پاکستان کا مطلب کیا؟
پاکستان جس مقصد کیلئے بنایا گیا تھا اس پر عمل نہ ہوسکا۔ جس کی وجہ سے ہم مسائل کا شکار ہیں۔ شریعت کے نفاذ میں ہی ہمارے تمام مسائل کا حل موجود ہے۔
لفظ "پاکستان" ذہن میں آتے ہی مملکت کے ساتھ ساتھ اسلام کا تصور بھی پیدا ہوتا ہے۔ "پاکستان کا مطلب کیا؟" کے جواب میں لاالٰہ الااللہ ہی زبان پر آتا ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ پاکستان اور اسلام ایک دوسرے کے لازم و ملزوم ہیں۔ حقیقت یہی ہے کہ یہ ملک اسلام کے نام پر قائم کیا گیا ہے۔ کسی اور اسلامی ملک کے نام کے ساتھ اسلام کا تصور ذہن میں نہیں آتا۔ مثال کے طور پر بنگلہ دیش کا نام لیتے ہی بنگالی زبان اور تہذیب کا تصور آتا ہے اسی طرح ایران میں فارسی اور ترکیہ میں ترک تہذیب و ثقافت کا تصور غالب ہے۔
دنیا میں محض دو ممالک مذہب کے نام پر وجود میں آئے ہیں، ایک پاکستان اور دوسرا اسرائیل۔ بدقسمتی سے اسرائیل کے مقابلے میں پاکستان میں کبھی بھی مذہب کو رائج کرنے کی کوشش نہیں کی گئی۔ اسلام کو محض چند عبادات اور مساجد و مدارس تک محدود رکھا گیا۔ جب پاکستان میں پہلا آئین مرتب کیا جارہا تھا تو اس پر غور ہورہا تھا کہ کون سا دیناوی نظام حکومت بہتر رہے گا، جبکہ اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے لہٰذا شریعت کا نفاذ ہی ہمارے ہر مسئلے کا حل ہے، لیکن ہم پر مسلط انتظامیہ نے ہر دور میں اسکی مخالفت کی، نتیجے کے طور پر ہم چاروں طرف سے مسائل میں گھرے ہوئے ہیں۔ آج تک یہ فیصلہ نہ کرسکے کہ کونسا نظامِ حکومت ہمارے لئے بہتر ہے۔ کبھی جمہوریت کو بہتر سمجھتے ہیں تو کبھی فوجی آمریت کو۔ کبھی پرانے حکمران بہتر لگتے ہیں تو کبھی نئے کو آزمانے کی ضرورت محسوس ہوتی ہے۔ جبکہ اسرائیل اپنے مذہب کو بنیاد بناکر عروج حاصل کرچکا ہے۔
ہمارے پڑوس ملک میں بھی یہ مثال موجود ہے کہ ایک مذہبی انتہا پسند جماعت برسراقتدار آئی اور کامیابی سے حکومت کرتی رہی۔ دیگر ممالک میں بھی ایسی مثالیں موجود ہیں جہاں مخصوص عقائد یا خیالات کی حکومتیں کامیاب رہی ہیں تو ہم اگر دین دار جماعت کو برسراقتدار لے آئیں تو اس میں کیا حرج ہے؟ اسلام سے دور رہ کر کونسا ہم نے ترقی کرلی ہے جو ہمیں شریعت کے نفاذ سے روک رہی ہے۔
ہمارا ایمان ہے کہ اسلام ایک مکمل دین ہے تو کیوں نہ اس سے خود کو فائدہ پہنچایا جائے۔ جس مقصد کیلئے یہ ملک حاصل کیا گیا ہے کم از کم اس کا حصول ہی ممکن ہوجائے۔ اکثر کچھ ایسے معاملات پیش آجاتے ہیں جن پر سارے دانشور حضرات یہ بحث شروع کردیتے ہیں کہ اس کا کیا حل نکالا جائے؟ جبکہ ان معاملات کا حل شریعت میں موجود ہوتا ہے۔ مثال کے طور پرتیسری جنس کے مسائل ہر ہر طبقہ اپنی اپنی رائے دے رہا ہے جبکہ شریعت میں تیسری جنس کی شناخت کے حساب سے حل موجود ہے۔ لیکن شریعت کو اہمیت دی جائے گی تو ہی اس کے احکامات کو سمجھا اور مانا جائے گا۔
یہ بات تو طے ہے کہ اسلام کے نام پر قائم ملک کا نظام اسلامی ہونا چاہئے چاہے اس کیلئے کتنی ہی مشکلات کا سامنا کرنا پڑے، چاہے اقوامِ عالم کی مخالفت برداشت کرنی پڑے۔ اب موجودہ حالت میں ہماری کیا ذمہ داری ہونی چاہئے جبکہ شریعت کو مزید ہم سے دور کیا جارہا ہے؟
اس کیلئے سب سے آسان اور ضروری کام نیت ہے۔
ہم سب انفرادی طور پر یہ نیت کرلیں کہ دین کے نفاذ کو اپنا مقصدِ حیات بنائیں اور اس کیلئے اپنی حیثیت کے مطابق کوشش کریں۔ اگر سب لوگ صرف دل سے نیت ہی کرلیں تو حقیقی تبدیلی آسکتی ہے۔
دوسرا آسان ترین کام دین دار طبقے کا اکرام کرنا اور ان کو عزت و اہمیت دینا ہے۔ اور تیسرا آسان کام یہ ہے کہ جہاں شریعت کی بات سامنے آجائے، اپنی رائے سے احتراز کرنا ہے اور دین کی بات کو اہمیت دینی ہے۔ ان چھوٹی چھوٹی باتوں سے امید ہے کہ ہمارے معاملات درست ہوجائیں۔
Comments
Post a Comment
آپ کی رائے ہمارے لئے بہت قیمتی ہے۔