رسمی اور غیر رسمی تعلیم پر ایک نظر
ہمارے معاشرے میں کتب بینی اور کتب خانوں سے دوری بڑھتی جارہی ہے۔ جس سے معاشرے میں موجود افراد کے عقل و شعور اور فہم میں کمی آتی جارہی ہے۔ اس کی وجوہات اور سدِباب پر اس مضمون میں بحث کی گئی ہے۔
ہمارے معاشرے میں رسمی تعلیم کو ہی زیادہ اہمیت دی جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسکول کے بستے بھاری سے بھاری ہوتے جارہے ہیں لیکن عقل و شعور ہمارے بچوں میں نظر نہیں آرہا۔ تعلیم کے ساتھ ساتھ تربیت بھی اہمیت رکھتی ہے۔ کچھ لوگ جاپان کی مثال دیتے ہیں کہ وہاں اخلاقی تعلیم اور تربیت پر زیادہ زور دیا جاتا ہے۔ لیکن یہ بات اکثر لوگوں کو نہیں معلوم کہ پہلے کے دور میں سرکاری اسکولوں میں تعلیم کے ساتھ ساتھ تربیت بھی دی جاتی تھی۔ میں اگر ذاتی تجربے کی بنیاد پر بات کروں تو ہمارے اسکول میں شروع سے ہی تعلیم کے ساتھ دین کے بنیادی مسائل جیسے طہارت و پاکیزگی، نماز، تلاوت اور جہاد کے مقاصد وغیرہ بھی سکھائے جاتے تھے۔ نظم و ضبط بھی تربیت کا حصہ تھے۔ اسکول محظ پانچ منٹ دیر سے آنے پر ڈنڈوں سے پٹائی ہوتی تھی۔ جسمانی مشقیں اور دیگر سرگرمیاں بھی ہماری تعلیم میں شامل تھیں۔ اور ان سرگرمیوں کے مقابلے تمام اسکولوں میں ہوتے تھے جس میں طلباء و طالبات بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے تھے۔ یہ زمانہ 1985 کے آس پاس کا ہے جب سرکاری اسکول پرائویٹ سے بہتر تھے اور ٹیوشن پڑھنے کا رجحان نہ ہونے کے برابر تھا۔
اب اس دور میں والدین کی توجہ صرف اور صرف بچے کے نتیجے یا نمبر پر ہوتی ہے۔ نمبروں کی دوڑ نے بچوں کو مشین بنادیا ہے۔ جسمانی اور ذہنی سرگرمیاں محدود ہوتی جارہی ہیں۔ اسکول میں پڑھائی، پھر سپارہ پڑھنا اور اس کے بعد ٹیوشن جانا، فارغ اوقات میں موبائل دیکھنا۔ اس طرح کے معمولات نے بچوں کی ذہنی صلاحیتوں کو بہت متاثر کیا ہے۔ اب بچوں کو کہانیوں کی یا معلوماتِ عامہ کی کتابیں پڑھنے کا وقت ہی نہیں ملتا، نہ ہی اب کورس کی کتابوں کے علاوہ کچھ اور پڑھنے کا رجحان ہے۔
پہلے اشخاص کی قابلیت دیکھی جاتی تھی لیکن اب محض کاغذ کے ٹکرے اور امتحان میں حاصل کردہ نمبر ہی کسی انسان کی پہچان بن گئے ہیں۔ نمبروں کی دوڑ میں ہر تعلیمی ادارہ اپنے طالبِ علم کو صرف وہ پڑھنے کی تاکید کرتا ہے جس سے وہ زیادہ سے زیادہ نمبر حاصل کرسکے۔ مکمل تعلیم سے بہرہ ور ہونے پر اب توجہ نہیں۔ بہت سے کالجوں میں نمبر کی بنیاد پر داخلے دئے جاتے ہیں جس کی وجہ سے طلباء و طالبات کو دور دور جاکے تعلیم حاصل کرنی پڑتی ہے۔ جبکہ ضرورت اس بات کی ہے کہ کالج جس علاقے میں ہے وہیں کے طالب علم اس میں داخلہ لے سکیں اس سے ٹریفک پر بھی زور کم پڑے گا۔
طالبِ علم زیادہ نمبر کے حصول کے لئے جو کچھ پڑھ رہے ہوتے ہیں وہ عارضی ثابت ہوتا ہے کیونکہ مقصد محض نمبر حاصل کرنا تھا اس لئے عام زندگی میں وہ کورے کے کورے رہ جاتے ہیں۔ تعلیم کے بعد مقصد صرف زیادہ پیسے کمانا رہ جاتا ہے۔ یہی وجوہات ہیں جن کی وجہ سے ہم سب غیر رسمی تعلیم سے محروم ہیں۔
آپ سب نے کتب خانوں کا مشاہدہ کیا ہوگا کہ کتنی زیادہ تعداد اور کثیر موضوعات پر کتابیں دستیاب ہیں، یہ کتابیں پڑھ کے مختلف موضوعات پر معلومات حاصل ہوسکتی ہیں اور جو کچھ رسمی تعلیم میں پڑھا ہے اس کا اعادہ بھی ہوسکتا ہے۔ تو اس کیلئے ہمیں اپنے رجحانات کو بدلنا ہوگا اور غیر رسمی تعلیم کیلئے وقت نکالنا ہوگا۔ اس کیلئے ضروری ہے کہ بچوں کو شروع سے ہی کورس کے علاوہ کتابیں پڑھنے کی عادت ڈالی جائے اور بڑوں کو چاہئے کہ صرف ایک ہی نوکری پر توجہ دیں جہاں پر اوقات کی پابندی ہو تنخواہ چاہے کچھ کم کیوں نہ ہو، اور اپنے دن کا باقی وقت مختلف موضوعات پر مشتمل کتابیں پڑھنے میں صرف کریں۔ اس سے ہمارے معاشرے میں عقل و شعور اور فہم میں اضافہ ہوگا۔
Comments
Post a Comment
آپ کی رائے ہمارے لئے بہت قیمتی ہے۔