زمین کے بادل
اس مضمون میں شہرہ آفاق مصنف ابنِ صفی کے شاہکار ناول زمین کے بادل پر تبصرہ کیا گیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ناول کے کرداروں کا تذکرہ اور اشتیاق احمد کے کرداروں سے ان کا مختصر تقابل موجود ہے۔
ابنِ صفی کے شاہکار ناولوں میں سے ایک "زمین کے بادل" ہے۔ اس ناول کی سب سے دلچسپ بات احمد کمال فریدی اور علی عمران کی ملاقات ہے۔ اس ناول میں فریدی، حمید اور قاسم ایک سازش کے تحت ناول میں شامل ہوئے جبکہ علی عمران اور صفدر ایک میٹنگ میں شرکت کرتے ہیں جس کا مقصد زیرو لینڈ کو ڈھونڈنا تھا۔ بعد میں دونوں پارٹیاں تاریک وادی کے سفر پر روانہ ہوتی ہیں جہاں ان کی دلچسپ مرحلے پر ملاقات ہوجاتی ہے۔ ناول کو غیر ضروری طوالت سے بچایا گیا ہے جس سے اس کو پڑھتے وقت بوریت محسوس نہیں ہوئی۔
درندوں کی بستی" کا علی عمران اور "پہاڑوں کی ملکہ" کے کمال فریدی دونوں اپنی جگہ عروج پر ہیں لیکن ںاول میں کسی ایک ہی کو ہیرو کے طور پر پیش کیا جاسکتا تھا۔ کرنل فریدی اپنی بردبار شخصیت کی بنا پر قابلِ احترام سمجھے جاتے ہیں، اس لئے بہتر یہی تھا کہ مہم کا سہرا ان کے ہی سر باندھا جائے۔ لہٰذا عملی طور پر کرنل فریدی اور ان کے ساتھی ہی ناول میں حاوی نظر آئے، حالانکہ عمران نے بہت عمدہ کارکردگی کا مظاہرہ کیا تھا اس کے باوجود سربراہ کی حیثیت سے کرنل فریدی ہی ناول میں چھائے رہے۔ مجھے بھی ذاتی طور پر کرنل فریدی کو ترجیح دینا اچھا لگا۔ اگر فریدی کی جگہ عمران کو ناول میں آگے دکھاتے تو یہ ایک ناکام ناول ثابت ہوتا۔ اندازہ ہے کہ اکثریت کو بھی یہی صورتحال پسند آئی ہوگی۔
ناول میں حمید اور عمران میں نوک جھونک چلتی رہی جس سے ناول کا لطف دوبالا ہوگیا۔ ان کے بیچ ایک تناؤ کی کیفیت آخر تک قائم رہی، عمران نے حمید کی شرارتوں کا بھی خوبصورتی سے مقابلہ کیا۔ عمران نے جس طرح قاسم سے رشتے داری پیدا کی وہ بھی یقیناً ایک عمدہ کارنامہ تھا۔ اس لحاظ سے یہ کہا جاسکتا ہے کہ اس ناول میں عمران بھی کسی سے پیچھے نہیں رہا۔ کرنل فریدی کی شخصیت ایسی ہے کہ دل میں خود سے ہی ان کیلئے احترام پیدا ہوجاتا ہے۔ جیسے ایک موقعے پر عمران، حمید کے چپت لگا کر بھاگ جاتا ہے، اگر یہی حرکت وہ فریدی کے ساتھ کرتا تو مجھ سمیت اکثر لوگ ابنِ صفی کے ناول پڑھنا چھوڑ دیتے۔
عمران کو پسند کرنے والوں کو یہ ناول پسند نہیں آیا اور ان لوگوں نے خطوط لکھ کر اپنی ناپسندیدگی کا اظہار کیا، جس کے نتیجے میں ابنِ صفی صاحب نے ان سب کو مزید کسی ناول میں ایک ساتھ شامل کرنے احتراز کیا، حالانکہ ان دونوں پارٹیوں کے شامل ہونے سے زیادہ مزہ آتا، لوگ انتظار کرتے ایسے ناولوں کا جس میں دونوں پارٹیاں شامل ہوں۔ لیکن یہ مسئلہ بھی اپنی جگہ موجود ہے کہ ایک پارٹی دوسری پر لازمی حاوی نظر آتی اور ہر کردار کے ساتھ انصاف کرنا مشکل ہوجاتا۔ اس کی مثال اشتیاق احمد کے ناول اور کردار ہیں جن میں اکثر انسپکٹر جمشید اور انکی پارٹی ہی سب پر حاوی نظر آتی تھی۔ اور جیسے صفدر کا کردار مذکورہ ناول میں برائے نام رہا ہے ویسے ہی اشتیاق احمد کے زیادہ تر کرداروں کے ساتھ معاملہ رہتا ہے۔ روزا اور طارق کے کردار بھی محض خانہ پری کا شکار رہے۔
جس ناول میں دلچسپی زیادہ ہو اس کو زیادہ تنقیدی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے اس سے یہ مراد نہ لی جائے کہ یہ ناول کسی سے کم ہے۔ میری نگاہ میں مجموعی طور پر یہ ناول ابنِ صفی کے انتہائی دلچسپ اور شاہکار ناولوں میں سے ایک ہے۔
Comments
Post a Comment
آپ کی رائے ہمارے لئے بہت قیمتی ہے۔