملی زندگی میں اس پر عمل نہیں ہوتا۔ اگر کوئی خاتون اچھے
رشتے کے سبب دوسری شادی کرنا چاہے تو اکثر اس کی اولاد کے سسرال والے اعتراض
کردیتے ہیں، مزید دھونس دھمکیوں پر اتر آتے ہیں جس کی وجہ سے وہ خاتون اپنے جذبات
کو مارلیتی ہے۔ حالانکہ انہی میں موجود کچھ مرد حضرات ناجائز تعلق کیلئے اپنی
خدمات پیش کرنے پر آمادہ رہتے ہیں۔
ہمارے معاشرے کا سب سے بڑا مسئلہ یہ
ہے کہ اس نے ہر مرد کو "بایزید بسطامیؒ" اور ہر عورت کو "رابعہ
بصریؒ" سمجھا ہوا ہے۔ انسانی جذبات اور احساسات کی کوئی اہمیت نہیں۔ انسان کے
بالغ ہوتے ہی اسکو جنسی طلب ہونا شروع ہوجاتی ہے۔ اگر وہ لڑکا یا لڑکی شادی کی
خواہش کا اظہار کریں تو انکو بہت برا سمجھا جاتا ہے۔ اکثر ایسے نوجوانوں کو بےحیا
اور شرم سے عاری کہا جاتا ہے۔ انکو ایسے لوگوں کی مثال دی جاتی ہے جو بڑی عمر ہونے
کے باوجود تنہا زندگی گزاررہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ معاشرے میں ناجائز ذرائع سے جنسی
جذبات کی تکمیل یا منشیات کا استعمال بڑھ رہا ہے اور اگر معاشرے نے اپنی روش نا
تبدیل کی تو یہ معاملات ناسور کی شکل اختیار کرلیں گے۔
Comments
Post a Comment
آپ کی رائے ہمارے لئے بہت قیمتی ہے۔