Skip to main content

اسلامی معاشرے کا دیگر سے تقابل، ایک مثبت سوچ

 اسلامی معاشرے کا دیگر سے تقابل، ایک مثبت سوچ

اس بلاگ پوسٹ میں مثبت انداز میں اسلامی معاشرے کا دیگر سے تقابل کیا گیا ہے۔ اسلام ہمیں امن اور سلامتی کا درس دیتا ہے جس کا اثر مسلمان کی انفرادی اور اجتماعی زندگی میں نظر آتا ہے۔

کچھ دہائی قبل سے قوم میں ایک سازش کے ذریعے مایوسی اور ناامیدی کے جذبات پھیلائے جارہے ہیں۔ اب نوبت یہاں تک آگئی ہے کہ اکثریت ملک سے بھاگنا چاہتی ہے۔ ان کو یہاں اپنا مستقبل تاریک نظر آتا ہے۔ لہٰذا اکثر افراد اپنی جمع پونجی، جائیدادیں فروخت کرکے دیگر ممالک جارہے ہیں۔

ہمارے ملک میں جو صحافت کا شعبہ ہے وہ زیادہ تر منفی خبریں پیش کرتا ہے۔ اپنی ریٹنگ بڑھانے کے چکر میں افسوسناک واقعات کو بہت بڑھا چڑھا کر بیان کیا جاتا ہے، لگتا ہے کہ ہمارے ہاں لوگ افراتفری کی زندگی گزاررہے ہیں۔ اگر کسی مذہبی شخصیت یا ادارے سے منسلک کوئی واقعہ رونما ہوجائے تو اس کی آڑ میں مذہبی اداروں اور شخصیات کو تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ یہ ثابت کرنے کی کوشش کی جاتی ہے کہ معاشرے میں موجود تمام خرابیوں کے ذمہ دار صرف یہ مذہنی طبقہ ہے۔ اس کے علاوہ قوم کی نمائندگی کرنے والے افراد کی بھی سازش کے تحت کردار کشی کی جاتی ہے تاکہ مسلمان قوم بالکل ہی مایوس ہوجائے۔

اگر ہم اپنے پڑوسی ملک کو دیکھیں تو ان کا میڈیا اپنے معاشرے کی منفی سرگرمیوں کو چھپاتا ہے۔ وہاں اقلیتوں کے ساتھ امتیازی سلوک کیا جاتا ہے، چھوٹی نسل کے لوگوں کو ظلم کا نشانہ بنایا جاتا ہے، اکثریت فضول قسم کی مذہبی اور روایتی رسومات کی بھینٹ چڑھ جاتی ہے، بڑی تعداد میں لوگ بھوک سے مرجاتے ہیں، لیکن وہاں کا پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا اس کو ظاہر نہیں کرتا، بلکہ دوسروں کو تنقید کا نشانہ بنانے میں لگا رہتا ہے۔

مغربی میڈیا کی مثال بھی ایسی ہی ہے۔ وہاں پر قتل، تشدد، جنسی زیادتی اور رنگ کی بنیاد پر امتیازی سلوک جیسے مسائل عام ہیں، لوگ خوف کی زندگی گزارتے ہیں لیکن خبروں میں سب اچھا ہے کی گردان سنائی دیتی ہے۔

اس مضمون میں یہ کوشش کی گئی ہے کہ ہمارے معاشرے میں موجود اچھائیوں کو اجاگر کیا جائے تاکہ ہماری نسل مایوسی سے بچ سکے۔

اسلامی معاشرے کی اچھائیاں:۔

خاندانی نظام؛

ہمارے خاندانی نظام کو مغرب والے رشک کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ ہمارے ہاں نوزائیدہ بچے سے لیکر طویل العمر ضعیف افراد کا پورا خاندان نگہبانی کرتا ہے جس کا تصور ترقی یافتہ ممالک میں نہ ہونے کے برابر ہے۔ تقریبات و تہوار کے موقعے پر پورا خاندان موجود ہوتا ہے جس سے ایک خوشگوار ماحول ملتا ہے۔ جاپان میں کچھ ادارے ایسی سہولیات دیتے ہیں جس میں قیمتاً ایک فیملی کا انتظام کیا جاتا ہے جو طویل العمر افراد کے ساتھ وقت صرف کرتا ہے جبکہ ہمارے ہاں پڑوسی بھی دکھ درد اور خوشی میں شریک ہوتے ہیں۔

