Skip to main content

زنا یا شادی

 زنا یا شادی

نئی نسل کی ترجیحات اور جذبات سے متعلق مضمون، اور ان کیلئے معاشرے میں موجود مواقع


اللہ تعالیٰ نے انسان کو مکلف مخلوق بنایا ہے چناچہ اس کے خمیر میں مثبت اور منفی جذبات رکھے گئے ہیں تاکہ وہ اللہ تعالیٰ کی معارف حاصل کرسکے۔ انسان کے جذبات اور خواہشات کیلئے اللہ تعالیٰ نے نفس کو پیدا فرمایا، تاکہ انسان کی آزمائش ہو اور اس میں کھانے پینے، سونے، مستقبل کیلئے مال و دولت ذخیرہ کرنے اور جنس کی تسکین کا جذبہ پیدا ہو۔ یہی جذبات ہوتے ہیں جو انسان کو محنت، جدوجہد اور ایجادات کی طرف ابھارتے ہیں۔

ایک خاص عمر تک پہنچتے ہی انسان کو جنس مخالف میں کشش محسوس ہونا شروع ہوجاتی ہے جس کی تکمیل کا ذریعہ نکاح ہے۔ دینِ اسلام میں نکاح کو بہت سہل کردیا گیا ہے جو دوسرے مذاہب میں نہیں۔ بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں ذات برادری، خود نمائی، شان و شوکت، خاندانی رسومات کا اظہار اور ذاتی مفاد کی وجوہات کے سبب نکاح کو مشکل ترین بنادیا گیا ہے۔ اب نوجوان طبقہ کرے تو کیا کرے۔ نکاح کر نہیں سکتے، اس خواہش کا اظہار نہیں کر سکتے کیونکہ ہمارے معاشرے میں اس کو برا سمجھا جاتا ہے۔

کچھ سال پہلے تک نوجوان نسل اپنے بڑوں کو دولہا/دولہن بنتے ہوتے دیکھ لیتی تھی تو یہ خوش گمانی ہوتی تھی کہ ہماری باری بھی آئے گی۔ یہ سوچ ان کے اندر صبر کا مادہ پیدا کرتی تھی اور وہ اپنی تعلیم اور صلاحیتوں پر توجہ دیتے تھے۔ لیکن اب نوجوانوں کے سامنے انکے بڑے ادھیڑ عمروں تک پہنچنے کے باوجود تنہا نظر آرہے ہوتے ہیں جس سے یہ سوچ پیدا ہورہی ہے کہ انہیں بھی اسی طرح تنہا زندگی گذارنی ہوگی اگر کوئی دوسرا راستہ اختیار نہ کیا تو۔ یہ سوچ ان میں غلط رجحانات، نفسیاتی دباؤ اور زندگی سے بے زاری پیدا کررہی ہے۔ اس کا سدِباب کیا ہو؟

ایک سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ ہمارے معاشرے میں طلاق کا رجحان بڑھتا جا رہا ہے۔ اس کی ذمہ داری جہاں اخبارات، رسائل، ٹیلیوژن کی نشریات پر ہے اتنی ہی عدالتی نظام کی بھی ہے۔ چھوٹی سی بات پر بھی لڑکی کو خلع مل جاتی ہے جس سے گھر تباہ اور بچے برباد ہو رہے ہیں۔ ایسے واقعات سے بھی نوجوان شادی سے بیزار ہوتے جارہے ہیں۔

ان تمام عوامل سے ہمارے معاشرے میں بغاوت کا جذبہ پیدا ہو رہا ہے جس کی شروعات اسکولوں سے ہو رہی ہے۔ مخصوص عمر تک پہنچتے ہی اسکولوں میں تعلیم حاصل کرنے والے لڑکے اور لڑکیاں ایک دوسرے سے تعلقات قائم کرنے کی کوشش کررہے ہوتے ہیں جس کی ذمیداری اسکول کے ماحول پر بھی عائد ہوتی ہے۔اسی طرح یونیورسٹی میں نوجوان اپنے جذبات کوفراموش کرنے کیلئے منشیات کی طرف راغب ہورہے ہیں یا ناجائز تعلقات قائم کر رہے ہیں۔

یہ معاملہ بڑھتا رہا تو ہمارے معاشرے میں لوگ شادیاں کرنا چھوڑ دیں گے، خاندانی نظام تباہ ہو جائے گا۔ ناجائز بچوں کی تعداد بڑھنا شروع ہو جائے گی۔ تو ضرورت اس بات کی ہے کہ اس مسئلے کا سدِباب کیا جائے۔

