Skip to main content

مہنگائی کی رفتار (ماضی سے موازنہ)

 مہنگائی کی رفتار (ماضی سے موازنہ)

اس بلاگ میں ذاتی تجربہ کی بنیاد پر مہنگائی کا تجزیہ کیا گیا ہے۔ صدر ضیاءالحق شہید سے لیکر موجودہ دور تک کے حالات کا موازنہ کیا گیا ہے۔

اس وقت جو مہنگائی کی رفتار چل رہی ہے اس کا موازنہ ماضی سے لگائیں تو زمین آسمان کا فرق محسوس ہوتا ہے۔ پہلے چیزیں سالوں میں جاکر مہنگی ہوتی تھیں لیکن اب لگتا ہے قیمتیں زورانہ بڑھ رہی ہیں۔ کچھ اشیاء کی قیمتیں کم زیادہ ہوتی رہتی ہیں جیسے موسمی پھل، سبزیاں اور مرغی کا گوشت وغیرہ۔ لیکن کچھ چیزیں جب مہنگی ہوتی ہیں تو انکی قیمتیں واپس کم نہیں ہوتیں۔ اس مضمون میں دونوں اشیاء کا ذکر ہوگا۔

 پہلے زمانے میں لوگوں کا طرزِ زندگی سادہ تھا اس لئے انکو مہنگائی کا اتنا اثر محسوس نہیں ہوتا تھا۔ کوئی شے وقتی طور پر مہنگی ہوگئی تو اس کی جگہ دوسری چیز استعمال کرلی (اس موضوع پر میرا دوسرا مضمون مہنگائی کے اسباب پڑھیے)۔ اب ہم سب نے خود کو غیر ضروری چیزوں اور سہولیات کا عادی بنالیا ہے جس کے نتیجے میں ہمیں ان چیزوں کی گرانی کو برداشت کرنا پڑتا ہے۔ میں اپنے بچپن سے لیکر موجودہ دور تک کی مہنگائی کا ذکر کروں گا جو میرا ذاتی تجزیہ ہوگا۔

 ہمارے بچپن میں ضیاء الحق شہید کا دورمہنگائی کے لحاظ سے سنہری دور تھا۔ جب تک ان کا دور رہا مہنگائی کا لفظ کبھی بھی سننے میں نہیں آیا۔ بلکہ یہ تک نہیں پتا تھا کہ مہنگائی کس کو کہتے ہیں۔ دراصل غیر جمہوری حکومتیں عوامی ردعمل سے بچنے کیلئے ایسے اقدامات کرتی ہیں تاکہ انکی حکومتیں مستحکم رہیں، جبکہ جمہوری حکومتوں کو عوام کے ایک طبقے کی حمایت حاصل ہوتی ہے جس کی وجہ سے وہ اپنی من مانی کرلیتی ہیں۔ اس کی موجودہ مثال تحریکِ انصاف کی حکومت تھی جس میں مہنگائی ہونے کے باوجود ان کے حمایتی حکومت کے حق میں دلائل دیتے نظر آتے تھے۔

 مہنگائی کا اصل دور بینظیر بھٹو کے وزارتِ اعلٰی سنبھالنے کے بعد شروع ہوا۔ جی ایس ٹی کے نام پر تمام اشیاء پر ٹیکس لگایا گیا۔ ہم بچے دوکان پر چیز لینے جاتے تھے تو کم ملتی تھی کیونکہ ٹیکس کا اثر بچوں کی چیزوں پر بھی پہنچ گیا تھا۔ نواز شریف کا دور نسبتاً بہتر رہا۔ لگتا تھا کہ جو بگاڑ پیپلزپارٹی نے پیدا کیا تھا اس کا اِزالہ یہ گورنمنٹ کررہی ہے۔ بہرحال مہنگائی کی بڑی لہر کا سامنا ہمیں شوکت عزیز کے دورِ حکومت میں کرنا پڑا۔ اس دور میں اجناس کی قیمتیں تین گناہ بڑھ گئی تھیں۔ گزارا کرنا بہت مشکل ہوگیا تھا۔ اس کے بعد گیلانی کا دور آیا جس میں آٹے کی قیمت دوگناہ کردی گئی۔ بازار میں روٹی کی قیمت پانچ سے دس روپے تک پہنچ گئی۔ اس کا اثر سب سے زیادہ مزدور طبقے پر پڑا اور لوگوں نے کھانا کم کردیا۔