بڑوں کا احترام کرنا عام بات ہے۔ مغرب میں انفرادی زندگی کی اہمیت ہے، بالغ ہونے کے بعد نوجوان اپنے والدین کو چھوڑ دیتے ہیں اور اکثر مرتے وقت بھی ساتھ نہیں ہوتے۔ ان کے لئے یہ حیرت کی بات ہے کہ ہم لوگ شادی کے بعد بھی اپنے والدین کا خیال رکھتے ہیں اور اپنے مال میں سے ان پر خرچ کرتے ہیں۔ مغربی ممالک میں اپنے مال سے دوسروں پر خرچ کرنے کی مثال عوامی سطح پر موجود نہیں۔

خاندانی نظام کی عدم موجودگی میں وہاں کی خواتین کو زیادہ مشقت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اپنی اور بچوں کی انفرادی، معاشی اور معاشرتی ذمہ داریاں تنہا عورت کو اٹھانی پڑتی ہیں۔ نوکری کے ساتھ ساتھ پورے گھر کو تنہا سنبھالنا پڑتا ہے۔ ہمارے ہاں خواتین پر معاشی ذمہ داریاں نہیں ڈالی جاتیں جس کی بدولت محض گھر کی ذمہ داریوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ باہر بھی خواتین کو سہولیات پہنچانے کی انفرادی اور اجتماعی کوشش کی جاتی ہے۔ مرد حضرات لائن میں لگے ہوتے ہیں اور ایک خاتون بغیر لائن کے خدمات وصول کرلیتی ہے۔ پبلک ٹرانسپورٹ میں عورتوں کیلئے علحیدہ جگہ مختص ہوتی ہے۔ ٹرین میں بھی خواتین کیلئے علحیدہ سے بوگی ہوتی ہے۔ اس طرح کی امتیازی سہولیات ترقی یافتہ ممالک میں بھی موجود نہیں۔

اخلاقی نظام؛

معاشرے میں موجود مذہبی رجحانات کی وجہ سے لوگوں میں ایک دوسرے کی مدد کا جذبہ غالب رہتا ہے۔ دنیا بھر میں قوانین لوگوں کو جرم کرنے سے روکتے ہیں لیکن مذہب ہمیں جرم سے متعلق سوچنے سے بھی باز رکھتا ہے۔ امریکہ میں ایک مرتبہ چند گھنٹوں کیلئے بجلی کا نظام منقطع ہوگیا تھا تو لوگوں نے اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے خوب لوٹ مار کی، کئی لوگوں کو قتل و زخمی کیا، کئی خواتین پر جنسی حملے کئے گئے اور املاک کو نقصان پہنچایا۔ جبکہ ہمارے ہاں لوڈ شیڈنگ عام ہے لیکن کبھی ایسی خبریں سننے میں نہیں آئیں۔

ہمارے ہاں عوامی مقامات پر اگر جھگڑا ہوجائے تو لوگ بیچ بچاؤ کروادیتے ہیں۔ خواتین کو کوئی تنگ نہیں کرسکتا، اس کے برعکس، ابھی حال ہی میں ایک مغربی ملک میں ایک پاکستانی بزرگ کو سرِعام تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور کسی نے دخل اندازی نہیں کی۔ راہ چلتی خواتین کے ساتھ دست درازی کی جاتی ہے اور ان پر عامیانہ جملے کسے جاتے ہیں لیکن کوئی توجہ بھی نہیں دیتا۔ کچھ مخصوص اوقات میں لوگوں کیلئے گھروں سے باہر نکلنا مشکل ہوتا ہے، سنسان جگہوں پر زندگی کی ضمانت نہیں دی جاسکتی۔

رواداری اور وسیع النظری؛

مسلمانوں کی تاریخ گواہ ہےکہ ان کے معاشرے میں غیر مسلموں کو مذہبی آزادی اور تحفظ حاصل رہا ہے۔ اسی طرح اگر پاکستان اور بھارت کے حالات کا موازنہ کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ پاکستان میں نسبتاً غیر مسلموں کے ساتھ بہتر طور پر رواداری کا سلوک کیا جارہا ہے۔ ہمارے یہاں چھوت چھات کا کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ کافروں کو ساتھ بٹھاکر کھانا کھایا جاتا ہے، ان کے ساتھ دوستانہ سلوک کیا جاتا ہے۔ ان کی مذہبی عمارتوں کی حفاظت کی جاتی ہے اور وہ اپنی مذہبی روسومات آزادی کے ساتھ ادا کرسکتے ہیں۔ یہودیوں کے ساتھ بھی سب سے بہتر سلوک مسلمانوں ہی نے کیا تھا۔

