Skip to main content

بچے وہابی

 بچے وہابی

یہ ایک واقعہ ہے جو ہمیں بہت کچھ سوچنے اور سمجھنے پر مجبور کر دیتا ہے۔ ایک مزاحیہ تجربہ ہے۔

ہمارے ابو کی ممانی کا انتقال ہوا تو ہم سب گھر والے تعزیت کیلئے چلے گئے۔ اب جیسا کہ آج کل رجحان ہے کہ میت کو اس وقت تک دفن نہیں کرتے جب تک دوسرے شہر اور ملک سے سب آکرآخری دیدار نہ کر لیں۔ ہم سب چونکہ سہ پہر سے ہی آگئے تھے اس لئے جنازہ اور تدفین کے انتظار میں بیٹھ گئے۔

اب یہ فیصلہ نہیں ہو پا رہا کہ کب جنازہ پڑھایا جائے اور تدفین ہو۔ اس بحث میں کافی وقت لگ گیا، جس کے نتیجے میں جنازہ اور تدفین میں رات کے دس بج گئے۔ اب بچے تو سہ پہر سے بھوکے تھے، میت والے گھر میں تو کھانے کی بات ویسے بھی نہیں کی جاسکتی، جتنے بسکٹ اور نمکو پرس میں رکھے تھے سب ختم ہو گئے اور بچوں کی بھوک نہ مٹ سکی۔

بالآخر رات کے تقریباً ساڑھے دس بجے دسترخوان لگا اور بریانی کے تھال سامنے رکھ دیئے گئے۔ اب کھانا شروع کرنے کا سب سوچ ہی رہے تھے کہ اچانک مرحومہ کے بھائی نے زور سے کہا کہ ابھی کوئی کھانا نہیں کھائے گا، پہلے اس پر نیاز دی جائے گی۔ اب آپ سب ذرا تصور کریں! بھوک سے برا حال ہو اور آپ کو مزید انتظار کا کہا جائے تو کیا حال ہوتا ہے۔ بہرحال سب رک گئے اور نیاز شروع ہو گئی۔

لیکن میرے سب سے چھوٹے بچے سے برداشت نہ ہوا اور اس نے اپنی پلیٹ میں چاول نکالنا شروع کردیئے۔ سب بڑے بزرگ ایک دم چلانے لگے کہ اس بچے کو روکو، مجھے کہا اپنے بچے کو سمجھاؤ۔ اب میرا بچہ بہت چھوٹا اور دوسرا یہ کہ بھوک کی وجہ سے اس نے اپنے ہاتھ سے بالکل صحیح چاول نکالے اس لئے میں اس کو روک نہ سکا۔

مرحومہ کے بھائی صاحب کا تو منہ بن گیا لیکن میں نے کسی کی پروا نہ کی اور بچوں کو کھانا کھانے دیا جب کہ نیاز چل رہی تھی۔ اس سے میں نے یہ سبق حاصل کیا کہ بچے تو فطرتاً وہابی ہوتے ہیں، یہ تو ہم لوگ ہوتے ہیں جو ان کو رسومات اور بدعات میں مبتلا کر دیتے ہیں۔

Comments

Popular Posts

نواز شریف

جب سے مملکتِ پاکستان کا قیام وجود میں آیا ہے تب سے ہی یہاں سیاسی استحکام کا فقدان رہا ہے۔ قائدِ اعظمؒ، لیاقت علی خانؒ اور دیگر حکمرانوں نے کچھ عرصہ تک ہی حکومت کی ذمہ داریاں اٹھائیں، لیکن باقائدہ حکومت کا آغاز جنرل ایوب خان کی صدارت سے شروع ہوا۔ یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ اسی دورِ حکومت میں پاکستان نہ صرف اپنے پیروں پر کھڑا ہوا بلکہ اس کا شمار ایشیاء کے ترقی یافتہ ممالک میں ہونے لگا۔ پاکستان کے خلاف سازش کرنے والے عناصر جانتے تھے کہ جب بھی یہاں مستحکم حکومت ہوگی تو ملک ترقی کرے گا۔ لہٰذا مختلف ذرائع استعمال کرکے ہمارے دشمن پاکستانی قوم میں مایوسی پھیلاتے رہے اور اس وقت کی موجود، حکومت کے خلاف الزامات کے ذریعے لوگوں کو حکومت سے بیزار کرنے کی کوشش کرتے رہے، یہاں تک کہ پرویز مشرف جیسے امریکہ کو سجدہ کرنے والے، وقت کے فرعون، کو بھی حکومت سے محروم ہونا پڑا۔ پاکستانی عوام میں تعلیم اور شعور کی کمی ہے جس کی وجہ سے وہ باآسانی سازشوں کا شکار ہوجاتے ہیں اور تبدیلی کی خواہش مند ہوجاتے ہیں۔ یہ نہیں غور کرتے کہ حکومت مستحکم ہے، ترقیاتی کام چل رہے ہیں، زندگی اچھی گزر رہی ہے، تمام کاروبارِ زندگی عمد...

