مہنگائی کے اسباب اور ہماری ذمہ داریاں
اس بلاگ میں آپ مہنگائی کے وہ اسباب پڑھیں گے جن کا تعلق عوام الناس سے ہے۔ ہماری غلط ترجیحات ہی مہنگائی میں اضافے کا باعث بنتی ہیں۔
اگر یہ کہا جائے کہ مہنگائی کے اصل ذمہ دار ہم خود ہیں تو غلط نہ ہوگا۔ ہمارے اجتماعی رویے ہی مہنگائی کو بڑھاوا دیتے ہیں۔ پہلے زندگی سادہ تھی، لوگوں میں خلوص تھا، مہمان نوازی تھی، کھانا کم پڑنے کی صورت میں چٹنی سے روٹی کھالی جاتی تھی۔ اسکول جاتے بچوں کو آدھی پنسل توڑ کر دی جاتی تھی۔ دفاتر لوگ سائکل پر جاتے تھے (آج بھی سائکل کو رواج دینا بہتر ہے تاکہ ٹریفک کے مسائل اور پٹرول کے خرچ سے نجات ملے)۔ تفریح کیلئے باہر گھومنے اور ہوٹل کے کھانے کا رواج نہیں تھا اس لئے انتہائی کم تنخواہ میں بھی گزارا ہوجاتا تھا۔ اب تنخواہیں نسبتاً کہیں زیادہ ہیں لیکن گھر کا خرچہ چلانا عذاب ہوگیا ہے۔ لوگ بھیڑ میں بھی گھر والوں کو لیکر نکل جاتے ہیں اور باہر کی مہنگی اشیاء پر بے دریغ پیسہ خرچ کررہےہوتے ہیں۔
ایک غلط رجحان یہ پیدا ہو گیا ہے کہ بچوں کو بڑے اور مہنگے اسکول میں پڑھایا جائے۔ کم تنخواہ اور زیادہ خرچ کے باوجود والدین بچوں کو مہنگے اسکول کے ساتھ ساتھ ٹیوشن بھی پڑھواتے ہیں جس کا کوئی فائدہ انہیں حاصل نہیں ہوتا بلکہ یہ بچوں پر ایک بوجھ ہے۔ اس سوچ کا اسکول انتظامیہ ناجائر فائدہ اٹھاتی ہے اور نت نئے پروگرام کے تحت والدین سے پیسہ اینٹھا جاتا ہے۔ اسکول کی فیس کے علاوہ یونیفارم، کتابوں، کاپیوں اور اسٹیشنری میں بھی فضول خرچی کرواتے ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ بچوں کو سستے اسکول میں داخل کیا جائے اور گھر پر انکی پڑھائی پر توجہ دی جائے۔
مہنگائی کا ایک سبب قوتِ خرید میں اضافہ ہے۔ 2005 میں حکومت کی غلط پالیسیوں کی بدولت سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں بے تحاشہ اضافہ ہوگیا تھا جس سے معاشرے کا ایک طبقہ امیر اور دوسرا غریب ہوگیا۔ اور یہ فاصلہ تاحال بڑھتا ہی جارہا ہے۔ اب جس کی تنخواہ زیادہ ہو، وہ مہنگی اشیاء خرید کر مہنگائی کو استحکام پہنچارہا ہوتا ہے جبکہ غیر سرکاری اداروں میں ملازمت کرنے والےغریب طبقے سے ضروریاتِ زندگی کی اجناس استطاعت سے دور ہوتی جارہی ہیں۔ اس کے سدِباب کیلئے امیر طبقے کو ذمہ داری ادا کرنی ہوگی کہ جن اجناس کی قیمتیں زیادہ ہوجائیں ان کا استعمال کم کیا جائے۔