Comments

Popular Posts

نواز شریف

جب سے مملکتِ پاکستان کا قیام وجود میں آیا ہے تب سے ہی یہاں سیاسی استحکام کا فقدان رہا ہے۔ قائدِ اعظمؒ، لیاقت علی خانؒ اور دیگر حکمرانوں نے کچھ عرصہ تک ہی حکومت کی ذمہ داریاں اٹھائیں، لیکن باقائدہ حکومت کا آغاز جنرل ایوب خان کی صدارت سے شروع ہوا۔ یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ اسی دورِ حکومت میں پاکستان نہ صرف اپنے پیروں پر کھڑا ہوا بلکہ اس کا شمار ایشیاء کے ترقی یافتہ ممالک میں ہونے لگا۔ پاکستان کے خلاف سازش کرنے والے عناصر جانتے تھے کہ جب بھی یہاں مستحکم حکومت ہوگی تو ملک ترقی کرے گا۔ لہٰذا مختلف ذرائع استعمال کرکے ہمارے دشمن پاکستانی قوم میں مایوسی پھیلاتے رہے اور اس وقت کی موجود، حکومت کے خلاف الزامات کے ذریعے لوگوں کو حکومت سے بیزار کرنے کی کوشش کرتے رہے، یہاں تک کہ پرویز مشرف جیسے امریکہ کو سجدہ کرنے والے، وقت کے فرعون، کو بھی حکومت سے محروم ہونا پڑا۔ پاکستانی عوام میں تعلیم اور شعور کی کمی ہے جس کی وجہ سے وہ باآسانی سازشوں کا شکار ہوجاتے ہیں اور تبدیلی کی خواہش مند ہوجاتے ہیں۔ یہ نہیں غور کرتے کہ حکومت مستحکم ہے، ترقیاتی کام چل رہے ہیں، زندگی اچھی گزر رہی ہے، تمام کاروبارِ زندگی عمد...

داڑھی کا جواز

  داڑھی کا جواز اگر کوئی شخص کہے کہ سر پر ہمیشہ استرا پھیرنا چاہیے تاکہ انسان بالوں سے پیدا ہونے والی پریشانیوں سے بچا رہے، اگر بال ہونگے تو جوئیں بھی ہونگی، بال لمبے ہوکر منہ پر آئیں گے، بال ہوا سے بکھر تے رہیں گے اور انسان ان میں جنگلی لگے گا لہٰذا سر کے بالوں کے بغیر انسان زیادہ خوبصورت لگے گا، تو ایسے شخص کو آپ کیا جواب دیں گے؟ ظاہر ہے کہ اس شخص کو کہا جائے گا کہ بال اگنا ایک قدرتی عمل ہے، اس کو روکنے کے بجائے ہمیں ان کو آراستہ کرنا چاہیے، ان کی صفائی ستھرائی کا خیال رکھنا چاہیے تو یہ بال ہماری شخصیت میں خوبصورتی کا باعث بنیں گے بہ نسبت ٹنڈ کے! یہی جواب اصل میں داڑھی کے جواز کیلئے استعمال کیا جاسکتا ہے۔ اس کیلئے فتاویٰ کی ضرورت نہیں۔ قدرت نے داڑھی مرد کو عطاء کی ہے۔ اب مردوں کا کام ہے کہ اپنے چہروں کو روزانہ چھیلنے کے بجائے داڑھی کو بڑھنے دیں اور اس کو آراستہ کریں اور اپنی مردانگی کا ثبوت اپنے چہروں سے دیں۔ کچھ لوگ اپنی گفتگو میں یہ کہتے ہوئے نظر آتے ہیں کہ فلاں شخص داڑھی رکھ کے جھوٹ بول رہا ہے، یا کچھ افراد نے داڑھی رکھی ہوئی ہے اور خواتین کو دیکھتے پھرتے ہیں۔ ایسے لوگ...

ناران کی سیر

 ناران کی سیر راولپنڈی سے ناران کے سفر کی روداد جو ذاتی مشاہدے پر مشتمل ہے۔ اس سفرنامے میں مزید اہم مقامات کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ اپنے شہر سے دور کوئی بھی سفر کرنے سے پہلے اس سے متعلق معلومات حاصل کرنا بہت ضروری ہے۔ شمالی علاقوں کا تفریحی دورہ کرنا ہو اور ہر قسم کی مشکلات سے محفوظ رہنا چاہتے ہوں تو بہتر ہے کہ کسی سیاحتی گروپ یا کمپنی کے ساتھ سفر کیا جائے۔ سیاحتی کمپنی کے خرچے تو زیادہ ہوتے ہیں لیکن یہ آپ کو اتنی سہولیات فراہم کرتی ہیں کہ آپ ہر قسم کی کوفت سے بچ جاتے ہیں۔ اگر آپ محدود خرچے میں ناران کی سیاحت کرنا چاہتے ہیں تو آپ کو راولپنڈی سے گائڈ کی خدمات حاصل کرنا ہونگی، اس کیلئے آپ پہلے سے معاوضہ اور مقامات طے کرسکتے ہیں۔ کچھ گائڈ آپ کو مناسب داموں میں ہوٹل کے کمرے اور طعام کا بندوبست کرواسکتے ہیں۔ جتنا تجربے کار گائڈ آپ کو ملے گا اتنا ہی آپ کا سیاحتی سفر بہتر ہوگا۔ جو حضرات اپنے گھر کی خواتین اور بچوں کے ساتھ ناران کا سفر کرنا چاہتے ہیں تو یہ بات مدِنظر رکھیں کہ ان کو طویل سفر کرنا ہوتا ہے اور آپ کو آرام کے کم مواقع میسر آسکتے ہیں۔ مجوعی طور پر یہ سیاحتی دورہ آپ کو تھکن میں مبت...