Skip to main content

ابنِ صفی کی عمران سیریز

 ابنِ صفی کی عمران سیریز

علی عمران کا کردار ایک کھلنڈرے لڑکے جیسا ہے۔ عمران کا کردار اس شخص کی طرح ہے جو اکیلا پوری فوج پر بھاری ہو۔ یہی وجہ ہے کہ عمران سیریز کے انفرادی حیثیت والے ناول نسبتاً زیادہ دلچسپ ہیں۔

جس طرح جاسوسی دینا میں ہندوستان کا ماحول دکھایا گیا ہے اسی طرح عمران سیریز پاکستان کے ماحول پر مبنی ہے۔ عمران کا کردار اس شخص کی طرح ہے جو اکیلا پوری فوج پر بھاری ہو۔ یہی وجہ ہے کہ عمران سیریز کے انفرادی حیثیت والے ناول نسبتاً زیادہ دلچسپ ہیں۔ عمران سیریز کا پہلا ناول "خوفناک عمارت" 1955ء میں منظرِ عام پر آیا اور آخری ناول "آخری آدمی" 1980ء میں شائع ہوا۔ (بحوالہ وکی پیڈیا)

عمران کا کردار

عمران سیریز کے کئی ناول جاسوسی دنیا کے ناولوں کے مقابلے میں زیادہ مزاح سے بھرپور محسوس ہوئے، اس کی وجہ عمران کا مضحکہ خیز انداز ہے۔ اکثر عمران سے سچ مچ حماقتیں سرزد ہوجاتی ہیں جن کو پڑھ کر زیادہ لطف آتا ہے۔ عمران کا کردار ایسا انوکھا ہے کہ آنے والے مصنفین نے اس کو کہیں نہ کہیں لازمی نقل کیا ہے۔ جاسوسی دینا سے مقابلہ کریں توعلی عمران کسی وقت احمد کمال فریدی کی طرح بن جاتا ہے تو کبھی ساجد حمید۔ علی عمران کے کردار نے نوجوانوں پر بہت اثر ڈالا تھا۔ اکثر لڑکے جان بوجھ کر احمقوں والی حرکتیں کرتے تھے اور کوئی بات پوچھیں تو الٹا جواب ملتا تھا۔ عمران کا جو رویہ سوپر فیاض کے تھا اس کی تقلید کے مظاہرے عام نظر آتے تھے۔ افسوس! اب نہ وہ پڑھنے والے رہے اور نہ ہی کرداروں سے متاثر ہونے والے۔

علی عمران کا کردار ایک کھلنڈرے لڑکے جیسا ہے جبکہ کمال فریدی بڑی عمر کے بردبار شخص محسوس ہوتے ہیں۔

عمران سیریز کے دیگر کردار

 ایک ناول "پراسرار چیخیں" میں دلچسپ اور ناقابلِ فراموش کردار "ہدہد" کو متعارف کیا گیا تھا جس کی باتیں پڑھ کر اپنی ہنسی پر قابو پانا مشکل ہے۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ ایسے کردار کیسے ابنِ صفی کے ذہن میں آئے۔ روشی ایک نہایت سمجھدار اور ایکٹنگ میں ماہر خاتون کا کردار ہے۔ سیکرٹ سروس کا بھی ہر کردار منفرد اور دلچسپ ہے، کچھ کرداروں کو نکال کر نئے متعارف کرائے گئے جس میں صفدر اور طاہر کا کردار سب سے اہم ثابت ہوا۔

تنویر کا کردار بھی کافی مشکل ہے کیونکہ اکثر یہ عمران اور جولیا کیلئے دردِ سر ثابت ہوا، تنویر کی جب بھی درگت بنی وہ بھی مزاح سے بھرپور ثابت ہوئی۔ جوزف کا کردار بھی حیرت انگیز ہے اکثر مہمات میں یہ عمران کے بہت کام آیا۔ ایکسٹو کا کردار بھی ابنِ صفی کی مزید حیرت انگیز ذہنی اختراع ہے۔ شہباز، تھریسیا، سنگ ہی، بوغا، ڈیڈلی فراگ، الفروزے وغیرہ کے کرداروں کا بھی تقابل نہیں کیا جاسکتا۔

ابنِ صفی کے کرداروں کو اکثر مصنفین نے اپنی کتابوں میں نقل کیا ہے۔ سب سے اہم ظفرالملک اور جیمسن کے کردار ہیں۔ ان دونوں کرداروں سے بہت اپنائیت محسوس ہوتی ہے حالانکہ یہ کردار تضادات سے بھرپور ہیں۔ اور یہی دو کردار ہیں جو باقی نقالوں کیلئے ممنوعہ رہے ہیں۔ ویسے تو میری نظر میں ابنِ صفی کے تمام کردار منفرد ہیں، کوئی بھی مصنف ان کے ساتھ انصاف نہیں کرسکتا، مظہر کلیم اور دیگر لکھنے والوں کو اپنے ذاتی کردار متعارف کروانے چاہئے تھے۔