ہم لوگوں کی سوچ مہنگائی میں اضافے کی ذمہ دار ہے۔ یہ سب جانتے ہیں کہ موسمی سبزی اور پھل نسبتاً سستے ملتے ہیں۔ لیکن اگر لوگ غیر موسمی پھل اور سبزی زیادہ پیسے دیکر خریدیں تو یہ عمل بےوقوفی کا مظہر ہے۔ ایک محدود آمدنی والے دوست کو میں نے خود 100 روپے پاؤ کے مٹر خریدتے دیکھا تو اس کو کہا کہ کچھ عرصے ٹہرجاؤ، یہی مٹر 100 روپے کلو ملنے لگے گی تو اس نے کہا کہ مٹر کھانے کو دل چاہ رہا ہے۔ ایک مثال ٹماٹر کی ہے، جب یہ سستے ہوتے ہیں تو کوئی ان کو نہیں پوچھتا لیکن مہنگے ہوتے ہی سب لوگ ان پر ٹوٹ پڑتے ہیں۔ حالانکہ جب ٹماٹر سستے ہوں تو ان کا ذخیرہ کیا جاسکتا ہے جو مہنگے دور میں بھی استعمال کیا جاسکے۔ ایک بار ٹماٹر 400 روپے کلو تک پہنچ گیا تھا تو ہم ایک گھر دعوت میں گئے، وہاں دیکھا کہ کھانے میں کڑھائی موجود ہے، تو ہم نے میزبان سے کہا "ٹماٹر تو مہنگے ہیں۔ آپ اس کی جگہ قورمہ بنا لیتے" تو میزبان نے کہا کہ کوئی چیز مہنگی ہو تو کیا کھانا چھوڑ دیں! اس بات سے ہمارے لوگوں کی ذہنی سطح کا پتہ چلتا ہے۔
بقرعید کی آمد سے پہلے ہی لوگ کہنا شروع ہوجاتے ہیں کہ اس بار جانور مہنگا ملے گا۔ گزشتہ سال تو لوگوں نے خود سے ہی گائے کی قیمت کو ایک لاکھ روپے تک پہنچادیا تھا۔ جب ابھی جانور آنا ہی شروع نہیں ہوئے تو کیوں قبل از وقت قیمت کا تعین کیا جائے؟ اور اگر بالفرض قیمت زیادہ بھی نظر آرہی ہے تو کیا سستے جانور کی خریداری سے مایوس ہوجائیں؟ ایسی بات کہی ہی کیوں جائے کہ جس سے سب کو نقصان پہنچے۔ اسی طرح مچھلی کی قیمت کا معاملہ ہے۔ لوگوں نے ذہن بنالیا کہ مچھلی تو مہنگی ہی ہوتی ہے اس لئے اس کی قیمت زیادہ کم نہیں کرواتے۔ امیر طبقہ تو زیادہ مقدار میں مچھلی خریدتا ہے جس سے مچھلی فروش کے نخرے بڑھ جاتے ہیں، جب آپ قیمت کم کرنے کا کہتے ہیں تو وہ کہتا ہے کہ آپ مچھلی کھانا چھوڑدیں۔ جبکہ میرا ذاتی تجربہ کہتا ہے کہ آپ تھوڑی سی کوشش کرکے کم قیمت میں اچھی مچھلی خرید سکتے ہیں۔
مکانات کی قیمتوں میں اضافے کے ذمہ دار رئیل اسٹیٹ والے ہیں۔ اپنے کمیشن کے چکر میں کوشش کرتے ہیں کہ مکان یا دکان زیادہ قیمت میں فروخت ہو یا کرائے پر اٹھائے جائیں۔ یہاں پر وہ اشخاص جن کی ملکیت میں جائیداد ہو وہ اس بات کا خیال کرسکتے ہیں کہ قیمت مناسب رکھی جائے۔
اونپر دی گئی مثالوں سے ثابت ہوتا ہے کہ مہنگائی کے اسباب میں حکومت کی غلط حکمتِ عملیوں کے علاوہ عوام الناس کی غلط ترجیحات بھی شامل ہیں۔
Comments
Post a Comment
آپ کی رائے ہمارے لئے بہت قیمتی ہے۔