Skip to main content

شمسی توانائی کی اہمیت اور معاشرے میں اس کا رجحان

 شمسی توانائی کی اہمیت اور معاشرے میں اس کا رجحان

شمسی توانائی سے کیسے فائدہ اٹھایا جائے، خاص طور پر شہر میں رہنے والے اس کو کیسے استعمال کریں؟ لوگوں کی نظر میں اسکی کتنی اہمیت ہے؟ اور لوگ اس سے فائدہ کوئی نہیں حاصل کرتے؟ ان سب سوالوں کے جوابات اس مضمون میں ملیں گے۔

زندہ قومیں ہمیشہ اپنے وسائل سے فائدہ اٹھاتی ہیں اور وہ بھی بہتر منصوبہ بندی کے ساتھ جبکہ زوال پذیر اقوام صرف شکوے اور شکایت تک محدود رہتی ہیں۔ اپنی محرومیوں کا الزام کبھی ناقص نظام پر لگاتے ہیں تو کبھی حکمرانوں پر۔ لیکن خود سے کوئی مثبت قدم اٹھانا نہیں چاہتے۔ یہ سب جانتے ہیں کہ مشرقی ممالک میں سورج سارا سال اپنی روشنی بکھیرتا ہے جبکہ مغربی ممالک میں لوگ سورج کی جھلک دیکھنے کو ترس جاتے ہیں۔

 ہمارے خطے میں سورج اپنی بھرپور روشنی کے ساتھ جلوہ گر ہوتا ہے، تو ضرورت اس بات کی ہے کہ اس کی توانائی سے بھرپور، روشنی سے فائدہ اٹھایا جائے۔ بجلی کا استعمال دن بہ دن بڑھتا جارہا ہے اور جو ذرائع ہم بجلی کیلئے استعمال کررہے ہیں وہ بہت مہنگے ہیں جس کا اثر ہمارے بجلی کے بلوں میں نظر آتا ہے۔ اس کے علاوہ بجلی کی لوڈشیڈنگ بھی ایک بہت بڑا مسئلہ ہے۔ بدقسمتی سے حکومتی سطح پر اس سلسلے میں کوئی کام نہیں ہورہا۔ تو بجلی کی کمی اور قیمت سے بچنے کیلئے عوامی سطح پر شمسی توانائی کو ترجیح دینی ہوگی۔

 شمسی توانائی کا استعمال چھوٹے شہروں اور گاؤں دیہات میں تقریباً بیس سال پہلے سے شروع ہوچکا ہے۔ یہ بہت حیران کن بات ہے کہ کم پڑھے لکھے اور پسماندہ علاقوں کے لوگ تو شمسی توانائی سے فائدہ اٹھائیں اور بڑے شہروں کے پڑھے لکھے قابل لوگ اس سے اجتناب کریں۔ شہر کے لوگوں کا رجحان یو پی ایس اور جنریٹر کی طرف ہے جو کہ شمسی توانائی کے مقابلے میں سراسر گھاٹے کا سودا ہے۔ ایک مرتبہ خرچہ کرنے کے بعد ایک لمبے عرصے کیلئے ہم توانائی کی کمی اور بڑھتی قیمتوں سے محفوظ رہ سکتے ہیں اور جو خرچہ کیا گیا تھا وہ ایک سال میں ہی پورا ہوسکتا ہے۔

 متبادل توانائی سے فائدہ اٹھانے کیلئے انتظامیہ کو گالیاں دینے کے بجائے خود سے منصوبہ بندی کرنی ہوگی۔ ایک عام سے تین کمروں کے گھر کیلئے صرف دو سولر پلیٹیں اور ایک عام سترہ پلیٹوں والی بیٹری کافی ہے (اس کیلئے بارہ والٹ کے پنکھے اور لائٹیں استعمال کرنا ہونگی)۔ پانچ کمروں کے گھر کیلئے چار سولر پلیٹیں اور اکیس پلیٹوں والی بیٹری آرام سے کام کرسکتی ہے اور چوبیس گھنٹے توانائی فراہم کرسکتی ہے۔ قدرت نے جو سورج کی روشنی کا نظام رکھا ہے وہ شمسی توانائی کے نظام کو تقویت پہنچاتا ہے۔ گرمیوں میں توانائی کا استعمال زیادہ ہے تو سورج بھی تقریباً چودہ گھنٹے روشنی دیتا ہے اور سردیوں میں دس گھنٹے روشنی ہے تو توانائی کا استعمال بھی نسبتاً کم ہوجاتا ہے، تو اس لحاظ سے یہ ایک انتہائی کامیاب نظام ہے۔

 اس نظام سے سب کو فائدہ اٹھانا چاہئے۔ شہروں میں جو لوگ کرائے کے گھروں میں رہتے ہیں یا فلیٹ میں رہنے والے جہاں سورج کی روشنی صرف چند گھنٹوں کیلئے آتی ہے وہاں شمسی توانائی سے فائدہ اٹھانا مشکل ہے۔ اس کیلئے مالک مکان سے بات کی جاسکتی ہے اور فلیٹ میں رہنے والے ایک اضافی بجلی کا چارجر یا مزید سولر پلیٹیں استعمال کرکے بھی کامیابی سے شمسی توانائی سے فائدہ اٹھاسکتے ہیں۔