عمران سیریز کی خاصیت

جاسوسی دنیا میں زیادہ تر نفسیات سے متعلق موضوعات تھے لیکن عمران سیریز میں سائنسی معلومات کا زور نظر آتا ہے۔ اس کی وجہ عمران کا سائنسی پس منظر ہے۔ "پیاسا سمندر" مکمل طور پر سائنس فکشن ناول ہے۔ اس ناول میں بھی عمران نے اپنی علمیت کا شاندار مظاہرہ کیا۔ انتہائی مشکل سائنسی گتھیوں کو چٹکی بجاتے حل کیا۔ عمران تنہائی میں تو حماقتیں کرتا دکھائی دیتا ہے لیکن بحیثیت ایکسٹو کے وہ ایک انتہائی نظم و ضبط کا پابند نظر آتا ہے۔ جس طرح سے سیکرٹ سروس کے ارکان کو غلطیوں اور حکم عدولی پر سزا دی گئی ہیں اس کی مثال پیش کرنا ممکن نہیں۔ اس کے علاوہ عمران نے جب بھی اپنے والد سر رحمان سے گفتگو کی، اس کے مکالمے بھی کمال کے تھے۔ ایسے مکالمے جس میں حماقت کے ساتھ ذکاوت بھی شامل ہو، پیش کرنا واقعی مشکل کام ہے۔

عمران سیریز فردِ واحد کے کارناموں پر مشتمل ہے جس میں عمران کی حیثیت جزولازم کی ہے۔ سیکرٹ سروس کے کرداروں کو بھی عمران کٹ پتلیوں کی طرح نچاتا ہے اور اس کے بغیر سارے کردار بے کار ہیں۔ دوسری جانب ابنِ صفی نے فریدی سیریز کے بجائے "جاسوسی دنیا" نام استعمال کیا کیونکہ فریدی کے بغیر حمید اور انور بھی تنہا ناول کو مکمل کرسکتے ہیں اور اکثر ناولوں میں فریدی نے آخر میں آکر کیس کو مکمل کیا جیسے ناول "گارڈ کا اغوا" میں ہوا۔ عمران سیریز میں صرف عمران ہی کافی ہے۔ مجھے ذاتی طور پر وہی ناول زیادہ پسند آئے جس میں عمران نے تنہا معرکے انجام دیے۔ ایکسٹو اور سیکرٹ سروس کے تمام کردار عمران کے کردار کے آگے کچھ بھی نہیں۔

اختصار

ابنِ صفی کے ناولوں میں خاص بات ہے کہ یہ مختصر اور جامع انداز میں لکھے جاتے ہیں جس سے قاری کو ناول پڑھتے ہوئے بوریت نہیں ہوتی اور کم سے کم الفاظ میں زیادہ معلومات حاصل ہوجاتی ہیں جیسے دریا کو کوزے میں بند کردیا گیا ہو۔ مزید یہ کہ ابنِ صفی صاحب نہیں چاہتے تھے کہ قاری کی جیب پر زیادہ بوجھ پڑے۔ یہی وجہ ہے کہ چند ضخیم ناولوں کو قسط وار شائع کیا گیا، جب کہ بعد میں لکھنے والے مصنفین نے بلاوجہ طویل ناول لکھے اور غیر ضروری باتوں سے ناولوں کو بھرا۔

قابلِ ذکر ناول

عمران سیریز کے بھی تمام ناول انتہائی دلچسپ اور ناقابلِ فراموش ہیں۔ لیکن چند ناول بہرحال دوسروں سے زیادہ آگے نکل جاتے ہیں اور زیادہ پسند کئے جاتے ہیں۔ ابنِ صفی نے بھی قارئین کی آرا کا خیال رکھتے ہوئے اپنے ناولوں میں تبدیلی کی جن کا ذکر آپ نے پیشرس میں بھی کیا تھا۔ یہاں صرف ذاتی پسند کی بنیاد پر چند بہترین ناولوں کے نام دیئے جارہے ہیں؛

پراسرار چیخیں، لاشوں کا بازار، درندوں کی بستی، پیاسا سمندر، دلچسپ حادثہ، پھر وہی آواز، زلزلے کا سفر، پوائنٹ نمبر بارہ، معصوم درندہ۔۔۔