 گیلانی کے دور کے بعد سے چیزیں متواتر مہنگی ہونا شروع ہو گئیں کہ لگتا ہے اس کا سلسلہ نہیں رکے گا۔ عمران خان کی حکومت کا کارنامہ دواؤں کی قیمتوں میں تین گناہ اضافے کی صورت میں سامنے آیا۔ ماضی میں ایسی مثال نہیں ملتی کہ دواؤں میں اتنا زیادہ اضافہ کیا گیا ہو۔ دیگر یہ کہ پہلے قیمتیں سالوں یا مہینوں میں بڑھتی تھیں لیکن اب دنوں کے حساب سے بڑھ رہی ہیں۔ حتٰی کہ موجودہ دور میں تو چوبیس گھنٹوں کے اندر ہی اشیاء کی قیمتیں دو دو بار بڑھ رہی ہیں۔ اور اس کا سلسلہ رکتا نظر نہیں آرہا۔

 مہنگائی پر کتنی ہی بحث کرلی جائے یہ بات مدِنظر رکھنی چاہئے کہ چیزیں اس لئے مہنگی ہوتی ہیں کہ اس کے خریدنے اور استعمال کرنے والے موجود ہوتے ہیں۔ اکثر لوگوں کی قوتِ خرید میں اضافہ ہوا ہے جس سے اشیاء کی قیمتیں بڑھتی جارہی ہیں۔ اگر کوئی خریدنے والا ہی نہ ہو تو کیونکر چیزوں کی قیمتیں بڑھیں۔ لحاظہ مہنگائی کا ایک مطلب اکثر لوگوں کا ضرورت سے زیادہ دولت مند ہونا ہے اور یہ معاشرے کے بگاڑ کا سبب بن رہا ہے۔ جب غریب اور امیر میں فرق بڑھتا جائے گا تو ہمیں برے حالات اور انتشار کا سامنا کرنے کیلئے خود کو تیار کرنا پڑے گا۔

Comments

Popular Posts

نواز شریف

جب سے مملکتِ پاکستان کا قیام وجود میں آیا ہے تب سے ہی یہاں سیاسی استحکام کا فقدان رہا ہے۔ قائدِ اعظمؒ، لیاقت علی خانؒ اور دیگر حکمرانوں نے کچھ عرصہ تک ہی حکومت کی ذمہ داریاں اٹھائیں، لیکن باقائدہ حکومت کا آغاز جنرل ایوب خان کی صدارت سے شروع ہوا۔ یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ اسی دورِ حکومت میں پاکستان نہ صرف اپنے پیروں پر کھڑا ہوا بلکہ اس کا شمار ایشیاء کے ترقی یافتہ ممالک میں ہونے لگا۔ پاکستان کے خلاف سازش کرنے والے عناصر جانتے تھے کہ جب بھی یہاں مستحکم حکومت ہوگی تو ملک ترقی کرے گا۔ لہٰذا مختلف ذرائع استعمال کرکے ہمارے دشمن پاکستانی قوم میں مایوسی پھیلاتے رہے اور اس وقت کی موجود، حکومت کے خلاف الزامات کے ذریعے لوگوں کو حکومت سے بیزار کرنے کی کوشش کرتے رہے، یہاں تک کہ پرویز مشرف جیسے امریکہ کو سجدہ کرنے والے، وقت کے فرعون، کو بھی حکومت سے محروم ہونا پڑا۔ پاکستانی عوام میں تعلیم اور شعور کی کمی ہے جس کی وجہ سے وہ باآسانی سازشوں کا شکار ہوجاتے ہیں اور تبدیلی کی خواہش مند ہوجاتے ہیں۔ یہ نہیں غور کرتے کہ حکومت مستحکم ہے، ترقیاتی کام چل رہے ہیں، زندگی اچھی گزر رہی ہے، تمام کاروبارِ زندگی عمد...