Comments

Popular Posts

نواز شریف

جب سے مملکتِ پاکستان کا قیام وجود میں آیا ہے تب سے ہی یہاں سیاسی استحکام کا فقدان رہا ہے۔ قائدِ اعظمؒ، لیاقت علی خانؒ اور دیگر حکمرانوں نے کچھ عرصہ تک ہی حکومت کی ذمہ داریاں اٹھائیں، لیکن باقائدہ حکومت کا آغاز جنرل ایوب خان کی صدارت سے شروع ہوا۔ یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ اسی دورِ حکومت میں پاکستان نہ صرف اپنے پیروں پر کھڑا ہوا بلکہ اس کا شمار ایشیاء کے ترقی یافتہ ممالک میں ہونے لگا۔ پاکستان کے خلاف سازش کرنے والے عناصر جانتے تھے کہ جب بھی یہاں مستحکم حکومت ہوگی تو ملک ترقی کرے گا۔ لہٰذا مختلف ذرائع استعمال کرکے ہمارے دشمن پاکستانی قوم میں مایوسی پھیلاتے رہے اور اس وقت کی موجود، حکومت کے خلاف الزامات کے ذریعے لوگوں کو حکومت سے بیزار کرنے کی کوشش کرتے رہے، یہاں تک کہ پرویز مشرف جیسے امریکہ کو سجدہ کرنے والے، وقت کے فرعون، کو بھی حکومت سے محروم ہونا پڑا۔ پاکستانی عوام میں تعلیم اور شعور کی کمی ہے جس کی وجہ سے وہ باآسانی سازشوں کا شکار ہوجاتے ہیں اور تبدیلی کی خواہش مند ہوجاتے ہیں۔ یہ نہیں غور کرتے کہ حکومت مستحکم ہے، ترقیاتی کام چل رہے ہیں، زندگی اچھی گزر رہی ہے، تمام کاروبارِ زندگی عمد...

داڑھی کا جواز

  داڑھی کا جواز اگر کوئی شخص کہے کہ سر پر ہمیشہ استرا پھیرنا چاہیے تاکہ انسان بالوں سے پیدا ہونے والی پریشانیوں سے بچا رہے، اگر بال ہونگے تو جوئیں بھی ہونگی، بال لمبے ہوکر منہ پر آئیں گے، بال ہوا سے بکھر تے رہیں گے اور انسان ان میں جنگلی لگے گا لہٰذا سر کے بالوں کے بغیر انسان زیادہ خوبصورت لگے گا، تو ایسے شخص کو آپ کیا جواب دیں گے؟ ظاہر ہے کہ اس شخص کو کہا جائے گا کہ بال اگنا ایک قدرتی عمل ہے، اس کو روکنے کے بجائے ہمیں ان کو آراستہ کرنا چاہیے، ان کی صفائی ستھرائی کا خیال رکھنا چاہیے تو یہ بال ہماری شخصیت میں خوبصورتی کا باعث بنیں گے بہ نسبت ٹنڈ کے! یہی جواب اصل میں داڑھی کے جواز کیلئے استعمال کیا جاسکتا ہے۔ اس کیلئے فتاویٰ کی ضرورت نہیں۔ قدرت نے داڑھی مرد کو عطاء کی ہے۔ اب مردوں کا کام ہے کہ اپنے چہروں کو روزانہ چھیلنے کے بجائے داڑھی کو بڑھنے دیں اور اس کو آراستہ کریں اور اپنی مردانگی کا ثبوت اپنے چہروں سے دیں۔ کچھ لوگ اپنی گفتگو میں یہ کہتے ہوئے نظر آتے ہیں کہ فلاں شخص داڑھی رکھ کے جھوٹ بول رہا ہے، یا کچھ افراد نے داڑھی رکھی ہوئی ہے اور خواتین کو دیکھتے پھرتے ہیں۔ ایسے لوگ...

ناران کی سیر

 ناران کی سیر راولپنڈی سے ناران کے سفر کی روداد جو ذاتی مشاہدے پر مشتمل ہے۔ اس سفرنامے میں مزید اہم مقامات کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ اپنے شہر سے دور کوئی بھی سفر کرنے سے پہلے اس سے متعلق معلومات حاصل کرنا بہت ضروری ہے۔ شمالی علاقوں کا تفریحی دورہ کرنا ہو اور ہر قسم کی مشکلات سے محفوظ رہنا چاہتے ہوں تو بہتر ہے کہ کسی سیاحتی گروپ یا کمپنی کے ساتھ سفر کیا جائے۔ سیاحتی کمپنی کے خرچے تو زیادہ ہوتے ہیں لیکن یہ آپ کو اتنی سہولیات فراہم کرتی ہیں کہ آپ ہر قسم کی کوفت سے بچ جاتے ہیں۔ اگر آپ محدود خرچے میں ناران کی سیاحت کرنا چاہتے ہیں تو آپ کو راولپنڈی سے گائڈ کی خدمات حاصل کرنا ہونگی، اس کیلئے آپ پہلے سے معاوضہ اور مقامات طے کرسکتے ہیں۔ کچھ گائڈ آپ کو مناسب داموں میں ہوٹل کے کمرے اور طعام کا بندوبست کرواسکتے ہیں۔ جتنا تجربے کار گائڈ آپ کو ملے گا اتنا ہی آپ کا سیاحتی سفر بہتر ہوگا۔ جو حضرات اپنے گھر کی خواتین اور بچوں کے ساتھ ناران کا سفر کرنا چاہتے ہیں تو یہ بات مدِنظر رکھیں کہ ان کو طویل سفر کرنا ہوتا ہے اور آپ کو آرام کے کم مواقع میسر آسکتے ہیں۔ مجوعی طور پر یہ سیاحتی دورہ آپ کو تھکن میں مبت...