Comments

Popular Posts

نواز شریف

جب سے مملکتِ پاکستان کا قیام وجود میں آیا ہے تب سے ہی یہاں سیاسی استحکام کا فقدان رہا ہے۔ قائدِ اعظمؒ، لیاقت علی خانؒ اور دیگر حکمرانوں نے کچھ عرصہ تک ہی حکومت کی ذمہ داریاں اٹھائیں، لیکن باقائدہ حکومت کا آغاز جنرل ایوب خان کی صدارت سے شروع ہوا۔ یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ اسی دورِ حکومت میں پاکستان نہ صرف اپنے پیروں پر کھڑا ہوا بلکہ اس کا شمار ایشیاء کے ترقی یافتہ ممالک میں ہونے لگا۔ پاکستان کے خلاف سازش کرنے والے عناصر جانتے تھے کہ جب بھی یہاں مستحکم حکومت ہوگی تو ملک ترقی کرے گا۔ لہٰذا مختلف ذرائع استعمال کرکے ہمارے دشمن پاکستانی قوم میں مایوسی پھیلاتے رہے اور اس وقت کی موجود، حکومت کے خلاف الزامات کے ذریعے لوگوں کو حکومت سے بیزار کرنے کی کوشش کرتے رہے، یہاں تک کہ پرویز مشرف جیسے امریکہ کو سجدہ کرنے والے، وقت کے فرعون، کو بھی حکومت سے محروم ہونا پڑا۔ پاکستانی عوام میں تعلیم اور شعور کی کمی ہے جس کی وجہ سے وہ باآسانی سازشوں کا شکار ہوجاتے ہیں اور تبدیلی کی خواہش مند ہوجاتے ہیں۔ یہ نہیں غور کرتے کہ حکومت مستحکم ہے، ترقیاتی کام چل رہے ہیں، زندگی اچھی گزر رہی ہے، تمام کاروبارِ زندگی عمد...

داڑھی کا جواز

  داڑھی کا جواز اگر کوئی شخص کہے کہ سر پر ہمیشہ استرا پھیرنا چاہیے تاکہ انسان بالوں سے پیدا ہونے والی پریشانیوں سے بچا رہے، اگر بال ہونگے تو جوئیں بھی ہونگی، بال لمبے ہوکر منہ پر آئیں گے، بال ہوا سے بکھر تے رہیں گے اور انسان ان میں جنگلی لگے گا لہٰذا سر کے بالوں کے بغیر انسان زیادہ خوبصورت لگے گا، تو ایسے شخص کو آپ کیا جواب دیں گے؟ ظاہر ہے کہ اس شخص کو کہا جائے گا کہ بال اگنا ایک قدرتی عمل ہے، اس کو روکنے کے بجائے ہمیں ان کو آراستہ کرنا چاہیے، ان کی صفائی ستھرائی کا خیال رکھنا چاہیے تو یہ بال ہماری شخصیت میں خوبصورتی کا باعث بنیں گے بہ نسبت ٹنڈ کے! یہی جواب اصل میں داڑھی کے جواز کیلئے استعمال کیا جاسکتا ہے۔ اس کیلئے فتاویٰ کی ضرورت نہیں۔ قدرت نے داڑھی مرد کو عطاء کی ہے۔ اب مردوں کا کام ہے کہ اپنے چہروں کو روزانہ چھیلنے کے بجائے داڑھی کو بڑھنے دیں اور اس کو آراستہ کریں اور اپنی مردانگی کا ثبوت اپنے چہروں سے دیں۔ کچھ لوگ اپنی گفتگو میں یہ کہتے ہوئے نظر آتے ہیں کہ فلاں شخص داڑھی رکھ کے جھوٹ بول رہا ہے، یا کچھ افراد نے داڑھی رکھی ہوئی ہے اور خواتین کو دیکھتے پھرتے ہیں۔ ایسے لوگ...

ناران کی سیر

 ناران کی سیر راولپنڈی سے ناران کے سفر کی روداد جو ذاتی مشاہدے پر مشتمل ہے۔ اس سفرنامے میں مزید اہم مقامات کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ اپنے شہر سے دور کوئی بھی سفر کرنے سے پہلے اس سے متعلق معلومات حاصل کرنا بہت ضروری ہے۔ شمالی علاقوں کا تفریحی دورہ کرنا ہو اور ہر قسم کی مشکلات سے محفوظ رہنا چاہتے ہوں تو بہتر ہے کہ کسی سیاحتی گروپ یا کمپنی کے ساتھ سفر کیا جائے۔ سیاحتی کمپنی کے خرچے تو زیادہ ہوتے ہیں لیکن یہ آپ کو اتنی سہولیات فراہم کرتی ہیں کہ آپ ہر قسم کی کوفت سے بچ جاتے ہیں۔ اگر آپ محدود خرچے میں ناران کی سیاحت کرنا چاہتے ہیں تو آپ کو راولپنڈی سے گائڈ کی خدمات حاصل کرنا ہونگی، اس کیلئے آپ پہلے سے معاوضہ اور مقامات طے کرسکتے ہیں۔ کچھ گائڈ آپ کو مناسب داموں میں ہوٹل کے کمرے اور طعام کا بندوبست کرواسکتے ہیں۔ جتنا تجربے کار گائڈ آپ کو ملے گا اتنا ہی آپ کا سیاحتی سفر بہتر ہوگا۔ جو حضرات اپنے گھر کی خواتین اور بچوں کے ساتھ ناران کا سفر کرنا چاہتے ہیں تو یہ بات مدِنظر رکھیں کہ ان کو طویل سفر کرنا ہوتا ہے اور آپ کو آرام کے کم مواقع میسر آسکتے ہیں۔ مجوعی طور پر یہ سیاحتی دورہ آپ کو تھکن میں مبت...