داڑھی کا جواز

  داڑھی کا جواز اگر کوئی شخص کہے کہ سر پر ہمیشہ استرا پھیرنا چاہیے تاکہ انسان بالوں سے پیدا ہونے والی پریشانیوں سے بچا رہے، اگر بال ہونگے تو جوئیں بھی ہونگی، بال لمبے ہوکر منہ پر آئیں گے، بال ہوا سے بکھر تے رہیں گے اور انسان ان میں جنگلی لگے گا لہٰذا سر کے بالوں کے بغیر انسان زیادہ خوبصورت لگے گا، تو ایسے شخص کو آپ کیا جواب دیں گے؟ ظاہر ہے کہ اس شخص کو کہا جائے گا کہ بال اگنا ایک قدرتی عمل ہے، اس کو روکنے کے بجائے ہمیں ان کو آراستہ کرنا چاہیے، ان کی صفائی ستھرائی کا خیال رکھنا چاہیے تو یہ بال ہماری شخصیت میں خوبصورتی کا باعث بنیں گے بہ نسبت ٹنڈ کے! یہی جواب اصل میں داڑھی کے جواز کیلئے استعمال کیا جاسکتا ہے۔ اس کیلئے فتاویٰ کی ضرورت نہیں۔ قدرت نے داڑھی مرد کو عطاء کی ہے۔ اب مردوں کا کام ہے کہ اپنے چہروں کو روزانہ چھیلنے کے بجائے داڑھی کو بڑھنے دیں اور اس کو آراستہ کریں اور اپنی مردانگی کا ثبوت اپنے چہروں سے دیں۔ کچھ لوگ اپنی گفتگو میں یہ کہتے ہوئے نظر آتے ہیں کہ فلاں شخص داڑھی رکھ کے جھوٹ بول رہا ہے، یا کچھ افراد نے داڑھی رکھی ہوئی ہے اور خواتین کو دیکھتے پھرتے ہیں۔ ایسے لوگ...

ناران کی سیر

 ناران کی سیر راولپنڈی سے ناران کے سفر کی روداد جو ذاتی مشاہدے پر مشتمل ہے۔ اس سفرنامے میں مزید اہم مقامات کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ اپنے شہر سے دور کوئی بھی سفر کرنے سے پہلے اس سے متعلق معلومات حاصل کرنا بہت ضروری ہے۔ شمالی علاقوں کا تفریحی دورہ کرنا ہو اور ہر قسم کی مشکلات سے محفوظ رہنا چاہتے ہوں تو بہتر ہے کہ کسی سیاحتی گروپ یا کمپنی کے ساتھ سفر کیا جائے۔ سیاحتی کمپنی کے خرچے تو زیادہ ہوتے ہیں لیکن یہ آپ کو اتنی سہولیات فراہم کرتی ہیں کہ آپ ہر قسم کی کوفت سے بچ جاتے ہیں۔ اگر آپ محدود خرچے میں ناران کی سیاحت کرنا چاہتے ہیں تو آپ کو راولپنڈی سے گائڈ کی خدمات حاصل کرنا ہونگی، اس کیلئے آپ پہلے سے معاوضہ اور مقامات طے کرسکتے ہیں۔ کچھ گائڈ آپ کو مناسب داموں میں ہوٹل کے کمرے اور طعام کا بندوبست کرواسکتے ہیں۔ جتنا تجربے کار گائڈ آپ کو ملے گا اتنا ہی آپ کا سیاحتی سفر بہتر ہوگا۔ جو حضرات اپنے گھر کی خواتین اور بچوں کے ساتھ ناران کا سفر کرنا چاہتے ہیں تو یہ بات مدِنظر رکھیں کہ ان کو طویل سفر کرنا ہوتا ہے اور آپ کو آرام کے کم مواقع میسر آسکتے ہیں۔ مجوعی طور پر یہ سیاحتی دورہ آپ کو تھکن میں مبت...