عیدِ قربان میں ایک غلط رجحان
عیدِ قربان ایک مذہبی فریضہ ہے جس کا سال میں ایک ہی بار اعادہ ہوتا ہے۔ اس فریضے کی ادائگی میں زیادہ سے زیادہ اہتمام کرنا چاہئے کیونکہ یہ واجب بھی ہے اوراس کی ادائگی کیلئے دوسرے معاملات کو نظر انداز کیا جاسکتا ہے۔
ہمارا دین ہمیں اللہ کے احکامات پر عمل کرنا سکھاتا ہے اور خود ساختہ اعمال سے اجتناب برتنے پر زور دیتا ہے۔ بدعات پر عمل کرنے والا سنت سے دور ہوجاتا ہے، یہ ایک فطری و نفسیاتی عمل ہے۔ عیدالاضحیٰ کے موقع پر تمام مسلمانوں کو جو فطرہ ادا کرنے کی استطاعت رکھتے ہیں قربانی کا حکم دیا گیا ہے۔ شرعی لحاظ سے قربانی کا حکم واجبات میں آتا ہے۔ اس حکم کی ادائگی پر اتنا زیادہ زور دیا گیا ہے کہ اگر کسی شخص کی رقم عارضی طور پر رک گئی ہے اور اس کو ملنے کا یقین ہو تو اس کو چاہئے کہ قرض لیکر قربانی کا فریضہ ادا کرے۔ شریعت میں بوجھ نہیں، لحاظہ ہر مسلمان اپنی حیثیت کے مطابق قربانی کرسکتا ہے۔
قربانی کے سہل فریضے کو چند افراد نے مشکل بنادیا ہے۔ اپنی مرضی کا جانور ہی ذبح کرنے کا عمل اس فریضے کو گراں کردیتا ہے۔ چند ہزار روپے میں گائے کا ایک حصہ لیکر بھی قربانی ادا ہوجاتی ہے، ضروری نہیں کہ اپنے نفس کیلئے یا بچوں کی فرمائش پر ایک بڑا بوجھ برداشت کیا جائے۔ واجب کی ادائیگی کو ہی مقدم سمجھنا چاہئے۔ عید قربان کا موقع سال میں ایک ہی بار آتا ہے، تو اس موقع پر آگے کے خرچے کا سوچ کر اس عمل سے رک جانا بڑی محرومی کی بات ہے۔ دیگر دینی اور دنیاوی کام تو چلتے رہتے ہیں لیکن ان کاموں کی تکمیل کی غرض سے قربانی جیسے عظیم و شان عمل کو نہیں چھوڑنا چاہئے۔ کچھ غلط رجحانات ہمارے معاشرے میں پھیلنا شروع ہوگئے ہیں جن کا سدباب کرنا لازمی ہے۔
عیدالاضحیٰ کے بعد محرم اور ربی الاول کے مہیںے آتے ہیں۔ جو لوگ محرم میں مجلس کا اہتمام کرتے ہیں اور جو ربی الاول میں میلاد کرنے کے منصوبے بنائے بیٹھے ہیں وہ اکثر قربانی نہیں کررہے ہوتے ہیں۔ یہ رجحان اب اتنا عام ہوگیا ہے کہ اپنے اردگرد مشاہدہ کرنے سے یہ بات ثابت ہوجاتی ہے۔ سب جانتے ہیں کہ مجلس اور میلاد کی تقریب میں نسبتاً کئی گناہ زیادہ خرچہ ہوجاتا ہے جو کہ نہ واجب ہے اور نہ ہی کوئی مستحب عمل، بلکہ سراسر خود ساختہ ایجاد کیا گیا کام ہے۔ اس کام کے لئے ایسے عمل کو چھوڑنا جو اللہ کو محبوب ہے بڑے اچنبے کی بات ہے۔ اگر کوئی لازمی ہی مجلس اور میلاد کی تقریب کرنا چاہتا ہے تو وہ حصہ ڈال کر قربانی کرسکتا ہے چہ جائیکہ وہ واجب کو ہی چھوڑدے۔ ایسے لوگ بڑے محروم القسمت ہیں۔ ان کو سمجھانے کیلئے ان ہی کے مسلک کے علماء مدد کرسکتے ہیں۔ اگر علماء کرام یہ باور کروادیں کہ واجب کو چھوڑ کر آپ کا کوئی بھی خود ساختہ عمل مقبول نہیں ہوسکتا تو شاید قربانی کی قربانی نہ ہو۔
Comments
Post a Comment
آپ کی رائے ہمارے لئے بہت قیمتی ہے۔