دیگر معاشروں سے تقابل کیا جائے تو اتنی رواداری اور وسیع النظری کہیں نظر نہیں آتی۔ ترقی یافتہ مغربی ممالک کو دیکھا جائے تو وہ مسلمانوں کو دہشت گرد سمجھتے ہیں۔ بین الاقوامی قوانین میں قیدیوں کے ساتھ جو سلوک کرنا چاہئے وہ مسلمان قیدیوں پر لاگو نہیں کیا جاتا۔ اس کی بدترین مثال گوانتاموبے ہے، جہاں پر قیدی اپنے پیر بھی سیدھے نہیں پھیلاسکتا۔ اسی طرح کا بدترین سلوک پاکستانی ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے ساتھ کیا جارہا ہے، حالانکہ یہ مغربی ممالک خود کو انسانیت کا علم بردار سمجھتے ہیں۔

مذہبی رواداری مختلف مسالک اور فرقوں میں بھی نظر آتی ہے۔ ایک دوسرے کے خلاف کفر کے فتوؤں کے باوجود ایک ہی خاندان میں مختلف مسالک کے لوگ موجود ہوتے ہیں، جو پھر بھی محبت اور اپنائیت سے رہتے ہیں، آپس میں رشتے داریاں بھی کی جاتی ہیں۔ مذہبی شخصیات بھی مختلف بیٹھکوں میں ایک ساتھ بیٹھے نظر آتے ہیں اور اجتماعی مسائل پر بات چیت کرتے نظر آتے ہیں۔

سماجی نظام؛

پاکستان میں شروع سے ہی سماجی تنظیمیں لوگوں کی فلاح و بہبود کیلئے کام کررہی ہیں۔ لوگوں میں بھی انفرادی طور پر مدد کا جذبہ غالب ہے۔ انتظامی سہولیات نہ ہونے کی بنا پر اکثر لوگ اپنی مدد آپ کے تحت دوسروں کیلئے سہولیات مہیا کردیتے ہیں۔ جیسے اگر گٹر کا پانی بہہ رہا ہے یا اس کا ڈھکن نہیں ہے تو دوسروں کی حفاظت کیلئے خود سے ہی اینٹیں رکھ دی جاتی ہیں اور ڈھکن کی جگہ کوئی بڑی چیز رکھ دی جاتی ہے تاکہ نشاندہی ہوسکے۔

ایدھی، چھیپا اور سیلانی جیسے ادارے شب و روز لوگوں کو مختلف خدمات مہیا کررہے ہیں۔ اس کے علاوہ سیاسی جماعتیں بھی لوگوں کی مختلف خدمات انجام دیتی ہیں۔ ان کے اپنے مفاد بھی ہوتے ہیں لیکن بہرحال لوگوں کے کام ہوجاتے ہیں۔ قدرتی سانحات میں سیاسی جماعتوں کا کام صحیح معنوں میں نظر آتا ہے۔

مدارس بھی ہمارے معاشرے میں بہترین سماجی کام کررہے ہیں۔ حفظ سے لیکر عالم بننے تک کا عمل بغیر کوئی پیسہ لئے تکمیل کو پہنچتا ہے۔ مدارس میں طلبا و طالبات کو مفت رہائش اور خوراک مہیا کی جاتی ہے۔ یہ سارا نظام فی سبیل اللہ چل رہا ہے اور معاشرے میں دین کی اشاعت کا کام اس سے منسلک ہے۔ دنیاوی تعلیم بھی پرائمری سے بارویں جماعت تک بالکل مفت ہے۔ بہت سے مدارس نے بھی دینی اور دنیاوی دونوں طرح کی تعلیم کا انتظام کیا ہوا ہے۔ جب کہ ترقی یافتہ ممالک میں تعلیم بہت مہنگی ہے۔ لوگ اپنی جمع پونجی لگا کر ہی تعلیم حاصل کرنے کا سپنا دیکھ سکتے ہیں۔

Comments