داڑھی کا جواز

  داڑھی کا جواز اگر کوئی شخص کہے کہ سر پر ہمیشہ استرا پھیرنا چاہیے تاکہ انسان بالوں سے پیدا ہونے والی پریشانیوں سے بچا رہے، اگر بال ہونگے تو جوئیں بھی ہونگی، بال لمبے ہوکر منہ پر آئیں گے، بال ہوا سے بکھر تے رہیں گے اور انسان ان میں جنگلی لگے گا لہٰذا سر کے بالوں کے بغیر انسان زیادہ خوبصورت لگے گا، تو ایسے شخص کو آپ کیا جواب دیں گے؟ ظاہر ہے کہ اس شخص کو کہا جائے گا کہ بال اگنا ایک قدرتی عمل ہے، اس کو روکنے کے بجائے ہمیں ان کو آراستہ کرنا چاہیے، ان کی صفائی ستھرائی کا خیال رکھنا چاہیے تو یہ بال ہماری شخصیت میں خوبصورتی کا باعث بنیں گے بہ نسبت ٹنڈ کے! یہی جواب اصل میں داڑھی کے جواز کیلئے استعمال کیا جاسکتا ہے۔ اس کیلئے فتاویٰ کی ضرورت نہیں۔ قدرت نے داڑھی مرد کو عطاء کی ہے۔ اب مردوں کا کام ہے کہ اپنے چہروں کو روزانہ چھیلنے کے بجائے داڑھی کو بڑھنے دیں اور اس کو آراستہ کریں اور اپنی مردانگی کا ثبوت اپنے چہروں سے دیں۔ کچھ لوگ اپنی گفتگو میں یہ کہتے ہوئے نظر آتے ہیں کہ فلاں شخص داڑھی رکھ کے جھوٹ بول رہا ہے، یا کچھ افراد نے داڑھی رکھی ہوئی ہے اور خواتین کو دیکھتے پھرتے ہیں۔ ایسے لوگ...

ناران کی سیر

 ناران کی سیر راولپنڈی سے ناران کے سفر کی روداد جو ذاتی مشاہدے پر مشتمل ہے۔ اس سفرنامے میں مزید اہم مقامات کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ اپنے شہر سے دور کوئی بھی سفر کرنے سے پہلے اس سے متعلق معلومات حاصل کرنا بہت ضروری ہے۔ شمالی علاقوں کا تفریحی دورہ کرنا ہو اور ہر قسم کی مشکلات سے محفوظ رہنا چاہتے ہوں تو بہتر ہے کہ کسی سیاحتی گروپ یا کمپنی کے ساتھ سفر کیا جائے۔ سیاحتی کمپنی کے خرچے تو زیادہ ہوتے ہیں لیکن یہ آپ کو اتنی سہولیات فراہم کرتی ہیں کہ آپ ہر قسم کی کوفت سے بچ جاتے ہیں۔ اگر آپ محدود خرچے میں ناران کی سیاحت کرنا چاہتے ہیں تو آپ کو راولپنڈی سے گائڈ کی خدمات حاصل کرنا ہونگی، اس کیلئے آپ پہلے سے معاوضہ اور مقامات طے کرسکتے ہیں۔ کچھ گائڈ آپ کو مناسب داموں میں ہوٹل کے کمرے اور طعام کا بندوبست کرواسکتے ہیں۔ جتنا تجربے کار گائڈ آپ کو ملے گا اتنا ہی آپ کا سیاحتی سفر بہتر ہوگا۔ جو حضرات اپنے گھر کی خواتین اور بچوں کے ساتھ ناران کا سفر کرنا چاہتے ہیں تو یہ بات مدِنظر رکھیں کہ ان کو طویل سفر کرنا ہوتا ہے اور آپ کو آرام کے کم مواقع میسر آسکتے ہیں۔ مجوعی طور پر یہ سیاحتی دورہ آپ کو تھکن میں مبت...